انکار کا حق


ہمیں یہ کب سمجھ آئے گا کہ ”انکار، انکار ہوتا ہے“
No means No.

کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انکار کے باوجود آپ پر دباؤ ڈالے یا آپ کے انکار کو اقرار میں بدلنے پر مجبور کرے۔

ہر گزرتے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ کبھی غیرت کے نام پر کوئی زندگی چھین لی جاتی ہے، تو کبھی کسی کا انکار اُس کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔ اسلام آباد میں 17 سالہ بچی، ثناء یوسف کا دل دہلا دینے والا قتل صرف ایک لڑکی کی جان جانے کا واقعہ نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تربیتی ناکامی کا علامتی اعلان ہے۔

میں حیران ہوں کہ جان اتنی سستی، اتنی عام کیسے ہو گئی؟ کوئی بھی شخص آتا ہے اور کسی معصوم کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتا ہے۔ یہ رویہ صرف خطرناک نہیں، بلکہ ایک سماجی ناسور بن چکا ہے۔ میری رائے میں کوئی شخص ایک دم سے اتنا درندہ نہیں بن جاتا۔ اس کے پیچھے کئی تلخ تجربات، معاشرتی رویے اور ذہنی زخم ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ انسانیت کو مٹا دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف جرم کے نتیجے کا نہیں، بلکہ اس کی وجوہات کی تہہ میں جانے کا ہے۔ ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ یہ ذہنیت کیسے پروان چڑھتی ہے؟ کون لوگ، کون سے رویے، کون سی سوچیں ایک انسان کو اس نہج پر لے آتی ہیں؟

ایسے افراد کو صرف سزا دینا کافی نہیں، انہیں نشانِ عبرت بنانا ضروری ہے تاکہ یہ پیغام عام ہو سکے کہ جنون اور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں۔ قاتل نے صرف 17 سالہ ثناء یوسف کی جان نہیں لی۔ اس نے اپنی زندگی کا بھی گلا گھونٹ دیا۔ ذرا سوچیے : ایک طرف وہ ماں، جس کی معصوم بیٹی ہمیشہ کے لیے چلی گئی اور دوسری طرف وہ ماں، جس کا بیٹا اب عمر قید یا پھانسی کی دہلیز پر ہے۔ یہ صرف ایک انکار نہیں تھا، یہ دو خاندانوں کی مکمل تباہی کا آغاز تھا۔

ہمیں معاشرے کو یہ سمجھانا ہو گا کہ جب آپ کسی جنونی قدم کا انتخاب کرتے ہیں، تو صرف اپنی زندگی کو نہیں، بلکہ اپنے ساتھ جڑے ہر شخص کی زندگی اور خوشیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ہمیں ان وجوہات کی نشاندہی کرنا ہوگی جو اس جنون کو جنم دیتی ہیں، تاکہ ہم اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچپن ہی سے بچوں کی ایسی تربیت کریں جو انہیں انسانی جان کی قدر، عورت کی عزت اور انکار کی حرمت سکھائے۔ انہیں یہ سمجھائیں کہ عورت کو انکار کا حق حاصل ہے۔ یہ محض ایک فیصلہ ہے، کسی کی انا کا مسئلہ نہیں۔ ہر انسان کو اپنی مرضی سے جینے کا حق حاصل ہے، چاہے وہ بیٹا ہو یا بیٹی، بہن ہو یا بھائی۔ اگر وہ کسی غلطی میں مبتلا ہوں، تو محبت سے سمجھائیں، دلیل سے قائل کریں، بار بار سمجھائیں۔ پھر بھی آگر نہ سمجھتے تو لا تعلقی اختیار کر لیں۔ مگر کسی کی جان لینا آپ کا حق نہیں۔ ایک جان کو جسم سے جدا کرنے کا اختیار صرف خدا کے پاس ہے۔ ”

عورت قابلِ عزت ہے، کیونکہ وہ ماں ہے، بہن ہے، بیوی ہے، بیٹی ہے۔ وہی عورت ہے جو زندگی کو جنم دیتی ہے۔ لہٰذا اُس کے وجود، اُس کی رضامندی اور اُس کے ”انکار“ کا احترام کریں۔ یاد رکھیے : اگر آج آپ عورت کی عزت نہیں کریں گے، تو کل کو آپ کی ماں، بہن یا بیٹی بھی اسی بے حس سماج کا شکار بن سکتی ہے۔

Facebook Comments HS