امیر حسین جعفری کا جشن صحت
(نوٹ : یہ مضمون ایک سال پیشتر نو جون دو ہزار چوبیس کو کینیڈا کی فیمیلی آف دی ہارٹ کی ایک تقریب میں پڑھا گیا تھا۔ )
اگر آج میں اس کا چشم دید گواہ نہ ہوتا تو مجھے بالکل یقین نہ آتا کہ ذاتی منافقت اور عداوت اور ادبی چشمک اور رقابت کے اس دور میں اتنے زیادہ لوگ کسی شاعر سے نہ صرف ٹوٹ کر اتنی زیادہ محبت کر سکتے ہیں بلکہ اس محبت کا سب کے سامنے اظہار بھی کر سکتے ہیں۔ آج ریکسڈیل کمیونٹی سنٹر کا ہال بھرا ہوا تھا اور امیر حسین جعفری کے دوست اپنی تمام تر دلچسپیوں اور مصروفیتوں کو چھوڑ کر، جن میں پاکستان کی ٹیم کا کرکٹ میچ بھی شامل تھا، امیر حسین جعفری کا جشن صحت منانے آئے تھے۔
”ہم سب“ کے جو قارئین نہیں جانتے انہیں بتاتا چلوں کہ امیر حسین جعفری چند ماہ پیشتر ایک شدید سٹروک کا شکار ہو گئے تھے جس سے نہ صرف ان کا نصف دھڑ مفلوج ہو گیا تھا بلکہ وہ قوت گویائی سے بھی محروم ہو گئے تھے۔ وہ نہ تو چل پھر سکتے تھے اور نہ ہی گفتگو کر سکتے تھے۔ اسی لیے ان کے چاہنے والے دوست اور رشتہ دار ان کی صحت کے حوالے سے بہت پریشان اور فکرمند ہو گئے تھے۔ ان کے دلوں میں عجیب و غریب وسوسے پیدا ہو رہے تھے۔ امیر حسین جعفری کے دوست مجھے تواتر سے فون کرتے اور ان کی خیر خبر پوچھتے اور میں انہیں تسلی بھی دیتا اور امید بھی دلاتا تھا کہ امیر جلد صحتیاب ہو جائیں گے۔
امیر حسین جعفری کو سٹروک کا ایک نقصان یہ ہوا کہ وہ اپنی ساری نظمیں بھول گئے۔ چونکہ انہیں ساری عمر اپنے حافظے پر حد سے زیادہ اعتماد و اعتبار رہا اس لیے انہوں نے کبھی اپنی نظمیں کسی ڈائری میں لکھی ہی نہ تھیں۔ امیر کے دوستوں کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ وہ کہیں اپنی نظمیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھو نہ دیں۔ خوشی کی بات یہ ہوئی کہ امیر حسین جعفری کینیڈا کے جدید سائنسی اور طبی علاج اور دوستوں اور رشتہ داروں کی چاہت سے وقت سے پہلے ہی صحتمند ہوتے گئے اور ان کا وہ حافظہ جو ان سے آنکھ مچولی کھیلنے لگا تھا ان سے آ کر بغلگیر ہونے لگا۔
جب انہیں اپنی پرانی نظموں کے مصرعے یاد آنے لگے تو میں نے ان سے ہر بدھ کی شام ملنا شروع کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ ہر ہفتے مجھے اپنی دو تین نظمیں لکھوا دیا کریں۔ میں انہیں ان کے گھر سے ٹم ہارٹن کے کافی شاپ لے جاتا ہوں ہم پہلے چائے یا کوفی یا ہاٹ چاکلیٹ پیتے ہیں گپیں لگاتے ہیں اور پھر کاغذ قلم لے کر میں ان کی نظمیں رقم کرتا ہوں۔
اب بھی پہلی نظم کے چند مصرعوں کے بعد انہیں ایک مصرعہ بھول جاتا ہے۔ ہم اسے چھوڑ کر دوسری نظم لکھنے لگتے ہیں۔
دوسری نظم لکھواتے لکھواتے جب انہیں پہلی نظم کا بھولا ہوا مصرعہ یاد آتا ہے تو ان کی آنکھوں میں کسی بچے کی معصوم مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ امیر حسین جعفری نے میری اس درخواست کو بھی شرف قبولیت بخشا ہے کہ وہ اپنی نظموں کا مجموعہ چھپوائیں گے۔ انہوں نے اپنے دیوان کا نام بھی چن لیا ہے۔ ”اے مرے غم“۔
میں اب تک ان کی انیس نظمیں لکھ چکا ہوں۔ مجھے قوی امید ہے کہ اگلے چند ماہ میں میں ان کی ساری نظمیں رقم کر لوں گا اس مرحلے کے بعد ہم ان کو چھپوانے کا سوچیں گے۔ امیر حسین جعفری کی جدید نظمیں رقم کرنا میرے لیے خود ایک تخلیقی تجربہ بنتا جا رہا ہے۔ اس کا ثبوت وہ نظم ہے جو میں نے پچھلے ہفتے ان کی نظموں کے حوالے سے لکھی۔ آپ بھی پڑھ لیں
تری نظمیں وہ آنکھیں ہیں
امیر حسین جعفری کے نام
تری نظمیں وہ آنکھیں ہیں
جو تاریکی میں رہ کر بھی
بہت کچھ دیکھ سکتی ہیں
تری نظمیں وہ آنکھیں ہیں
بہت کچھ دیکھ کے بھی جو
سدا خاموش رہتی ہیں
تری نظمیں وہ آنکھیں ہیں
جو دکھ کی کوکھ میں چھپ کر
سکھوں کے خواب تکتی ہیں
تری نظمیں ہمارے عہد کے نایاب تحفے ہیں
تری نظمیں ہمارے دور کے نادر صحیفے ہیں
جب امیر حسین جعفری صحتیاب ہو گئے تو دوستوں نے مشورہ دیا کہ ہم سب ان کا جشن صحت منائیں۔ چنانچہ آج نو جون دو ہزار چوبیس کو کینیڈا میں ان کا جشن صحت منایا گیا۔ اس جشن میں نہ صرف دوستوں نے نظم و نثر میں انہیں خراج عقیدت و محبت پیش کیا بلکہ ان کی بیگم، دوست اور محبوبہ سیمیں جاوید اور ان کے دونوں بیٹوں زائر حسین جعفری اور اختر حسین جعفری جونیر نے بھی اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کیا۔
آخر میں جب امیر حسین جعفری نے گفتگو شروع کی تو سب کو یقین آ گیا کہ ایک قادر الکلام شاعر جنہیں اپنی نظموں کے علاوہ بیسیوں شاعروں کی سینکڑوں غزلیں یاد تھیں۔ ایک جوشیلے مقرر جو ایک گھنٹہ فی البدیہہ تقریر کر سکتے تھے۔ اور ایک باذوق دوست جو اپنی لچھے دار باتوں سے محفل میں دوستوں کو محظوظ و مسحور کر سکتے تھے۔ جو اپنی بیماری کی وجہ سے ادبی محفلوں سے چند مہینوں کے لیے رخصت ہو گئے تھے واپس لوٹ آئے ہیں۔
آخر میں اپنی کہانی سناتے سناتے جب امیر حسین جعفری کی آنکھیں نم ہو گئیں تو وہ وفور جذبات سے خاموش ہو گئے اور سب حاضرین ان کی محبت چاہت اور عقیدت میں کھڑے ہو گئے۔
میں نے فیمیلی آف دی ہارٹ کی بیس سالہ تاریخ میں ایسا منظر پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔
آج محبت کی بارش میں سب اندر تک بھیگے ہوئے تھے۔
حاضرین کو ایستادہ دیکھ کر فی البدیہہ میں نے شعر کہا
ہم بھی بھیگے ہوئے ہیں اندر تک
اتنی بارش ہوئی محبت کی
آج کی محفل میں جو مضمون میں نے پڑھا وہ حاضر خدمت ہے
امیر حسین جعفری: میرا ادبی ہمسفر
میں جب امیر حسین جعفری کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں اس بچے کا تصور ابھرتا ہے جو اپنے عہد کے جدید شاعر اختر حسین جعفری کی گود میں پلا بڑھا ہو اور جس کے گھر میں احمد ندیم قاسمی، ضیا جالندھری، سیف الدین سیف، عارف عبدالمتین، نجیب احمد، خالد احمد اور ساقی فاروقی جیسے اردو ادب کے صفِ اول کے شعرا کا آنا جانا ہو۔ میں جب امیر حسین جعفری کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں اس نوجوان کی تصویر ابھرتی ہے جو پاکستان ٹی وی کے لیے ڈرامے لکھتا تھا اور انعامات سے نوازا جاتا تھا۔
میں جب امیر حسین جعفری کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اس جوان کا خیال آتا ہے جو ایوب خاور جیسے ڈائرکٹر اور ضیا محی الدین جیسے ایکٹر کا رفیقِ کار رہا ہو۔ میں جب امیر حسین جعفری کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے دماغ میں اس شاعر کا عکس ابھرتا ہے جو جدید شاعری کی تفہیم اور تفسیر جاننے کے لیے اوکٹاویا پاز، ٹی ایس ایلیٹ، ایزرا پاؤنڈ اور پابلو نرودا جیسے ادیبوں کی شاعری اور تنقید کا مطالعہ کرتا تھا۔ میں جب امیر حسین جعفری کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں اس طالب علم کی تصویر ابھرتی ہے جو اپنے والد کی لائبریری میں کھو جاتا تھا اور ادب، فلسفہ، مذہب، نفسیات اور سماجیات کی کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا۔ یہ وہ رنگ ہیں جنہوں نے مل کر امیر حسین جعفری کی ادبی شخصیت کی قوسِ قزح تخلیق کی اور اسے اپنے عہد کا ایک معتبر اور معزز شاعر اور ایکٹر، ڈائرکٹر اور دانشور بنایا۔
مجھے وہ سہ پہر یاد ہے جب میرے کامریڈ دوست سید عظیم نے فون پر خبر سنائی کہ امیر حسین جعفری لاہور سے ٹورانٹو نقلِ مکانی کر رہے ہیں۔ مجھے وہ شام یاد ہے جب جرارڈ سٹریٹ کے ایک سیمینار میں میری پہلی دفعہ امیر حسین جعفری اور ان کی شریکِ حیات سیمیں جاوید سے ملاقات ہوئی، میں نے ان کی خدمت میں اپنا شعری مجموعہ ”سمندر اور جزیرے“ پیش کیا، اپنی دوست زہرا نقوی سے تعارف کروایا اور علی بابا ریسٹورانٹ میں کھانے کی دعوت دی۔ مجھے وہ مشاعرہ یاد ہے جس میں امیر حسین جعفری نے پہلی دفعہ اپنی نظمیں سنا کر سامعین کو محظوظ و مسحور کیا۔ مجھے رحمہ فاؤنڈیشن کا وہ پروگرام یاد ہے جس میں امیر حسین جعفری نے سٹیج پر ایکٹنگ کا جادو جگایا اور حاضرین کا دل موہ لیا۔
مجھے فیملی آف دی ہارٹ FAMILY OF THE HEART کا وہ سیمینار یاد ہے جس میں امیر حسین جعفری نے جدید شاعری پر ایک عالمانہ مقالہ پڑھ کر سامعین کو متاثر کیا۔ مجھے رفیق سلطان کے گھر کی وہ محفل یاد ہے جس میں امیر حسین جعفری نے خالد احمد کی یاد میں ایک مضمون پڑھا اور حاضرین کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ مجھے امیر حسین جعفری کے گھر کی وہ محفلیں یاد ہیں جن میں ہم نے ان کے دونوں بیٹوں زائر حسین جعفری اور اختر حسین جعفری جونیر کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اس موضوع پر گفتگو کی کہ ادیب اور شاعر اپنی ادبی، سماجی اور خاندانی زندگی میں کیسے توازن پیدا کرتے ہیں۔
مجھے وہ ویک اینڈ بھی یاد ہے جب امیر حسین جعفری کے بھائی منظر حسین اختر کو ان کے مجموعہِ کلام، سطرِ نو، پر پاکستان میں ایوارڈ ملا اور میں نے امیر حسین جعفری سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان انہیں بھی اپنا دیوان چھپوا لینا چاہیے۔ یہ میری خوش بختی ہے کہ امیر حسین جعفری جیسا دانشور شاعر میرا دوست ہی نہیں میرا ادبی ہمسفر بھی ہے۔ اس کی شاعری اور زندگی میں اتنا گمبھیرتا ہے کہ اس پر ایک ناول یا تین گھنٹے کا ڈرامہ لکھا جا سکتا ہے۔ میں نے اس ڈرامے کے بارے میں ایک نثری نظم لکھی تھی جس کا عنوان ہے
امیر حسین جعفری کی زندگی کے سکرین پلے کا ون لائنر
لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں
وہ وقت سے پہلے اتنا بزرگ کیسے بن گیا ہے
اس کی باتوں میں اتنی گہرائی اور دانائی کہاں سے آئی ہے
اور میں انہیں بتاتا ہوں
نوجوانی میں
اس کے دل میں
ایک ذہین عورت کی محبت کی کلی کھلی تھی
اور ابھی وہ کلی
پوری طرح پھول بھی نہ بن پائی تھی کہ
اس کے شاعر والد کا انتقال ہو گیا
اور وہ چاروں طرف بکھر گیا
اپنے والد کی لائبریری میں کھو گیا
اس نے جب خود کو سمیٹا تو
وہ ایک شاعر بن چکا تھا
وقت سے پہلے بوڑھا ہو چکا تھا
اب وہ
روایت اور بغاوت
قدیم اور جدید کے
چوراہے پر کھڑا
کھلی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہے
شعر کہتا ہے
دانائی کی باتیں کرتا ہے
اور لوگوں کو حیران کرتا ہے
لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں
وہ وقت سے پہلے اتنا بزرگ کیسے بن گیا ہے
اور میں خاموش رہتا ہوں
ڈاکٹر خالد سہیل


