توشہ: ایک میٹھی مشرقی روایت


پورا ہفتہ محنت مشقت کے بعد پردیس یعنی کینیڈا میں دیسی یعنی پاکستانی دوست مل بیٹھتے ہیں اور دکھ سکھ سانجھے کرتے ہیں۔ گزشتہ اتوار بھی ایسی ہی ایک محفل برپا ہوئی۔ ہمارے میزبان ادب نواز اور مشرقی روایات کے امین ہیں۔ شام کی پُرتکلف دعوت کے بعد جب تمام دوست رخصت ہونے لگے تو ہر مہمان کو توشہ کے ساتھ وداع کیا گیا۔ گویا یہ کوئی معمولی رخصتی نہ تھی بلکہ اس میں مشرق کی صدیوں پرانی مہمان نوازی کی روح سموئی ہوئی تھی۔ برصغیر پاک و ہند اور مشرق وسطیٰ میں مہمان نوازی کو ایک خاص مقام حاصل ہے اور اسی مہمان نوازی کا ایک حسین رنگ مہمان کو توشہ کے ساتھ رخصت کرنے کی روایت ہے۔ یہ محض ایک رسم نہیں بلکہ محبت، عزت اور فکرمندی کا والہانہ اظہار ہے جو نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ اس روایت کا مقصد دور سے آئے مہمانوں کی سہولت ہے تاکہ واپسی کے سفر میں انہیں کھانے پینے کی پریشانی نہ ہو۔

توشہ سے مراد عموماً وہ کھانے پینے کی اشیاء ہوتی ہیں جو سفر پر جاتے ہوئے یا کسی مہمان کو رخصت کرتے وقت ساتھ دی جاتی ہیں۔ اس میں میٹھی سوغاتیں، خشک میوہ جات، بسکٹ یا کوئی بھی ایسی چیز شامل ہو سکتی ہے جو دو رانِ سفر مہمان کے کام آئے۔ یہ توشہ صرف پیٹ بھرنے کی چیز نہیں بلکہ اس میں میزبان کی دعائیں اور نیک تمنائیں شامل ہوتی ہیں۔

یہ روایت کئی گہرے معانی رکھتی ہے جو اسے مشرق کی ثقافت میں نمایاں کرتے ہیں :

* محبت اور خیال کا اظہار: توشہ دینے کا سب سے بڑا سبب مہمان کے لیے بے پناہ محبت اور خیال کا اظہار ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ میزبان کو مہمان کے سفر اور راستے کی بھوک پیاس کا مکمل خیال ہے۔

* برکت اور نیک تمنائیں : مشرقی ثقافت میں توشہ کو برکت اور نیک تمناؤں سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مہمان کو توشہ دینے سے اس کا سفر کامیاب اور خیر و عافیت سے گزرے گا۔ یہ ایک طرح کی خاموش دعا ہوتی ہے کہ مہمان کو راستے میں کسی قسم کی تنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

* میزبان کی فیاضی: یہ روایت میزبان کی فیاضی اور سخاوت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ایک مہمان نواز گھرانا ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ان کا مہمان خوشگوار یادوں کے ساتھ رخصت ہو اور اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔

* رشتوں کا استحکام: توشہ دینے سے رشتوں میں گرمجوشی اور گہرائی آتی ہے۔ یہ ایک ایسی یاد بن جاتی ہے جو مہمان اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور اس سے مہمان نوازی کرنے والے گھرانے کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔

* ثقافتی پہچان: مشرق کی کئی اقوام میں یہ روایت ان کی ثقافتی پہچان کا حصہ بن چکی ہے۔ خاص طور پر شادی بیاہ یا بڑے اجتماعات کے بعد جب مہمان رخصت ہوتے ہیں تو انہیں خالی ہاتھ نہیں بھیجا جاتا بلکہ کچھ نہ کچھ توشہ ضرور دیا جاتا ہے۔

اس مختصر کالم میں پاک و ہند کے تمام علاقوں کی روایات کا احاطہ کرنا تو ممکن نہیں البتہ تحدیث نعمت کے لئے پاکستان کے اہم علاقوں کی روایت کا ذکر کیے دیتے ہیں۔

کشمیر: برکت اور شیرینی کا توشہ

کشمیر میں توشہ کی روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں توشہ ایک خاص قسم کی میٹھی سوغات ہے جسے میدہ، گھی، چینی اور خشک میوہ جات سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے عام طور پر شادیوں اور دیگر تقریبات کے بعد مہمانوں کو رخصت کرتے وقت دیا جاتا ہے۔ کشمیری ثقافت میں اسے نہ صرف مٹھاس اور ذائقے کی علامت سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ برکت اور خوشحالی کی دعا بھی ہوتی ہے۔ یہ توشہ سفر میں مہمان کے کام آنے کے ساتھ ساتھ میزبان کی فیاضی اور مہمان نوازی کی یاد بھی دلاتا ہے۔

پنجاب: سخاوت اور خیر سگالی کا توشہ

پنجاب کی مہمان نوازی ضرب المثل ہے اور یہاں توشہ کی روایت کو خاص احترام سے دیکھا جاتا ہے۔ یہاں توشہ میں عموماً میٹھی روٹیاں، حلوہ، خشک میوے اور مقامی سوغاتیں شامل ہوتی ہیں۔ دیہات میں جب مہمان رخصت ہوتے ہیں تو انہیں دودھ، دہی یا لسی بھی توشے کے طور پر دی جاتی ہے تاکہ ان کا سفر تازہ دم رہے۔ یہ روایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پنجابی اپنے مہمانوں کو کتنی عزت اور محبت دیتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مہمان اپنے ساتھ میزبان کی سخاوت اور خلوص کی خوشگوار یادیں لے کر جائیں۔

سندھ: محبت اور روا داری کا توشہ

سندھ کی ثقافت اپنی مہمان نوازی اور رواداری کے لیے مشہور ہے۔ یہاں توشہ دینے کا رواج مختلف شکلوں میں پایا جاتا ہے۔ سندھ میں مہمانوں کو رخصت کرتے وقت کھیس (سندھی اجرک کا چھوٹا ورژن) ، مٹھائیاں، یا مقامی پھل دیے جاتے ہیں۔ یہ توشہ اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ مہمان کو صرف کھانا کھلا کر نہیں بھیجا جا رہا بلکہ اسے یادگار کے طور پر کچھ دیا جا رہا ہے جو میزبان کی محبت کی نشانی ہو۔ صحرائی علاقوں میں توشے میں خشک کھجوریں یا شکر بھی شامل کی جاتی ہے جو سفر کے لیے بہترین معاون ثابت ہوتی ہیں۔

بلوچستان: عزت اور رفاقت کا توشہ

بلوچستان میں مہمان نوازی اور توشہ کی روایت اپنی ثقافت کے مطابق ہے۔ یہاں مہمان کو رخصت کرتے وقت خشک میوے، کھجوریں، اور بعض اوقات خشک گوشت (لاندی) بھی توشے کے طور پر دیا جاتا ہے۔ سرد علاقوں میں چائے اور قہوہ کے لوازمات بھی توشے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ بلوچی روایات میں مہمان کا احترام اور اس کی دیکھ بھال سب سے اہم سمجھی جاتی ہے اور توشہ اسی احترام کا ایک عملی مظاہرہ ہے۔ یہ توشہ نہ صرف مہمان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ میزبان کی عزت اور اس کے تعلقات کی مضبوطی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

خیبرپختونخوا: ایثار اور اکرام کا توشہ

خیبر پختونخوا میں پختون روایت کے مطابق مہمان نوازی کو انتہائی بلند مقام حاصل ہے۔ یہاں مہمان کو ”اللہ کا مہمان“ سمجھا جاتا ہے۔ توشہ میں عموماً خشک میوہ جات، کشمش، اخروٹ اور تازہ یا خشک پھل شامل ہوتے ہیں۔ بعض اوقات مقامی مٹھائیاں جیسے ”حلویٰ“ یا ”شیریں“ بھی دی جاتی ہیں۔ یہ توشہ اس بات کی علامت ہے کہ پختون قوم اپنے مہمانوں کی کتنی قدر کرتی ہے اور ان کے سفر کو آسان بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔

مجموعی طور پر برصغیر پاک و ہند کے مختلف علاقوں میں توشہ کی روایت اگرچہ مختلف انداز اختیار کرتی ہے، لیکن اس کی روح ایک ہی ہے : مہمان کی عزت، اس کی سہولت کا خیال، اور میزبان کی محبت و فیاضی کا اظہار۔ یہ روایت محض ایک رسم نہیں بلکہ ہماری ثقافت کا وہ خوبصورت پہلو ہے جو انسانی رشتوں کو مضبوط بناتا ہے اور مہمان نوازی کے اعلیٰ اقدار کو زندہ رکھتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ مشرق میں مہمان کو توشہ کے ساتھ رخصت کرنے کی روایت نہ صرف مہمان نوازی کا ایک خوبصورت مظہر ہے بلکہ یہ باہمی احترام، محبت اور گہرے انسانی رشتوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ یہ روایت اس پیغام کو تقویت دیتی ہے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتا ہے اور اس کی خاطر تواضع میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے۔

یہ کالم پڑھنے والے اپنے علاقے میں توشہ کی تفصیل بتائیں تو ہم سب کو اچھا لگے گا۔

Facebook Comments HS