سہیل وڑائچ پر کیچڑ کون اچھال رہا ہے
نیا پاکستان بنانے کے لیے جنرل باجوہ، جسٹس ثاقب نثار اور عمران خان صاحب کی ایک تکون قائم کی گئی تھی، یاد ہے؟ جنرل فیض حمید اس تکون کے پہرے دار تھے۔ وہ تعمیر کے طریقے بھی بتاتے تھے۔ نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے بجری سیمنٹ کی بجائے کیچڑ سے کام لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف سے چن چن کر ان ہستیوں کو چلتا کر دیا گیا جو سیاسی وضع داری، رکھ رکھاؤ اور نبھاؤ کی وجہ سے کیچڑ میں ہاتھ گندے نہیں کر سکتے تھے۔ ملک بھر سے ان لوگوں کو اکٹھا کر کے جماعت میں جھونک دیا گیا جو کیچڑ کا کُل وقتی کاروبار کرتے تھے۔
نئے پاکستان کی نمائندگی کے لیے میڈیا پر ان رہنماؤں کو بھیجا گیا جو زبان پر بنی گالا کی مرچیں پیل کر آتے تھے۔ کیچڑ ان کی گاڑی کی ڈگی میں ہمہ وقت موجود رہتا تھا۔ جہاں دو لوگ کھڑے نظر آتے ان پر کیچڑ اچھال دیتے تھے۔ کوئی نہ ملتا تو خود اپنے اوپر ہی ڈال لیتے تھے۔ کیچڑ کیچڑ کردی میں آپئی کیچڑ ہوئی والے مرحلوں سے گزر کر جب یہ شام کو مرکز پہنچتے تو بڑے انہیں ’میرا شیر‘ کہہ کر گلے لگاتے تھے۔ آپ بھی شرمسار ہو مجھ کو بھی شرمسار کر!
بڑوں کی دیکھا دیکھی کارکنوں نے بھی گھر کے صحن میں کیچڑ جمع کرنا شروع کر دیا۔ صبح ان کے معصوم بچے اسکول جاتے تو ان کے بستے کی ایک جیب میں کیچڑ بھی ڈال دیتے تھے۔ بیٹا اسکول میں مخالف جماعت کی کسی شخصیت کا بیٹا بیٹی ملے تو تھوڑا سا کیچڑ اس پر پھینک دینا۔ غمی خوشی کی محفلوں، ریستورانوں، ہوائی اڈوں یہاں تک کہ حرم پاک اور روضہ رسول میں بھی یہ کیچڑ ساتھ لے جانے لگے۔ جہاں کوئی سیاسی حریف نظر آیا وہیں سلام پھیرا اور پلک جھپکتے میں پورے ماحول کو کیچڑ کر دیا۔
پاکستان سے ان حالات میں بھی کیچڑ کی ایکسپورٹ جاری رہی جب برآمدات روک دی گئی تھیں اور بینک ایل سی کھول کر نہیں دے رہے تھے۔ یہ کیچڑ خاص طور سے امریکا اور برطانیہ پہنچایا گیا۔ جہاں کوئی سیاسی حریف اور کوئی فکری مخالف نظر آیا اس پر کیچڑ اچھال دیا گیا۔
اس قافلے میں جس کسی نے کیچڑ میں ہاتھ گندے کرنے سے گریز کیا، اسے دھوپ میں بٹھا دیا گیا۔ اگر اعتزاز احسن جیسے مناسب لوگ اس قافلے میں شامل ہوئے تو انہیں بھی سب سے پہلے کیچڑ ہی ہاتھ میں تھمایا گیا۔ یہ کیچڑ انہوں نے سب سے پہلے وینٹی لیٹر پر پڑی کلثوم نواز کی سفید چادر پر اچھال کر خود کو انقلابیوں میں منوایا تھا۔
عمران خان صاحب کو اقتدار آٹھ پتھر کی دوری پر نظر آیا تو سب سے پہلے ان صحافیوں سے قطع تعلق کیا جن کے کندھے پر سوار ہو کر انہوں نے گھنٹہ گھنٹہ لگی بندھی گردانیں پڑھی تھیں۔ یہ سارے تقریباً وہ صحافی تھے جو نفیس تھے۔ جن سے بشری غلطیاں ہزار ہوئی ہوں گی مگر انہوں نے کیچڑ افروزی کو کمائی کا بنیادی ذریعہ کبھی نہیں بنایا۔
خان صاحب نے ان صحافیوں سے ہاتھ ملا لیا، کیچڑ جن کے کیرئیر کا بنیادی حوالہ تھا۔ یہ کون سے صحافی تھے؟ نام لے کر کسی کو یاد نہیں کرنا چاہیے مگر عقابوں کا نشیمن زاغوں کے تصرف میں چلا جائے تو اقبال کو یورپ کے کلیساؤں میں اذان دے دینی چاہیے۔ اللہ اللہ نام سنتے جائیے گوگل کرتے جائیے۔ صابر شاکر، سمیع ابراہیم، عمران ریاض، آفتاب اقبال، غلام حسین، وجاہت خان، اسد کھرل، ارشاد بھٹی اور معید پیرزادہ۔ کچھ تو ان میں وہ بھی ہیں جنہیں ٹاپ سٹی کی طرح قبضہ کیے گئے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی ملکیت سونپ دی گئی تھی۔ نالائقوں نے وہ چینل بھی ڈبو دیے۔
کہا جاتا ہے کہ یہ صحافی اب بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔ مزاحمت کر رہے ہیں؟ بھائی جان، وہ مزاحمت نہیں کر رہے، اس بات کا ماتم کر رہے ہیں کہ ہمیں نہر والے پل پہ بلا کر ماہی خود چناب کی طرف کیوں نکل گیا۔ ہم نے اپنے سارے انڈے جنرل باجوہ کے ٹوکرے میں اس لیے ڈالے تھے کہ وہ ریاست مدینہ میں ہمیں تنہا چھوڑ کر اٹلی کی طرف نکل جائیں گے؟
کوئی دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائے کہ جسٹس ثاقب نثار جب سے اس قافلے میں شامل ہوئے تھے، انہوں نے ڈیموں کے آس پاس کا کیچڑ جمع کر کے ہر آتے جاتے پر اچھالنے کے علاوہ کیا کیا تھا۔ مری کی یخ بستہ رات تھی، آتش دان جل رہا تھا اور کچھ دوست جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے گرد جمع تھے۔ میں نے جسٹس ثاقب نثار کا نام سامنے رکھ دیا۔ بابا جی کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔ اپنے مزاج کے بالکل برعکس تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، میں نے جرائم کرنے والے کئی نامراد ججوں کو آتے جاتے دیکھا ہے مگر طبیعت کی جو پستی موصوف کے ہاں دیکھی ہے پہلے کسی میں نہیں دیکھی۔
اگلے ہی دن جناب نے عطا الحق قاسمی صاحب کو اپنی عدالت میں طلب کیا ہوا تھا۔ قاسمی صاحب مدرس ہیں، مصنف ہیں، شاعر ہیں، ڈرامہ نگار ہیں، کالم نگار ہیں، مزاح نگار ہیں، سابق سفیر ہیں، سہ ماہی ادبی مجلے معاصر انٹرنیشنل کے مدیر ہیں۔ ٹھیک ہے ان ساری فضیلتوں کے باوجود آپ قاسمی صاحب کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں مگر کیا مخاطب ہوتے وقت کوئی کسی کی عمر، آرٹ، قلم، تدریس، مصرعے اور ساٹھ سالہ خدمات کا حیا نہیں کرے گا؟ بے وجہ برہم ہوتے ہوئے انہوں نے کہا، کون ہے یہ عطا الحق قاسمی۔ تمہی کہو یہ انداز گفتگو کیا ہے؟
چلیں قاسمی کو رہنے دیں۔ کیا وہ حسین نقی کو جانتے ہیں؟ حلفاً کہا جاسکتا ہے کہ نہیں جانتے ہوں گے۔ انہیں جاننے کے لیے پاکستان کی ممنوعہ تاریخ کا مناسب مطالعہ چاہیے۔ انگریزی اور اردو صحافت کے بارے میں کچھ معلومات چاہئیں۔ مزاحمت اور جد و جہد کے باب پر ایک نظر چاہیے۔ آئی اے رحمان اور احفاظ الرحمن مرحوم کی صحافتی روایت کا ایک گونہ درک چاہیے۔
نقی صاحب کو بھی عدالت میں طلب کر لیا گیا۔ آپ عدالت میں ابوالکلام آزاد اور چراغ حسن حسرت کو بھی طلب کر سکتے ہیں۔ قانون سے کوئی مبرا نہیں ہے مگر کیا مخاطب کرتے وقت کسی کے علمی مقام اور خدمات کا کوئی پاس لحاظ نہیں ہوتا؟ انہوں نے کہا، کون ہے حسین نقی کہاں ہے حسین نقی؟ نقی صاحب نے روایتی نفاست کے ساتھ دور سے ہاتھ کھڑا کر کے کہا کہ میں یہاں ہوں جناب۔ جناب بغیر کسی موسم کے گرمی کھا گئے اور کہا، اونچی آواز میں بات مت کرو، کیا جرات ہے تمہاری؟ نقی صاحب حیران ہو گئے۔ وہ اتنا ہی کہہ پائے، حضور ایسے بات مت کریں میں آپ سے بیس سال بڑا ہوں۔ جناب نے آگے سے توہین عدالت کی دھمکی دے کر اونچی آواز میں جواب دینے پر معافی منگوا لی۔ کیا کہیے بتائیں!
کیا حسین نقی، قاسمی صاحب جیسوں کو یہ کسی مقدمے کی پیروی کے لیے بلاتے تھے؟ نہیں، انہیں فقط کیچڑ اچھالنے کے لیے بلایا جاتا تھا۔ باہر سے آئے ہوئے کوالیفائیڈ ڈاکٹروں اور فیشن ڈیزائنروں کو بھی کیچڑ میں سر دھلوانے کے لیے ہی طلب کیا جاتا تھا۔ یہ کیچڑ اچھالنے کا زمانہ تھا۔ یعنی یہ جنرل باجوہ کا زمانہ تھا۔ جو ہستی اپنی صبح کا آغاز صدیق جان کے وی لاگ سے کرتی ہو اس کے زمانے میں سفید پوشوں کے نصیب میں کیچڑ نہ آئے تو کیا آئے۔ حالات بدلے تو یہی کیچڑ فرانس میں خود اسی ہستی پر اس وقت اچھال دیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ کہیں بیٹھے تھے۔ یہ منظر بہت تکلیف دہ تھا، مگر کیا کریں۔ یہ کیچڑ بھی آپ کا تھا اور یہ تعلیم بھی جناب کی تھی۔
سہیل وڑائچ کے دامن پر کیچڑ اچھالنے والے یہ لوگ کون ہیں؟ یہ اسی کیچڑ اچھال مہم چلانے والی تکون کی باقیات ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس کے لیے انسانی دنیا کا آغاز 2011 کے ایک جلسے سے ہوا تھا۔ اس سے پیچھے کا کچھ جانتے ہیں نہ جاننا چاہتے ہیں۔ یہ سہیل وڑائچ کو بھی صرف ’ایک دن جیو کے ساتھ‘ سے ہی جانتے ہیں۔ وہ بھی تب سے کہ جب سے ٹک ٹاک اور سستے پیکج والی عیاشی آئی ہے۔ اس سے پہلے ’ایک دن جیو کے ساتھ‘ دیکھنے کے لیے کم ازم کم بھی ریموٹ اٹھا کر چینل آن کرنے کی زحمت کرنی پڑتی تھی۔ اتنی سی زحمت کی بھی اگر اس نسل میں گنجائش ہوتی تو یہ سہیل وڑائچ جیسے لوگوں کو ان کی صحافتی، تحقیقی، تصنیفی اور ادبی خدمات کے پس منظر میں بھی جان پاتی۔
مگر نہیں، یہ چند سیکنڈز کی ریل پر ٹھنڈی ہو جانے والی پود ہے۔ سستا پیکج لگاؤ، فیس بک اور ٹک ٹاک پر اپنے مزاج کی دو تین ریلز دیکھو، لو جی آپ کو آپ ہی کے مزاج کی ویڈیوز فری سبیل اللہ ملنا شروع ہو گئیں۔ آپ کی آنکھ میں چیپڑ اور ہاتھ میں کیچڑ نہ ہو تو آپ کی ریلز میں آرٹ ورک آتا ہے، سیزنز کے ٹوٹے آتے ہیں، سٹینڈ اپ کامیڈی کے ٹکڑے آتے ہیں اور کبھی کبھی ’ایک دن جیو کے ساتھ‘ کے کلپ آ جاتے ہیں جن میں نواب زادہ نصر اللہ خان، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، ڈاکٹر عشرت حسین، خان عبدالولی خان، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی، استاد مہدی حسن خان اور جگجیت سنگھ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ جو منہ ہاتھ دھوئے بغیر فون اٹھا لیتے ہیں انہیں فیس بک اور ٹک ٹاک صابن کے اشتہارات، حکیمی نسخے، ہاضمے کی گولیاں، رنگ گورا کرنے والی کریمیں اور طرح طرح کے واش روم دکھا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس میں ’ایک دن جیو کے ساتھ‘ کا ایک کلپ بھی آ جاتا ہے جہاں کوئی اداکارہ اپنا لگژری واش روم دکھا رہی ہوتی ہیں۔
مسئلہ واش روم کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل فضائل اعمال سے زائچے نکال کر اور جناب اوریا مقبول جان خواب دیکھ کر بتاتے تھے کہ تکون والی یہ کمپنی بہت چلے گی۔ سہیل وڑائچ نے عمر بھر کا تجربہ نچوڑ کر لکھ دیا ’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘ ۔ زائچے اور خواب جھوٹے ثابت ہو گئے اور تجزیہ ٹھیک ثابت ہو گیا۔ یہ کچھ دیر کے لیے رک کر سوچنے کا مقام تھا۔ مگر توفیق ہی کیچڑ اچھالنے کی ہو تو تقدیر کیا کرے۔


کسی اور پر کیچڑ اچھالنا رہ تو نہیں گیا۔
–
کہاں کی اینٹ کہاں کا روڑا // بھان متی نے کنبہ جوڑا
–
یہ 90 کے آس پاس کا واقعہ ہے شاید پی ٹی وی پر ایک اسٹیج شو تھا جس میں مختلف مہمان بلائے گئے تھے۔ پہلے مہمان ڈاکٹر قدیر اور دوسرے شیخ رشید احمد تھے۔ کچھ وقت بعد اداکارہ نشو کی بیٹی صاحبہ آئیں۔ دوران گفتگو میزبان نے ڈاکٹر قدیر کی طرف اشرہ کرتے پوچھا کیا آپ ان صاحب کو جانتی ہیں۔
صاحبہ نے کہا ان بابا جی کو تو نہیں البتہ ان کے ساتھ بیٹے شیخ رشید کو جانتی ہوں۔
اس وقت بھی ایک شور برپا ہوگیا تھا۔ مگر !!
–
پاکستان میں کیچڑ کی فیکٹریاں کب نہیں تھیں۔ یہ بجا کہ خان کے دور میں اس دھندے کو ایک نیا عروج ملا مگر اس وقت بھی ان کی اپوزیشن کی طرف سے ننگی ویڈیوز اور جعلی آڈیوز بھی آئیں۔
–
ایوب کے دور میں مس جناح، بھٹو کے دور میں اپوزیشن تو کیا اپنی پارٹی کے لوگوں کو بھی بھٹو برے ناموں سے پکارتا تھا۔ آج جو ن لیگ کے سرخیل رانا ثنا ہیں کبھی پیپلز پارٹی میں تھے اور صفدر مرحومہ کلثوم اور مریم نواز کے تکون کے بارے میں کیا انکشاف کرتے تھے۔ کیا وہ کیچڑ نہیں بیوٹی کریمیں تھیں۔
–
کسی مولوی کی طرف سے مخالف کو یہودی کہنا ہو، بدکردار، بدچلن یا کوئی برا نام۔۔۔۔یہ کیچڑ نہیں تو کیا ہوتا تھا۔
–
بیگم کلثوم کا انتقال عمران کے اقتدار میں انے سے پہلے ہوچکا تھا۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ الیکشن کے وقت یہی فیلڈ مارشل آب پارہ کے گدی نشین تھے یعنی اگر الیکشن جتوایا گیا تو ان کی معرفت ہی۔
–
بہرحال فضل الرحمان ہوں۔ خود بلاول یا حسین حقانی یا عمران خان اور یا مخالفین کی اشیرباد سے کیچڑ میں لت پت کتاب لکھنے والی ان کی سابقی بیوی ریحام۔۔۔۔۔سب برابر کے گندے ہیں۔ ہاں موجودہ خاتون وزیراعلی بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔
–
پ کی بات صحیح ہے کہ کیچڑ کی سیاست پہلے بھی جاری تھیں — لیکن عمران خان نے تو کیچڑ کی گہری کھائی کھودی جس سے نکلنا مزید دشوار ہوگیا۔ مدینہ کی باتیں محض ایک خوبصورت پردہ تھیں جس کے پیچھے تضحیک، دشنام طرازی اور کردار کشی کی سیاست کی آگ بھڑکتی رہی
میرا عمران خان کے چاہنے والوں سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ میں ان کے ریاست مدینہ کے فلسفے کا قائل تھا۔ میرے لئے یہ سب سیاسی شعبدے بازیاں تھیں اور ہیں۔
میری دانست میں کسی مسلمان کو یہودی کہنا اس سے بڑا گناہ ہے کہ جوابا اس کو ڈیزل کہا جائے۔ شاید آپ کے علم میں ہو کہ فقیر منش فضل الرحمن نے ایک زمانے میں ڈیزل کے پرمٹ لے کر پیسے کمائے تھے۔ اور یہ نام ان کو عمران خان نے نہیں لگ بھگ ماضی کے تمام مخالفین نے دیا تھا۔
مریم نواز کی بیٹیاں اگر ماں بن چکی ہیں تو ان کو نانی نہیں تو کیا کہا جائے گا۔ ہہ ایک اعزاز ہے۔
یاد رہے جو ننگی ویڈیوز اور جعلی آڈیوز خان صاحب کے مخالفین نے پہیلائیں وہ اس سے کہیں زیادہ بڑا گند تھا کہ کسی کو برے ناموں سے پکارا جائے۔