راجہ انور بطور ادیب اور مصنف
راجہ انور کو میں نے اپنے کالج کے زمانے میں ان کی بھرپور جوانی میں دیکھا تھا۔ 70 کی دَہائی کے وسط کی بات ہے۔ ہم تین دوست بینک روڈ راولپنڈی صدر میں گھوم رہے تھے۔ ہمارا ایک دوست زور سے چلایا۔
”وہ دیکھو! راجہ انور!“
دراز قد، لمبے اور گھنے سیاہ بال، سیاہ ریش، سفید شلوار قمیض میں ملبوس سرخ و سفید رنگ کے راجہ انور دو تین ساتھیوں سمیت اُسی طرف چلے آرہے تھے، جہاں ہم کھڑے تھے۔ اُن دنوں ہم نے تازہ تازہ ”جھوٹے روپ کے درشن“ پڑھ رکھی تھی، اس لیے پُرجوش انداز میں آگے بڑھ کر اُنھیں سلام کیا۔ وہ رک گئے۔ ہم سے ہاتھ ملایا چند منٹ کے لیے کھڑے ہوئے، ہمارا حال احوال پوچھ کر آگے بڑھ گئے۔ تعلیم کے بعد ہم بھی عملی زندگی کے ہنگاموں میں کھو گئے۔ بہت عرصہ بعد دو سال پہلے برطانیہ کے شہر برمنگھم میں اُن کی کتاب ”بازگشت“ کی تقریب رونمائی میں اُن سے دوسری بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ زمانے کے نشیب و فراز اُن کی شخصیت میں بہت سی تبدیلیاں لے آئے تھے۔
حُسن اتفاق سے اس کے بعد ان سے بہت سی ملاقاتیں ہوئیں اور اُن سے اچھی خاصی جان پہچان بھی ہو گئی۔ دو ماہ پہلے برمنگھم شہر میں منعقدہ ایک ادبی تقریب میں اُنھیں اپنی نئی تصنیف ”لوح اظہار“ پیش کی جس میں ان کی کتاب ”باز گشت“ کی تقریب رونمائی کا احوال میں نے لکھا تھا۔ ایک دن شام کو اُن کا فون آیا۔
” میں راجہ انور بول رہا ہوں۔ آپ کیسے ہیں۔ شاہ صاحب! آپ نے بازگشت کے حوالے سے بہت اچھا مضمون لکھا ہے، میں آپ کا بہت ممنون ہوں کبھی آئیں میرے گھر، بیٹھ کر چائے پئیں گے اور باتیں کریں گے۔ “
وہ ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہے تھے۔ دو دفعہ ملاقات کا وقت طے ہونے کے باوجود اُن کی ناسازیِ طبیعت کی وجہ سے ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ پچھلے سال اُن کے نواسے کی سالگرہ کے موقع پر اُن کی بیٹی کے گھر واقع برمنگھم میں اُن سے ملاقات ہو گئی۔ اس طویل بیٹھک میں اُن کے کالج کے وقتوں کے دوست اور دیرینہ ساتھی دوست ملک بھی موجود تھے۔ تین چار گھنٹے کی ملاقات میں اُن سے ڈھیروں باتیں ہوئیں، جس سے میں نے اُن کی شخصیت کا ایک خاکہ بنایا۔
راجہ انور 1948 ء میں کلر سیداں کے نواحی گاؤں درکالی شیر شاہ میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول کلر سیداں سے حاصل کر کے گورڈن کالج راولپنڈی میں داخل ہوئے۔ گورڈن کالج راولپنڈی ایک قدیمی کالج ہونے اور بلند معیار تعلیم کی وجہ سے ایک منفرد اہمیت کا حامل کالج تھا۔ یہیں سے انھوں نے گریجویشن مکمل کی۔ کالج میں طلبا کی سیاست میں بڑے سرگرم رہے اور کالج کے چاروں سال یونین کے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ 1966 ء سے 1968 ء تک گورڈن کالج کی طلبا یونین کے جنرل سیکرٹری، نائب صدر اور صدارت کے عہدے پر منتخب ہوئے۔ اُس وقت کی طلبا یونین سیاست کی نرسریاں سمجھی جاتی تھیں۔ ملکی سیاست میں بھی طلبا کا اہم کردار تھا۔ کالج میں پرویز رشید اور دوست ملک آپ کے ہم جماعت اور ہوسٹل فیلو تھے۔
کلر سیداں ہندو اور سکھ اکثریت آبادی کا علاقہ تھا انھوں نے انگریز سرکار کے علاوہ سکھ اور ہندو ساہوکاروں کے ظلم و جبر کی باتیں اپنے آبا و اجداد سے سن رکھی تھیں۔ وہ بچپن سے ہی انقلابی ذہن رکھتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو ان کے پسندیدہ لیڈر تھے۔ بھٹو جب ایوب حکومت سے استعفیٰ دے کر خیبر میل سے لاہور روانہ ہوئے تو وہ اُنھیں راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر ملے اور دیگر طلبا کے ساتھ اُن کے ساتھ لاہور تک ریل گاڑی میں سفر کیا۔ اس سفر کو یاد کرتے ہوئے راجہ صاحب کہنے لگے۔
” میں بھٹو کو بہت پسند کرتا تھا، وہ میرے آئیڈیل تھے۔ جب وہ ایوب حکومت سے استعفیٰ دے کر راولپنڈی سے بذریعہ ریل گاڑی لاہور جانے لگے تو میں بھی ان سے ملنے اور ان کے ساتھ لاہور جانے کے لیے راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر پہنچ گیا۔ یہ 20 جون 1966 کا دن تھا۔ ریل گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے میں اُنھیں ملا۔ یہ میری بھٹو صاحب سے پہلی ملاقات تھی۔ وہ شلوار قمیض میں ملبوس تھے۔ میں نے اُنھیں بتایا کہ میں گورڈن کالج کا طالب علم ہوں اور آپ کو لاہور تک چھوڑنے جا رہا ہوں۔ یہ سن کر انھوں نے مجھے غور سے دیکھا، مجھ سے ہاتھ ملایا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کے ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز تھا۔ میں پیپلز پارٹی کی تشکیل کے سفر میں اُن کا ساتھی تھا“
ایوب خان کے مارشل لاء کے خلاف راجہ انور کی قیادت میں 1968 ء میں گورڈن کالج راولپنڈی سے پہلا جلوس نکالا گیا۔ یہی جلوس بعد میں فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت کے خلاف ایک تحریک بننے کا سبب بنا، جس وجہ سے ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑا۔ طالب علمی کے زمانے میں آپ بارہا پولیس تشدد کا نشانہ بنے اور کئی دفعہ پابند سلاسل ہوئے۔ یحییٰ خان کے مارشل لا پر تنقید کرنے کے جرم میں انھیں ایک سال قید بامشقت کی سزا ملی جو انھوں نے بہاولپور جیل میں کاٹی۔ 1972 ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے فلسفہ میں اعزاز کے ساتھ پوسٹ گریجویشن مکمل کی۔ اس دوران انھوں نے پنجاب یونیورسٹی کی طلبا یونین کی صدارت کے لیے الیکشن لڑا۔ وہ یہ الیکشن بھی جیت جاتے لیکن الیکشن ہنگاموں میں ایک طالب علم کے قتل ہو جانے کی وجہ سے یہ الیکشن منسوخ ہو گیا۔ 1973 ء سے لے کر 1977 ء تک وہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے طلبا اور نوجوانوں کے امور کے مشیر رہے۔
جولائی 1977 ء میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء لگنے کے بعد جب بھٹو کے ساتھیوں کے خلاف جبر و زیادتیوں کا سلسلہ زیادہ بڑھا تو 1979 ء میں وہ جلا وطن ہو گئے۔ کابل میں مرتضیٰ بھٹو کے ساتھ مل کر الذوالفقار نامی تنظیم کی بنیاد رکھی لیکن بہت جلد انھوں نے اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ میرے سوال پوچھنے پر کہ انھوں نے الذوالفقار کو کیوں چھوڑا، وہ کہنے لگے۔
” مرتضی بھٹو مسلح اور پرتشدد جدوجہد کا حامی تھا۔ بہت جلد غصے میں آ جاتا تھا۔ وہ انتقام اور تشدد کی سیاست چاہتا تھا، اس لئے میں تنظیم سے علیحدہ ہو گیا جس پر وہ میرا مخالف ہو گیا۔ اس کی وجہ سے مجھے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔“
1980 ء سے 1983 ء تک وہ افغانستان میں کابل کی مشہور پل چرخی جیل میں پابند سلاسل رہے۔ افغان جیل سے رہا ہو کر وہ جرمنی منتقل ہو گئے اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خاتمہ تک وہیں پناہ گیر رہے۔ ضیاء الحق کا مارشل لا ختم ہونے پر نوے کی دہائی میں وہ پاکستان واپس آئے اور مقدمات کا سامنا کیا۔
ن لیگ کی حکومت میں اپنے دوست کالج اور یونیورسٹی کے ہم جماعت پرویز رشید کے کہنے پر پنجاب حکومت میں ”پنجاب ایجوکیشن ٹاسک فورس“ کے چیئرمین کے طور پر کام کیا اور تعلیم کے فروغ کے لیے خدمات سرانجام دیں۔ چار سال سے زیادہ عرصہ انھوں نے اس عہدے پر کام کیا۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا۔
” میں نے یہ عہدہ کسی مالی منفعت یا سیاست میں آنے کے لیے نہیں لیا تھا بلکہ میں نے اس عہدے کے تمام عرصہ کے دوران طلبا کی بہتری کے لیے کام کیا۔ ہزاروں نوجوان اس پروگرام سے مستفید ہوئے۔ یہ عہدہ قبول کرنے میں میرے کوئی سیاسی مقاصد نہیں تھے میں نے بحیثیت چیئرمین اس عہدہ کی کوئی تنخواہ وصول کی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور سہولت گورنمنٹ سے لی۔ میں دفتر بھی اپنی گاڑی میں آتا جاتا تھا۔“
ان کی اس بات پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ برمنگھم میں راجہ صاحب کی کتاب بازگشت کی تقریب رونمائی میں ان کے ایک پرستار اور شیدائی نے سوال کیا کہ ہم آپ کو ترقی پسندانہ نظریات اور انقلابی جدوجہد کی ولولہ انگیز تحریک کا محرک سمجھتے تھے لیکن آپ نے پنجاب میں نون لیگ میں ٹاسک فورس کے چیئرمین کا عہدہ حاصل کر کے ہمیں مایوس کیا ہے۔ اس پر راجہ صاحب نے اوپر بیان کیا گیا اپنا موقف دہرایا اور کہا کہ انھوں نے حکومت سے کوئی سیاسی مقصد یا مالی مفاد حاصل نہیں کیا بلکہ ہزاروں نوجوانوں کو بہتر تعلیم اور روزگار دلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے بتایا کہ لندن میں قیام کے دوران اُن کا محترمہ بینظیر بھٹو اور محترمہ نصرت بھٹو سے قریبی تعلق قائم رہا۔ ایک لمبا عرصہ اُن کی تقریریں بھی وہی لکھتے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو میں اپنے والد کی طرح قائدانہ صلاحیتیں موجود تھیں اگر وہ زندہ رہتیں تو پیپلز پارٹی اور پاکستان کا حال کافی بہتر ہوتا۔
چھہتر سال کی عمر میں بھی وہ ذہنی طور پر اتنے ہی چاق و چوبند ہیں۔ کالج کے دور کی باتیں ابھی تک اُنھیں اچھی طرح یاد ہیں۔ ملاقات میں اپنے ہم جماعت دوست ملک کے ساتھ گورڈن کالج کے ہوسٹل میں گزرے ہوئے وقت اور شرارتوں کو یاد کر کے محظوظ ہوتے رہے۔ کابل میں قیام کے دوران انھوں نے ایک افغان دوشیزہ سے شادی کی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان دنوں وہ برمنگھم میں مقیم ہیں لیکن پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں۔ ایوب خان کے دور میں اپنی قیادت میں ہونے والی طلبا کی مارشل لا کے خلاف چلنے والی تحریک کی یادداشتوں پر مبنی اپنی نئی کتاب ایوب حکومت میں طلبا کی بغاوت کی طباعت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
راجہ انور کی ساری زندگی ایک بھرپور جدوجہد سے عبارت ہے۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کے بہت سارے پہلو ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو ترقی پسندانہ نظریات کے حامی ہونے کی وجہ سے اُن کی ظلم و جبر کے خلاف احتجاجی تحریک، مارشل لاء کے خلاف تنقید پر جیل یاترہ، جلاوطنی میں افغانستان، جرمنی اور برطانیہ میں گزری ہوئی زندگی کے متعلق ہے۔ ان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ادب سے لگاؤ، ترقی پسند ادیب اور ایک تجزیہ نگار و مصنف کا ہے۔ آج کے مضمون میں راجہ صاحب کے اسی پہلو پر اظہار خیال کروں گا۔
راجہ انور کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ زمانے کے گرم و سرد اور اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات پر بڑی گہری نظر رکھتے ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی سیاست کا باریک بینی سے جائزہ لے کر تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کا مشاہدہ بھی بہت کمال کا ہے۔ طالب علمی کے دور میں یحییٰ خان کے مارشل لاء پر تنقید کی پاداش میں انھیں بہاولپور جیل میں ایک سال کی قید بامشقت بھگتنی پڑی۔ یہ ان کی نوجوانی کا دور تھا اور یہیں سے ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔ جیل کی یادداشتوں کو انھوں نے قلم بند کیا۔ ان کی پہلی کتاب ”چھوٹی جیل سے بڑی جیل“ اُن کے جیل میں گزرے وقت، عدالتوں، کچہریوں اور تھانوں میں پیش آنے والی صورت حال پر مبنی واقعات پر لکھی گئی ہے۔ دردِ دل رکھنے والے قاری اس کتاب کو پڑھ کر اپنے آنسو روکنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی میں ان کا تحقیقی مقالہ ”مارکسی اخلاقیات“ پر تھا جس میں انھوں نے انتہائی فصاحت سے کارل مارکس کے نظریات پر سیر حاصل بحث کی تھی۔ یہ مقالہ کتابی صورت میں 1972 ء میں شائع ہوا تھا۔
1974 ء میں ان کی شاہکار کتاب ”جھوٹے روپ کے درشن“ منظر عام پر آئی۔ یہ اُن کی ایسی سحر انگیز داستانِ عشق ہے جس کا قاری اس کے سحر کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ ان کے یونیورسٹی میں اپنی ہم جماعت کو لکھے ہوئے عشقیہ خطوط کا مجموعہ ہے۔ یہ پنجاب یونیورسٹی کے مہکتے دبستان میں محبت کی آنچ پر پگھلتے جذبات کی حقیقی روداد ہے۔ یہ متوسط طبقے کے غریب طالب علم کی ایک امیر اور انتہائی با اثر خاندان سے تعلق رکھنے والی دوشیزہ کی محبت کی کہانی ہے۔ راجہ صاحب کے ہم جماعت دوست ملک نے دوران گفتگو بتایا کہ اس کتاب کی اشاعت روکنے کے لیے ان کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ چونکہ جس خاتون کے نام یہ خطوط تھے وہ ایک بہت بڑے افسر کی بیٹی تھیں۔ مسودہ چوری کرنے کی غرض سے اُنھوں نے راجہ صاحب کے ڈیرے پر چھاپا مارا لیکن مخبر نے راجہ صاحب کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔ کتاب کی اشاعت تو نہ رک سکی البتہ اُن کی ہم جماعت کا نام کتاب میں تبدیل کر دیا گیا۔ پچھلے سال بک کارنر جہلم پر اس کتاب کی خصوصی اشاعت کے لیے ایک میٹنگ میں راجہ صاحب نے بتایا کہ کلاسیک پبلشر نے کہا ہے۔
راجہ صاحب! اس جیسی ایک کتاب آپ لکھ دیں توہم یہ کتاب خود چھاپ دیں گے۔ راجہ انور نے انھیں کہا ”آپ مجھے یونیورسٹی میں 1972 / 73 کا سا ماحول دوبارہ مہیا کر دیں، میں ویسی ہی کتاب دوبارہ لکھ دوں گا۔“ اس پر پبلشر نے ہنس کر سر جھکا لیا۔ یونیورسٹی کا کوئی طالب علم ایسا نہیں ہے جس نے اپنی جوانی میں یہ کتاب نہ پڑھی ہو۔ اردو ادب میں اسے اب کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔
بھٹو کے دور میں انھوں نے چین اور جنوبی کوریا کا دورہ کیا۔ چین پاکستان کا دوست ملک ہے۔ ہر دور حکومت میں چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔ انھوں نے ”ہمالہ کے اس پار“ کے نام سے اپنی یادداشتیں تحریر کیں۔ عوامی جمہوریہ چین اور جنوبی کوریا کے بارے میں اپنے تاثرات اور سفر نامے کو اُنھوں نے بڑے خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے۔ یہ کتاب 1978 ء میں کلاسیک پبلشرز نے چھاپی تھی۔ اس کا کتاب کا انتساب ”جیل کی تنہائیوں میں مقید بھٹو کے نام“ تھا۔
افغانستان میں قیام کے دوران انھوں نے روس کی افغانستان پر چڑھائی اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال کا بڑے قریب سے مشاہدہ کیا تھا۔ انھوں نے روس کے افغانستان پر حملہ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بحران کو بڑے قریب سے دیکھا تھا اور افغان لیڈروں کی ناکامیوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ ان سب کو بنیاد بنا کر انھوں نے کتاب لکھی ”افغانستان کا المیہ“ ۔ اس کتاب کو ان کے دیرینہ دوست اور ممتاز صحافی خالد حسن نے (Tragdey of Afghanistan) کے نام سے اردو سے انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ اس کتاب کا پیش لفظ فریڈ ہیلی ڈے (Fred Halliday) نے لکھا تھا۔ اتنی محنت اور کمال کا ترجمہ ہے جس پر حقیقی کتاب ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ یہ کتاب افغانی حکمرانوں تراکئی اور امین کے زوال اور سویت یونین کے حملے کا باعث بننے والی سازش پر ایک مکمل دستاویز ہے۔ 1979 ء میں یہ کتاب برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ دوسرے کئی ممالک میں شائع ہوئی۔
راجہ انور کا 1980 ء سے 1983 ء تک کا عرصہ افغانستان میں کابل کی بدنامِ زمانہ جیل پل چرخی میں گزارا۔ اُنھوں نے میر مرتضیٰ بھٹو سے مل کر الذوالفقار تنظیم کی بنیاد رکھی تھی۔ میر مرتضیٰ بھٹو سے انتظامی امور، مسلح اور پر تشدد جد و جہد پر اختلاف کی بنیاد پر آپ نے الذوالفقار تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لی۔ پل چرخی جیل میں اسیری کے ایام میں انھوں نے میر مرتضیٰ بھٹو کی زندگی پر کتاب لکھی ”دہشت گرد شہزادہ“ ۔ اس کتاب کا بھی خالد حسن نے انگریزی میں (The Terrorist Prince۔ The Life and death of Murtaza Bhutto) کے نام سے ترجمہ کیا۔ 1997 ء میں یہ کتاب ورسو پبلشرز نے لندن اور نیویارک سے شائع کیا۔ شنید ہے کہ یہ دونوں کتابیں برطانیہ کی دو معروف یونیورسٹیوں آکسفورڈ اور کیمبرج کے نصاب میں شامل ہیں۔ حال ہی میں اس کتاب کا اردو ترجمہ ”دہشت گرد شہزادہ“ کے نام سے بک کارنر جہلم نے شائع کیا ہے۔
اپنے ملک سے جلاوطن ہونے اور دیارِ غیر افغانستان کی قبر نما کال کوٹھڑی پل چرخی جیل میں کاٹی گئی اسیری کی روداد انھوں نے ”قبر کی آغوش“ کے نام سے لکھی۔ ان کا انداز بیان ایسا ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے قاری کے دل میں بیک وقت ہنسی اور غم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ افغانستان کی خوفناک جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ برتے جانے والے انسانیت سوز سلوک اور ان کو درپیش مسائل کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ ان کی چند سال پہلے شائع ہونے کتاب ”بن باس“ اُن کے پاکستان سے جبری ترکِ وطن، جلاوطنی میں مختلف ملکوں میں زندگی گزارنے کی جد و جہد اور زمانے کی تلخیوں پر مبنی ہے۔
ان کی تصنیف ”باز گشت“ 2021 ء میں شائع ہوئی۔ 1996 ء کے بعد انھوں نے پاکستان کے مختلف اخباروں میں بازگشت کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کیے تھے۔ ان کے کالم متنوع موضوعات پر ہیں۔ وہ حالات و واقعات کا گہری نظر سے تجزیہ کر کے سچائی ہمارے سامنے لاتے ہیں۔ معاشرے میں پھیلی معاشرتی برائیوں کو اپنے قلم کے نشتر سے قرطاس ابیض پر بکھیرتے ہوئے ان برائیوں کو دور کرنے کا ممکنہ حل بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے ایک پرستار راجہ ذوالفقار احمد نے یہ کالم یکجا کیے اور انھیں ترتیب دے کر 2021 ء میں بدلتی دنیا پبلشرز اسلام آباد سے شائع کیا۔ اس کتاب کی تقریب رونمائی پچھلے سال برمنگھم میں منعقد ہوئی تھی۔ برطانیہ میں مقیم راجہ صاحب کے بہت سے پرانے ساتھی بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔ راقم بھی اس تقریب میں شریک تھا۔ چند ماہ پہلے ان کے منتخب کالموں پر مبنی کتاب ماضی کا حمام بک کارنر سے شائع ہوئی ہے۔ راجہ انور آج کل اپنی قیادت میں 1968 ء میں ایوب خان کی حکومت کے خلاف چلائی گئی طلباء کی تحریک کی یادداشتوں پر مبنی ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ یہ کتاب طباعت کے مراحل میں ہے جسے بک کارنر جہلم والے چھاپ رہے ہیں۔


