”رقصِ وجداں“ : ساحر راہُو کا آٹھواں مجموعۂ کلام
ساحر راہُو دورِ حاضر کے سندھی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں اور غزل کی صنفِ سُخن ان کی پہچان ہے۔ ان کی شاعری کے 7 مجموعہ ہائے کلام اس سے پہلے شائع ہو کر ادبی حلقوں میں مقبولیت پا چکے ہیں۔ جن میں سے ایک مجموعۂ کلام اردو میں بھی ہے۔ ان کی طبع شدہ شاعری کی کتب کی تفصیل کچھ یوں ہے :
1۔ خواب کھتُھوریٔ چند (خواب، خوشبو اور چاند)
2۔ سانوری شام (سانولی شام)
3۔ ”نینڑ سجدے میں“ (نین سجدے میں )
4۔ ”خوابن جی خود کشیٔ کھانپؤ“ (خوابوں کی خودکشی کے بعد )
5۔ ”وہی پت جھڑ ہے آنکھوں میں“ (اردو شاعری)
6۔ ”دل جی گلی“ (دل کی گَلی)
7۔ ”سنگیت جی مدُھرتا“ (سنگیت کی مدُھرتا)
ابھی حال ہی میں ان کا یہ آٹھواں مجموعۂ کلام ”رقصِ وجداں“ کے خوبصورت عنوان سے شائع ہو کر منظرِعام پر آ چکا ہے۔ گو کہ ذاتی طور پر اور ایک قاری کی حیثیت سے میں اس کتاب کے عنوان سے متفق نہیں۔ کیونکہ یہ مرکب لفظ سندھی کا نہیں ہے۔ اس کی جگہ پر ساحر کی کسی غزل کے کسی مصرع کے کسی حصے سے کوئی اور خوبصورت نام کشید کیا جا سکتا تھا، جو کہ خالصتاً سندھی کا ہو سکتا تھا۔
ساحر راہو کے اس مجموعۂ کلام میں کل 156 غزلیات شامل ہیں۔ کمال کی بات یہ ہے کہ انہوں اپنی اس نے پوری کتاب میں ہر غزل کے اشعار کی تعداد کم از کم 8 اور زیادہ سے زیادہ 9 رکھی ہے۔ جس وجہ سے ہر صفحے پر ترتیب کی خوبصورتی نظر آتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ ساحر نے نہ صرف یہ غزلیات سلیقے سے کہی ہیں، بلکہ ان کا انتخاب اور تزئین بھی بہت ہی سلیقے سے کی ہے، جس کا عکس ان کے مزاج اور ذاتی زندگی میں بھی جھلکتا ہے۔
اس کتاب کو ساحر راہو نے حال ہی میں بے دردی سے قتل کیے گئے سندھ کے معروف مزاحمتی شاعر، ڈاکٹر آکاش انصاری کے نام منسوب کرتے ہوئے صفحۂ انتساب پر لکھا ہے : ”سندھ کے آکاش، سندھ کے بیباک کردار اور تخلیق کار، شہید ڈاکٹر آکاش انصاری کے نام۔“
اس کتاب کی ایک اچھی بات مجھے یہ بھی لگی کہ ساحر نے روایتی پیش لفظ یا دیباچے والی روایت کو ختم کرتے ہوئے اس کتاب میں کوئی بھی مقدمہ، پیش لفظ یا دیباچہ شامل نہیں کیا۔ اس حد تک کہ انہوں نے اپنی جانب سے بھی کتاب کے آغاز میں کوئی نثری پیغام تحریر نہیں کیا۔ شاید ایک شاعر کی حیثیت سے وہ یہی کہنا چاہتے ہوں کہ ان کو جو کہنا ہے، وہ انہوں نے ان 156 غزلیات میں کہہ دیا ہے۔ لہٰذا مزید نثر میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کتاب میں پبلشر نوٹ بھی شامل نہیں ہے۔ ساحر نے اپنی شاعری کے حوالے سے کسی سے کوئی طویل مقدمہ یا پیش لفظ لکھوا کر تو اس کتاب میں شامل نہیں کیا، البتہ ان کے تین ہمعصر شاعر دوستوں نے ساحر کی شاعری کے حوالے سے آراء تحریر کی ہیں۔ جن میں سے تین آراء کتاب کے پَروں (فلیپس) پر موجود ہیں۔ جبکہ ایک تفصیلی رائے بیک ٹائٹل پر موجود ہے۔ فلیپ پر موجود آرا میں سید امداد جعفری، ذوالفقار گاڈہی اور جعفر جانی کی آرا شامل ہیں۔ جبکہ اس کتاب کے صفحۂ آخر (بیک ٹائٹل) پر عزیز گل کی رائے شامل ہے۔
عزیز گل اپنے بیک ٹائٹل کمنٹ میں، کیا حسین شاعرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے خالص افسانوی انداز میں لکھتے ہیں : ”مجھے قسم ہے گاؤں کی اور ان کی، جو کچھ گاؤں میں موجود ہے۔ ساحر اپنے دل کی کچی جھونپڑی میں میز پر بانہیں بِچھا کر آنکھیں بند کر کے مسلسل اپنے اندر کے خلا کو بھرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ اور اپنے محبوب کے ساتھ پھولوں کی نمائش میں اچانک ملتے ہوئے شاعری کے ایک مصرع کے ہاتھوں اریسٹ ہو چکا ہے۔ اور کسی ویران ریلوے اسٹیشن پر الوداع ہونے والا ہاتھ مسلسل ہِل رہا ہے۔ اس کی شاعری میں موجود مختلف فانوس چوباروں پر ہانپ رہے ہیں۔ اس کی شاعری کی فضا میں بانسری کی دُھن ہے اور الوداع ہونے والا ہاتھ مسلسل جنبش میں ہے۔ اس کی شاعری کی ڈائری سے مسلسل تصویریں ہاتھ لگ رہی ہیں۔ اس کے پاس خوشبو اور پھٹی ہوئی قبا جیسا دل، آواز کی بازگشتیں اور سگریٹ کے دھوئیں کے گول چھلے ہیں۔ اور الوداع ہونے والا ہاتھ مسلسل جُنبش میں ہے۔ دوست! مجھے اجازت دو! میں اُس کی شاعری کی شان میں خاموشی اختیار کرنا چاہتا ہوں۔“
ساحر کی شاعری کے بارے میں سید امداد جعفری لکھتے ہیں : ”ساحر کے پاس علامتی تشبیہات اور استعاروں کا استعمال کافی جگہوں پر ملتا ہے۔ جو اس کی شاعری کو زمان و مکان کی حدود سے آگے لے جاتا ہے اور خالصتاً انسانی تجربے کی ترجمانی کرتا ہے۔ ساحر کی غزل، موسیقی اور معنی کا ایک شاندار امتزاج ہے۔ جہاں اس کی آواز جذباتی اظہار کی ایک صدا بن جاتی ہے۔ اس کی غزل میں موسیقی ترنم اور جذباتی الاپ موجود ہے۔ جس کو بہت کم سنا گیا ہے۔ ساحر نے ایسے مصرعے گھڑے ہیں، جو زبان، ترنم اور احساس کا ایک خوبصورت سنگم ہونے کے ساتھ ساتھ گا بھی رہے ہیں اور سامعین و قارئین کو جھوما بھی رہے ہیں۔“
ذوالفقار گاڈہی لکھتے ہیں : ”ساحر راہو میرے سندھی شاعرانہ ادب کے نمائندہ شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں وہ ساحری ہے، جو کسی بھی اچھے قاری کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔“ جعفر جانی لکھتے ہیں : ”ساحر راہُو ہمارے دور کے انتہائی منفرد تخلیق کار ہیں۔ جن کے پاس تخیّل کا اپنا ایک الگ جزیرہ ہے۔ ایسا جزیرہ، جو پناہ گاہ ہے، ہر اس دل کی، جس میں تڑپ کی تشنگی اور تلاش کی طلب جاگتی ہے۔ ویسے بھی ’ساحر‘ لفظ کے معنی ہی جادوگر کے ہیں۔ اور ہر ماہر جادوگر اپنے تماش بینوں کو پرمسرت حیرانی سے رُوشناس کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لہٰذا سندھ کا یہ ساحر شاعر بھی اپنے حیرت انگیز فن کے ذریعے اپنے قارئین کے سپنوں کے پورٹریٹ بناتا ہے۔ وہ الفاظ کی مصوری کے ذریعے اپنے دیس کے باسیوں کی روحوں میں ٹھہر جانے والی اداسی کے صحراؤں اور ان کے نینوں میں اٹکی ہوئی بُوندوں اور ان کے دلوں میں جدوجہد کے لیے کروٹ لے کر جاگتے احساسات کے عکس نقش کرتا ہے۔“
ساحر کی ایک غزل میں ان کا اسلوب دیکھیے :
قیدِ خلوت کی غلامی ہے ملی
بِھیڑ میں بھی خود کلامی ہے ملی
تیرے پاکیزہ پسینے کی مجھے،
دفعتاً سوندھی سلامی ہے ملی
مسکراہٹ سنگ رہ کر عمر بھر،
زندگی اس کو دوامی ہے ملی
وصل کے جَل نے بِھگویا بارہا
جام کی خوشبو خیامی ہے ملی
زہر کی ’سقراط‘ اور ’منصور‘ کو
خاک ”ساحر“ ! نیک نامی ہے ملی
(منظوم ترجمہ: راقم)
اسی بحر میں ان کی ایک اور غزل میں ایک منفرد منظرنامہ ملاحظہ کیجیے :
گاؤں کی باتیں، شبابوں کی مہک
منتظر مٹی، گلابوں کی مہک
وقت کی دُھولوں میں دب کر رہ گئی،
کچھ مہذب سے حجابوں کی مہک
نین سیلانی کی مانند ڈھونڈتے،
خط کی خوشبو اور کتابوں کی مہک
رات ریگستان میں وہ کارواں
تشنگیٔ رَہ، سرابوں کی مہک
دیکھ! ہر کنکر میں ہے منصور کے،
درد کی شدّت، ثوابوں کی مہک
بُت کدے میں دھوپ کے خوشبو کہاں!
مۂ کدے میں ہے شرابوں کی مہک
نیند کے آغوش میں بچّہ سُنے،
ماں کے کچھ معصوم خوابوں کی مہک
چاندنی، نظریں جُھکی، چنچل ہوا
کیا لکھے ”ساحر“ نصابوں کی مہک
(منظوم ترجمہ: راقم)
اس کتاب کی آخری غزل کے چند اشعار کا منظوم ترجمہ ملاحظہ کیجیے :
بے خودی میں جام کی سرگوشیاں
مۂ کشوں سے گام کی سرگوشیاں
کس نے تیری ریشمی آغوش کی،
پائی ہیں آرام کی سرگوشیاں
خود کلامی روح کی آوارگی
جستجُو اک نام کی سرگوشیاں
خودکشی کے قُرب سے آگے ملِیں،
خوبصورت شام کی سرگوشیاں
چاند کی درویش دریاؤں کے ساتھ،
دل میں بیٹھے رام کی سرگوشیاں
جسم کے بازار میں ہر رات کو،
ذلتوں اور دام کی سرگوشیاں
چاندنی میں نین تیرے تھے سجن!
شبنمی پیغام کی سرگوشیاں
رات تیرے شہر میں میں نے سُنیں،
شاعرِ بدنام کی سرگوشیاں
لہر دُوجی موج سے ”ساحر“ ! کہے
’سندھ‘ کی اور * ’جام‘ کی سرگوشیاں
(منظوم ترجمہ: راقم)
* ’جام‘ : جام تماچی سموں (سماں دورِ حکومت کا بادشاہ، جس نے ’نُوری‘ نامی مَچھیرن سے شادی کی۔ جو کینجھر جھیل کے کنارے رہتی تھی۔ )
اس کتاب کو اِسی برس، 2025 ء میں سمبارا پبلیکیشن حیدرآباد نے شائع کیا ہے۔ 160 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 400 روپے ہے۔
===
مصنف، ٹیلی ویژن اور ریڈیو براڈکاسٹ صحافی و میزبان، آڈیو آرٹسٹ، اور بارہ کتب کے مصنف ہیں۔


