کیا مُسکراہٹ واجب القتل ہے
میں تھائی لینڈ سے واپس آیا تو دوست میرے گرد اکٹھے ہو گئے، ایک نے کہا سُنا ہے تھائی لینڈ میں بڑی فحاشی ہے۔ آپ نے تو خوب مزے کیے ہوں گے ۔ میرے لیے ایک وقت میں دو بیانات جس میں ایک خیال تھا اور دوسرا سوال تھا کافی عجیب سی بات تھی۔ کیونکہ خیال نے مجھے حیرت میں ڈالا دیا اور سوال نے تذبذب میں۔ یہ خیال اور سوال دونوں ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے تھے کہ اگر کوئی حُسن دستیاب ہو جائے تو مزے ورنہ سب فحاشی ہے۔ ہم خلوت میں جس کو نعمت سمجھتے ہیں اور جلوت میں اُسے ہی فحاشی کہتے ہیں۔ وہ منٹو کا جملہ ہے نا۔ ”ہمارے معاشرے میں ہر دوسرا مرد طوائف میں بیوی تلاش کرتا ہے اور بیوی میں طوائف ڈھونڈتا ہے“ ۔
معاشرہ مجموعی طور ایسی ہی صورت حال کا شکار، ذہنی مریض بن چکا ہے شراب خانے اور قحبہ خانوں کو بند کر کے یہ معاشرہ گوگل سرچ انجن پر وہ وہ نازیبی تلاش کرتا ہے کہ اللہ میری توبہ۔ منافقت کی بلندیوں کو چھونے والا معاشرہ اس قدر بیمار ہے کہ چھٹی کے دن یا عید شبرات پر فیملی کے ساتھ پارکوں میں نکلنا محال ہوتا ہے۔ بھوکے کتے دوسروں کی بہنوں، بیٹیوں پر جھپٹنے والے جب اپنی ماں بہن کو باہر لے جاتے ہیں تو مردوں کو ایسے گھور رہے ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی ہماری ماں بہن کو دیکھ تو نہیں رہا۔
منافق معاشرے عورتوں کے خوش ہونے پر اس لیے فحاشی کا نام دیتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ جب دو عورتیں آپس میں کسی بات پر خوشی سے قہقہہ لگاتی ہیں تو اس کا مطلب کچھ نہ کچھ خراب بات ہی ہوگی۔ ہو سکتا ہے یہ پورا سچ نہ ہو لیکن ایسی سوچ کا ذمہ دار ہمارے ملک کے ادارے ہیں جنہوں نے ہماری ایسی منفی ذہنی سازی کی ہے کہ نہ یہ اسلامی ہے نہ اخلاقی کیونکہ دونوں صورت میں مرد عورت کو نارمل اور انسان سمجھنے کے لیے ہی تیار نہیں۔ ہر انسان رو بھی سکتا ہے، ہنس بھی سکتا ہے خوش بھی ہو سکتا ہے اور غمگین بھی۔ ہم کس حال میں ہیں ایسا تو جانور بھی محسوس کر لیتے ہیں پھر یہ خود کو اشرف المخلوقات کہنے والے یہ بات سمجھنے لیے تیا ر کیوں نہیں؟ کیونکہ ہمارا سافٹ ویئر ہی نہیں مدر بورڈ بھی خراب ہو چکا ہے۔ جس کا ذمہ دار ہمارے ادارے ہیں وہ ادارے جو بے پناہ طاقت رکھتے ہیں۔ انتہاپسندی کو ایک طرح کا عوام پر کنٹرول رکھنے کا ٹول سمجھتے ہیں ویسے تو یہ ٹول شروع سے ہی چند مفاد پرست اشرافیہ نے عوام کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ موزوں ہو گا کہ عوام کو ذہنی غلام بنانے کا ایک ٹول ہے جس میں انسانی ذہن کو غلط کو بھی سہی سمجھنا مقدس فریضہ سمجھا جاتا ہے۔
آج کل بچے سوشل میڈیا پر اپنے اندر کی فیلنگ کو ایکسپریس کرتے نظر آتے ہیں جس میں ہر عمر اور طبقہ کے لوگ اپنے ذہنی استعداد کے مطابق کانٹینٹ بناتے ہیں اور یہ آج کل کا رواج اور جدید معاشرہ کی عکاسی ہے جس سے پیچھے ہٹنا ناممکن ہے۔ پڑھے لکھے پروفیشنل اپنے طریقے سے اس کا استعمال کرتے ہیں اور ان پڑھ اپنے طریقے سے، یہاں تک کہ بڑے بوڑھے لوگ اپنی زندگی کے تجربے شیئر کرتے دکھائی دیتے ہیں تو نوجوان ایکٹنگ سے لے کر نئے نئے ہیکس بتاتے ہیں تاکہ لوگوں کو فائدے کے ساتھ ساتھ اپنی برینڈنگ بھی ہو جائے۔
ایسے میں ایک بچی ثنا یوسف بھی تھی سترہ سال کی بچی بالکل اِسی طرح اپنی عمر اور علم کے مطابق ٹک ٹاک یا یوٹیوب پر اپنی چھوٹی چھوٹی معصوم حرکتوں سے لوگوں کو محظوظ کرتی تھی۔ اس کو کسی ظالم نے قتل کر دیا۔ قتل ہونے والی بچی اور قتل کرنے والا بچا دوں نہیں جانتے اُن کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ دونوں ہی ہمارے معاشرے کی مجموعی سوچ کی پراڈکٹ ہیں۔ مطلب وہی طبقہ جس کو عورت کے لباس لے لے کر عورت کی مسکراہٹ میں فحاشی نظر آتی ہے وہ اس کے قتل کے جواز پیش کرتا نظر آتا ہے۔ اس بچی کا جرم تو صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی معصوم مسکراہٹ، ہنسی اور قہقہوں کی وڈیو بناتی تھی جس کو دیکھ کر خوشی ہوتی تھی۔
میں نے تو پہلے کبھی اس کی وڈیو نہیں دیکھی آج اس کے بہیمانہ قتل پر سوشل میڈیا پر ہی دیکھا ہے۔ اس بچی کا قاتل وہ لڑکا نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی بیمار سوچ ہے جسے عورت میں فحاشی نظر آتی ہے۔ مبینہ طور کہا گیا کہ قاتل کے ساتھ بچی کے دوستی کرنے کے انکار پر قتل کیا ہے پس ہم اس جبر کو اپنا حق سمجھتے ہیں مطلب مرد بتائے گا کہ عورت کو کیا کرنا اور کس طرح کا لباس پہننا ہے اور اس سے بڑھ کر مرد خود کو اس پر خدائی دعوے دار بھی سمجھتا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہے تو ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ عورت صرف اور صرف ہماری مرضی سے جیئے، وہ میرا جسم میری مرضی والے لوگ یہی بات کا تو رونا روتے ہیں ویسے مجھے ان کے نعرے پر پوری طرح اتفاق نہیں بھی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں اپنی آواز اٹھانے اور جینے کا حق نہیں ملنا چاہیے۔ نہ جانے روز کتنی ثناء جیسی بچیاں غیرت کے نام ہو قتل ہو جاتی ہیں اس پر قاتل فحاشی کا جواز بنا کر سماجی ہمدردیاں سمیٹتے ہوئے چھوٹ جاتے ہیں۔ نہ تو ایسے لوگوں کو خدا کا خوف ہے نہ قانون کا ڈر۔ جب عدالتیں سزا دینے میں تاخیر کر دیں تو کمزور قیامت کا انتظار کرتا ہے اور جرم کرنے والا چونکہ دونوں کو نہیں مانتا تو ظلم کا بازار ایسے ہی قائم و دائم رہتا ہے۔
پس جن معاشروں کو ہم دن رات فحاشی کے طعنے دیتے ہیں اُن میں اور ہم میں یہی فرق ہے کہ وہ خود سمیت سب کو انسان سمجھتے ہوئے جینے کا حق دیتے ہیں وہاں کی سرکاریں اپنے ایک ایک شہری کے تحفظ کی حقیقی ذمہ داری لیتی ہیں۔ بھلے وہ یو اے ای ہو یا مغرب۔ ثنا یوسف تیرا قاتل ایک نہیں بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ہے جس میں منافق درندے دندناتے پھرتے ہیں جو تمھارے قتل کے جواز پیش کر رہے۔ بس تمہاری غلطی یہی ہے کہ تم نے ایک ذہنی بیمار معاشرے میں جنم لیا اور اپنے قہقہے بکھیرے جس کا تجھے کوئی حق نہیں تھا کیونکہ تجھ میں اور زمانۂ جہالت میں پیدا ہونے والی بچیوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہاں مسکراہٹ واجب القتل ہے۔


