لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری


رات سونے سے پہلے اپنے چھوٹے بیٹے کو کہا کہ کل صبح سکول اسمبلی میں ہونے والی تقریر ذرا سنا دو۔ اُس نے حکم کی تعمیل کی اور فٹا فٹ رٹے رٹائے چند جملے سنا دیا اور میں نے خوش ہو کر اُسے شاباش دی۔ چند ثانیے بعد اچانک میرے ذہن میں خیال آیا تو پوچھا بیٹا! یہ تو بتاؤ اسمبلی میں قومی ترانے کے بعد علامہ اقبال ؔکی مشہور زمانہ نظم ”لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری“ پڑھتے ہو۔ اُس کا جواب سن کر میں دنگ رہ گیا اُس نے کہا بابا یہ کون سی دعا ہے؟ ہم تو سکول اسمبلی میں نہیں پڑھتے۔ میری حیرانی کی انتہا نہ رہی اور کہا ذرا ٹھہرو۔ میں سناتا ہوں۔ اُسے یہ دعا سنانے لگا۔ سُن کر وہ بہت خوش ہوا اور کہا بابا یہ تو بہت اچھی دُعا ہے پھر ہمیں سکول میں کیوں نہیں پڑھائی جاتی۔ اُس کی تشفی کے لیے میرے پاس کوئی خاص جواب نہیں تھا۔ خیر اُس کو یہ کہہ کر سونے کا مشورہ دیا کہ سکول انتظامیہ سے بات کروں گا کہ اقبالؔ کی یہ دُعا لازماً اسمبلی میں پڑھائی جائے۔ بچہ تو خوش ہو کر سو گیا لیکن میری آنکھ نہیں لگ رہی تھی اور ذہن کہیں دور ماضی کے جھروکوں میں محو ِسفر تھا۔

مجھے اپنے سکول کا زمانہ یاد آ گیا اور پی ٹی ماسٹر کی گرج دار آواز ہوشیار باش، آسان باش میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ گھنٹی بجتی تو طالب علم بھاگم بھاگ سکول کے گراؤنڈ میں پہنچنا شروع کر دیتے۔ جو دیر سے آتے وہ بھی سیدھے اسمبلی کی قطاروں میں سب سے پیچھے آ کر کھڑے ہو جاتے۔ وہ بھی کتنے خوبصورت دن تھے جب ہر روز پڑھائی کا آغاز تلاوت کلام ِپاک سے ہوتا تھا، کوئی بچہ خوبصورت اور دلکش آواز میں نبی ﷺ کی مدح سرائی کرتے ہوئے نعت پڑھتا تھا پھر سارے بچے آواز سے آواز ملا کر ایک عجیب سحر انگیز طور پر قومی ترانے کے مصرعے بآواز بلند پڑھا کرتے تھے، بخدا عجب سماں ہوتا تھا۔ ترانے کے اختتام کے بعد ہوشیار باش اور آسان باش کے کاشن دیے جاتے اور پھر ”لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری“ پڑھنی شروع کی جاتی۔ تین چار طالب علم اسمبلی گراؤنڈ کے سٹیج پر ایستادہ ہوتے اور اِس نظم کا ایک ایک مصرع دلکش و دلنشیں لے اور سُرکے ساتھ پڑھتے اور باقی طالب علم اسی مصرعے کو دوہراتے جاتے۔ مصرعے پڑھے جاتے اور الفاظ ذہن کو کہیں دُور لاشعور میں لے جاتے۔ خیر نظم کے تمام اشعار کے معنی و مفاہیم تو اُس وقت سمجھ میں نہیں آتے تھے لیکن پھر بھی ظاہری الفاظ سے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال ضرور اُبھرتا تھا کہ یہ دعا زندگی گزارنے کے لیے ایک مکمل ضابطہ اور نصیحت آموز درس ہے۔ پھر لے میں پڑھی گئی نظم کا بھی اپنا ہی لطف ہوتا ہے نیک اور اچھے کام کرنے کی ایک اٹھان دل میں پیدا ہو جاتی تھی۔ کچی کلاس یا ادنٰی درجے سے شروع ہوا یہ سلسلہ میٹرک تک جاری رہا اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سکول آئے ہوں اور بغیر اسمبلی دن کا آغاز ہوا ہو لیکن کبھی کبھار طوفانِ باد و باراں کے باعث یہ سلسلہ منقطع ہو جاتا کیونکہ سکول گراؤنڈ میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے اسمبلی کا انعقاد مشکل ہوتا۔ کچھ طالب ِعلم خوشی کا اظہار بھی کرتے کہ چلو اچھا ہوا آج پچیس تیس منٹ کھڑا نہیں ہونا پڑے گا لیکن کچھ خفا بھی ہوتے اور کہتے کہ ارے یار یہ کیا بات ہوئی۔ اسمبلی میں تو اقوال زریں سنائے جاتے ہیں اور وہ ”نقاش“ کو دیکھو کہ ہر روز ایک نئی نعت کے اشعار سُنا کر جذبہ عشقِ رسول ﷺ کو تر و تازہ کرتا رہتا ہے۔ پرنسپل صاحب تو روزانہ کسی نہ کسی موضوع کے حوالے سے نت نئی معلومات دیتے رہتے تھے اور اُن کی ہدایات کتنی اہمیت کی حامل ہوتی تھیں۔ اخلاقی اور اصلاحی موضوعات میں سے شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس پر انھوں نے کلام نہ کیا ہو۔ ماضی بیت گیا مگر سنہرے دنوں کی یاد اب بھی ذہن میں ترو تازہ ہے۔ سرکاری سکولوں میں اسمبلی کا یہ طریقہ آج بھی اُسی طرح رائج ہے لیکن کچھ نجی سکولوں میں روایت کا یہ سلسلہ منقطع ہو گیا ہے اور بعض تو ایسے ہیں کہ جہاں سرے سے اسمبلی منعقد ہی نہیں کی جاتی۔

علامہ اقبالؔ نے یہ نظم 1902 ء میں لکھی اور 1924 ء میں اُن کے مجموعہ کلام ”بانگِ درا“ میں شائع ہوئی۔ اُنھوں نے یہ نظم برطانوی شاعرہ میٹلڈا بیتھم ایڈورڈز ( 1836۔ 1919 ) کی دعائیہ نظم ”God make my life a little light“ سے متاثر ہو کر لکھی تھی۔ اس نظم میں علامہ اپنی دلی تمنا کا اظہار دُعائیہ انداز میں کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے دل کی تمنا میرے ہونٹوں پر دُعا کی صورت میں آتی ہے اور جس طرح شمع اپنی روشنی سے دنیا کو منور کرتی ہے اسی طرح سے میری ذات بھی دنیا کے لیے روشنی کا سبب بنے یعنی میرے علم سے دنیا کو فائدہ پہنچے۔ اے خدا مجھے نیک اور اچھا انسان بنا تاکہ میری وجہ (روشنی ) سے اس دُنیا سے جہالت کا اندھیرا دُور ہو جائے۔ جس طرح پُھولوں سے چمن کی زینت بڑھتی ہے اسی طرح میں بھی اپنے وطن کی عزت و توقیر میں اضافے کا باعث بن سکوں۔ جس طرح پروانہ شمع کی محبت میں اُس کے اردگرد چکر لگاتا رہتا ہے اسی طرح علم سے مجھے بھی محبت ہو جائے۔ اے میرے محبوب، میرے خُدا مجھے ایسا بنا دے کہ میں اس دُنیا میں بسنے والے غریبوں، درد مندوں اور ضعیفوں کے کام آ سکوں اور اُن سے محبت کر سکوں۔ آخر میں اپنی دُعا کو سمیٹتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ مجھے زندگی میں ہر بُرائی سے بچا اور نیک راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ غور کریں کہ کیسے کیسے خوبصورت اسباق اور ضابطہ حیات سے یہ دُعا مزین ہے۔ اسلام کے بنیادی اخلاقی اُصولوں سے مزین یہ نظم انسان کے مردہ ضمیر کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ اقبالؔ کی اس نظم کے حوالے سے مختلف آرا ملتی ہیں بعض کے خیال میں اُنھوں نے یہ نظم اُس وقت لکھی جب وہ چھٹی جماعت کے طالب علم تھے۔

سوشل میڈیا پر اقبال کے بارے میں لوگوں کی آرا دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ اُن کے کچھ مشہور و معروف اشعار پر اس لیے اعتراض کیا جاتا ہے کہ اُن کے خیالات کسی دوسرے شاعر کے خیالات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس نظم کو اقبالؔ نے ماخوذ لکھا ہے اور یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں اکثر شعرا ایسا کرتے ہیں اور کسی دوسرے شاعر کے کلام سے متاثر ہو کر اپنے الفاظ میں وہی خیالات اور نظریات پیش کرتے ہیں یا اُسی نظریے کو سامنے رکھ کر اپنے جذبات اور احساسات منظوم طور پر با الفاظ ِ دیگر بیان کرتے ہیں۔ جب کوئی شاعر خود تسلیم کرتا ہے کہ یہ نظم یا خیال کسی دوسرے شاعر کی فلاں نظم یا غزل سے ماخوذ ہے تو اِس کے بعد سرقے کا الزام لگانا جائز نہیں۔ اگر تحقیق کے دامن کو وسعت دی جائے تو اُمید ہے کہ ایسے اعتراضات جنم نہ لے سکیں۔ اقبالؔ بیسویں صدی کے ایک ایسے بلند پایہ ادیب، مفکر اور فلسفی شاعر تھے جنہوں نے ایک عالم کو اپنے خیالات اور نظریات سے متاثر کیا اور اُن کی شاعری وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُمت ِ مسلمہ کے اندر ایک نیا ولولہ، جوش اور آگاہی پیدا کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اقبالؔ کے کلام اور فکر و نظریات کو عام کیا جائے اور ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جن سے نوجوان نسل کو تفہیم اقبال میں آسانی ہو۔

Facebook Comments HS