خون سے کھیلتی جنگ یا سیاست
دنیا کی فضا میں آج بھی بارود کی بو بسی ہوئی ہے۔ ہوا میں گولہ بارود کی سیٹیاں، ماؤں کے آنسو اور بچوں کی معصوم آنکھوں میں خوف کے شعلے یہ سب کچھ ایک ایسی المناک داستان بیان کرتے ہیں جس کا ہر لفظ خون سے لکھا جا رہا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ نے ایک بار پھر انسانیت کو سب سے بڑے امتحان میں لا کھڑا کیا ہے یہ جنگ نہیں ایک اجتماعی انسانی المیہ ہے جہاں ہر گولی کسی کے بیٹے کو، کسی کے باپ کو اور کسی کے خوابوں کو خاک میں ملا رہی ہے۔ کشمکش کی اس بھٹی میں جلتے ہوئے لاکھوں بے گناہ چہرے اپنا قصور پوچھتے ہیں تہران کے کسی گلی کوچے میں ایک ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے زمین پر لیٹی آنکھوں میں وہی سوال لئے ہے جو غزہ یمن اور شام کی ماؤں کے چہروں پر بارہا دیکھا جا چکا ہے۔ میرا کیا قصور تھا یہ جنگ کسی ایک ملک یا نظریے کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی شکست ہے جب بچے آندھی کے شور کی بجائے بم پھٹنے کی آوازوں سے ڈرتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم سب کچھ ہار چکے ہیں۔
ایرانی عوام جو صدیوں سے علم و ادب محبت اور رواداری کا پیغام دیتے آئے ہیں آج ایک بار پھر عالمی سیاست کے شطرنج میں مہرے بنا دیے گئے ہیں ان کے شہر جو کبھی حافظ اور سعدی کی شاعری سے گونجتے تھے آج میزائلوں کی گرج سے کانپ رہے ہیں کیا یہی وہ ترقی ہے جس کا دعویٰ جدید دنیا کرتی ہے۔ ایرانی عوام صرف مظلوم نہیں مزاحمت کی علامت بھی ہیں جنہوں نے ہر دور کی سازش پابندی اور جنگ کا سینہ تان کر مقابلہ کیا ہے ان کے جوان آج بھی سینہ سپر ہو کر اپنے ملک اپنی تہذیب اور اپنے وقار کی حفاظت کر رہے ہیں دشمنوں کے مقابل ان کے حوصلے حافظ کی غزل کی طرح پر اثر اور سعدی کی نثر کی طرح پرمغز ہیں تہران کی سڑکوں پر جب دھواں اٹھتا ہے تو وہ صرف تباہی کی علامت نہیں ہوتا بلکہ ان کے عزم اور استقامت کا ایک خاموش اعلان بھی ہوتا ہے کہ ہم جھکیں گے نہیں مٹیں گے نہیں۔
اس جنگ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے انسانیت کا چہرہ خون کے آنسو رو رہا ہو جس طرح صحرا کی تپتی ریت پیاسے مسافر کو نگل لیتی ہے ویسے ہی یہ جنگ بے گناہوں کی زندگیاں چاٹ رہی ہے تہران کی فضا میں اٹھتا دھواں گویا مظلومیت کا کفن ہے جو آہستہ آہستہ پوری دنیا کو ڈھانپ لے گا۔ اور پھر اسرائیل وہ خطہ جہاں کبھی پیغمبروں کے قدم اترے تھے آج خود انہی کے پیروکاروں کے ہاتھوں تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے کیا یہودی مسیحی اور مسلمان جن کے پیغمبر امن کی تعلیم دیتے تھے اپنے ہی مقدس مقامات کو خون سے رنگین ہوتے دیکھ کر خوش ہوں گے۔
ایران جو کبھی فارسی تہذیب کا عظیم مرکز تھا آج ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی سازشوں کا شکار ہے اس کے عوام پر پابندیاں معاشی مشکلات اور اب جنگ کا خوف یہ سب کچھ اس قوم کے صبر کا امتحان ہے لیکن کیا کبھی کسی نے تہران کے اس بوڑھے باپ سے پوچھا جس کی بیٹی ہسپتال میں دوائیوں کی کمی سے مر گئی، کیا کبھی کسی نے ایران کے ان نوجوانوں کے خوابوں کو سنا جن کی تعلیم روزگار اور مستقبل اس جنگ کی نذر ہو گئے۔ ایرانی عوام کو دہشت گرد کہنے والے وہ لوگ ہیں جو خود اپنے ہتھیاروں سے دنیا کو دہشت زدہ کر رہے ہیں اگر ایران سے ہمدردی نہیں تو کم از کم ان بے گناہ بچوں پر ترس کھایا جائے جو اس جنگ کے سب سے بڑے شکار ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں رہیں ہیروشیما سے لے کر غزہ تک ہر جنگ نے صرف مزید نفرتیں بوئی ہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کی حرمت کو سمجھے اگر ہم خاموش رہے تو کل ہمارے اپنے گھر بھی اس آگ کی زد میں ہوں گے۔ امن کا راستہ مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں آئیے اس جنگ کو روکنے کے لیے آواز اٹھائیں نہ صرف ایران یا اسرائیل کے لیے بلکہ ان تمام ماؤں بچوں اور بے گناہوں کے لیے جو ہر روز موت کے سائے میں جی رہے ہیں۔ جنگ کبھی ختم نہیں ہوتی بس اپنا روپ بدل لیتی ہے آج اگر ہم نے اس آگ کو نہ بجھایا تو کل یہ ہمارے اپنے گھر کو جلا دے گی انسانیت کا قرض ہے کہ ہم اس المیے پر خاموش نہ رہیں کیونکہ جب تک ایک بھی انسان خون میں نہائے گا ہم سب کا ایمان خطرے میں ہو گا۔

