تاریخ سے مکالمہ، خود کفالت کی کہانی اور دخترانِ مشقت
میرے گزشتہ دو نثر پارے کئی رقیق القلب شہری احباب کو اپنے پُرکھوں کی بُھولی یاد دلانے میں مقبول و معاون رہے اور یہ چند دن سُرعت سے معدوم ہوتی گاؤں کی مٹی، خالص گیہوں، دیسی گھی میں پکے کالے حلوے کی سوندھی مہکار کے ہجر کے نوحوں سے بھر گئے۔ نصف صدی عمر کے بھائی لوگوں کو لُو بھرے موسم میں نانی اور دادی ویہڑوں کی ٹھنڈک کے فراق نے تڑپا دیا، گرم راتوں میں صحن میں بچھی چارپائیوں پہ لیٹے ستارے گننا، صبح دم کنوؤں پہ تازہ مُولیوں اور ساوے وسلوں (سبز پیاز) کی یاد بھی بے طرح آئی مگر ایک گہرا احساس جو فزوں تر رہا وہ ان ہم عصروں کا اطمینانِ قلب تھا کہ جن ذاتی و عمومی اہداف یعنی معاشی ترقی، نئی نسل میں ہنر اور تعلیم کی بڑھوتری اور بہتر اسباب زندگی کے تعاقب میں اُنہوں نے اپنا آرگینک کلچر قربان کیا تھا وہ اُن کی اولاد خصوصاً بچیوں کی خود کفالت پہ منتج ہوا اور یوں یہ تحرک اور بالرضا ہجرت کنندہ نسل، عسرت اور تنگ دامانی سے محفوظ رہی بوجوہ ان میں ہر فرد شاداں بھی ہے اور نازاں بھی اور بہرحال حق بجانب بھی۔
صرف دو نسلوں کے اندر ہی ان والدین نے اندرون ملک مائیگریشن (نقل مکانی) کے طفیل شہری خود کفیل اور باہنر نوجوان اولاد پھلتے پھولتے دیکھی۔ ساتھ ہی مستحکم دیہی شناخت میں واضح دراڑیں پڑیں اور اس خواندہ نسل کا مستقبل ان کی نوجوان اولادیں، بین الاقوامیت پہ مبنی سماج کی تشکیل و پرداخت کا ہراول دستہ بنی۔ یہ عالمی باسی اب برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، خلیجی ریاستوں، آسٹریلیا اور اب ایک نئی دنیا (یو اے ای) کے متعدد شہروں کے قانونی باشندے شمار ہوتے ہیں یہ نوجوان کمپیوٹر ساز ہنر مند، لکھاری، تخلیق کار، ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، وکیل، انٹرپرینور (منتظمین) اور شیف (خانساماں ) کے علاوہ بطور ڈیزائنرز اپنی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بخوبی سر انجام دے رہے ہیں اور بقول استاذی محترم اظہار الحق صاحب horizental mobility یعنی عمودی حرکیات خطے کے محنتی نوجوان مرد و زن کو کہیں سے کہیں لے جا چکی ہیں۔
نو آبادیات کے ماتحت دیہات میں مٹی سے دیوار لیپتی، گوبر سے اُپلے بناتی، ہنڈیا بھُونتی، لسی کی چاٹی بلوتی، گائے، بکری کے دودھ سے مکھن نکالتی چابُک دست عورت نے اسکول کی گھنٹی سُن کر اپنی بیٹی کے لیے دوپہر میں تندور سے روٹی اُتاری اور خود یونیفارم دھونے بیٹھ گئی۔ کل اُس کی یہی ہونہار بیٹی پڑھ لکھ کے شہر جائے گی۔ اپنے میاں اور بچوں کو اپنے خوابوں کا ہمراز بنائے گی اور پھر کسی روز سماجیات کی پروفیسر، آنکھوں یا دل کے ڈاکٹر اور سی ای او بچوں کی اماں جان بنے گی۔
اسد سید کی 1990 کی تحقیق کے مطابق شہری نقل مکانی سے وطن عزیز میں ایک معاشی اور سماجی انقلاب کا راستہ ہموار ہوا۔ 1960 کے عشرے میں درمیانے درجے کے کاشتکار اور نیم زرعی جوڑوں نے اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز قصبوں سے نکل کر شہروں میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی ملازمتوں سے کیا۔ جدید مہارتوں کی تربیت، اور پیشہ ورانہ تعلیم کی بدولت ایک موُثر ورکنگ فورس وجود میں آئی۔
اس ورکنگ فورس کی اصل بنیاد زرعی معاشرے میں اولاد خصوصاً بیٹیوں کو کھیت کھلیان کی بجائے اسکول کی طرف راغب کرنے والی ہستی وہ دُختر مشقت رہی جس نے مقامی ثقافت اور رسوم و رواج میں کوئی بڑا رخنہ ڈالے بغیر دوہری ذمہ داری نبھاتے ہوئے بہت عمدگی سے مقامیت کو عالمیت میں بدلا۔ سبز چنوں کا تراڑا ( بُھونتے ) لگاتے، باجرے کی دیسی گھی کی مانی تلتے، مکئی کا میٹھا مرونڈا بنانے والے ہاتھ اگرچہ اپنی تیسری نسل کے پسندیدہ الفریڈو پاسٹا، لوڈڈ فرائز، لاٹے، کیپیچینو اور امریکانو سے ناواقف تھے مگر وہ ترقی کے اصل جوہر سے آشنا تھیں اور وہ تھا محنت پیہم اور عزم مسلسل۔
ان عورتوں اور ان کے کاشتکار ہم سفروں نے دھرتی اور ماں بولی ہر دو سے اپنا تعلق استوار رکھا، بچیوں کے اسکولوں میں سکھائی جانے والی رابطے کی زبان اور انگریزی زبان دونوں میں حوصلہ افزائی کی۔ گھر پہ ”پکی روٹی، عربی قاعدے کی تعلیم اور دوسوتی کے میز پوش پہ کشیدہ کاری کے علاوہ کروشیا کے ہنر سکھانے کی پابندی رکھی، نانا دادا اور رشتے کے بزرگ قصہ سیف الملوک، چہار درویش سُنانا جاری رکھتے۔ بچیوں کو گھوڑے، اُونٹ، بکری اور گائے کی معاشی افادیت ازبر رہتی اور یوں اُسے پڑھے لکھے باروزگار مرد اور ُسسرال کے ُلئے مثالی فیصلہ سازی کے لئے تیار کیا جاتا۔ عموماً زوجین کی رفاقت تاعمر پنپتی علیحدگی کی صورت میں اسے خاندان اور برادری کی ناکامی تصور کیا جاتا اور ہر ممکن طریقے سے حذر کیا جاتا۔
عورتوں کی غالب اکثریت اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے بارے میں الرٹ تھیں، خبردار مائیں لکھے جانے والے حرف کی پاسداری ویسے ہی کیا کرتی تھیں جس طرح آج کل کے موبائل کے ”صرف کام“ کے وقت کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے اُن کے پیشِ نظر مکمل ان پڑھ دادیوں کا ایک اعتراض یہ بھی رہتا تھا کہ ”جو بچی لکھنا سیکھ جائے گی اُسے نامحرم کو خط لکھنے سے کون روکے گا“ ۔ مشترکہ خاندانوں میں میاں بیوی کے درمیان خطوط لکھنے کو بھی معیوب سمجھا جاتا تھا کُجا یہ کہ وہ دن کے اوقات میں باہم ہنسی مذاق کرتے پائے جائیں۔
یہاں لٹریچر کا ذکر بہت اہم ہے، دیہی گھرانوں میں اسکولوں میں فائز سرکاری اُستانیاں معزز جانی جاتیں اور چھوٹی بچیوں کو اُن کے پاس بھیجا جاتا۔ وہ زیادہ تر اسلامی کُتب کا مطالعہ کرواتیں۔ ڈپٹی نذیر احمد کی بنات النعش اور مرآت العروس مرغوب تصانیف تھیں۔ عمر میں ذرا بڑی لڑکیوں کو تعلیم و تربیت، زیب النساء اور معاشرتی اصلاحی ناول بھی پڑھنے کو ملتے، حسب ذوق اور طبع حوصلہ افزائی کی جاتی۔ نعت ترنم سے پڑھنے، خوشخطی کرنے، واقفیتِ عامہ اور مضمون نویسی میں مقابلے کروائے جاتے اور انعامات کا سلسلہ بھی رہتا۔
معاشرے کے نافذ کردہ محدود اور مخصوص دائرے کے اندر عورتوں کی بدلتی سماجی ہیئت کئی اعتبار سے سُست رو ضرور تھی مگر پیہم۔ سرگودھا، خوشاب، ٹمن، تلہ گنگ، لاوہ، مکھڈ، اٹک، پنڈی گھیب اور خطے میں ہزاروں ایسے خاندان اور کامی مائیں موجود ہیں جن کی تیسری نسل مکمل طور پہ گلوبل ویلیج کے قابل فخر باسی کہلائے جا سکتے ہیں۔
صرف مثال کے لئے، آج 2025 میں ہماری تیسری نسل میں دخترِ زمین و مشقتِ عظیم کی ایک مثال بیٹی دُر عزیز آمنہ بین الاقوامی انعام یافتہ لکھاری ہیں۔ دادی اور ماں شعبہً تدریس سے وابستہ تھیں۔ گاؤں کے اسکول سے پڑھی دادی، یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ماں اور خود امریکہ کی جامعات سے سند فضیلت کی فاتح۔ آپ اپنے ارد گرد دیکھیں تو ایسی بہت سی بیٹیاں اور بیٹے آپ کی محنتوں کا اجر بنے ملیں گے۔ محمد اظہار الحق صاحب نے شاید انہی کے لئے کہا
یہی نہیں کہ زمینیں میری اچھوتی ہیں
میں آسمان بھی اپنے نئے بناتا ہوں

