خواب، محبت اور زندگی 29


mahnaz rahman

اپنے اصل شوق کی جستجو: فنون لطیفہ

انٹر کے امتحانات کی تیاری کے لئے ہر مضمون کے لئے میں نے صرف چار یا پانچ دن پڑھائی کی تھی اور توقع کے مطابق میری سیکنڈ ڈویژن ہی آئی تھی۔ اس لئے امی کی ساری بھاگ دوڑ کے باوجود مجھے کسی میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ صرف ایک آپشن بچا تھا کہ میں مشرقی پاکستان جا کے داخلہ لے لوں لیکن امی مجھے اتنی دور بھیجنے کی ہمت نہیں کر پائیں۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اعلان کر دیا کہ میں بی ایس سی نہیں کروں گی بلکہ آرٹس کے مضامین لوں گی۔ اس وقت تک میرے سارے گھر والے شکارپور جا چکے تھے اور میں اپنی خالہ کے پاس رہ رہی تھی۔ طے یہ ہوا تھا کہ کالج میں داخلہ لینے کے بعد میں ہوسٹل میں رہوں گی۔ مجھے کراچی کے مشہور گورنمنٹ کالج فرئیر روڈ میں داخلہ مل گیا جہاں ہوسٹل کی سہولت موجود تھی۔

اس کالج میں داخلہ ملنا میرے لئے خوشی کا باعث تھا کیونکہ اس کالج کا شمار کراچی کے بہترین کالجز میں ہوتا تھا۔ ممتاز ماہر تعلیم اور انتہائی گریس فل شخصیت کی مالک زینت رشید پرنسپل تھیں۔ مشہور رائٹر وحیدہ نسیم بھی وہاں پڑھاتی تھیں۔ ان کی تحریریں خواتین میں خاص طور پر مقبول تھیں۔ ان کی ایک کہانی پر فلم بھی بنی تھی لیکن کالج میں ان کی شہرت ایک سخت گیر استاد کی تھی۔ ایک مرتبہ میں نے انہیں کالج ’بنک‘ کرنے والی لڑکیوں کے ایک گروپ کو گیٹ کے پاس پکڑتے دیکھا۔ انہوں نے انہیں نہ صرف خوب ڈانٹا بلکہ ایک لڑکی جس نے نئے فیشن کی سر پر اونچی سی چوٹی بنا رکھی تھی، اس کی چوٹی کو کھینچ کر چند جھٹکے بھی دیے۔ یہ منظر دیکھ کر میری تو مانو جان نکل گئی تھی۔ میرا واسطہ ہمیشہ مہربان اور شفیق اساتذہ سے پڑا تھا۔ استاد کا یہ روپ میں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔

ریڈیو اور ٹی وی کی مشہور آرٹسٹ زینت یاسمین بھی اس وقت کالج کی ایڈمنسٹریشن کا حصہ تھیں۔ اس زمانے میں وہ برقع پہنتی تھیں۔ سالوں بعد ان کی بیٹی ایرج پاکستان کی ٹاپ فیشن ماڈل بنی۔ اسی زمانے میں 1965 کی جنگ کے شہید ضیا الدین عباسی کی نو عمر بیوہ شاکرہ نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے ہمارے کالج میں داخلہ لیا تھا۔ ہم سب لڑکیاں انہیں بے حد احترام اور محبت سے دیکھتی تھیں۔ پاکستان کے بیشتر لوگوں کی طرح ہم بھی ایوب خان حکومت کے اس پراپیگنڈے کا شکار تھے کہ پاکستان پر حملے میں انڈیا نے پہل کی تھی۔ یہ تو بہت عرصہ بعد جا کر معلوم ہوا کہ یہ بھی ان بہت سے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ تھا جو ہماری حکومتیں عوام سے بولتی چلی آئی ہیں۔ یہ اور بات کہ اب معاملہ الٹ ہو گیا ہے اور اب ہندوستان میں مودی حکومت اپنے گودی میڈیا کی مدد سے اپنے عوام کو گم راہ کر رہی ہے۔

کالج میں میری دو لڑکیوں سے دوستی ہو گئی تھی۔ ایک رخسانہ آفریدی اور دوسری کوثر کاردار۔ رخسانہ طلبا یونین کے انتخابات میں حصہ لیتی تھی اور اسٹوڈنٹ لیڈر تھی۔ اس لئے اس کے گروپ کی ساری لڑکیاں بالواسطہ میری دوست بن گئی تھیں۔ رخسانہ کا تعلق ایک غیر معمولی خاندان سے تھا۔ اس کے والد دکھی پریم نگری کا تعلق پاکستان کی فلم نگری سے تھا۔ وہ فلموں کے لئے کہانیاں اور گانے لکھتے تھے۔ اور الیاس رشیدی کے مشہور فلمی رسالے ’نگار‘ میں کام کرتے تھے۔ پاکستان کے بائیں بازو کے دو عظیم رہنما معراج محمد خان اور منہاج برنا ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ اس وقت کس نے سوچا تھا کہ آنے والے دنوں میں یہ دونوں ہستیاں احفاظ اور میری زندگی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ بعد میں رخسانہ اور میرا ساتھ کراچی یونیورسٹی میں بھی رہا اور وہ مرتے دم تک میری دوست رہی۔ میری دوسری سہیلی کوثر بہت زندہ دل اور خوش طبع لڑکی تھی۔ اس کا تعلق پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار کے خاندان سے تھا۔

میرا کراچی چھوڑ کر شکارپور جانے کا ’تباہ کن‘ فیصلہ:

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ میں کراچی میں اپنی خالہ کے پاس رہ رہی تھی لیکن یہ طے تھا کہ کچھ عرصہ بعد میں کالج ہوسٹل میں شفٹ ہو جاؤں گی۔ اس زمانے میں ڈاکٹر بخش کالج کی وارڈن کے فرائض بھی انجام دیتی تھیں۔ وہ ایک پکی عمر کی غیر شادی شدہ خاتون تھیں۔ وہ کالج میں بوٹنی یا علم نباتات پڑھاتی تھیں اور ہر لڑکی جانتی تھی کہ ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا موضوع فوٹو سنتھسس (ضیائی تالیف) تھا کیونکہ وہ اپنی روزمرہ کی گفتگو میں بھی ہمیشہ اس موضوع کو گھسیٹ لاتی تھیں۔

ایک روز خالہ مجھے ہوسٹل میں داخل کرانے کے لئے ڈاکٹر بخش کے پاس لے گئیں۔ مجھے اس وقت حیرت بھی ہوئی جب وہ کسی نو عمر لڑکی کی طرح شرماتے اور لجاتے ہوئے خالہ سے باتیں کرتی رہیں۔ خالہ کی میٹنگ بہت کامیاب رہی اور مجھے ہوسٹل میں داخلہ مل گیا۔ لیکن اگلے روز جب میں دیگر تفصیلات جاننے کے لئے تنہا ڈاکٹر بخش کے پاس گئی تو ان کا مزاج بدلا ہوا تھا۔ وہ انتہائی درشتگی اور توہین آمیز انداز میں میرے ساتھ پیش آئیں۔ میرے لئے ان کا رویہ بالکل غیر متوقع تھا اور میں احساس توہین سے سلگتی ہوئی اسٹاف روم سے باہر نکل آئی۔

میں جو ہمیشہ گھر میں سب کی لاڈلی اور اسکول و کالج میں اساتذہ کی پسندیدہ اسٹوڈنٹ رہی تھی، اس بے عزتی کو برداشت نہ کر پائی اور کراچی چھوڑ کر شکارپور جانے کا فیصلہ کر لیا۔ جب میں نے امی ابی کو اپنے فیصلے سے مطلع کیا کہ میں ہوسٹل میں رہنے کی بجائے شکارپور ان کے پاس آنا چاہتی ہوں تو انہوں نے میرے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور میں کالج چھوڑ کر شکارپور روانہ ہو گئی۔

اپنے پسندیدہ کالج کو چھوڑ کر شکارپور جانے کا فیصلہ احمقانہ، جذباتی اور تباہ کن تھا لیکن اس وقت میں کچھ سوچنے اور سمجھنے کو تیار نہیں تھی۔

Facebook Comments HS