ایران اسرائیل جنگ میں ایران کی کمزوریاں، غلطیاں اور حماقتیں


ایران کی کمزوری، کنٹرول اور طاقت کا پول روزانہ کی بنیاد پر کھل رہا ہے اور جارح مزاج کرتوتیے اسرائیلی موساد کا دعوی ہے کہ اس نے تہران کے اندر ”ڈرون بیس“ قائم کر کے ساری کارروائیاں وہیں سے کی ہیں اور اس بات نے ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی اخیر نالائقی کو پہلی بار ایکسپوز نہیں کیا بلکہ جب حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کو اس کے گھر میں گھس کر مار دیا تھا تو تب بھی ایرانی انٹیلی جنس کی حماقت آمیز نالائقی کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ جو ملک اس کے نزدیک اس کا دنیا میں سب سے بڑا دشمن ہے، اس نے ہی اس کے گھر آئے مہمان کو بڑی آسانی سے مار ڈالا تھا۔

اور یاد کیجیے کہ ہندوستانی RAW کے سلیپر سیل سے جڑا ایجنٹ کلبھوشن یادیو بھی ایران کے شہر چابہار میں پورے 9 سال بیٹھ کر پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کرتا رہا اور بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو مکمل سپورٹ کرتا رہا اور ایران کی نالائق ایجنسیاں کلبھوشن یادیو کی خوفناک، پراسرار اور تیز ترین سرگرمیوں کو مانیٹر نہیں کر پائیں اور کلبھوشن یادیو اپنا مکمل لچ تلتا رہا اور پاکستان کو جگہ جگہ سے زخمی کرتا رہا اور بالآخر کلبھوشن یادیو سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دور میں پاکستان کی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ گیا اور تب سے پاکستان کی جیل میں سڑ مر رہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کی ایجنسیاں کیا دھنیا پی کر سوئی رہتی ہیں؟

جب ایرانی ایجنسیاں اس قدر بڑے بلنڈرز کر رہی تھیں اور یکے بعد دیگرے کر رہی تھیں اور ہمسایہ ملک پاکستان اپنے تحفظات مسلسل ایرانی ٹاپ قیادت کو پہنچا رہا تھا تو ایرانی قیادت نے اپنی ایجنسیوں کو شٹ اپ کال کیوں نہیں دی تھی؟ ایرانی قیادت کی خاموشی بھی کیا معنی خیزانہ نہیں ہے؟ بلکہ مجرمانہ زمرے میں نہیں آتی ہے؟

اگر آپ دشمن ملک سے نہیں بچ سکتے اور دوست ملک کو نہیں بچا سکتے تو پھر آپ کے ساتھ یہی ہونا تھا جو اس وقت ہو رہا ہے کہ کوئی بھی ملک آپ کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ کھڑا نظر نہیں آ رہا ہے اور خطے میں آپ سب کو پہلے ہی ناراض کرچکے ہیں اور اسرائیل سے بے پناہ نفرت کے باوجود بھی اردگرد موجود ممالک اگر ایرانی حمایت سے پیچھے ہٹے ہوئے ہیں تو ایران کو کہیں کبھی رک کر اپنے سفارتی پہلوؤں کو باریک بینی سے جانچنا چاہیے اور اس کی معتدل قیادت کو ”رہبر اعلیٰ“ کے سخت گیرانہ شکنجوں سے نکلنا ہو گا ورنہ وہ مزید تیزی کے ساتھ تنہا ہو گا کیونکہ رہبر اعلیٰ اور ان کے منتخب پالیسی سازوں کی سوچ اس گلوبل ورلڈ میں کہیں ایک انچ بھی ایڈجسٹ ہونے کے قابل نہیں ہے، اس لیے ایرانی قیادت معاملات سنبھالے ورنہ اس کے معاملات فرانس میں عشروں سے بیٹھی ”متبادل قیادت“ کو بھی سونپے جا سکتے ہیں اور موساد کا یہ دعویٰ کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں اپنا ”بیس کیمپ“ بنا کر ایران کے اندر کارروائیاں کی ہیں، بتا رہا ہے کہ ایران کے اندر بھی اس کا دشمن کامیابی سے ”نقب“ لگا چکا ہے جو کہ ایرانی ایجنسیوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے، بس اب ایران اس امر کو یقینی بنائے کہ معاملہ اس ”بیس کیمپ“ سے آگے نہ بڑھے کیونکہ جنہوں نے بیس کیمپ بنانے میں تعاون فراہم کیا ہو گا وہ کسی ”نرم انقلاب“ کے لیے بھی کندھے فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں گے اور پچھلے کچھ عرصہ میں ایران میں ہونے والے مظاہروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ایران کے اندر ”سب ٹھیک نہیں ہے“ ورنہ جس لیول کے بڑے مظاہرے اور مزاحمت کے آثار نظر آئے اس کی کسی کو امید تک نہ تھی لیکن سب ہوا اور ایران نے طاقت کے زور پر ان مظاہروں کو روک دیا تھا اور اٹھتی جوشیلی آوازوں کو دبا دیا تھا لیکن سب جانتے ہیں کہ جس لیول کے مظاہرے ہوئے تھے وہ طاقت کے زور پر ہر ریاست وقتی طور پر دبانے میں کامیاب ہو جاتی ہے لیکن موقع ملتے ہی ناراض عناصر پھر سر اٹھا لیتے ہیں اور کچھ بعید نہیں کہ ایران میں ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی مستقبل میں ایسے مظاہرین کی قیادت کرتی نظر آئے؟

دوسری طرف دیکھیں تو پاکستان میں جذباتی ہو کر کچھ حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پاکستان کو ایران کا عملی طور پر ساتھ دینا چاہیے، اس کے جواب میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ابھی حال ہی میں ایران نے ہندوستان پر حملہ چھوڑیں کیا پاکستان کے ساتھ فوجی تعاون کی بات بھی کی تھی؟ یاد رہے کہ دنیا میں تعاون کے بدلے تعاون ہوتا ہے اور حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران جس طرح چین، آذربائیجان اور ترکی نے کھل کر اور سامنے آ کر پاکستان کا ساتھ دیا، کیا ایران نے اس طرح کا کردار ادا کیا تھا؟

ایسا نہیں ہوا تھا کیونکہ ایران کی ہندوستان کے ساتھ گہری قربت ہے اور ہندوستان سے ایک ”لاجسٹک سپورٹ معاہدے“ کے تحت وہ ہندوستان کے خلاف نہیں جا سکتا ہے اور اس معاہدے کی بھنک جنرل مشرف کو شاید 2002 میں پڑی تھی تو جنرل مشرف نے آدھی رات کو قوم سے ایمرجنسی میں خطاب میں ایک سخت تقریر میں ایران کو ”برادر اسلامی ملک“ کہہ کر سخت غم و غصے کا اظہار کیا تھا اور ”IAEA“ کو معلومات دینے پر بھی ”برادر اسلامی ملک“ کو یہ کہہ کر لتاڑا تھا کہ ”غیر مسلم ملک شمالی کوریا نے کچھ نہیں بتایا لیکن برادر اسلامی ملک دباؤ برداشت نہیں کر سکا اور IAEA کو سب کچھ بتا دیا“ ۔

اس وقت سے پاکستان اور ایران کے درمیان نہ صرف سفارتی دوری و کشیدگی ہے بلکہ ناراضی کی حد تک معاملات چل رہے ہیں۔ بہرحال مبصرین و تجزیہ نگاروں کے نزدیک اسرائیل کو خطے میں بدمعاشی پر شٹ اپ کال اگر کوئی دے سکتا ہے تو وہ صرف پاکستان ہی ہے۔

آئیے اسرائیل کے کچھ کمزور پہلوؤں کی طرف ایک نظر کرتے ہیں تاکہ ایران کو اپنے لیے کچھ حمایت حاصل کرنے میں آسانی ہو اور جارح مزاج اور فلسطین کی زمین پر جبری قبضہ جمانے والے اسرائیل کے لیے مشکلات پیدا کرنے میں مدد ملے۔

چلیے آپ کو بتاتے ہیں کہ اسرائیل کس جگہ پر کمزور ہے اور ایران اور اسرائیل مخالف عناصر اسے کس جگہ سے دبوچ سکتے تھے /ہیں؟

ایران نے ایک بڑے طاقتور، وسائل سے بھرپور اور انتہائی با اثر سے دشمنی پالنے سے پہلے دشمن کے دشمنوں کو بھی مدتوں سے ناراض کیا ہوا تھا/ہے اور ان میں سر فہرست عرب ممالک اور پاکستان وغیرہ شامل ہیں، ایران نے ایک طرف اپنی احمقانہ سفارتی پالیسی اختیار کرتے ہوئے عرب ممالک سے کبھی بھی گرمجوشانہ تعلقات کی ڈوچ نہیں اپنائی بلکہ اپنے مخصوص مسلکی نظریات کو پھیلانے کے لیے خطے میں صرف ان ہی ممالک سے تعلق رکھا جو اس کے مسلک سے جڑے تھے جن میں لبنان وغیرہ سرفہرست تھے اور سعودیہ کے مشرقی صوبے الطیف میں جہاں شیعہ اکثریت میں ہیں، میں مسلسل مداخلت جاری رکھ کر سعودیہ کو ناراض کیے رکھا اور پاکستان میں بھی اپنے مسلک کی مخصوص تنظیموں کی مالی طور پر بھرپور معاونت کی اور شہ بھی دیے رکھی اور ہندوستان جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ہے، سے تعلقات ”برادرانہ“ سے بھی بڑھ کر قائم کیے جو کہ اس جنگ و کشیدگی میں یوں بے اثر ہوئے کہ ہندوستان اپنے بہت قریبی اسرائیل کو اب تک روکنے کے لیے یا اس کے اقدامات کی مذمت کے لیے بھی آگے نہیں آیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کی سیاسی، مذہبی و فوجی قیادتیں دوراندیش نہیں ہیں، وہ معاملہ فہم ہوتیں تو کم از کم اپنے قریبی ہمسائیوں سے تو بگاڑ نہ پیدا کرنے کی راہ پر چلتیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ان برے حالات میں بھی ایران کے ذمے داران پاکستان یا دوسرے ممالک سے تعاون کے لیے کسی طرح کے رابطے میں نہیں آرہے ہیں، حالانکہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی و جنگ کے دوران صرف ایک دن ہی میں پاکستان کے وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کم از کم آدھی دنیا سے ٹیلی فونک رابطے کر کے ہندوستان کی جارحیت پر اپنا دو ٹوک موقف ان پر واضح کر دیا تھا اور تبھی جب پاکستان نے ہندوستان کو منہ توڑ جواب دیا تو دنیا میں ہندوستان کے ساتھ کوئی بھی کھڑا نظر نہیں آیا تھا کیونکہ پاکستان اپنا کیس سفارتی لحاظ سے کامیابی سے دنیا سے منوا چکا تھا اور دنیا کو قائل کرنے اور ان کی ”خاموش رضامندی“ کے بعد پاکستان نے چند دوست ممالک کو اعتماد میں لے کر ہندوستان کے صرف 30 منٹ ہی میں بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے تھے لیکن ایران تو ہمسایہ عرب ریاستوں سے بھی اپنے موقف کو منوانے کی طرف نہیں آیا ہے۔ یہ ہٹ دھرمی اور ضد جہاں ایران کی زمین اور قوم کے لیے نقصان دہ ہے وہاں خطے میں ایک نئے اور بڑے بدمعاش کو رعب جمانے کے لیے مستقل جگہ بھی فراہم کر رہی ہے کیونکہ اسرائیل کا تہران میں بیس بنا کر ایران پر حملوں کا دعویٰ بہت کچھ بتا رہا ہے اور اگر اس نے ایسا بیس بنا لیا ہے تو اس کی تھپکی اسے بدذات ٹرمپو کے سوا کسی اور نے نہیں دی ہو گی؟ جو کھلے عام کہہ رہا ہے کہ ”ایران کو بات نہ ماننے پر اور بھی سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے“ ۔

اور جرمن چانسلر نے بھی کہہ دیا ہے کہ ”اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صبح سویرے اپنے حملوں کے اغراض و مقاصد سے ہمیں آگاہ کر دیا تھا“ ۔

نیٹو فوج کے ترجمان کا بیان بھی ایران کے حق میں نہیں جا رہا ہے تو ایسے میں ایران کو رک کر کہیں غور کرنا چاہیے کہ نہیں؟

دوسری کمزوری یہ ہے کہ ایران دنیا کو تیل کا 4 سے 5 فی صدی حصہ فراہم کرتا ہے اور یہ حصہ بوجوہ معمولی نہ ہے لیکن کیا ایران اس حصے کی وجہ سے دنیا کو ”بلیک میل“ کر کے اپنی شرائط منوا سکتا ہے؟ یقینی طور پر وہ ایسا کر سکتا تھا/ہے لیکن کیا اس کی موجودہ سیاسی قیادت اس جوگی ہے؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ اسے اپنی اس طاقت کا احساس تک نہ ہے۔

تیسری کمزوری اسرائیل کی ساری مسلم دنیا مخالف ہے اور یہ مسلم بلاک ایران کے بہت کام آ سکتا تھا/ہے لیکن پھر وہی بات کہ ایران کی موجودہ قیادت عرصہ سے اپنے ہی خول میں بند ہے اور کسی بھی مسلم ملک سے اس کے گرم جوشانہ تعلقات نہ ہیں اس لیے اس چیپٹر کو تو بند ہی سمجھیں۔

چوتھی کمزوری دنیا کی بہت بڑی ضرورت بنانے یا پیدا کرنے والے ممالک اپنے مفادات کے کارن ایک دوسرے سے بہت جڑے ہوتے ہیں اور تیل پیدا کرنے والے ممالک تو ”مافیا ڈان“ ہوتے ہیں کہ انرجی سیکٹر ہی اس وقت دنیا کو اتھل پتھل کیے رکھتا اور پھرتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ایران اس سائیڈ سے بھی کمزور ہی نظر آ رہا ہے اور ان ممالک سے بھی اسے کسی بھی قسم کی سپورٹ ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے؟ یہ بات بھی ایران کو ایک ناعاقبت اندیش اور ناسمجھ ریاست ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنی ایک طاقت کو اپنی ہی ضرورت کے تحت استعمال کرنے کے ہنر سے بھی ناآشنا ہے۔

پانچویں بات یہ کہ لاطینی ممالک نظریاتی و دیگر ایشوز کی وجہ سے امریکہ کے بہت خلاف ہیں اور اپنے ہاں امریکی مداخلتوں سے بھی تنگ رہتے ہیں اور اسرائیل جو کہ امریکہ کا پالا ہوا ناجائز سانڈ ہے، اس کے بارے میں ان کے خیالات بھی کچھ اچھے نہ ہیں اور پھر دشمن کا دوست کسی کو کیسے پسند آ سکتا ہے؟ تو ایران نے اس علاقے میں اپنی حمایت میں اضافہ کا جتن کیوں نہیں کیا؟ وہاں تیل پیدا کرنے والے وینزویلا وغیرہ سے مراسم بڑھا کر ایران بہت ہمدردیاں سمیٹ سکتا تھا جو کہ امریکہ کو بالکل بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔

ایران کی حماقتوں کا قصہ دراز ہوتا جا رہا ہے اور سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ اپنی ٹاپ فوجی قیادت کو پہلے ہی ہلے میں مروا بیٹھا ہے جس سے طاقت کا توازن بری طرح سے بگڑ گیا اور اسرائیل کی برتری کے نمبر بڑھ گئے، جب دنیا کو علم تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ ہر صورت کرے گا تو کیوں ایران نے اپنی فوجی قیادت کے تحفظ اور بچاؤ کے مناسب اقدامات نہیں کیے تھے؟ یکے بعد دیگرے بڑے سے بڑا جرنیل اور عہدے دار مارا جاتا رہا اور ایران کے ذمے داران بھنگ پی کر سوئے رہے۔ کیوں؟ کیا ٹاپ کی فوجی قیادت کے یوں پے درپے مارے جانے سے ایرانی فوج اور عوام کے حوصلے متاثر نہیں ہوئے ہوں گے؟ خاکسار کے نزدیک رہبر اعلیٰ اور دیگر اب جو مرضی کہتے رہیں، اب کوئی فائدہ نہیں ہے اور ویسے بھی اسماعیل ہانیہ کی موت کے بعد سے دنیا ایرانی ذمے داران کی خالی بڑھکیں ہی سن رہی ہے اور اب ایران کے ہر بڑے شہر اور حساس عمارت سے اٹھتے دھوئیں نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کی موجودہ فوجی و سیاسی قیادت سرے سے نا اہل ہے۔

Facebook Comments HS