جغرافیائی سیاست اور پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی


پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے خطے میں وقوع پذیر جغرافیائی و نظریاتی تغیرات کے زیرِ اثر تشکیل پاتی رہی ہے۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان پر لشکر کشی کو پاکستان نے محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ اپنے تزویراتی مفادات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ تصور کیا۔ اگرچہ روس نے پاکستان کے خلاف کوئی براہِ راست اقدام نہیں اٹھایا تھا، تاہم ایک عالمی طاقت کا افغانستان میں مستقل وجود پاکستان کی مغربی سرحدوں، داخلی استحکام اور نظریاتی شناخت کے لیے ایک دیرپا خطرہ بن سکتا تھا۔ لہٰذا اُس وقت کی ریاستی قیادت کا ردعمل دفاعی نوعیت کا تھا، جو تاریخی سیاق و سباق میں ایک منطقی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ جنرل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد واشنگٹن کے رویّے میں نرمی اور تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے لیکن اس بار ایک نئے عالمی تناظر میں۔

جنرل ضیاء الحق کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف افغان مزاحمت کی حمایت کی بلکہ امریکہ کے ساتھ سفارتی سطح پر بھی موثر انداز میں معاملات طے کیے۔ عبدالستار کی کتاب  کے مطابق، ضیاء الحق نے پاکستان کے تزویراتی محلِ وقوع اور خدمات کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے امریکہ سے مالی، عسکری اور سیاسی فوائد حاصل کیے، جس سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک کلیدی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ طرزِ عمل نظریاتی وابستگی کے ساتھ ساتھ نیوکلیئر ڈیٹرنس کی حکمتِ عملی کا بھی غماز تھا، جس میں جنرل ضیاء الحق نے 1987 میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے ایک سخت پیغام دیا کہ اگر جنگ مسلط کی گئی، تو پاکستان کی مادی تباہی کے باوجود مسلمان بطور تہذیب باقی رہیں گے، جب کہ ہندوؤں کے مکمل خاتمے کا خدشہ ہے۔

اس کے برعکس، جنرل پرویز مشرف نے 2001 میں نائن الیون کے بعد امریکی دباؤ کے تحت فوری اور غیر مشروط تعاون کا اعلان کیا۔ اس وقت امریکہ نے پاکستان سے گیارہ بنیادی مطالبات کیے، جن کی جزوی تکمیل بھی امریکیوں کے لئے کافی ہوتی، مگر مشرف نے تمام شرائط تسلیم کر لیں۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس درجہ غیر مشروط تعاون نے خود امریکی قیادت کو بھی حیران کر دیا اور پاکستان کو ایک خودمختار ریاست کے بجائے ایک مطیع اتحادی کے طور پر پیش کیا۔

موجودہ علاقائی و عالمی سیاسی تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت ایک بار پھر اہم تزویراتی فیصلوں کے دہانے پر ہے۔ مشرقِ و سطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔ عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد امریکی صدر کے بیانات کی روشنی میں یہ قرین از قیاس ہے کہ پاکستانی سپہ سالار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نے حالیہ امریکی دورے کے دوران واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی قیادت کو واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت۔ چاہے وہ براہِ راست اسرائیل کی جانب سے ہو یا بالواسطہ امریکی حمایت کے تحت۔ صرف ایران کو نقصان نہیں پہنچائے گی بلکہ اس کے شدید اور غیر متوقع ردعمل کے نتیجے میں اسرائیل کی ریاستی بقا بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ موقف پاکستان کی تزویراتی سوچ کا عکاس ہے، جو اس سے قبل جنرل ضیاء الحق کے دور میں کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے بھارت کو دیے گئے غیر روایتی مگر موثر سٹریٹیجک انتباہ کی یاد دلاتا ہے۔

پاکستان ایران کو نہ صرف ایک ہمسایہ اسلامی ملک بلکہ ایک بفر اسٹیٹ اور تزویراتی گہرائی کے محافظ کے طور پر دیکھتا ہے، جس کا جغرافیائی وجود مغربی سرحدوں کے استحکام اور وسطی ایشیائی خطے تک پاکستان کے رسائی مفادات کے لیے اہم ہے۔ کسی بھی ممکنہ ایران مخالف جنگ کو اسلام آباد اپنی سلامتی، علاقائی توازن اور جیو اسٹریٹیجک مفادات کے لیے خطرناک تصور کرتا ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ اسرائیلی قیادت کی جانب سے ماضی میں پاکستان مخالف بیانات سامنے آ چکے ہیں۔ پاکستان کا یہ موقف بظاہر اس تزویراتی بیانیے سے مماثلت رکھتا ہے جو روس نے یوکرین کے نیٹو انضمام کے خلاف اپنایا تھا۔ یعنی قریبی ہمسایہ ریاست میں مخالف طاقتوں کا اثر و رسوخ ایک قابلِ قبول حد سے تجاوز کرے تو اسے existential threat سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ، جو موجودہ ورلڈ آرڈر کا محافظ تصور کیا جاتا ہے، اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی جنگ ورلڈ آرڈر کو عدم توازن سے دوچار کر سکتی ہے جو کہ ایک ورلڈ ہیجمون کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔ اسی لیے حالیہ سفارتی روابط کے بعد امریکی رویے میں قدرے احتیاط اور تدبر دکھائی دیا ہے، جو بین الاقوامی تعلقات میں بالغ نظری اور سفارتی سنجیدگی کی علامت ہے۔ اس تناظر میں، اگرچہ پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کی کمی یا کسی ممکنہ مفاہمت کے آثار بھی زیرِ غور آئے ہوں گے، مگر اس سے کہیں بڑھ کر یہ عمل پاکستان کو عالمی تعلقات عامہ (international diplomacy) میں ایک بار پھر relevant بنانے میں معاون ہو سکتا ہے۔

جنرل منیر کی سفارتی سرگرمیوں کو اس تناظر میں ایک pre۔ emptive diplomacy کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پاکستان کی کوشش ہے کہ بڑی طاقتوں کو ممکنہ مہلک نتائج سے پیشگی آگاہ کیا جائے، تاکہ کسی نئی ہمہ گیر جنگ اور ڈومینو افیکٹ کے امکانات کو روکا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی نہ صرف پاکستان کے دفاعی اور علاقائی نظریات سے ہم آہنگ ہے بلکہ ایک ایسی عالمی ترتیب کے حق میں ہے جو طاقت کے بجائے گفت و شنید اور توازن پر مبنی ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنرل عاصم منیر اپنے پیش روؤں میں سے کس کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں؟ آیا وہ جنرل ضیاء الحق کی طرح اسٹریٹیجک وزڈم کے ساتھ پاکستان کے مفادات کو عالمی سطح پر کامیابی سے منوانے میں کامیاب ہوں گے یا جنرل مشرف کی مانند تمام شرائط بلا چوں و چرا قبول کر کے پاکستان کو محض ایک تابع ریاست بنا دیں گے؟ اس سوال کا جواب وقت ہی دے گا۔ تاہم، اس ملاقات کے نتیجے میں پاکستان عالمی سیاست میں ایک مرتبہ پھر اپنی اہمیت منوا کر ایک کلیدی کردار بن کر سامنے آیا ہے۔

Facebook Comments HS