عورت کی کئی شناختیں : ایک نفسیاتی اور سماجی الجھن کا تجزیہ


عورت کو زندگی میں بیک وقت کئی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ اس کی زندگی محض ایک کردار تک محدود نہیں رہتی؛ وہ بیک وقت ماں، بیوی، بیٹی، پروفیشنل، طالبہ، دوست، اور بعض اوقات ان سب کرداروں کا امتزاج بھی ہوتی ہے۔ یہ شناختیں اگرچہ ظاہری طور پر مضبوط اور مکمل ہونے کا احساس دیتی ہیں، لیکن ان کے باطن میں ایک مسلسل کشمکش، بوجھ اور تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ ایک ایسا ذہنی دباؤ جو معاشرتی توقعات، جذباتی تقاضوں، اور ذاتی خواہشات کے درمیان عورت کو پیس کر رکھ دیتا ہے۔

نفسیات کے ماہرین کے مطابق، انسانی شخصیت جب مختلف تقاضوں کا بوجھ اٹھاتی ہے اور ہر سمت سے مختلف ردعمل کا سامنا کرتی ہے، تو اس میں شناخت کا بحران (Identity Crisis) پیدا ہو جاتا ہے۔ ایرک ایرکسن  کے مطابق، شناخت کی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے، اور اگر یہ تعمیر خارجی دباؤ یا اندرونی تضاد کا شکار ہو جائے تو فرد الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔ عورت کے لیے یہ عمل مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ صرف اپنی شناخت نہیں بناتی بلکہ اُسے دیگر رشتوں کی متعین کردہ تعریفوں میں بھی خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔

ماں کی حیثیت سے عورت کو بے پناہ ایثار، قربانی اور شفقت کا پیکر سمجھا جاتا ہے۔ اسے اپنی ذات کو دوسرے کے لیے مٹا دینا سکھایا جاتا ہے۔ بیوی کے طور پر اس پر وفاداری، فرمانبرداری، اور شوہر کے جذبات کی ترجمانی کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔ بیٹی کے طور پر وہ والدین کی عزت، روایات اور خاندان کی توقیر کی محافظ سمجھی جاتی ہے۔ اور جب وہ پروفیشنل بنتی ہے، تو اس پر خودمختاری، عقل مندی، کارکردگی اور پیشہ ورانہ شناخت کی توقع کی جاتی ہے۔ یہ تمام کردار بظاہر مکمل اور اہم ہیں، مگر ان میں سے ہر کردار ایک عورت کی ذات سے ایک حصہ کاٹ لیتا ہے، یہاں تک کہ وہ کسی ایک مکمل خودی تک نہیں پہنچ پاتی۔ کچھ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں :

کیس اسٹڈی 1 :

ندا ایک 35 سالہ شادی شدہ خاتون ہے، دو بچوں کی ماں ہے اور ایک نجی اسکول میں پرنسپل کے طور پر کام کر رہی ہے۔ دن کے بیشتر حصے میں وہ اپنے ادارے کی ذمہ داریوں کو سنبھالتی ہے، شام میں بچوں کے ہوم ورک اور کھانے پکانے کی فکر کرتی ہے، اور رات کو شوہر کی توجہ کے لیے خود کو جذباتی طور پر پیش کرتی ہے۔ اسے کئی بار بے چینی، سر درد، بے نیند راتوں، اور ”احساسِ ناکامی“ کا سامنا رہا۔ جب اس نے سائیکو تھراپی شروع کی، تو پتہ چلا کہ وہ Burnout Syndrome کا شکار ہے۔ ایک حالت جو مسلسل جذباتی اور جسمانی تھکن سے پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو دوسروں کے لیے مسلسل خدمات انجام دیتے ہیں مگر خود کو وقت نہیں دے پاتے۔

کیس اسٹڈی 2 :

عالیہ ایک 28 سالہ سنگل خاتون ہے، جو ایک کارپوریٹ کمپنی میں کام کرتی ہے۔ اس کی پروفیشنل کامیابی قابلِ ستائش ہے، مگر والدین مسلسل اس پر شادی کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔ اسے ”عورت کے مکمل ہونے“ کا تصور صرف شادی میں دکھایا جاتا ہے۔ وہ کئی بار سوچتی ہے کہ کیا اپنی آزادی قربان کرے یا اپنے خواب؟ یہ کشمکش اسے Cognitive Dissonance کا شکار بناتی ہے یعنی جب دو مخالف اعتقادات یا فیصلے دماغ میں ٹکرا رہے ہوں تو ذہنی بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔

اکثر گھروں میں میاں بیوی اگر ڈاکٹر، بینکر یا ایسی ملازمت سے منسلک ہیں، جو نو سے پانچ بجے تک دورانیے کی ہے تو ایسی صورتحال میں عورت ہی کھانا پکانے سے لیکر، بچوں و ساس اور سسر کی تیمارداری تک ذمے دار ہوتی ہے۔ یعنی تعلیم یافتہ افراد میں بھی مرد کا کردار تبدیل نہیں ہوا لہذا وہ اور بیوی آفس سے واپس آئیں گے تو بیوی کچن میں داخل ہو جائے گی، میاں آرام فرمائیں گے۔ خاتون شام میں بچوں کو ہوم ورک کروائے گی اور رات میں اگلے دن کی تیاری کر کے سوئے گی۔

عورت کی نفسیاتی شناخت کو سمجھنے کے لیے نفسیاتی اصطلاحات اور ماڈلز مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جس میں ”Self۔ Objectification“ کا تصور شامل ہے، جو واضح کرتا ہے کہ عورت اپنے وجود کو دوسروں کی نظروں سے دیکھنے لگتی ہے، وہ خود کو ماں، بیوی یا بیٹی کے سماجی کرداروں کے پیمانوں پر پرکھتی ہے، بجائے اس کے کہ اپنے باطنی جذبات اور خواہشات کو اہمیت دے۔ اس کے ساتھ ”Role Strain Theory ”یہ وضاحت کرتی ہے کہ جب عورت کو بیک وقت مختلف اور بعض اوقات متضاد سماجی کردار نبھانے پڑتے ہیں، جیسے ماں، بیوی، اور پروفیشنل، تو یہ تقاضے آپس میں ٹکرا جاتے ہیں اور عورت شدید ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے میں“ Schema Therapy ”کی تھیوری ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ بچپن کے تجربات سے بننے والے ذہنی نقشے مثلاً یہ احساس کہ“ میری ضروریات اہم نہیں ”یا“ مجھے دوسروں کو خوش رکھنا ہے ”، بالغ عمر میں عورت کو شناختی تضادات اور ذہنی الجھن میں مبتلا کر دیتے ہیں، خاص طور پر جب وہ ہر کردار کو خوش اسلوبی سے نبھانے کی کوشش کرتی ہے۔ ان تمام نفسیاتی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور سلجھانے میں“ Feminist Therapy ”مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جو ایک با اختیار بنانے والا ماڈل فراہم کرتی ہے، جس کے ذریعے عورت کو اپنے سماجی اور ذاتی تجربات کو ایک فعال حیثیت سے سمجھنے، اپنی آواز بلند کرنے اور خود کو Victim کے بجائے ایک متحرک شخصیت ماننے کا شعور دیتی ہے۔ یوں یہ تمام نظریات اس پیچیدہ نظام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، جس میں عورت کی مختلف شناختیں اس کی ذہنی صحت اور خودی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عورت ان تمام کرداروں میں اپنی اصل ذات کھو بیٹھتی ہے؟ یا پھر وہ ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی آزادی رکھتی ہے؟ یہ سوال صرف فلسفیانہ یا نظریاتی نہیں بلکہ وجودی (existential) نوعیت کا ہے۔ جب ایک عورت مسلسل ان شناختوں کے درمیان بھٹکتی ہے، تو وہ ایک ایسی خاموش کشمکش میں مبتلا ہو جاتی ہے، جس کا کوئی نام نہیں ہوتا، مگر اس کے اثرات اس کی نیند، فیصلوں، جذبات، رشتوں اور حتیٰ کہ جسمانی صحت پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

مثلاً ایک پروفیشنل عورت جو دفتر میں کامیاب ہے، اپنی ماں یا بیوی کی حیثیت سے خود کو ناکام تصور کرتی ہے۔ معاشرہ اسے یہ باور کراتا ہے کہ ماں کا اصل فریضہ گھر سنبھالنا ہے، اور اگر وہ دفتر کے کام میں مشغول ہے تو وہ ”اچھی ماں“ نہیں۔ یہی دباؤ اس کی خود اعتمادی کو مجروح کرتا ہے۔ اسی طرح ایک بیوی جو شوہر کی خدمت گزار ہے، اگر اپنی رائے دینے کی جرات کرتی ہے تو اسے ”بدزبان“ یا ”بدتمیز“ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یہ تمام رویے دراصل عورت کی خودی (Self) کو تقسیم کر دیتے ہیں۔ یونگ (Carl Jung) کے مطابق، جب خودی کے مختلف پہلو ایک دوسرے کے ساتھ تضاد میں آ جائیں اور ان کے درمیان کوئی مصالحت نہ ہو، تو انسان میں بے چینی، عدم توازن، اور گہری تھکن پیدا ہوتی ہے۔ عورت بھی اسی نفسیاتی عمل سے گزرتی ہے، مگر اس کے لیے اس عمل کا شعور حاصل کرنا بھی آسان نہیں، کیونکہ اسے بچپن سے سکھایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرے۔

اردو ادب میں ہمیں ایسے کئی نسوانی کردار ملتے ہیں جنہوں نے ان شناختی الجھنوں کا سامنا کیا۔ عصمت چغتائی کی کہانیاں، قرۃ العین حیدر کے ناولز، اور کشور ناہید کی نظمیں عورت کے ان باطنی تنازعات کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ عصمت کی کہانی ”لحاف“ میں عورت کی اندرونی خواہشات کا وہ پہلو نظر آتا ہے جو کسی بھی کردار کے خانے میں نہیں آتا۔ وہ نہ ماں ہے، نہ بیوی، نہ بیٹی، بلکہ ایک ایسا وجود ہے جو محض اپنی جسمانی اور روحانی تنہائی کا حل چاہتا ہے۔

جدید فلموں میں بھی یہ الجھن دیکھی جا سکتی ہے، جیسے کہ فلم ”English Vinglish“ میں ششی کے کردار کو لیا جائے، جو بیوی اور ماں کی حیثیت سے اپنے گھر میں کمتر سمجھی جاتی ہے، لیکن جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرتی ہے اور خود پر بھروسا کرنا سیکھتی ہے، تو اس کی اصل شناخت ابھرتی ہے۔ اس فلم میں دکھایا گیا ہے کہ عورت صرف اس وقت مکمل محسوس کرتی ہے جب وہ اپنی ذات کے مختلف پہلوؤں کو قبول کرتی ہے، اور اپنے لیے جینا سیکھتی ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ عورت کی ان شناختوں کے درمیان الجھن صرف اس کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ کیونکہ جب ایک فرد اندر سے ٹوٹا ہوا ہو، تو وہ معاشرے میں بھی صحت مند کردار ادا نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی ذہنی صحت ایک اہم موضوع بنتا جا رہا ہے۔ جدید نفسیات اب اس بات پر زور دیتی ہے کہ عورت کو اپنی شناخت کی تلاش میں سپورٹ کیا جائے۔ اسے یہ شعور دیا جائے کہ وہ ہر کردار میں اپنا وجود الگ اور مکمل رکھ سکتی ہے۔

جب ہم بات کرتے ہیں طریقہ علاج کی تو مختلف تھراپیز اور خاص طور پر فیمینسٹ تھراپی، عورت کو یہ سکھاتی ہے کہ وہ سماجی سانچوں سے آزاد ہو کر اپنی حقیقت کو پہچانے۔ اس عمل میں سب سے پہلا قدم خود آگہی (self awareness) ہے۔ جب عورت یہ جانتی ہے کہ اس پر جو بوجھ ہے وہ اس کا اپنا پیدا کردہ نہیں بلکہ صدیوں پرانے معاشرتی نظام کا نتیجہ ہے، تو وہ اسے ہلکا محسوس کرنے لگتی ہے۔ دوسرا قدم خود اختیاری (self assertion) ہے، یعنی وہ اپنی حدیں مقرر کرے، اور دوسروں کو بتائے کہ وہ کس دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہتی ہے۔

اس عمل کے دوران کئی بار وہ خود بھی اپنے اندرونی تضادات کا سامنا کرتی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات وہی روایات جو اس پر مسلط کی گئیں، اس کی پہچان کا حصہ بھی بن چکی ہوتی ہیں۔ جیسے ایک ماں جو بچپن سے سیکھتی آئی ہے کہ قربانی دینا محبت ہے، وہ جب اپنی ذات کے لیے کچھ کرنا چاہے تو خود کو مجرم محسوس کرتی ہے۔ یہ احساسِ جرم (guilt) ہی وہ دیوار ہے جو عورت کے اندر موجود خودی کی تعمیر کو روک دیتی ہے۔

عورت کی آزادی صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کام کرے، تعلیم حاصل کرے یا لباس کا انتخاب کرے ؛ بلکہ اصل آزادی یہ ہے کہ وہ ان تمام کرداروں میں اپنی مرکزیت کو برقرار رکھے۔ وہ ماں ہو مگر اپنی ذات کو نہ بھولے۔ وہ بیوی ہو مگر اپنی سوچ پر سمجھوتہ نہ کرے۔ وہ بیٹی ہو مگر بوجھ نہ بنے۔ وہ پروفیشنل ہو مگر گھر کو اپنی کمزوری نہ سمجھے۔ ان تمام سطحوں پر وہ خود کو محسوس کرے، جانے اور تسلیم کرے۔

آخر میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ عورت کا سفر شناخت کی تلاش سے خودی کی تکمیل تک ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل کبھی آسان نہیں ہوتا، مگر اس کا اطلاق ضروری ہے۔ کیونکہ اگر عورت خود کو نہ پہچانے گی تو وہ ان رشتوں کو بھی نبھا نہیں پائے گی جن کے لئے وہ زندگی وقف کر دیتی ہے، اور جب وہ خود مکمل ہو گی، تو تبھی اس کے رشتے بھی مکمل ہو پائیں گے، کیونکہ ایک متوازن انسان ہی ایک معتدل معاشرہ تخلیق کرتا ہے۔

Facebook Comments HS