کیوں نہ بیٹیوں کی پیدائش پر پابندی لگا دی جائے؟


اردو ادب کی عہد ساز شخصیت قرۃ العین حیدر اور اُن کا لکھا ہوا شاہکار ناول ’اگلے جنم موہے بِٹیا نہ کیجو‘ دونوں ہی آج بہت یاد آ رہے ہیں۔ انہوں نے برسوں پہلے آج کے حالات کو بھانپ لیا تھا اور خواتین کے درد اور خیال کو لفظوں میں ایسا پرویا کہ ہر دور کی عورت کی ترجمانی ہونے لگی۔ اُن کا یہ ناول صدیوں سے بیٹیوں کے دل کی کسک، ان کی آرزوؤں کے کچلے جانے اور معاشرتی جبر کے خلاف ایک خاموش احتجاج کے پس منظر میں لکھی گئی تحریر ہے۔ یہ ناول معاشرے میں عورت کی حالتِ زار کی ایک حقیقی اور دردناک تصویر پیش کرتا ہے کہ بیٹی کی زندگی میں کتنی مشکلات اور دکھ ہوتے ہیں کہ وہ دوبارہ اس صورت میں جنم لینے کی خواہش نہیں رکھتی۔

ثنا یوسف کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعہ نے دل اور دماغ دونوں کو سُن کر رکھا ہے۔ دونوں میں نہ کوئی ربط رہا ہے نہ کوئی تال میل۔ دل اس واقعہ پر مسلسل افسردہ ہے جبکہ دماغ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کا حل سوچنے میں مگن۔ اس واقعہ نے تو گویا روح ہی کھینچ کے رکھ دی ہے۔ حیرت اور دکھ ہے کہ خواتین کے لئے اس سماج میں زندہ رہنا انتہائی کٹھن معاملہ بن چکا ہے۔

ہم کس کس ثنا کو یاد کر کے روئیں؟ ہم نے کب کب اور کس کس ثنا پر بین نہیں کیا؟ ہم سینکڑوں جنازے اِس آس پر اُٹھائے چکے ہیں کہ اب یہ آخری جنازہ ہو گا یا اب پھر ایسا نہیں ہو گا، یا آئندہ کسی زینب کو بے حرمت نہیں کیا جائے گا، یا پھر کسی قندیل بلوچ کو روندھا نہیں جائے گا، یا اب کسی نور مقدم کو تڑپ تڑپ کر جان نہیں دینا پڑے گی یا اب کہیں کوئی باپ کلہاڑے سے کسی دھی رانی کی ٹانگیں نہیں کاٹے گا یا زہر نہیں دے گا۔ مگر افسوس! کہ اس فہرست میں مسلسل اضافہ ہوا جاتا ہے۔

پاک وطن میں سال 2024 اور 2025 کے دوران خواتین کے خلاف تشدد اور قتل کے واقعات کی تشویشناک تعداد سامنے آئی ہے۔ جیو نیوز کو موصول رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا میں 2025 کے پہلے چار ماہ کے دوران (جنوری تا اپریل) 116 خواتین کو قتل کیا گیا۔ روزنامہ نوائے وقت کے مطابق صرف لاہور میں 2025 کے پہلے تین ماہ میں (جنوری تا مارچ) 151 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور 1100 سے زائد خواتین کو اغوا کیا گیا۔ اغوا کے بعد اُن پر کیا بیتی یہ الگ داستان ہے۔ اسی مدت میں لاہور میں 27 خواتین کو قتل کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک شہر کے ہیں، ملک کے بقیہ تمام شہروں کے اعداد و شمار پاگل کر کے رکھ دیں گے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں جنوری سے نومبر تک ملک بھر میں 392 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ ان میں سے پنجاب میں 168، سندھ میں 151، خیبر پختونخوا میں 52، بلوچستان میں 19 جبکہ اسلام آباد میں 2 خواتین قتل ہوئیں۔

کون سا غم ہے جو یہ بیٹیاں نہیں سہتیں؟ صدیوں سے انہیں لڑکوں کے مقابلے میں کئی حوالوں سے کم تر سمجھا جاتا رہا ہے۔ کبھی جہیز کی وجہ سے مالی بوجھ سمجھا گیا، کبھی جائیداد میں حصہ دینے سے گریز کیا گیا۔ کبھی گھر اور گھر سے باہر جنسی ہراسانی اور تشدد کا نشانہ بنیں۔ تعلیم اور کیریئر کے میدان میں اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں تنگ نظری اور ”غیرت“ کا تصور حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔

مئی 2024 میں فیصل آباد میں ایک باپ نے اپنی جواں سال بیٹی کو مبینہ طور پر ناجائز تعلقات کے شبہ میں زبردستی چوہے مار گولیاں کھلا کر قتل کر دیا۔ گزشتہ برس خوشاب، پنجاب میں ایک خاتون ٹک ٹاکر کو اس کے چچا زاد بھائی نے قتل کرد یا۔ پشاور میں ایک اور خاتون کو اسی ضمن میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ اکتوبر میں کراچی میں خاندان ہی کے ایک فرد نے چار خواتین کے گلے کاٹ کر قتل کر دیا گیا تھا جنوری 2025 میں کوئٹہ میں 15 سالہ لڑکی حرا انور کو مبینہ طور پر اس کے والد اور ماموں نے سوشل میڈیا استعمال کرنے کی پاداش میں قتل کر دیا۔ رواں سال فروری میں راولپنڈی میں 13 سالہ اقرا نامی گھریلو ملازمہ کو مبینہ طور پر اس کے مالکان نے چاکلیٹ چوری کرنے کے الزام میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

”غیرت“ کے نام پر تشدد پاکستان کے بیشتر علاقوں میں اب بھی انتہائی مضبوط ہے جہاں خواتین کو اپنی مرضی کے خلاف فیصلوں، تعلیم، یا تعلقات کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ آن لائن ہراسانی اور بدنامی کے واقعات بھی بڑھے ہیں، جن کے بعض اوقات سنگین آف لائن نتائج بھی سامنے آتے ہیں، جیسا کہ ثنا یوسف کے کیس میں دیکھا گیا۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین کو درپیش تشدد اور عدم تحفظ ایک مسلسل اور کثیر جہتی مسئلہ ہے جس کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر بھی گہری سوچ بچار اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔

وطنِ عزیز میں سینکڑوں جان و مال کے تحفظ کے سینکڑوں قوانین، حقوقِ نسواں کے ادارے اور حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ویمن پروٹیکشن کمیشنز کام کر رہے ہیں، مگر ان سب کی موجودگی کے باوجود خواتین کی سماجی حالت، حقوق اور تحفظ کی صورتحال پست در پست ہوئی جاتی ہے۔

ہمارے ہاں حکمرانوں کی چونکہ یہ روایت رہی ہے کہ جب بھی کہیں کوئی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا ہو تو بجائے اُس مسلے کا حل تلاش کرنے کے سب سے آسان حل ”پابندی“ لگا دینا سمجھا جاتا ہے۔ کبھی کھیلوں کے میدانوں پر پابندی، انٹرنیٹ پر پابندی، نقل و حرکت پر پابندی، ڈبل سواری پر پابندی، موبائل فون سروس پر پابندی، عوامی اجتماعات پر پابندی، یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر پابندی، فن اور ثقافت پر پابندی اور نجانے کون کون سی پابندیوں کا سامنا رہتا ہے ہمیں؟

چونکہ درندگی سے بھرے اس سماج میں ہم اپنی بیٹیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے، خواتین کو تحفظ، عزت اور با وقار زندگی نہیں دے سکتے بلکہ ان کی زندگیاں مسلسل داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ بے بسی کی بھٹی میں جھونکی جا رہی ہیں۔ ہم انہیں جان کا تحفظ اور ہنستی بستی زندگی کا حق دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں تو اس ظلم کو جاری ہی کیوں رکھا جائے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ بیٹیوں کو اذیت ناک زندگی دینے کی بجائے ان کی پیدائش پر ہی پابندی لگا دی جائے، نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسُری۔ ایسا کرنے سے زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا ناں کہ ہمیں ’دورِ جہالت‘ تصور کیا جائے گا، تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

Facebook Comments HS