ماں کی بے بسی اور تعلیم یافتہ اولاد کی بے مہریاں


ابھی پچھلے دنوں ہی کی یہ داستان ہے ایک ایسی حقیقت کی جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں گہری جڑیں پکڑے ہوئے ہے، ایک ایسی کہانی جو آنکھوں کو نم کر دیتی ہے اور دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔ کہانی ہے ایک سابق وائس چانسلر کی اہلیہ کی، ایک ایسی خاتون جو بظاہر ایک معزز اور پڑھے لکھے خاندان کا حصہ تھیں، جن کے بیٹے اور بیٹیاں معاشرے میں اونچے مقام پر فائز تھے۔ ایک بیٹا امریکہ سے تعلیم یافتہ، ایک بیٹی ڈاکٹر، دوسری بیٹی بینک کی وائس پریزیڈنٹ اور ایک بیٹا زمیندار اور کاروباری  آدمی۔

لیکن ان سب کے باوجود، ان کی آخری ایام لاوارثی اور کسمپرسی میں گزرے، اور جن کا پچھلے دنوں ہی سندھ کے ایک چھوٹے شہر کے ایک اولڈ ہاؤس میں انتقال ہو گیا، اور وہ اپنے ہی بچوں کی بے اعتنائی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ سابق وائس چانسلر صاحب اپنے دؤر میں چیف سیکریٹری بلوچستان، مینیجنگ ڈائریکٹر کے ای ایس سی، اور چیئرمین اسٹیٹ لائف بھی رہ چکے تھے، اور کیا تو وضع دار انسان تھے، اور کیا تو حسنِ سلوک کے مالک تھے۔

یہ محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک کیس اسٹڈی ہے جو ہمیں اس معاشرتی زوال کی طرف متوجہ کرتی ہے جہاں مادی کامیابی اخلاقی اقدار پر غالب آ چکی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے جو سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہماری تعلیم اور ترقی ہمیں انسانیت سے دور کر رہی ہے؟ کیا ہم اس قدر خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنے والدین کی قربانیوں کو بھلا بیٹھیں؟

تاریخ انسانی اخلاقیات کے اتار چڑھاؤ سے بھری پڑی ہے۔ قدیم تہذیبوں میں، والدین کا احترام اور بزرگوں کی دیکھ بھال ایک بنیادی اخلاقی قدر سمجھی جاتی تھی۔ یونانی فلسفی ارسطو، نے فضیلت اور اخلاقی کردار پر زور دیا، جہاں خاندان اور معاشرتی ذمہ داریاں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ رومن سوسائٹی میں بھی، خاندان کی اہمیت اور بزرگوں کی عزت و تکریم کو فروغ دیا جاتا تھا۔ اسلامی تہذیب میں تو والدین کے حقوق کو خدا کے حقوق کے بعد سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے لیکن وقت کے ساتھ، جیسے جیسے معاشروں نے مادی ترقی کی منازل طے کیں، اخلاقیات کا معیار گرتا چلا گیا۔ صنعتی انقلاب نے شہری زندگی کو فروغ دیا، جس نے خاندانی نظام کو کمزور کیا۔ فرد پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اجتماعی سوچ اور ذمہ داریوں کو دھندلا دیا۔ یہ تاریخی نقطہ نظر ہمیں بتاتا ہے کہ مادی ترقی کا مطلب ہمیشہ اخلاقی ترقی نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض اوقات، مادی ترقی اخلاقی زوال کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔

انسانیت کا بنیادی اصول ہمدردی، ایثار اور محبت ہے۔ مرحومہ کا معاملہ اس انسانی نقطہ نظر سے ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے کھوکھلے پن کو عیاں کرتا ہے۔ وہ بچے جو اپنے والدین کی شب و روز کی محنت، قربانیوں اور دعاؤں کے نتیجے میں کامیاب ہوئے، انہی کو تنہا چھوڑ گئے۔ یہ صرف ایک غفلت نہیں، بلکہ انسانیت کے بنیادی تقاضوں سے روگردانی ہے۔ ژاں پال سارتر جیسے وجودیت پسند فلاسفہ نے انسان کی آزادی اور اس کے نتائج پر بات کی ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ کیا ہم اپنی آزادی کا استعمال اپنے فرائض سے بھاگنے کے لیے کر رہے ہیں؟

یہ بات قابل غور ہے کہ ایک والدہ جس نے اپنے بچوں کی پرورش کی، انہیں تعلیم دلوائی، اور انہیں اس قابل بنایا کہ وہ معاشرے میں اپنا مقام بنا سکیں، آخر کار اسی اولاد کی بے اعتنائی کا شکار ہو گئیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم انسانیت کے بجائے صرف کامیابی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟

والدین اپنے بچوں کی بقا اور پرورش کے لیے فطری طور پر قربانیاں دیتے ہیں۔ یہ ایک ارتقائی حکمت عملی ہے جو نسلوں کی بقا کو یقینی بناتی ہے۔ بچوں کو والدین کی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر بچپن میں۔ لیکن یہ رشتہ یک طرفہ نہیں ہوتا۔ والدین کی عمر رسیدہ حالت میں بچوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کی دیکھ بھال کریں۔ یہ ایک حیاتیاتی ضرورت بھی ہے کیونکہ انسان ایک سماجی مخلوق ہے جو باہمی تعاون پر انحصار کرتا ہے۔

اگر ہم یہ دیکھیں کہ اولاد اپنے والدین کو نظر انداز کر رہی ہے، تو یہ ایک طرح سے فطری نظام کی خلاف ورزی ہے۔ یہ رویہ انسانی ارتقائی کامیابی کے برعکس ہے، جہاں باہمی تعاون اور خاندانی بندھن کو مضبوط کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ ایک طرح سے حیاتیاتی بے قاعدگی ہے جو ہمارے سماجی اور اخلاقی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہے۔

فلسفے کی دنیا میں اخلاق اور اقدار پر ہمیشہ سے بحث ہوتی رہی ہے۔ عمانویل کانٹ نے اپنے اخلاقی فلسفے میں ”categorical imperative“ کا تصور پیش کیا، جس کا مطلب ہے کہ ہمیں ایسے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے جو عالمی سطح پر لاگو ہو سکیں، یعنی جو ہر کسی کے لیے درست ہوں۔ اگر ہم اپنے والدین کو نظر انداز کرنے کو ایک عالمی اصول بنا لیں، تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ کیا ہر کوئی اپنے والدین کو تنہا چھوڑ دے گا؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جو معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کر دے گا۔

نیشے (Friedrich Nietzsche)  نے اخلاقیات کے زوال کو ”خدا کی موت“ سے جوڑا، جہاں روایتی اخلاقی اقدار اپنی بنیاد کھو رہی ہیں۔ آج کے دور میں، جب مادی کامیابی کو واحد مقصد بنا لیا گیا ہے، تو اخلاقیات کا فقدان ایک فلسفیانہ بحران کو جنم دے رہا ہے۔ مرحومہ کا واقعہ اس فلسفیانہ بحران کی ایک جھلک ہے۔ کیا ہم اپنی اقدار کو دوبارہ سے مضبوط کر سکتے ہیں، جہاں انسانیت اور اخلاقیات کو مادی کامیابی پر فوقیت دی جائے؟

سماجی نقطہ نظر سے، خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ جب خاندانی روابط کمزور ہوتے ہیں، تو پورا معاشرتی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔ شہری زندگی، نیوکلیئر فیملی کا رجحان، اور مصروف طرز زندگی نے بزرگوں کی دیکھ بھال کو ایک چیلنج بنا دیا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جہاں ابھی تک خاندانی نظام مضبوط ہے، ایسے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ یہ ایک سماجی بیماری کی علامت ہے جہاں ہم اپنے بزرگوں کو فراموش کر رہے ہیں۔

ایسے واقعات نہ صرف متاثرہ افراد کو بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ بزرگوں میں تنہائی، بے چارگی اور ڈپریشن بڑھتا ہے۔ اولاد میں احساس جرم یا لاتعلقی بڑھتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی دباؤ کا باعث بنتا ہے جو افراد اور خاندانوں کو متاثر کرتا ہے۔ وہ بچے جو اپنے والدین کی قربانیوں کو بھلا دیتے ہیں، ان کی اپنی زندگی میں بھی ایک گہرا خلا پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنے والدین کی دعاؤں اور محبت سے محروم ہو جاتے ہیں، بلکہ ان کی اپنی اخلاقی بنیادیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں۔

یہاں یہ بھی قابل غور ہے کہ معاشرے میں یہ سوچ فروغ پا رہی ہے کہ اولاد صرف والدین کی پنشن یا مادی فوائد کے لیے ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک سوچ ہے جو رشتوں کی اصل بنیاد کو ختم کر دیتی ہے۔ اگر حکومت واقعی پنشن ختم کرتی ہے تو بزرگوں کی زندگی مزید خطرے میں پڑ جائے گی، کیونکہ بہت سی اولاد صرف اس مادی فائدے کے لیے والدین کو اپنے ساتھ رکھ رہی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے سماجی ڈھانچے میں رشتوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

اخلاقی زوال ایک پیچیدہ مظہر ہے جس کی کئی وجوہات ہیں۔ گلوبلائزیشن، صارفیت، اور مادی پرستی نے انسانی اقدار کو دھندلا دیا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا رہ گیا ہے، اخلاقی تربیت پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اخلاقی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک معاشرتی ذمہ داری ہے۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف کامیاب انسان بنانا نہیں، بلکہ اچھا انسان بنانا سکھانا ہو گا۔ اخلاقی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانا ہو گا۔ خاندانوں کو دوبارہ اپنی بنیادی اقدار کو مضبوط کرنا ہو گا۔ بزرگوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا ہو گا۔ حکومت کو بھی بزرگوں کے تحفظ کے لیے قوانین بنانے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہو گا۔ یہ سب ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس اخلاقی زوال کو روکیں۔

مرحومہ کی موت ایک سسکی ہے، ایک چیخ ہے جو ہمارے معاشرے کی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی دردناک کہانی ہے جو ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں، اپنے اعمال پر غور کریں، اور اپنے رشتوں کی قدر کریں۔ کیا ہم بھی اس اخلاقی زوال کا حصہ بن رہے ہیں؟ کیا ہم بھی اپنے والدین کی قربانیوں کو بھلا رہے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ہمیں خود کو دینا ہو گا، تاکہ یہ دردناک کہانی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani