مذہبی متن اور مابعد جدیدیت

ہر خطے کا کلچر ادب کے ذریعے منعکس ہو کر زندگی کی تصویر کشی کر تا ہے۔ نتیجتاً خاص ماحول، حالات اور سماجی سر گرمیاں کسی نکتہ نظر کو پروان چڑھانے میں معاون بنتی ہیں۔ نکتہ نظر تغیر و تبدل اور تعمیر و تشکیل کے بعد کسی نظریے یا تھیوری کی شکل میں ترتیب پاتا ہے۔ مغرب میں سماجی سیاسی اور معاشی سرگرمیاں خاص نہج پہ دکھائی دیتی ہیں اور گزشتہ صدی سے پہلے یعنی جنگ عظیم دوم سمیت کئی بڑے واقعات نے دانشوروں کے زاویہ نگاہ کو نئی سمت دی ہے۔
تھیوری خاص ماحول اور حالات کے تحت پروان چڑھتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں صنعتی ترقی انسان کو نئے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ بہت پہلے یورپ نے روایتی اور موجود تصورات سے نجات حاصل کر کے نئے انداز سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ مابعد جدیدیت سماجی اور سائنسی تصور کے بعد کی صورت حال کو پیش کرتا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ نظریات، اشیاء اور موجودات کو نئے سرے سے جانچا جائے۔
ہم جس دنیا میں رہتے ہیں یہ مسلسل تغیر و تبدل سے دو چار ہے اور اس کے نتیجے میں ہمہ وقت تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ ابھی ہم ایک تبدیلی کا نظارہ کرتے ہیں تو ایک اور تبدیلی کو اپنا منتظر پاتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہمارے ذہن میں کوئی خیال ابھرتا ہے اور وہ ازخود ایک نئے خیال میں ڈھلتا جاتا ہے۔ سائنسی نظریات کئی بار نئے نظریات کے سانچے میں ڈھلے، سائنسی نظریات بھی اٹل نہیں ہیں۔ مزید تحقیق اور تجربہ نظریات کو نئی صورت دے دیتا ہے۔ اسی طرح ثقافتی سطح پر نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور وہ موجود رجحان کو تبدیل کر کے نئی صورت حال سے آشنا کرتے ہیں۔ کسی ایک فرد کی سطح پر بھی سماج اس تبدیلی کو بہر حال محسوس ضرورت کرتا ہے اور اگر یہ تبدیلی کسی گروہ یا طبقے کے ذریعے سامنے آتی ہے تو اس کے اثرات دوررس ہوتے ہیں۔
اقوام عالم کی زندگی پر مذہب اور ثقافت کے گہرے اثرات ہیں اور یہی اثرات اُس کی بو قلمونی کا سبب بھی ہیں۔ مذہب اور ثقافت کے بارے میں نیا ذہن زاویہ بدل بدل کر دیکھتا اور سوچتا ہے اور ممکنہ جوابات کی تشنگی سے اضطراب کا شکار ہوتا ہے۔ تب وہ سائنس کو سامنے رکھتا ہے اور بہر حال سائنس کا کوئی مذہب نہیں۔ سائنس کسی ثقافت کی مرہون منت نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بہت سی حدود و قیود کی وجہ سے ذہن فرار کا راستہ ڈھونڈتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جزوی یا کلی طور پر اس کے اثرات فرد کی ذات اور سماج کی اکثریت پر دکھائی دے رہے ہیں۔ انسان چوں کہ فطری طور پر آزاد ہے اس لیے وہ ہر قسم کی پابندی خواہ اس کا تعلق، ثقافت، ادب یا مذہب سے ہو قبول کرنے کے لئے آسانی سے تیار نہیں ہے۔ سو ادب میں مابعد جدیدیت کے تصور نے اصناف ادب کا روایتی فکری ڈھانچہ توڑ دیا ہے۔ مقامی ثقافتی سطح پر کھیل تماشے، اُچھل کود اور تفریح کے مختلف ذرائع کو فروغ ملا ہے۔ اسی طرح مذہب انسان کا ذاتی معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے کئی سطحوں پر انارکی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ انسان کی خوبیوں اور صلاحیتوں کا بھرپور استعمال بھی دیکھنے میں آتا ہے اور کارکردگی یا پرفارمنس کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی طرف رجحان ملتا ہے۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ مابعد جدیدیت کے اثرات زندگی کی ہمہ جہت صورتوں میں دکھائی دیتے ہیں اور کئی اعتبار سے ادب کے ذریعے ثقافت کو رد کرنے کا رویہ نظر آتا ہے۔
اسی لیے اینٹی تھیسس کی صورت حال جنم لیتی ہے چوں کہ یہ رویہ مستقل اور بڑے پیمانے پر مرتب ہو رہا ہے اس لیے تمام شعبہ ہائے زندگی اس سے متاثر نظر آتے ہیں یوں محسوس ہو تا ہے کہ دراصل خیال کسی بھی سطح پر حتمی اور حقیقی وجود نہیں رکھتا ہے۔ اس کے حتمی اور غیر حقیقی ہونے کی وجہ سے ہر چیز اپنا وجود کھو رہی ہے اور غیر حقیقی دکھائی دے رہی ہے۔ اِس طرح ہر شے کثیر جہات کے تحت لا مرکزیت کا شکار ہو گئی ہے۔
ادب میں مابعد جدیدیت متن پر زور دیتی ہے اور متن ہی دراصل انسانی تصورات، حسیات اور کیفیات کا مرقع ہوتا ہے۔ اس سے مصنف کے ذہن میں موجود خیال تک رسائی کی ممکنہ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہے اس سے قطع نظر یہ بات بہر حال قابل توجہ ہے کہ متن خیال کی اکائی کو کھو دیتا ہے اور اس کی ساخت میں طرح طرح کی پیچیدگیاں در آتی ہیں۔ یہی پیچیدگیاں انسان کو ہوا میں معلق کر دیتی ہیں اور لا حاصلی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ موجودہ زندگی اس لا حاصلی کا نمونہ پیش کرتی ہے اس میں غیر منطقی ترتیب اور غیر منطقی تزئین دکھائی دیتی ہے۔ یوں نہ صرف متن کی قرات میں پیچیدگیاں در آتی ہیں بلکہ لفظ کی معنویت بھی اِنتشار سے دو چار ہو جاتی ہے۔ نعتیہ شاعری مابعد جدیدیت کے اثرات کو قبول نہیں کرتی ہے۔ باقی اصناف سخن میں مابعد تصورات کی صورتیں ملتی ہیں مگر نعتیہ شاعری کا دائرہ کار مرکز گریز نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ عقیدت و احترام کا منبع رہے گا۔
رد تشکیل کے حوالے سے مذہبی کُتب کے متن کی نئے سرے سے تفہیم اعتقاد اور ایمان کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ یوں محسوس ہو تا ہے کہ ما بعد جدیدیت کا یہ تا ر و پود دراصل مذہبی متن کو تباہ کرنے کا ایجنڈا ہے۔ اِنسانی زندگی پر سب سے بڑا اور گہرا اثر مذہب ہی کا ہوتا ہے اور اس کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے ما بعد جدیدیت کے زیر اثر مہا بیانیہ کے لئے سوالیہ نشان کا مقصد یہی دکھائی دیتا ہے کہ یورپ اور امریکہ کے دماغ مسلسل فلسفیانہ سطح پر محاذ قائم کر کے نئے نئے فکری نکات کے ذریعے مذہب کے خلاف مصروف عمل ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ متن کی حتمیت کو بالادست طبقے کی بقا سمجھا دراصل پس پردہ مذہب کے خلاف محاذ ہے۔ چونکہ بالادست طبقہ متن کی حتمیت پر زور دیتا ہے۔ معنی کی کثیر الجہتی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے دونوں کو فریق تصور کیا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے یہ دونوں الگ الگ حیثیتوں کے حامل ہیں اور حقیقی مذہبی ذہن بھی دراصل مذہبی متن پر کار بند رہتے ہوئے بھی بالادست طبقے کی کلی حیثیت کو درست نہیں سمجھتا ہے۔ دنیا کے کئی خطوں میں مذہبی عناصر کے بالادست طبقے کے خلاف محاذ کی مثالیں موجود ہیں۔ ادب میں مغربی تھیوری کے پس پردہ سیاست کار فرما نظر آتی ہے اور جہاں یہ بالا دستی کا غیر محسوس تصور دیتی ہے وہاں مختلف تقاضوں اور مذاہب کو اپنے راستے میں رکاوٹ سمجھ کر مقامی ذہنوں میں شکوک و شبہات جنم دیتی ہے۔ ذہن انسانی نئے اثرات سے بچ نہیں سکتا ہے اور مغربی تھیوری اپنے مقاصد کو کسی حد تک پورا کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے موجود اثرات سے لا تعلق رہنا یا خود کو محفوظ رکھنا شاید ممکن نہیں ہے۔ نعتیہ شاعری مابعد جدیدیت اثرات سے محفوظ دکھائی دیتی ہے اور باقی اصناف سخن سے قطع نظر اپنے دائرہ کار میں ثابت قدم ہے۔

