علاقے میں امن کے لیے کرنے کے کچھ کام
پاکستان کے سفارتی وفود یہ مشن لے کر دنیا کا دورہ کر رہے ہیں کہ یہ ممالک برصغیر کے معاملہ میں مداخلت کریں اور بھارت پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وفد امریکہ کا دورہ مکمل کر کے لندن پہنچ گیا ہے ۔ اس کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی اور مذاکرات سے انکار کی صورت حال جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے دنیا خاموش نہیں رہ سکتی۔
تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ دنیا فی الحال خاموش ہے۔ پاکستانی وفد کے ارکان نے لندن پہنچنے پر دعویٰ کیا ہے کہ ان کا مشن کامیاب رہا ہے لیکن امریکہ کے کسی اعلیٰ عہدیدار یا ادارے کی طرف سے پاکستان کے اس موقف پر واضح اتفاق ظاہر نہیں کیا گیا کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات اہم ہیں اور نئی دہلی کو اس بارے میں آگاہ کیا جائے۔ دنیا اس وقت متعدد تنازعات کی زد میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سر توڑ کوششوں اور شدید خواہش کے باوجود روس و یوکرین کی جنگ میں نہ تو وقفہ آیا ہے اور نہ ہی یہ جنگ ختم ہونے کا کوئی امکان دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل مسلسل غزہ میں جنگ جوئی میں مصروف ہے۔ غزہ کے باشندوں کے لیے خوراک و ضروریات زندگی کی فراہمی معطل ہے اور بمباری میں شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر ہلاک کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ دانستہ یا نادانستہ اس جنگ کو بند کرانے اور غزہ کے مسئلہ کا کوئی حل تلاش کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔
اس پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے پاکستان و بھارت کے درمیان جنگ بند کروا کے، اہم کارنامہ انجام دیا ہے تو یہ کوئی حیرت انگیز دعویٰ نہیں ہے۔ یہ دونوں ممالک جوہری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان کے لیڈر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے اور بیانات و تقاریر میں اشتعال انگیز جملے بولنے کے عادی ہیں۔ 7 مئی کو پاکستان پر بھارت کے میزائل حملوں کے بعد دونوں ممالک باقاعدہ حالت جنگ میں تھے۔ سیاسی بیانات اور میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے سنسنی خیزی و اشتعال میں اضافہ کیا جا رہا تھا۔ ایسے میں اگر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ طوالت اختیار کرتی تو یہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔ اس خطے میں چین اور امریکہ کے گہرے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایران بھی پاکستان کا ہمسایہ ہے اور مشرق وسطیٰ کے حالات بھی جنوبی ایشیا سے متاثر ہوتے ہیں۔ پاک بھارت جنگ جاری رہنے کی صورت میں یہ قیاس کرنا ممکن نہیں تھا کہ یہ تنازعہ کیا رخ اختیار کرے گا۔ اس لیے صدر ٹرمپ اگر اسے رکوانے اور جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں تو اسے ان کا بڑا کارنامہ ماننا چاہیے۔
پاکستان اپنی سفارتی کوششوں سے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ ’ہم امن چاہتے ہیں۔ لیکن انڈیا ہٹ دھرمی کی وجہ سے امن کو نقصان پہنچا رہا ہے اور خطے میں حالات خراب کر رہا ہے۔ اس لیے دنیا ہماری مدد کرے‘ ۔ یہ مشن ایک نکاتی ہے کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کیا جائے۔ اس حوالے سے خاص طور سے دو باتوں پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ بھارت نے 7 مئی کو بین الاقوامی سرحد عبور کر کے حملے کیے، اس طرح یہ تنازعہ کشمیر کے متنازعہ علاقے تک محدود نہیں رہا۔ اس لیے مستقبل میں اگر دونوں ملک ایک بار پھر جنگ پر آمادہ ہوتے ہیں تو یہ جنگ وسیع ہوگی اور دونوں طرف کے وسیع علاقے اس کی زد میں آئیں گے۔ پاکستان کا دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی دینے سے انکار کیا ہے۔ پاکستان کے چوبیس کروڑ لوگوں کا پانی بند کرنا ایک سنگین جرم ہے جس کی وجہ سے برصغیر میں جنگ ناگزیر ہو جائے گی۔ اس لیے امریکہ اور دیگر ممالک بھارت کو ہٹ دھرمی ترک کر کے بات چیت کے ذریعے تمام معاملات طے کرنے پر آمادہ کریں ورنہ ایٹمی جنگ سمیت برصغیر کا تنازعہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
جیسا کہ سفارتی معاملات میں ہوتا ہے کہ مسائل حل کرانے اور کسی ملک کو قائل کرنے میں طویل عرصہ تک مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ و دنیا کے دیگر ممالک کو یہ اطمینان ہے کہ جنگ بند ہو چکی ہے اور دونوں ملکوں میں ذمہ دار حکومتیں موجود ہیں جو جنگ کے نقصانات سے آگاہ ہیں۔ جیسے 10 مئی کو پاکستان و بھارت نے عجلت میں امریکہ کی تجویز مان کر فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا، اس سے بھی امریکی حکومت کو یہی تاثر ملا ہو گا کہ نئی دہلی و اسلام آباد جنگ کو طول نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس بنیاد پر اگر امریکی حکومت کو یہ اطمینان ہے کہ برصغیر میں حالات قابو میں ہیں اور فوری طور سے نیا تنازعہ شروع نہیں ہو گا تو اس کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں جنہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی حکومت چونکہ بیمار معیشت کو بحال کرنے اور ملک میں سرمایہ کاری لانے میں دلچسپی رکھتی ہے، اس لیے اس کی خواہش ہے کہ کسی طرح بھارت کے ساتھ پائیدار اور قابل اعتبار معاہدہ ہو جائے تاکہ جنگ کے اندیشے سے نکل کر معاشی معاملات پر توجہ مبذول کی جا سکے۔ تاہم دنیا کی سفارت کاری اور معاملات کسی ایک ملک کی خواہش و ضرورت کے مطابق طے نہیں پاتے بلکہ انہیں وسیع تر بنیاد پر پرکھنے اور پھر کسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس دوران البتہ پاکستانی حکومت ضرور چند ایسے اقدامات کر سکتی ہے جن سے پاکستان کی طرف سے ظاہر کی جانے والی امن کی خواہش محض زبانی اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ دنیا کو یہ دکھائی دے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر ماضی کی الجھنوں اور غلطیوں سے گریز کر کے امن و تعاون کے نئے دور میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ ان میں سب سے پہلا اور اہم قدم بیان بازی سے گریز اور اشتعال انگیز دعووں سے اجتناب کے ذریعے اٹھایا جاسکتا ہے۔ بھارت میں اگر نریندر مودی اور ان کے ساتھی نفرت انگیز اور مشتعل کرنے والے بیان دے رہے ہیں تو اس کی وجہ وہ ہزیمت ہے جو بھارتی افواج کو 7 سے 10 مئی کے دوران اٹھانا پڑی تھی۔ اس کے برعکس پاکستان کا دعویٰ بھی ہے اور یہ تاثر محسوس بھی کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ طریقے سے بھاری بھرکم بھارتی فوجی حملے کے مقابلے میں اپنا دفاع کیا اور دشمن کو قابل ذکر نقصان پہنچایا۔ ان نقصانات کی تفصیل مسلح افواج کے ترجمان فراہم کرچکے ہیں اور دنیا کے مختلف ادارے بھی اب ان نتائج کو پرکھ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستانی لیڈروں کو مسلسل اپنی کامیابی اور بھارتی شکست کا راگ الاپ کر دونوں ملکوں کے درمیان ناخوشگوار ماحول پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جب بھارتی لیڈروں کو پاکستان کی طرف سے خاموشی دکھائی دے گی تو وہ خود ہی کھسیانے ہو کر خاموش ہونے پر مجبور ہوں گے۔
اس حوالے سے البتہ سب سے اہم کام ان عناصر کے خلاف عدالتی کارروائی مکمل کرنے کے بارے میں ہے جو کسی بھی طرح ممبئی حملوں یا بھارت میں ہونے والی دیگر عسکری کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ پاکستان نے 2022 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے لیے جماعت الدعوۃ کے لیڈر حافظ سعید اور جیش محمد کے قائد مولانا مسعود اظہر کو ’حفاظتی نظر بندی‘ میں رکھنے کا اقدام کیا تھا اور ان تنظیموں کے مراکز بند کیے گئے تھے۔ اب بھارت کے ساتھ معاملات ہموار کرنے کے لیے ایسے لوگوں کے خلاف الزامات کو کسی قابل اعتبار عدالت میں پیش کر کے فیصلے لیے جائیں تاکہ بھارت دنیا کے سامنے یہ موقف اختیار نہ کرسکے کہ پاکستان مسلسل دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کرتا ہے یا ان کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر یہ عناصر ماضی میں پاکستانی ریاست کے ’اثاثے‘ رہے بھی ہیں تو یہ جان لینا اہم ہے کہ اب یہ اثاثے ایسا خطرناک بوجھ بن چکے ہیں جن کی وجہ سے بھارت مسلسل علاقے میں امن قائم کرنے اور حالات معمول پر لانے سے انکار کر رہا ہے۔ ایسے عناصر کے بارے میں شفاف انصاف سے ہی یہ بھی واضح ہو گا کہ پہلگام جیسے واقعات میں پاکستان براہ راست یا بالواسطہ طور سے ملوث نہیں ہے۔
ایک اور اقدام ملک میں سیاسی و سماجی تناؤ میں کمی کے حوالے سے ہے۔ خاص طور سے بلوچستان میں پائی جانے والی بے چینی کا تعلق کسی ایک سیاسی گروہ سے نہیں ہے بلکہ ہزاروں افراد کے غیر قانونی طور سے لاپتہ ہونے سے ہے۔ دہائیوں پر محیط یہ مسئلہ حل کر کے صوبے میں اعتماد سازی کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ جب یہ دلیل دی جائے کہ بھارتی ایجنسیاں علیحدگی پسند عناصر کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث ہیں تو اس آواز میں بلوچستان کے عوام کی آواز بھی شامل ہو اور اس کی اہمیت کو دنیا بھر میں محسوس کیا جا سکے۔
پاکستانی حکومت کو خاص طور سے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف مناسب اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان، بھارت میں بی جے پی کی حکومت پر ہندو انتہا پسندی کے ایجنڈے پر عمل کرنے اور نفرت پھیلانے کا الزام لگاتا ہے۔ اس لیے اسے یقینی بنانا چاہیے کہ خود پاکستان میں بعض مذہبی گروہوں کو نفرت پھیلانے اور شدت پسندی کو فروغ دینے کی اجازت نہ دی جائے۔ ماضی میں ریاست پاکستان نے متعدد مذہبی گروہوں کی سرپرستی کی ہے۔ یہ گروہ اب بھی کسی نہ کسی نام سے موجود ہیں اور سرگرم ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کو امن پسند ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنے کے لیے اب ایسے تمام گروہوں اور عناصر کو تنہا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس حوصلے پر اپنی سرگرمیاں جاری نہ رکھیں کہ ریاست ایک بار پھر انہیں اپنی کسی ضرورت کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
مذہبی انتہا پسندی کا خاتمہ پاکستان کو عالمی منظر نامہ پر نمایاں کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔


