محبت بھری دوستی کی خوشبو


امیر حسین جعفری کا خط

محترم خالد سہیل صاحب

میری صحتیابی کے حوالے سے ’ہم سب‘ پر چھپی آپ کی تحریر نہ صرف قارئین کو پسند آئی بلکہ کسی سطح پر ان کی حیرت اور استعجاب کا باعث بھی قرار پائی اس استعجاب کا ایک سبب میرا خدا پرست ہونا بھی ہے۔ یقینآ ہماری دوستی شعر و ادب، انسان دوستی اور بائیں بازو کے نظریات، فلسفہ اور الہٰیات کے مطالعے کی بنیادوں پر استوار ہے۔

میرے والد جناب اختر حسین جعفری اور آپ کے چچا جان جناب عارف عبدالمتین کی دوستی نے بھی ہمارے تعلق کی آبیاری میں نمایاں کردار ادا کیا لیکن میرا خدا کے وجود کا اثبات اور آپ کا انکار اوسط درجے کی ذہانت کے لئے حیرت کا باعث ہے۔ عام لوگ اس نقطے کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دو لوگ جو اس قدر مختلف نظریات رکھتے ہوں وہ انتہائی قریبی دوست کیسے ہو سکتے ہیں!  گو شعر و ادب، فلسفہ، الٰہیات ہماری مشترکہ دلچسپی کے موضوعات ہیں ان کے مطالعے سے ہم نے اپنی اپنی افتاد طبع کے مطابق تائید و تردید کے مراحل بھی طے کیے اور ایک دوسرے سے بار ہا اس شدید نوعیت کے اختلافات بھی کیے کہ سننے اور دیکھنے والے یہ سمجھے کہ آپ کے میرے درمیان شاید یہ آخری گفتگو ہو گی اور نشستوں کا یہ سلسلہ اب ختم ہوا کہ ہوا، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا بلکہ آئندہ ہونے والی نشست میں بھی گفتگو کا سلسلہ وہیں سے پھر شروع ہوا جہاں وقتی طور پہ ختم ہوا تھا۔

اس کا ایک سبب یہ بھی تھا اور ہے، ہم نے تہذیب اور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے کبھی نہیں چھوڑا۔ یوں بھی اختلافی موضوعات پر گفتگو کرنا آسان نہیں ہوتا اس کے لئے جس ہوم ورک کی ضرورت ہوتی ہے وہ شاید ہم دونوں نے کر رکھا تھا (اور ابھی تک جاری بھی ہے ) ۔ اصل بات یہ ہے کہ ہماری گفتگو اس کرہ ارض پر انسانی اقامت کے لئے امکانات کی تلاش کے حوالے سے تھی، میں دیگر امکانات کے علاوہ مذہب کو بھی بطور امکان تسلیم کرتا ہوں جبکہ آپ کے رائے اس سے مختلف ہے، یہی اختلاف رائے ہماری دوستی کی بنیاد ہے۔ ہم خیال لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا بہت آسان ہوتا ہے۔ یہ محفوظ راستہ کہلاتا ہے اور محفوظ راستوں کا سفر کسے اچھا نہیں لگتا۔ ایک بات کا اظہار میں ضرور کرنا چاہوں گا انتہا درجے کی اختلافی گفتگو کے دوران بھی عقلی اور منطقی دلائل کو آپ نے ہمیشہ کھلے دل سے تسلیم کیا اور علمی یا ذاتی انا کو آڑے نہیں آنے دیا کیونکہ آپ اس امر سے بخوبی آگاہ تھے ہمارے درمیان جاری یہ بحث ذاتی مفادات کے حصول کے لئے نہیں بلکہ نوع انسانی کے مفادات کے لئے ہے۔ کرہ ارض پر زندگی کے عمل کو آسان و ممکن بنانے کے لئے ہے۔

محترم خالد سہیل صاحب یہ وہ گفتگو ہے جسے ہر صورت میں جاری و ساری رہنا چاہیے۔ جب تک ہم زندہ ہیں ہم یہی گفتگو کرتے رہیں گے ہمارے بعد بھی یہ گفتگو جاری رہے گی اور ہم سے بہتر لوگ اپنے انہی موضوعات پر گفتگو کریں گے کیونکہ بہتر معاشرے کا قیام اور تشکیل، مکالمے سے ہی ممکن ہے۔ یہ گفتگو اختلافی نہیں ہے مگر کیا جائے اوسط درجے کی ذہانت کے منہ میں جو آئے وہ کہتی ہے۔

خیر اندیش
امیر حسین جعفری
14 جون 2025
………………….

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

محترمی و معظمی امیر حسین جعفری صاحب!

آپ کے بارے میں میرا کالم ’ہم سب‘ پر چھپا تو بہت سے دوستوں کے بہت سے محبت بھرے پیغام آئے۔ ان سب نے ہماری دوستی کو سراہا۔ پھر آپ کا خط آیا جو آپ کی محبت بھری دوستی کی خوشبو سے معطر تھا۔

آج کے نفسا نفسی اور خود غرضی کے دور میں ایسی مخلص اور بے غرض دوستی نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ ہماری دوستی میں پرخلوص جذبات و احساسات کا اشتراک نظریاتی اختلاف سے زیادہ اہمیت و معنویت کا حامل ہے۔

ہم دونوں مکالمے کی افادیت پر یقین رکھتے ہیں۔
سقراط کا فرمان تھا کہ جینوئن مکالمہ ہمیں ہمارے سچ تک پہنچاتا ہے
فرائڈ کا بھی خیال تھا کہ مخلص مکالمہ ہمیں ہمارے لاشعور کے گہرے سچ سے ملاتا ہے۔

امیر جعفری صاحب!

آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ہر شخص سے سنجیدہ مکالمہ نہیں ہو سکتا کیونکہ سنجیدہ مکالمے کے لیے یہ بات بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے موقف کے اظہار کے ساتھ ساتھ دوسرے انسان کے موقف کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ انسان کو کہنے کے ساتھ سننے کی بھی ہمت ہونی چاہیے خاص طور پر اگر ہمیں دوسرے کے موقف سے اختلاف ہو۔

میرے نزدیک دوسرے شخص کے اختلافی موقف کو سمجھنے کی کوشش کرنا ہی دوستی، جمہوریت اور انسان دوستی کی بنیادی شرط ہے۔

امیر جعفری صاحب!
ادب اور سماج کے بارے میں ہم کئی حوالوں سے ہم خیال ہیں

ہم دونوں ایک پرامن معاشرے کے خواب دیکھتے ہیں۔ اس لیے ہم اس منزل تک پہنچنے کے مختلف راستوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔

ہم مختلف مکاتب فکر کا مطالعہ کرتے ہیں اور مختلف شاعروں ادیبوں اور دانشوروں کی تخلیقات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں کیونکہ ہم خود بھی سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے مسافر ہیں اور اس راہ کے دوسرے مسافروں کا احترام سے خیر مقدم بھی کرتے ہیں۔

ہم عالمی ادب کے شیدائی بھی ہیں
ہمیں جہاں پابلو نرودا اور اوکٹاویو پاز پسند ہیں
وہیں ہمیں ایرک فرام اور ابراہم ماسلو بھی عزیز ہیں

ہم جہاں سعادت حسن منٹو اور احمد ندیم قاسمی کہ کہانیوں پر گفتگو کرتے ہیں وہیں ہم ورجینیا وولف اور کافکا کو بھی ڈسکس کرتے ہیں

جہاں ہم غیر روایتی ادیبوں کی غیر روایتی زندگی میں دلچسپی رکھتے ہیں وہیں ہم ان نابغہ روزگار شخصیات کے نفسیاتی مسائل کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔

ادب کو پڑھنا اور اس کو سمجھنا ہماری زندگی کا حصہ بن چکا ہے
ہماری نگاہ میں ادب ہمیں با ادب اور مہذب بناتا ہے۔
ہم ادب پڑھنے والے بے ادب ادیبوں کو بھی جانتے ہیں۔
اگر انسان نے ادب سے ادب نہ سیکھا تو ایسا ادب پڑھنے کا کیا فائدہ۔

ہم ایک دوسرے سے ادب سے ملتے ہیں اور بنی نوع انسان کا ادب کرتے ہیں یہی ہماری دوستی ادب دوستی اور انسان دوستی کا راز ہے۔

مجھے آپ کی دوستی پر فخر ہے۔
آپ کی شخصیت اور شاعری کا مداح

خالد سہیل
15 جون 2025

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail