انکار پر سزائے موت اور ناحق قتل پر؟
ثناء یوسف والے واقعے کے بعد دل بہت غمزدہ ہے۔ اسے صرف دوستی سے انکار پر قتل کیا گیا۔ ایسا ہی واقعہ چند ماہ پہلے ایک دوسری ٹک ٹاکر کے ساتھ بھی پیش آیا تھا جس نے ایک آدمی کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔ دوستی، تعلقات اور شادی سے انکار پر قاتلانہ حملہ، جنسی حملہ، آبروریزی یا تیزاب گردی۔ متواتر ایسے واقعات مردوں اور لڑکوں کے لیے عورتوں کے دل میں نفرت پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ احساسِ محرومی کے مارے یہ مرد اپنی جنسی ناآسودگی کا ذمہ دار عورت کے انکار کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب ایسے مردوں کے خلاف سوشل/ویب میڈیا پر کچھ کہا جائے تو کم حوصلہ لوگوں کی برداشت جواب دے جاتی ہے۔ اگر میں کہوں کہ ایسا کوئی واقعہ کسی مرد کے ساتھ ہو جس سے ہم خواتین کے دل کو بھی تھوڑا سکون ملے تو لوگوں کی توپوں کا رخ میری طرف ہو جائے گا۔
شاعر نے بالکل درست کہا ہے ؎ آہ! بے چارے کے اعصاب پہ عورت ہے سوار
جن کے اعصاب پر ہر وقت عورت یا لڑکی کی قربت کا حصول اور اقرار میں اس کا سر جھکانے کی دھن سوار رہے، ان مردوں سے زبردستی، عدم برداشت، جنسی درندگی یا قتل کے سوا کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ وہ تو عورت یا لڑکی کو حاصل کرنے یا انکار پر اسے سزا دینے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوں گے جیسے ثناء کے قاتل نے انکار برداشت نہ کرتے ہوئے اس پر گولیاں چلا دیں۔
ہمارے معاشرے کے مردوں کو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات اور دورِ حاضر کی مادہ پرستی نے اخلاقیات سے عاری اور اندھا کر دیا ہے۔ وہ اپنی بے لگام جنسی خواہشات پورا کرنے کے لیے غلط اور ناجائز طریقے اختیار کرنے کو بھی تیار ہیں۔ اگرچہ خواتین بھی کئی معاملات میں غلط ہیں لیکن جنسی خواہش پر اصرار، انکار پر درندگی اور عدم برداشت کی بنا پر قتل جیسے ”کارِ ثواب“ مردوں ہی کے حصے میں آتے ہیں۔
ہم سب ویب سائٹ پر ہی پہ ایک صاحب نے اپنی مضمون میں مذکورہ حادثے کے حوالے سے ضیاء دور کی آمرانہ ذہنیت کا ذکر کیا۔ اس کے برعکس میرا خیال ہے کہ 90 کے عشرے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی نسل نے وہ دور نہیں دیکھا تو ان پر اثرات بھی ضیاء دور کے لوگوں کی طرح نہیں ہوں گے۔ مذکورہ نسل سب سے زیادہ سوشل میڈیا اور اس کے نتیجے میں پیدا شدہ مادہ پرستی اور مصنوعی طرزِ زندگی کے اثرات سے متاثرہ ہے۔ اور ٹک ٹاک تو ابھی چند سال قبل شروع ہوئی ہے۔ موجودہ نسل کے لڑکوں اور مردوں میں جنسی درندگی اور عورت یا لڑکی کو ملکیت سمجھنے کے رجحانات کی وجوہات آمرانہ ذہنیت تک محدود نہیں ہیں۔
فلموں اور موسیقی سے شغف کی بنا پر مجھے ستر اور اسّی کے عشرے کی فلمیں یاد آ رہی ہیں جن میں ہیروئن کی شادی اگر کسی اور سے ہو جاتی تو ہیرو شادی میں شریک ہو کر اس کے لیے ایک دعائیہ نغمہ گاتا اور اسے نئے زندگی شروع کرنے پر مبارک باد دیتا تھا۔ ایسا ہی ایک نغمہ احمد رشدی مرحوم نے گایا تھا: کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو، خدا کرے کسی دل کا قرار بن کے رہو۔ آج کا مرد یقیناً کسی اور مٹی سے بنا ہے جو تعلقات یا شادی سے انکار کے نتیجے میں اپنی مردانگی کا عملی مظاہرہ لڑکی کے خلاف قتل اور زنا بالجبر جیسے جرائم کی صورت میں کرتا ہے۔
چند سالوں سے عورت مارچ باقاعدگی سے ہو رہا ہے۔ البتہ اس سال ماہِ رمضان کی بنا پر عورت مارچ کی کچھ خاص تقاریب منعقد نہ ہو سکیں۔ اس مارچ اور حالیہ چند سالوں سے فیمینزم کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے بھی مردوں کے ایک مخصوص طبقے کو خاصی آگ لگائی ہے اور عورت سے برگشتہ کر دیا ہے کیونکہ انہیں صرف تابعدار اور فرمانبردار عورت پسند ہے۔ اس سے زن دشمنی کا ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ اپنی مرضی کرنے والی کو تو انہوں نے جوتی کی نوک پر رکھ لیا ہے۔ اپنے فیصلے خود کرنے والی اور مردوں کی مرضی پر نہ چلنے والی عورت یا لڑکی کو وہ قابلِ گردن زدنی سمجھتے ہیں۔ یہ خواتین ان کے نزدیک فاحشہ ہیں۔ اور مزے کی بات ان خواتین کو فاحشہ سمجھنے والے خود شرم و حیا اور اخلاق و کردار سے عاری ہیں۔
کسی خاتون کے ساتھ کوئی حادثہ ہو جائے تو اس کے خاندان والے خاص طور پر مرد اسی کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔ مزید بدنامی سے بچنے کے لیے لوگ ایسی خاتون کے گھر والوں کو زباں بندی کا درس دیتے ہیں، مصالحت اور مفاہمت کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے جبکہ قاتل، تیزاب گردی اور آبروریزی کرنے والے ضمانت پر رہا ہو کر اپنا کارِ ثواب کسی اور پر آزماتے ہیں۔
کم عمری کی شادی کو خلافِ اسلام قرار دینے والے مولانا فضل الرحمٰن، تحریکِ لبیک والے نیک و پارسا اور ہماری خواتین کے لیے شرم و حیا کی دعائیں مانگنے والے طارق جمیل صاحب جیسے اسلام پسند مردوں میں سے کسی کو بھی یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت اور قاتل اور بدکار مردوں کے لیے بھی کوئی خوبصورت کلمہ ادا کریں۔ جن مردوں کی عورت کے لیے قوتِ برداشت ختم ہو چکی ہے، مولوی صاحبان کبھی انہیں بھی جہنم کی وعید سنائیں۔ عورتوں کو بے حیائی پر کوسنے والے مفتی طارق مسعود کبھی یہ بھی بتائیں کہ عورت کو شادی یا تعلقات پر مجبور کرنے والے مرد کے لیے دینِ اسلام میں کون سا عذاب ہے کیونکہ ہمارا دین تو شادی کے لیے عورت کی رضامندی کو لازمی قرار دیتا ہے۔
ثناء یوسف کا قاتل خود باکردار اور پارسا تو نہیں ہو سکتا ورنہ اس معصوم لڑکی کو دوستی سے انکار پر قتل نہ کرتا۔ ایسے مردوں کو گالی دینے پر بعض لوگ برا مان جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک مرد چاہے جو بھی کرے، وہ مرد ہونے کی بنا پر قابلِ معافی ہے۔ یہ غلطی تو لڑکیوں کی ہے جو خود کو نمائش کے لیے پیش کرتی ہیں۔ اچھا، اگر بات نمائش کی ہے تو کیا ٹک ٹاک اور انسٹا پر مرد اپنی نمائش نہیں کرتے؟ پھر انہیں بھی قتل نہ کر دیا جائے؟ جب دنیا تھو تھو کرے گی تو ثناء کا قاتل کس منہ سے لوگوں کا سامنا کرے گا؟ کیا اس قاتل کی ماں اور بہنیں اور خاندان کے دیگر افراد وہ درد محسوس کر سکتے ہیں جو ان کے لڑکے کی وجہ سے ایک معصوم لڑکی نے برداشت کیا اور اس کے چلے جانے کے بعد اس کے اہلِ خانہ برسوں تک برداشت کریں گے؟ قاتل کے گھر کی عورتیں شاید اس کے لیے معافی کا تقاضا بھی کریں۔ کیا ثناء کے قاتل کو بھی غیرت کے نام پر قتل کرنے والا کوئی ہے؟ اگر ایک ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا پر آنے والی لڑکی قتل کی مستحق تھی تو اسے تعلقات کی پیشکش کرنے والا قاتل کس انجام کا مستحق ہے؟



جہاں تک کسی بھی جان کو قتل کا تعلق ہے تو اس کا حق صرف اور صرف "عدالت” کو حاصل ہے۔
اور محض کسی شخص کو قتل کرنے والا ہی قابل سزا نہیں بلکہ وہ تمام لوگ بھی ہیں جو کسی دوسرے شخص یا لڑکی / عورت کو قابل قتل یا سزا قرار دیتے ہیں۔
–
اسلام کی اصل حقیقت قرآن کی اسی آیت میں پنہاں ہے کہ :
جس نے کسی ایک شخص کی جان بچائی اس نے گویا ساری کائنات کو مرنے سے بچالیا۔
اور اسی کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ
جس نے کسی ناحق یا بے گناہ کو خوامخواہ قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کی جان لے لی۔
–
جہاں تک معاشرے کے کمزور افراد پر ظلم یا قتل کی بات ہے۔ پاکستان اس میں تنہا نہیں۔ جنگل ہوں یا ترقی یافتہ ممالک جہاں جہاں طاقت ور کا بس چلتا ہے وہ ظلم کرنے سے باز نہیں آتا۔
غزہ، امریکہ اسرائیل اور یورپ کا بھیانک کھیل ایک طرف ۔۔۔ یوکرین اور روس کی لڑائی میں امریکہ اور یورپ کا کردار دوسری طرف دیکھ لیں۔
–
محض مہینہ پہلے پاکستان اور انڈیا کی لڑائی شروع ہوتے وقت ہمیں یورپ اور امریکہ جیسے ممالک کا رویہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے جن ہوں نے ہندوستان کی جارحیت کی مذمت کی بجائے یہ پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ قرار دیا تھا یا بس واجبی سا مشورہ دیا تھا۔
–
وہ تو جب انڈیا کے میزائیل کریانہ پہاڑی پر لگے ریڈار کی بجائے وہاں موجود ایک ایسی سائٹ پر جاگرے جو دونوں ممالک کے درمیان موجود نیوکلیئر سائٹس کی فہرست میں موجود تھا تو کھیل ختم ہوگیا تھا کیونکہ اس غلطی کی وجہ سے پاکستان کو یہ حق حاصل ہوگیا تھا کہ وہ انڈیا پر ایٹمی حملہ کرسکے اور اسی پر امریکہ کو درد قولنج شروع ہوگیا تھا۔
//
آپ نے لکھا کہ :
اگر میں کہوں کہ ایسا کوئی واقعہ کسی مرد کے ساتھ ہو جس سے ہم خواتین کے دل کو بھی تھوڑا سکون ملے تو لوگوں کی توپوں کا رخ میری طرف ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ لگ بھگ تمام الہامی مذہب حضرت یوسف ع اور زلیخا کے قصہ کو مانتے ہیں۔
اور وہاں وہی کچھ ہوا جو آپ چاہتی ہیں بس فرق یہ ہے کہ لاکھوں کیا کڑوڑوں مرد حضرات میں سے ایک بھی یوسف نہیں ہوتا۔ عورت اشارہ کرتی ہے تو وہ کچے دھاگے سے بندھے چل پڑتے ہیں۔
اسی معاشرے میں اخبار اٹھاکر دیکھ لیں عورتوں کی ایک لمبی فہرست ملے گی جو آشنا کی مدد سے شوہر سے جان چھڑاتی ہیں۔
ایک بڑی تعداد میں جامعات کی لڑکیاں کس کس طرح سے اچھے نمبر حاصل نہیں کرتیں اور اگر کوئی لیکچرر یا پروفیسر قابو میں نہ آئے تو ایک اور یوسف زلیخا کی کہانی پڑھنے کو ملتی ہے۔
صرف پنڈی میں ہی ایک سال میں دس زیادتی کے مقدمات درج ہوئے جو جھوٹے تھے۔
–
مشہور زمانہ مختاراں مائی کا کیس ہی جان لیں جو اب ایک مثال کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن دراصل جھوٹا تھا۔
–
سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ہم آج کی بچیوں اور خواتین کو سوشل میڈیا پر کام کرنے کی اجازت تو دے دیتے ہیں لیکن آگ کے اس دریا میں کیسے کیسے بھیڑئیے یا مگر مچھ سامنے ائیں گے ان سے کیسے نبٹنا ہے اس سے آگاہ نہیں کرتے۔
–
تھوڑا لکھے کو بہت جانیں۔