منٹو کے افسانوں میں سماجی اخلاقیات


سماجی اخلاقیات سے مراد وہ اصول و ضوابط ہیں جن کی ایک معاشرہ اپنے افراد سے بطور طرز عمل توقع رکھتا ہے۔ دراصل یہ انسانی ہمدردی کے وہ اخلاقی اصول ہیں جو گروہوں اور معاشروں کی بہبود کا وسیلہ ہیں۔ یہ اجتماعی خیر اور انسانی عزت و عظمت کو ترجیح دینے کا دوسرا نام ہیں۔ ان سماجی اخلاقیات میں سچائی، دیانت، ہمدردی، انصاف، مساوات، رواداری اور احترام آدمیت وغیرہ نمایاں ہیں۔ یہ انفرادی اخلاقیات سے اس لیے ممتاز ہیں کہ یہ انفراد و اجتماع اور معاشروں اور گروہوں کے درمیان تعلقات کو استوار کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

منٹو کے افسانوں میں جہاں اشرافیہ سماجی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتی دکھائی دیتی ہے وہیں منٹو کے افسانوں کا عام آدمی انسان کے سر سے اشرف المخلوقاتی تاج گرنے نہیں دیتا۔ منٹو نے جہاں اشرافیہ کے ہاتھوں اخلاقی اصولوں کا استحصال دکھایا ہے وہیں ان کے افسانوں میں اس نام نہاد با اخلاق کھوکھلے انسان دشمن طبقے کے برعکس سہائے، موذیل، بابو گوپی ناتھ وغیرہ جیسے عام انسان، سماجی اخلاقی رویوں کی معراج کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں۔

سماج کے تمام تر اخلاقی اوضاع و اطوار کی پیش کش میں منٹو انہیں اخلاق دشمن رویوں کے خلاف نہ صرف راہنمائی کرتا ہے بلکہ انہیں اخلاق کش رویوں کے خلاف برسر پیکار رکھنے کی قوت بھی عطا کرتا ہے۔ یہ ان کی باطنی روشنی کا ہی فیضان ہے کہ ان کے افسانوں میں رواداری، وسیع النظری، توسع اور انسانی ہمدردی جیسے سماجی اخلاق اپنی ہر ہیئت میں نیئر و تاباں نظر آتے ہیں۔ وہ تمام عمر ترقی پسند، معتدل اور صحت مند سماج کی تشکیل کے لیے ثقافتی، تہذیبی اور فکری آزادی کی ناگزیریت کے داعی رہے۔

منٹو کا کلچرل وجود، مذہب و مسلک و ملک سے ماورا ہو کر، انسانوں میں بنیادی احساسات کو کھوج نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ طوائفوں، دلالوں، اداکاروں میں بھی خیر کے پہلو تلاش کر لیتے ہیں۔ وہ ہندو، مسلم، سکھ یہودی الغرض کسی بھی مذہب و نظریہ سے تعلق رکھنے والوں کو سراہنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں بشرطیکہ انہیں ان میں انسانیت کی رمق دکھائی دے۔ منٹو ہمارے سماج کے باطنی تضاد کے زبردست ناقد رہے۔ تاہم بابو گوپی ناتھ اور سہائے جیسے انفرادی کرداروں میں سماجی اخلاقیات کی موجودگی نے انسانیت پر ان کے اعتبار و اعتماد کو بحال رکھا۔

سہائے کٹر ہندو دلال ذلیل پیشہ ہونے کے باوجود روح انسانیت اور وصف محبت سے لبریز ہے۔ وہ ویشنو، شاکاہاری ہونے کے باوجود مسلمان طوائف کی گوشت خوری پر خفا نہیں۔ ممتاز کے حوالے سلطانہ کی رقم کرتے ہوئے بھی وہ مسلمانوں کا گلہ نہیں کرتا جنہوں نے اسے موت کے گھاٹ اتارا۔

موذیل میں جب ترلوچن سنگھ یہودی فاحشہ کے برہنہ جسم کو ڈھانپ رہا ہوتا ہے تو وہ کہتی ہے ”لے جاؤ اس کو۔ اپنے مذہب کو اور اس کا بازو اس کی مضبوط چھاتیوں پر بے حس ہو کر گر پڑا۔“

گویا منٹو کے نزدیک مذہب چند رسوم کے مجموعے کا نام نہیں بلکہ حقیقی مذہب اخلاق کا ہی دوسرا نام ہے۔ موذیل کا ترلوچن سنگھ کی منگیتر کے لیے جان قربان کر دینا انسانیت کو وہ ارفعیت عطا کرتا ہے جس کی نظیر اردو افسانے میں شاذ ملتی ہے۔ اس کردار کی تشکیل سے منکشف ہوتا ہے کہ منٹو کے ہاں سماجی اخلاق کے اپنے مخصوص زاویے ہیں جن سے ہمارا مذہبی طبقہ ابھی نا واقف ہے۔

منٹو کے افسانوں میں کرداروں کا تہذیبی وجود انہیں ایسے نا مساعد حالات میں بھی سہارا مہیا کرتا ہے جب انسانی انسلاک کی شیرازہ بندی معدوم ہونے کے خطرے سے دو چار ہوتی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بشن سنگھ کو تقسیم کے وقت اپنی مٹی سے جدا ہونا گوارا نہیں۔ منٹو کے نزدیک سرحدیں دلوں میں فاصلے پیدا کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں۔ جب بشن سنگھ جیسا دیوانہ شخص بھی تقسیم کے عمل کو قبول کرنے سے انکاری ہے تو اہل دانش و بینا اور امور سیاسیہ کے فرزانے ایک ہی مشترکہ تہذیب کے فرزندوں کو مذہب کی بنیاد پر کیسے دو خطوں میں بسانے پر مصر ہو سکے ہیں؟

منٹو نے اس دھرم کانٹے کو مسترد کر دیا جس کے پلڑوں میں ہندو اور مسلمان، عیسائی اور یہودی تولے جاتے ہیں۔ منٹو کا انداز ہمیشہ معروضی رہا وہ نہ کسی ایک مذہب کا حامی رہا اور نہ مخالف۔ اس کا ایمان مفصل، انسانی اقدار اور ایمان مجمل خود انسان رہا۔ سماجی اخلاقیات پر اس کا یقین محکم کبھی بھی متزلزل نہ ہوا۔

سوگندھی، ممد بھائی، بابو گوپی ناتھ جیسے کردار منٹو کے انسان دوست مسلک، اس کی بین المذاہب رواداری اور صلح کلی کے غماز ہیں۔ وہ ایک لاکھ ہندو اور ایک لاکھ مسلمان کے مرنے پر دو لاکھ انسانوں کی موت کا نعرہ بلند کرتا ہے۔

منٹو کا تاریخی شعور انہیں سماجی اخلاقی رویوں میں انسانی احساسات کی ضرورت سے آگاہی فراہم کرتا ہے۔ انہیں اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ رواداری، انسان دوستی، یگانگت، یکجہتی ہی انسانی بقا کی ضامن ہے۔ آج بھی ان دو ملکوں اور دو مذاہب کے ماننے والے اپنے درخشاں تہذیبی تعامل کے نتیجے میں جنم لینے والے سماجی اخلاقی رویوں کو اپنا کر کشیدگی، نخوت اور تعصب کو مٹا سکتے ہیں۔ ساعت شیریں، رام کھلاون، دو قومیں، شریفین سمیت منٹو کے اکثر افسانوں میں تکثیریت، توسع، ادب الاختلاف، اور وسعت قلبی جیسے سماجی اخلاق کی تحسین کثرت سے ملتی ہے۔

Facebook Comments HS