8 جون سمندروں کا عالمی دن
میدانی علاقوں میں رہنے کی وجہ سے پاکستان کی اکثریت کو سمندروں اور اس کے ماحول کے بارے میں بہت کم معلومات میسر ہیں۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں جب بھارتی میڈیا نے لاہور کی بندرگاہ پر قبضہ کرنے جھوٹی خبر چلائی تو پہلی بار سوشل میڈیا پر پنجاب اور دیگر میدانی علاقے کے لوگوں نے حیرت میں سمندر کے حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ بہت سے پاکستانیوں کو شاید یہ بھی نہ پتہ ہو کہ پاکستان کے پاس تقریباً ایک ہزار کلو میٹر طویل ساحل سمندر ہے۔
چونکہ پاکستان میں سمندری سیاحت کی طرف بھی کم رجحان ہے اور ہم نے اپنے ساحلوں کو سیاحتی مقامات بنانے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی تو غالب اکثریت شمالی علاقہ جات کی طرف ہی رخ کرتی ہے۔ ہمارے میڈیا میں بھی سمندری سیاحت اور سمندری آلودگی کے متعلق بہت کم بات کی جاتی ہے۔ سمندر ہمارے سیارے کی 70 % سطح پر محیط ہیں اور زندگی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر دوسری سانس کے لیے آکسیجن فراہم کرنے سے لے کر ہم اربوں لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور دنیا کے 80 % حیاتیاتی تنوع کی میزبانی کرتے ہیں جو سمندر کا ہی مرہون منت ہے، سو سمندر ہمارے وجود کے لیے ضروری ہے۔
سمندروں کا عالمی دن، جو ہر سال 8 جون کو اقوام متحدہ کی طرف سے منایا جاتا ہے، سمندروں کی اہمیت اور ان کے تحفظ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے ایک عالمی اقدام ہے۔ پاکستان اس دن میں سرگرمی سے حصہ لیتا ہے، پاک بحریہ اور دیگر تنظیمیں سمندری آگاہی کو فروغ دینے کے لیے تقریبات اور سرگرمیوں کی میزبانی کرتی ہیں۔ زندگی کو سہارا دینے، رزق فراہم کرنے اور کرہ ارض کی آب و ہوا کو منظم کرنے میں سمندروں کے اہم کردار پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی یوم سمندر صرف آگاہی کا دن نہیں ہے بلکہ عمل کی دعوت ہے۔ یہ دنیا بھر کے افراد اور کمیونٹیز کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے اپنے سمندروں کے تحفظ اور تحفظ کی کوششوں میں متحد ہوں۔ ہمارے پاس اس دنیا میں پانچ بڑے سمندر ہیں۔ جن میں بحر الکاہل جو ایشیا اور امریکہ کے درمیان سب سے بڑا اور گہرا سمندر ہے۔ دوسرے نمبر پر بحر اوقیانوس ہے جو یورپ، افریقہ اور امریکہ کے درمیان دوسرا بڑا سمندر ہے۔
تیسرے نمبر پر بحر ہند ہے جو ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ہے۔ جبکہ اس کے بعد آرکٹک اوقیانوس ہے جو سب سے چھوٹا، کم ترین اور سرد ترین سمندر ہے۔ اس سال کی تقریبات کا تھیم بہت دلچسپ، شاندار اور ایک ایسے طبقے کے متعلق ہے جن کو عرف عام میں سمندری مزدور کہا جاتا ہے۔ اس سال کا تھیم آنے والی نسلوں کے لیے صحت اور سمندری وسائل کی کثرت کو یقینی بنانے کے لیے پائیدار ماہی گیری کے طریقوں کی اہمیت کو اجاگر کرے گا۔
تعلیمی اقدامات سے لے کر پائیدار سمندری غذا سے لطف اندوز ہونے تک، عالمی یوم سمندر کو منانے کے متعدد طریقے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ سمندر کے بارے میں پڑھانے اور سیکھنے کے لیے وسائل دریافت کریں، تصدیق شدہ پائیدار سمندری غذا پکائیں، پائیدار ماہی گیری کی کہانیوں کا مطالعہ کریں، اور سوشل میڈیا اپ ڈیٹس اور نیوز لیٹرز کے ذریعے باخبر رہیں۔ ہمارے میڈیا کو بھی چاہیے کہ سمندروں کے عالمی دن کی مناسبت سے عوام میں آگاہی کیے خصوصی پروگرام نشر کرے۔ سمندری علاقوں کے باسیوں کو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سمندری سیاحت اور سمندری زندگی کی اہمیت کے بارے میں معلومات ملک کے دیگر علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی دلچسپی کے لئے پھیلانی چاہئیں۔
متعدد خبروں کے مضامین اور سرکاری بیانات عالمی یوم سمندر کے ساتھ پاکستان کی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور منہاج یونیورسٹی لاہور نے اس دن کی اہمیت اور سمندروں کے تحفظ میں پاکستان کے کردار پر بہت اچھی رپورٹس شائع کی ہیں۔ پاک بحریہ سمندروں کا عالمی دن منانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔ سمندروں اور ساحلی علاقوں کی ترقی معیشت کے لئے بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سمندر زندگی کی بقا کے لئے ضروری ہیں کیونکہ یہ ہمارے پھیپھڑوں کو آکسیجن مہیا کرنے کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔
کیونکہ وہ اس سیارے پر پیدا ہونے والی آکسیجن کا 50 فیصد سے زیادہ فراہم کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی خوراک اور پروٹین کا پندرہ فیصد سمندر مہیا کرتے ہیں اور یہ ہمیں ماہی گیری کی وجہ سے میسر آتا ہے۔ اس کے علاوہ گرین ہاؤس گیسوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کے حوالے سے بھی سمندروں کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ سمندروں کا عالمی دن 8 جون کو ہر سال اس لئے بھی منایا جاتا ہے تاکہ سمندروں پر پڑنے والے منفی اثرات کی طرف توجہ مبذول کرائی جا سکے۔ ہمارے سمندروں کی صحت اور سمندروں کے مستقل استعمال اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے سمندروں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کا جائزہ لینے کے لئے بھی اس دن کو سمندری دنیا کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔
سمندر کی اہمیت کو یاد رکھنے کے لئے پاک بحریہ نے متعدد کام کیے ہیں جن میں تقریبات اور سرگرمیاں جن میں ساحل سمندر کی صفائی، ملبہ جمع کرنے کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ بین الاقوامی یونین کے تعاون سے مینگروو کا تحفظ اور شجرکاری، ماہی گیری کے تباہ کن جالوں کے استعمال پر پابندی، تیل کی آلودگی سے نمٹنا سمندر اور سمندر میں فضلہ ڈمپنگ کو کم کرنے کے لیے صنعتی برادری کے ساتھ تعاون کرنے جیسے اقدامات بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔
پاک بحریہ دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر بھی اقدامات کرتی ہے۔ سمندری وسائل میں بلیو اکانومی ایک مستقل سبجیکٹ بن چکا ہے۔ پاکستان کو بھی بلیو اکانومی کے تصور کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سمندروں کے عالمی دن کے موقع پر ، پاکستان ہمارے سمندروں کے تحفظ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور عالمی سمندری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ ہم پائیدار طریقوں کو فروغ دینے اور اپنے سمندری ماحول کی حفاظت اور بحالی کے عالمی مشن میں حصہ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں


