ایرانی یوتھ اور زن زندگی آزادی بزبان نیتن یاہو


2003 میں ڈنکی ( غیر قانونی طور پر بارڈر کراسنگ) لگا کر میں ایران گیا تھا اور تقریباً ڈیڑھ دو ماہ وہاں قیام کیا تھا۔ تب بھی وہاں مجھے اس قدر سخت گیری یا مذہبی آمریت نظر نہیں آئی تھی جس قدر دنیا میں اس کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ رقص و سرود، محافلِ عیش و نشاط، برانڈڈ مشروب مغرب، ٹن پیک، 200 ایم ایل کے ساشے پیک، بوتلوں کی شکل میں اور دیسی مشروب بیسیوں مختلف اقسام میں عام دستیاب ہو جاتا تھا۔ ہاں یہ سب کچھ درونِ پردہ اور درونِ خانہ ہوتا تھا۔

تریاق نوشی عام تھی، تریاق نوشی سے یہاں مراد افیون پر باریک سرخ گرم سلاخ پھیر کر کاغذ کے پائپ سے منہ کے ذریعے دھواں کھینچنا ہے۔

قانونی طور پر تریاق فروشی کی سزا سخت ترین، سمجھئے سزائے موت مگر ہر گھر میں پی جاتی تھی اور اب بھی کھلے عام پی جاتی ہے۔

خواتین کے لئے حجاب کی کافی سختی تھی مگر لباس وہی چست جینز شرٹ ہی تھا جو نجی محفلوں میں ٹی شرٹ اور منی سکرٹ بھی ہوتا تھا

2014 سے 2019 کے اواخر تک میری دسیوں مرتبہ آمد و رفت اور قیام رہا۔ ایران کا کون سا شہر ہے جہاں میں نہیں گیا۔

چند ایک باقی تھے جہاں اس مرتبہ خصوصی طور پر فقط انہیں ایکسپلور کرنے گیا۔ اس کے باوجود دو چار شہر گھومنا ابھی باقی ہیں۔

300 سے زائد بلا تخصیص مرد و زن لوگوں کے ایک لحاظ سے انٹرویوز کیے، سوالات کیے، مکالمے کیے، جن میں ایک عام دکاندار، ٹیکسی، بس ڈرائیور، ہمراہی مسافر، کمپنی مینیجر، بینک مینیجر، کاروباری افراد، اساتذہ، وکیل، ڈاکٹر الغرض ہر طبقہ فکر کے پڑھے لکھے لوگ شامل تھے۔

ایران میں 2019 تک بھی میری ناقص فہم کے مطابق الحاد / لا دینیت بہت تیزی سے پھیل رہی تھی مگر اب کی بار تو میں جس قدر بھی محتاط اندازہ لگا لوں تو مجھے ملنے والے 70 فیصد لوگوں نے برملا اپنے لا دین/ ملحد ہونے کا اقرار کیا۔

جبکہ ان 70 فیصد افراد کے 40 فیصد نے کہا کہ ہم نے اگر کوئی دین ماننا ہی ہے تو وہ ہمارا سابقہ تاریخی اور ثقافتی دین زرتشتیت ہو گا۔

قارئینِ کرام! مذہب پرست ایرانیوں کے جملہ رسوم و رواج، تہذیب و ثقافت، تمدن و معاشرت پر روز اول سے ہی زرتشتیت کی واضح چھاپ نظر آتی تھی اور ہے۔ ان کی شادی، خوشی، غمی ہمہ قسم محافل میں زرتشتیت کے رسوم و رواج شامل ہوتے ہیں بخوف طوالت تحریر، جن کی تفصیل پھر کبھی سہی۔

ایران کی خفیہ انٹیلی جنس کے بیسیوں نہیں، سیکڑوں محکمے ہیں۔
ادارہ ”اطلاعات“ کا نام ہی ایران میں مجھ سمیت ہر غیر ملکی و ایرانیوں کے لئے خوف کی علامت ہے۔

ایرانی آپس میں بھی بات کرنے سے ڈرتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ ایران کا ہر تیسرا فرد اطلاعات کا آدمی ہے۔

ہمارے کئی پاکستانی دوستوں کو فقط شک کی بنیاد پر اطلاعات والوں نے اٹھا لیا تھا۔

ایک نوجوان کو مصوری کا شوق تھا اور وہ ایک پارک میں بیٹھا سامنے والی عمارات کا پینسل سکیچ بنا رہا تھا۔ اطلاعات والے لے گئے اور 15 دن کی تفتیش کے بعد پاکستان ڈی پورٹ کر دیا۔

میں ایران کے شمالی صوبہ گرگان میں قیام پذیر تھا۔ یکے بعد دیگرے میرے دو سیلز مین اطلاعات والوں نے اٹھائے، ایک 58 سالہ بزرگ کو تو انہوں نے پانچ دن واقعتاً ننگا کر کے تفتیش کے بعد ڈی پورٹ کر دیا۔ وہ یہاں ملتان میں اب بھی موجود ہیں۔

دوسرے 32 سالہ نوجوان کی تو تین ماہ تک کچھ خبر ہی نہیں ملی جسے بالآخر انہوں نے چار ماہ بعد ڈی پورٹ کیا۔

ایران کی انٹیلی جنس کو ایران میں غیر قانونی طور پر مقیم ہزاروں پاکستانیوں کے لمحے لمحے کی خبر ہوتی ہے۔ گرفت فقط مشکوک سرگرمی پر ہوتی ہے۔

میں ایران میں اپنے زیرِ تحریر سفرنامے ”مشاہدات ایران“ کی تکمیل اور اپنے نئے یوٹیوب چینل کے لئے وڈیوز بنانے گیا۔

بہت سے یو ٹیوبر ایران جا کر وڈیوز بناتے ہیں مگر میں انتہائی ڈر اور خوف کی حالت میں وڈیوز بنا رہا تھا۔ وجہ میرا کانٹینٹ تھا جس میں میرے سوالات حساس نوعیت کے ہوتے تھے۔ یقین کیجئے صریحاً حماقت تھی یہ میری۔

ثانیاً صحافی یا اخبار نویس کو ان کے خفیہ والے ایسے جھپٹتے ہیں جیسے وہ حتما ”جاسوس ہو۔ اگر مجھے وہ ویسے ہی پکڑ لیتے جیسے بہت سے دیگر یو ٹیوبرز کو پکڑتے ہیں تو سب سے پہلے اس کا موبائل سکین کرتے ہیں۔ ذرا سا شک گزرنے پر وہ تفتیش کا دورانیہ بڑھا دیتے ہیں۔ میرے ایران کی بابت شائع شدہ آرٹیکلز سے وہ صرف ایران مخالف ایک نکتہ بھی اٹھا لیتے تو بس خیر نہ ہوتی اور میں اس قسم کے حساس اور احمقانہ سوالات پر مبنی سیکڑوں وڈیوز بنا لایا ہوں۔

آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اطلاعات کی نظر سے بچ بچا کر نکل آیا ہوں؟

یقین کیجئے بڑ نہیں ہانک رہا وہ ہر موڑ، ہر شہر میں مجھ سے ٹکراتے رہے، گپ شپ ہوتی رہی اور ان کے پاس میرے گزشتہ اسفار کی جملہ معلومات موجود تھیں۔ انہیں لگا کہ یہ بے ضرر، بے وقوف اور مزدور قسم کا آدمی ہے لہٰذا انہوں نے مجھے جانے دیا اور یقین کیجئے حقیقت بھی یہی ہے۔

اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب کی خفیہ سروس تو الامان و الحفیظ قسم کی ہے۔ اس کی بابت بھی یہی معروف ہے کہ ہر تیسرا بندہ پاسدار ہو سکتا ہے۔

ارتش فوج کی علیحدہ انٹیلی جنس ہے جو فوج کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سے اداروں اور معاملات پر نظر رکھتی ہے۔

سائبر انٹیلی جنس بھی فعال ترین اور سریع الحرکت ادارہ ہے

سب سے اہم ”سرباز خدمت“ ہے۔ ہر ایرانی نوجوان پر ریاستی سہولتوں کے حصول کے لئے دو سالہ لازمی فوجی خدمت ”سروس“ اعزازئیے کے عوض لازم ہے۔ ان دو سالوں میں اسے پورا جاسوس بنا دیا جاتا ہے۔ یعنی ایران کا ہر تیسرا چوتھا مرد لازمی دو سالہ فوجی سروس کر چکا ہوتا ہے۔

ایسے میں ایران کی جس انٹیلی جنس فیلئیر کا آج کل غلغلہ بپا ہے میری ناقص فہم سے یہ بات بوجوہ بالا تر ہے۔

ایران گزشتہ 45 سال سے پوری دنیا کی طرف سے پابندی کا شکار ہے۔ اس کے ادارے، نظامِ تعلیم، صحت، قانون، عدلیہ، سپاہ، انفراسٹرکچر، صفائی کا نظام، سوشل سیکیورٹی یورپ اور سکنڈے نیوین ممالک سے کسی طور کم نہیں ہے بلکہ بعض ممالک سے تو بہتر بھی ہے۔

2025 کے اس دورے میں ایران میں شاہراہ چالوس کی طویل ٹریفک جام میں نیکر شرٹ، منی سکرٹ میں ملبوس جوان لڑکیاں ہلہ گلہ کرتی، چیختی چلاتی بچشمِ خود دیکھی ہیں۔

منی سکرٹ میں ملبوس لڑکیوں کی تو ایک آدھ وڈیو بھی بنا لایا ہوں۔ شراب یہاں کریانے کی دکانوں پر بھی عام دستیاب ہے اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ایران میں کون وہ فرد ہے جو شراب نہیں پیتا؟

خواتین سر عام شیشہ، حقہ اور سگریٹ پیتی ہیں

سیکڑوں کلومیٹر پر محیط ساحل سمندر، پارکس اور دیگر تفریحی مقامات پر گروہ در گروہ مشروب نوشی کے بعد مخلوط رقص میں بارہا میں خود شامل رہا ہوں۔

اب بھی گرمیاں ہیں اور ایران کا وسیع و عریض شمال فی الوقت جنگ سے محفوظ ہے۔
جائیے اور بچشمِ خود ملاحظہ کیجئے کہ کون سی آزادی انہیں حاصل کرنی باقی ہے؟
آپ وہاں ڈیڑھ لاکھ روپے میں پندرہ بیس دن بہ آسانی گزار سکتے ہیں۔

ایک کلو وزن کی ایک روٹی جو تین افراد کو ایک وقت کے لئے کافی ہے، ریاست فقط تندور کے بجلی خرچ کی مد میں صرف 7 روپے پاکستانی میں فراہم کر رہی ہے روٹی مفت ہے۔ بجلی کا بل مفت برابر، گیس کا بل مفت برابر، پٹرول 9 روپے لیٹر، گیس 3 روپے کلو، میٹرو بلٹ ٹرین ٹکٹ صرف 15 روپے میں، کھانے، پینے، پہننے اور دیگر اشیائے ضروریہ کو ریاست نے سبسڈائز کر کے تقریباً مفت کر دیا ہے۔

تعلیمی وظائف بے تحاشا، میٹرک تک تعلیم مفت بلکہ گورنمنٹ کتابیں، یونیفارم، کھانا اور پیسے بھی دیتی ہے۔

بیروزگاری الاؤنس، بیوگان الاؤنس، شادی الاؤنس، یہاں ہزاروں مستحقین کی شادیاں گورنمنٹ کرواتی ہے۔

”ادارہ کمیتہ امداد“ ( امدادی کمیٹی ) گوگل پر لکھ کر سرچ کر لیں اور ٹرانسلیٹر سے ترجمہ کروا کہ دیکھیں کہ یہ ریاستی ادارہ کسی کو بھوکا مرنے دے سکتا ہے؟

اگر ایران کی بابت مثبت امور مفصل لکھنے بیٹھوں تو کم از کم بھی ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

مجھے تو ایران میں کہیں بھی قطعاً کوئی مذہبی و آمرانہ جبر نظر نہیں آیا۔ ہاں کچھ مذہبی شہروں میں حجاب کے معاملے میں کچھ سختی ہے مثلاً مشہد اور قم یا دیگر شہروں کے مقاماتِ مقدسہ کے فقط ارد گرد، وگرنہ تھوڑا سا باہر نکلیں تو آزادی ہی آزادی ہے۔

غربت کس ملک میں نہیں ہے؟ ایران میں بھی ہے مگر اس کا کلی دوش ریاست کو دینا سراسر زیادتی ہے۔ ریاست کی بے شمار غلطیاں مثلاً روز اول سے ہی اپنے انقلاب کو برآمد کرنے، بہت سے ممالک میں اپنی پراکسیاں کھول دینے پر اپنے بے تحاشا وسائل و توانائیاں خرچ کرنا تسلیم ہیں۔ حماقتوں کی ایک طویل داستان ہے مگر بتدریج ریاست کو بھی احساس ہونا شروع ہو گیا کہ وہ اپنی عوام سے زیادتی کی مرتکب رہی ہے تو بتدریج ہی انہوں نے مذہبی جبر کم بلکہ اب تو نہ ہونے کے برابر کم کر دیا ہے اس سے کم اب ایرانیوں کی خواہشات کے مطابق کھلی برہنگی کی آزادی ملنا باقی ہے۔

شہریوں کو سوشل سیکیورٹی شاید دنیا کے تمام ممالک سے زیادہ حاصل ہے۔

مجھ سے سوال پوچھا گیا کہ ایران میں مذہبی جبر کے باعث الحاد پھیلا ہے؟

میں اس کا جواب نفی میں دیتا ہوں اور انہیں اس سوال کے جواب میں دعوتِ فکر دیتا ہوں کہ پاکستان میں الحاد کے پھیلاؤ کے اسباب کیا ہیں؟ یہاں کون سا مذہبی جبر ہے؟

دوسرے زاوئیے سے بات کو سمجھئے کہ مذہبی جبر پاکستان میں ایران کی نسبت بہت زیادہ ہے جبکہ ایران کی نسبت یہاں الحاد کا پھیلاؤ کم ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ ایران میں اب کوئی مذہبی جبر باقی نہیں ہے، جو باقی ہے وہ ایران کے بطور مذہبی ریاست کے تشخص و تقدس کو برقرار رکھنے کے لئے لازمی ہے کیونکہ ایران مذہبی مقدسات، مقامات کی مذہبی زیارت و سیاحت سے سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ کماتا ہے۔

تحریر میں، میں نے 300 سے زائد افراد کے ساتھ مکالمہ، گفتگو یا انٹرویوز کا ذکر کیا جو ایران کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں مختلف الخیال لوگ شامل تھے مگر سب ایک نکتے پر متفق تھے کہ خمینی مرحوم، انقلاب اور خامنہ ای پر مرگ بھیج رہے تھے اور حقیقی آزادی چاہتے تھے۔

ان تین سو لوگوں کے علاوہ ان پانچ چھ سالوں میں ہزاروں لوگوں نے کھلم کھلا کہا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ہم اندرونی طور پر بغاوت کر دیں گے۔ اس مرتبہ کے سفر میں تو میں از حد حیران ہوا کہ ان کی تعداد بہت ہی بڑھ چکی ہے۔ یہ ایرانی یوتھ ہیں جو دلیل و برہان سے محروم ہیں غلامی سے نجات اور حقیقی آزادی کے متمنی ہیں۔ غلیظ گالم گلوچ، بدتمیزی، الزام تراشی، انتشار پسندی ان کے وصف تھے۔

ان کے چہروں پر نفرت تھی اور وہ جلد ملنے والی آزادی کی بابت بہت پر امید تھے۔

26 اپریل کو میں بندر عباس میں موجود تھا جب اس کے ایک پورٹ شہید رجائی پر میزائل سازی کے لئے کیمیکل سے بھرے کنٹینر دھماکے سے اڑ گئے سیکڑوں ہلاکتیں ہوئیں۔

بندر عباس اور چابہار میں ہزاروں انڈین لوگ رہتے ہیں، دیگر قومیتوں کے لوگ بھی ہیں مگر انڈینز باقی غیر ملکیوں سے زیادہ ہیں۔ میں چابہار میں بھی رہا ہوں اور بندر عباس میں بھی، لوگوں سے گپ شپ اور ان کے خیالات جاننے کے بعد کڑیاں بناتا جا رہا تھا کہ کیا ہو سکتا ہے، کیا ہونے والا ہے، اور کیا ہو گا؟

دھماکہ ہوا، تفصیل بندر عباس سے چابہار کی طرف فوری سفر کے دوران آئی کہ میزائلوں میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے کنٹینر پھٹے ہیں۔ یقین کیجئے کہ فوراً ذہن ایرانی یوتھ اور انڈینز کے گٹھ جوڑ اور سازش کی طرف گیا۔ میرے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس بابت پوسٹ موجود ہے میرے بندر عباس کو فوری چھوڑنے کی وجہ میری لوگوں سے معلومات کے حصول کے لئے حساس نوعیت کی گفتگو تھی بعینہٖ اس وقت جب اتنا بڑا سانحہ ہوا۔

تازہ ترین بات یہ کہ اسرائیل نے اپنے ڈرون تہران کے اندر تک پہنچا دیے تھے جو ایرانی یوتھ، انڈینز اور اسرائیلی موساد کے گٹھ جوڑ کے بغیر ممکن نہیں ہوا۔

انڈینز کو عام ایرانی مرد و زن ان کی فلم انڈسٹری سے انتہا درجے کی محبت کی وجہ سے بھگوان کا درجہ دیتے آئے ہیں اور انہی انڈینز نے اپنے اسرائیلی دوستوں اور ایرانی یوتھ کے درمیان دلال کا کردار ادا کیا ہے۔

ایران بھر میں انڈینز اچھے عہدوں پر، ڈاکٹرز، انجینئرز اور کاروباری ہیں جبکہ 98 فیصد پاکستانی وہاں مزدور طبقے سے متعلق ہیں۔ انڈینز کے اسرائیل سے بہت ہی اچھے تعلقات ہیں لہٰذا انڈین لوگوں کو جاسوسی نیٹ ورک کے دائرے سے باہر سمجھنا ایرانیوں کی بہت بڑی غلطی تھی، ہے اور رہے گی۔

ایک سوال کیا گیا ہے کہ ایران میں کافی تعداد میں یہودی موجود ہیں وہ بھی تو مخبری یا غداری کر سکتے ہیں؟

انہیں میرا جواب ہے قطعی نہیں۔

ایرانی یہودی کبھی بھی ایسا کوئی غلط کام نہیں کر سکتے کہ وہ تو شاید پہلے ہی سخت نگرانی میں ہوں گے لہٰذا وہ محتاط زندگی گزارتے ہیں۔

میرا ایک کسٹمر ایرانی یہودی رہا ہے۔ جس کی فیملی سے بھی کئی بار ملا ہوں دو تین بار ان کے ہاں چائے شیرینی کے لئے بھی گیا۔ لین دین بھی رہا اور ان کی ایک وڈیو میں اپنے یوٹیوب چینل پر بھی لگاؤں گا۔ وہ برملا اسرائیل کو جارح ملک کہتے ہیں اور اس مسئلے کو مذہبی کی بجائے سیاسی قرار دیتے ہیں۔ خود کو ایران میں محفوظ ترین خیال کرتے ہیں ایران ہی میں آٹھ دس دوسرے یہودیوں سے ملاقات ہوئی اور مقصد ان سے مختلف امور پر گفتگو رہا۔

ان کے ویوز سن کر بہت مزہ آیا۔ وہ محب وطن ایرانی بھی ہیں اور کسی حد تک اسرائیل مخالف بھی۔ پھر سخت گیر حکومت میں اس طرح کا ایڈونچر لینا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور وہ بھی ایسی صورت میں جب وہ نسلوں سے ایران میں رہ رہے ہیں اور ان کی مادری زبان بھی فارسی ہے۔ انہیں وہاں اقلیت نہیں سمجھا جاتا بلکہ برابر کے شہری کے بھرپور حقوق حاصل ہیں، سیکیورٹی کے کوئی ایشوز نہیں ہیں عبادت گاہیں محفوظ ترین ہیں

اسرائیل نے اپنے حملے کا نام ایرانی یوتھ سے مربوط کر کے رائزنگ لائن (ابھرتا ہوا شیر ) رکھا ہے۔ ایران کے پہلے والے جھنڈے کے درمیان شیر پرنٹ تھا اور موجودہ جھنڈے میں شیر کی جگہ لفظ اللہ لکھا ہوا ہے۔ اسرائیل ایرانی یوتھ کے الحاد سے بھی بخوبی آگاہ ہے کیونکہ ادنی ترین درجے کا مسلمان بھی لفظ اللہ کی جگہ شیر کی تصویر سے تبدیلی نہیں چاہے گا۔ اب نیتن یاہو نے کھل کر ایرانی یوتھ کو براہ راست مخاطب کیا ہے کہ اٹھو اور حسبِ وعدہ اندرونی بغاوت کر گزرو۔ زن زندگی آزادی ایرانی یوتھ کا نعرہ ہے جو گزشتہ روز نیتن یاہو کی زبان سے ادا ہوا۔

اب جو کچھ میں دیکھ اور سن کر آیا ہوں اس کا اپنے تئیں بخوبی تجزیہ کر کے اس نتیجے کی طرف جا رہا ہوں کہ

ایران میں رجیم چینج کے امکانات کافی زیادہ ہیں۔ ایرانی یوتھ جنگ میں توقف یا زیادہ شدت ہر دو صورتوں میں اندرونی انتشار پیدا کریں گے۔ انہیں بہرصورت ”لبرل ترین“ آزادی چاہیے

رجیم چینج کی صورت میں ایران عیاشی میں نمبر ون ملک بنے گا

جنگ میں تھوڑی زیادہ شدت آنے کی صورت میں ایرانی یوتھ سے قطعی بعید نہیں کہ وہ اندرونی سطح پر بھرپور بغاوت کر دیں بلکہ مجھے تو یوتھ ہی کے انتشار بپا کرنے کی صورت میں واضح طور پر رجیم کی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔

ایران واقعی لوہے کا چنا ہے ہر لحاظ سے مضبوط مگر اندرونی طور پر کمزور ہے
ایرانی ٹی وی چینلز پر ”ایرانی یوتھ“ کے کمنٹس پڑھ لیجیے۔ ایموجیز دیکھ لیجیے۔

ایران اگر مار کھائے گا تو اندرونی غداری کے باعث ہی ایسا ممکن ہے۔ ایرانی یوتھ غلامی سے نجات اور حقیقی آزادی کے متمنی ہیں۔ یقین کیجئے کہ ریاست کی طرف سے عوام کو دی گئی سہولیات ایک لحاظ سے من و سلویٰ سے کم نہیں ہیں اور ایرانی یوتھ اپنے ملک سے غداری کر کے کفرانِ نعمت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں نے گفتگو میں برملا کہا کہ ہم امریکی یا اسرائیلی حملے کو خوش آمدید کہیں گے اور موقع ملتے ہی اندرونی طور پر بغاوت کر دیں گے۔ اپنے الحاد کا بھی کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں۔

ایرانی ٹی وی چینلز کی لائیو نشریات میں وہ مذہب اور ریاست دونوں پر استہزائیہ کمنٹس بعینہٖ اسی طرح کر رہے ہیں جس طرح حالیہ پاک بھارت جنگ میں ایک خاص گروہ سے تعلق رکھنے والی پاکستانی یوتھ نے کیے ہیں۔

یقینی بات ہے ہے کہ اندرونی ایرانی یوتھ کی سہولت کاری اور مخبری ہی کے باعث اسرائیلی فورسز نے 100 فیصد کامیابی سے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی ریاست کو چومکھی لڑائی درپیش ہے۔ اندرونی طور پر بغاوت کے بھرپور خدشات، اندرونی یوتھ کے اسرائیل اور امریکہ روابط اور مخبری کا نظام، امریکہ، اسرائیل، ناٹو کا گٹھ جوڑ، او آئی سی کی منافقت، روس اور چین کی بظاہر خاموشی سمیت گویا مصیبتوں کے پہاڑ ایران پر ٹوٹ پڑے ہیں۔

ایسے میں ایران کا اب اپنی یہی رجیم بغیر بڑے اور سنگین مزید نقصان کے بچا لینا معجزہ ہی ہو سکتا ہے۔

بصورت دیگر اب ہمارا ہمسایہ ”نیا ایران“ اسرائیل اور امریکہ نواز ہو گا جہاں امریکی فوجی اڈے بھی بنیں گے اور ایرانی یوتھ حقیقی آزادی کے بھرپور مزے لیں گے۔

روس اور چین کس قدر مداخل ہوں گے اس بابت ابھی کچھ کہنا بعید از قیاس ہے مگر ایرانی یوتھ کو غلامی سے نجات اور حقیقی آزادی اپنے ہی ملک کی مخبری، غداری کی قیمت پر بھی لازمی چاہیے ہے۔

میں ایک محدود سوچ اور فہم کا حامل انسان ہوں اپنے مشاہدے کو قلمبند کر کے آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے۔
ایران میرا پسندیدہ ملک ہے، میں ایک آزاد منش انسان ہوں، کسی سے تعصب یا جانبداری مقصود کبھی نہیں رہا۔
آپ اس پر تنقید کا حق بھی رکھتے ہیں، آراء ضرور دیجئے گا، مکالمے کے لئے بھی حاضر ہوں۔

Facebook Comments HS

One thought on “ایرانی یوتھ اور زن زندگی آزادی بزبان نیتن یاہو

  • 17/06/2025 at 11:43 شام
    Permalink

    A very good analysis based on true experiences
    Thx

Comments are closed.