عائشہ خان کی رخصتی اور تنہائی کی اذیت


چند روز قبل پاکستانی اداکارہ عائشہ خان اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ ایک نامور فنکارہ، جنہوں نے کئی برسوں تک ڈرامہ انڈسٹری میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا، اب خاموشی سے اس جہانِ فانی کو چھوڑ گئیں۔ مگر اس رخصتی میں جو پہلو سب سے زیادہ دل کو چھو گیا، وہ تھا اُن کی آخری دنوں کی تنہائی، وہ سناٹا جو اُن کے اردگرد تھا، وہ چہرے جو نہیں آئے، وہ رشتے جو پیچھے رہ گئے۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس پورے معاشرے کا نوحہ ہے، جہاں رشتے اب محض ناموں اور تقریبات تک محدود ہو چکے ہیں۔ کبھی ماں باپ کی اولاد سے جڑی امیدیں تھیں، بہن بھائیوں کے درمیان بے لوث محبت ہوتی تھی، دوست مشکل وقت میں سائبان بنتے تھے، لیکن آج؟ آج یہ سب کچھ دھندلا پڑ گیا ہے۔ عائشہ خان کی زندگی میں بھی رشتے تھے، شہرت تھی، مداحوں کی محبت تھی، مگر آخری وقت میں اُن کے ساتھ کون تھا؟ سوشل میڈیا پر ابھی تو خبریں بہت آ رہی ہیں، دعائیں بھی کی جا رہی ہیں، مگر ان تمام آوازوں کے بیچ وہ خاموشی غالب رہی جس نے اُن کی آخری سانسوں کو گواہ بنایا کہ انسان کی اصل تنہائی کیا ہوتی ہے۔

اس دور کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہم سب جڑنے کے دعوے کرتے ہیں، مگر دلوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ واٹس ایپ پر حال پوچھنے والے جب دروازے پر نہیں آتے، جب زندگی کی تھکن بانٹنے والا کوئی نہیں رہتا، تب انسان کو اپنے گرد بس ایک خاموش دیوار دکھائی دیتی ہے، جو نہ کچھ سنتی ہے نہ کہتی ہے۔ ہم سب ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں مصروفیات نے رشتوں کی سانسیں سلب کرلی ہیں۔ اب بہن بھائیوں کے درمیان صرف رسمی رابطے ہیں، اولاد کے پاس وقت نہیں، ماں باپ ”بوجھ“ محسوس ہونے لگے ہیں، اور دوست تب یاد آتے ہیں جب کوئی خوشی منانی ہو۔ دکھ، بیماری، پریشانی یہ سب اب تنہا ہی جھیلنے پڑتے ہیں۔

عائشہ خان کی موت ایک یاد دہانی ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اگر ہم نے اپنے رشتوں کو نہ سنبھالا، اپنے پیاروں کو وقت نہ دیا، اُن کی باتیں نہ سنیں، تو کل کو وہ ہمارے بغیر چلے جائیں گے اور ہمیں صرف اُن کی تصویریں، پرانی گفتگو، اور دل میں ایک خلش رہ جائے گی کہ کاش ہم ساتھ ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود سے پوچھیں، کیا ہم واقعی کسی کے لیے موجود ہیں؟ یا ہم نے بھی وہ فاصلہ اپنا لیا ہے جو عائشہ خان جیسے کئی لوگوں کو تنہائی کے اندھیروں میں لے جاتا ہے؟ اگر ہم آج وقت نہ نکال سکے، تو کل یہ پچھتاوا شاید ہماری اپنی آخری سانسوں کا حصہ بن جائے۔

اللہ عائشہ خان کو جنت میں جگہ دے اور ہمیں اتنی انسانیت دے دے کہ ہم اپنے رشتوں کو نبھانا سیکھ لیں کیونکہ تنہائی کی موت سب سے تکلیف دہ موت ہوتی ہے۔ اللہ پاک کسی کو بھی اس کرب سے نا گزارے۔

Facebook Comments HS