پرانی یادیں: ایوب خان بمقابلہ فاطمہ جناح

1965 پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین سالوں میں سے ایک تھا۔ اس سال کے دوران دو ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے پاکستانی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
1965 کے آغاز میں، میں آٹھویں جماعت میں تھا لیکن اپنے ارد گرد اس وقت رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں اپنے خیالات اور جذبات بہت واضح انداز میں یاد ہیں۔ اس مضمون کا مقصد 1965 میں وقوع پذیر ان تاریخی واقعات کو اپنے نقطہ نظر سے بیان کرنا ہے۔ میں مورخ نہیں ہوں۔ لیکن بچپن سے میں اخبار بہت باقاعدگی سے پڑھتا رہا ہوں۔ مجھے تاریخ کی کتابیں پڑھنے کا شوق رہا ہے۔ اس کے علاوہ بزرگوں سے گفتگو میں بھی دلچسپی رہی ہے۔ میری رائے اور نقطہ نظر ان ذرائع سے تشکیل پائے۔
اس سلسلے میں مجھے یہ بتانا چاہیے کہ میرے والد بہت روادار اور ملنے جلنے کے شوقین تھے اور میرے برعکس ان کے دوستوں کا حلقہ بہت وسیع تھا۔ ان کے دوست باقاعدگی سے ہمارے گھر آتے تھے۔ ان میں ان کے دفتر کے ساتھی، ہمارے قریبی اور دور کے رشتہ دار اور دوسرے جاننے والے شامل تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہر مہمان کی آمد پر میری والدہ چائے یا کھانے کا اہتمام کرتی تھیں، لیکن مہمانوں کے سامنے پیش کرنا میری ذمہ داری ہوتی تھی۔ اس زمانے میں ٹیلی فون عام نہیں تھے۔ اس طور مہمانوں کی کسی بھی وقت توقع کی جا سکتی تھی۔ مجھے وہ گرمجوشی یاد آتی ہے جس کے ساتھ میرے والدین ان کا استقبال کیا کرتے تھے۔
غیر معمولی بات یہ تھی کہ بہت چھوٹا ہونے کے باوجود چائے پیش کرنے کے بعد میں اپنے والد اور ان کے مہمانوں کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور ان کی بات چیت میں برابر کا شریک ہو جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جب وہ ان موضوعات پر گفتگو کر رہے ہوتے تھے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ عام طور پر میں ان کی گفتگو میں مداخلت نہیں کرتا تھا اور خاموشی سے سنتا رہتا تھا۔ لیکن اگر کوئی بات میری دلچسپی کا باعث ہوتی تو میں گفتگو میں حصہ لیتا تھا اور کافی احترام کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا۔ میں ہمیشہ اس بات پر شکر گزار رہا ہوں کہ میرے والد نے بچپن سے مجھے اور میری رائے کو وقعت دی۔ انہوں نے مجھ سے کبھی انہیں اور ان کے دوستوں کو چھوڑ کر جانے کا نہیں کہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے بہت کم عمری میں ہی بہت سے سماجی، سیاسی، حتیٰ کہ مذہبی مسائل کے بارے میں واضح رائے قائم کر لی۔
1965 کا پہلا بڑا واقعہ صدارتی انتخاب تھا جو 2 جنوری 1965 کو منعقد ہوا۔ یہ پاکستان کی 17 سالہ تاریخ میں پہلا قومی الیکشن تھا۔ اس الیکشن پر بات کرنے سے پہلے ایک مختصر پس منظر۔
پاکستان کی آئینی تاریخ بہت افسوسناک ہے۔ پہلے نو سال آئین نہیں بن سکا۔ میرے نزدیک اس طویل انتظار کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ پاکستان جس سیاسی تحریک کے نتیجے میں وجود میں آیا اس کی موجودہ پاکستان میں کوئی جڑیں نہیں تھیں۔ تقریباً پوری سیاسی قیادت ان علاقوں سے آئی تھی جو ہندوستان کا حصہ بنے۔ مشرقی پاکستان میں صورتحال مختلف تھی۔ آئین بنانے کا فوری نتیجہ انتخابات کا انعقاد ہوتا۔ حکمران طبقہ بشمول جناح اور لیاقت علی خان ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے تھے اور ان کے پاس ایسے حلقے نہیں تھے جہاں سے وہ الیکشن لڑ سکیں اور جیت سکیں۔ میری رائے میں یہ سب سے اہم عنصر تھا جس نے آئین کی تشکیل میں تاخیر کی۔
بہت طویل تاخیر کے بعد بالآخر آئین تیار کیا گیا اور 23 مارچ 1956 کو اسے نافذ کیا گیا۔ اس آئین میں پارلیمانی نظام حکومت کا تصور تھا۔ اس آئین کی نوعیت تقریباً وہی تھی جو انڈیا کے آئین کی۔ لیکن انڈیا نے برطانوی طرز کا آئین آزادی کے ایک سال کے اندر 1949 میں ہی بنا کر نافذ کر دیا تھا۔ آئین بننے کے بعد پہلا اہم کام پارلیمنٹ کے لیے انتخابات کا انعقاد تھا۔ انتخابات کے لیے مارچ 1959 کی تاریخ کا اعلان کیا گیا۔ تاہم جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ منصفانہ انتخابات حکمران سیاسی اشرافیہ کی شکست کا باعث بنیں گے۔ یہ احساس 7 اکتوبر 1958 کو آئین کی منسوخی اور مارشل لاء کے نفاذ کا باعث بنا۔ انتخابات منسوخ کر دیے گئے۔ اس ایکشن نے آئین کی حرمت سے وابستہ تصورات کو پاش پاش کر دیا اور ملک کی تاریخ پر ہولناک اثرات چھوڑے جن سے ہم آج تک نجات نہیں حاصل کر پائے۔
مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان تھے۔ مارشل لاء کے تحت ان کی پہلی کارروائیوں میں سے ایک یہ تھا کہ 1947 سے سیاست میں سرگرم رہنے والے بیشتر سیاست دانوں کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ فوجی راج اور فوجی مداخلت کی سیاہ رات شروع ہو چکی تھی جو آج تک جاری ہے۔ ایوب خان اور فوج نے پوری طاقت کا جو مزہ چکھا تھا اس کا نشہ ان کی شریانوں میں آج تک موجود ہے۔ پاکستانی تاریخ کے آنے والے کسی دور میں وہ مکمل اقتدار عام شہریوں کو واپس کرنے پر تیار نہیں ہوئے۔
ایوب خان نے 1962 میں ایک نیا آئین نافذ کیا۔ اس صدارتی طرز حکومت پر مبنی آئین کے تحت صدر کے پاس مکمل انتظامی اختیارات موجود تھے۔ مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بالواسطہ انتخابات کا ایک انوکھا طریقہ متعارف کرایا گیا۔ صدر کا انتخاب ون مین ون ووٹ کے اصول کے مطابق عوام کے ذریعے نہیں ہونا تھا۔ فوج کو ڈر تھا کہ ایک آزادانہ اور براہ راست الیکشن کا نتیجہ غیر متوقع ہو سکتا تھا اور ایک سویلین لیڈر، شاید مشرقی پاکستان کے بڑی آبادی والے صوبے میں اکثریت حاصل کر کے جیت سکتا تھا۔
نئے آئین کے مطابق بالواسطہ انتخابی نظام متعارف کرایا گیا۔ ملک اسی ہزار بنیادی جمہوریت کی اکائیوں میں تقسیم تھا۔ ہر یونٹ میں لوگوں نے ایک نمائندے کو منتخب کرنا تھا جسے بنیادی جمہوریت کا رکن کہا جاتا تھا۔ بنیادی جمہوریت کے ارکان کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہونا تھا۔ ان اسی ہزار بی ڈی ممبران نے پھر صدر منتخب کرنا تھا۔ یہ دنیا میں اپنی طرز کا انوکھا آئین تھا۔ عمومی طور پر تو شاید یہ آئین مناسب ہوتا لیکن پاکستان کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ پاکستان کے دو صوبے آپس میں ایک ہزار میل کی دوری پر تھے۔ مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان کی نسبت زیادہ تھی لیکن سیاسی اقتدار مغربی پاکستانیوں کے ہاتھ میں تھا۔ اس طور نئے آئین میں مشرقی پاکستانیوں کی محرومیوں کا مداوا نہیں تھا۔ اس غیر معمولی انتخابی نظام کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستانی آبادی کی اکثریت ناخواندہ تھی اور حکمرانوں کے انتخاب کے لیے ضروری فہم و فراست سے عاری تھی۔ تاہم اصل سوچ شاید یہ تھی کہ اسّی ہزار افراد کو خریدنا نسبتاً آسان ہو گا۔ اعلان کیا گیا کہ اس نئے آئین کے تحت پہلے صدارتی انتخابات 2 جنوری 1965 کو ہوں گے۔
انتخابی اعلان کے بعد سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا امیدوار کون ہو گا؟ حکومت کی طرف سے ایوب خان کی بحیثیت صدارتی امیدوار نامزدگی یقینی تھی۔ دوسری طرف یہ سوچ عام تھی کہ ایوب خان کو ہرانے کا امکان صرف اس صورت میں ہو گا اگر تمام اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ امیدوار ہو گا۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں کے لیے بڑے مسائل تھے۔ پہلی بات تو یہ تھی کہ امیدوار کو مشرقی اور مغربی پاکستان میں یکساں طور پر قابل قبول ہونا چاہیے۔ جن لوگوں کے نام لیے جا رہے تھے ان میں ایسا کوئی امیدوار نہیں تھا جس کی دونوں صوبوں میں پذیرائی ہو۔ اور پھر اپوزیشن جماعتیں نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں۔ اس طور یہ تقریباً ناممکن نظر آتا تھا کہ خواجہ ناظم الدین کی مسلم لیگ، مولانا مودودی کی جماعت اسلامی اور باچا خان کی عوامی نیشنل پارٹی کسی ایک امیدوار پر متفق ہوں گے۔ جو سیاستدان پچاس کی دہائی میں پاکستانی سیاست پر حاوی تھے وہ اب متحرک ہو چکے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ بہت سے لوگوں کو توقع تھی کہ جنرل اعظم خان امیدوار ہوں گے۔ انہوں نے 1958 کے مارشل لاء میں اہم کردار ادا کیا تھا جس میں ایوب خان نے اقتدار حاصل کیا تھا۔ انہیں مشرقی پاکستان کا گورنر مقرر کیا گیا تھا اور اس کردار میں بہت مقبول ہوئے۔ بحیثیت وزیر آبادکاری انہوں نے کراچی میں کورنگی کالونی قائم کی تھی جس کی بدولت کراچی میں بھی مقبول تھے۔
ان حالات میں یہ ایک حیران کن خبر تھی کہ پوری اپوزیشن فاطمہ جناح، جو بابائے قوم کی بہن تھیں، کو نامزد کرنے پر متفق ہو گئی۔ مجھے یاد ہے کہ یہ انتہائی غیر متوقع انتخاب تھا۔ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کی موت کے بعد سیاست میں حصہ نہیں لیا تھا اور ان کو سیاست سے بالا تر مادر ملت کا درجہ دیا جاتا تھا۔ ان سے وابستہ البتہ یہ بات عمومی طور پر جانی جاتی تھی کہ جب ایوب خان نے 1958 میں مارشل لا نافذ کیا تھا تو اس قدم کی انہوں نے کافی تعریف کی تھی۔ اب وہ ایوب خان کے مد مقابل تھیں۔ ان کے بارے میں یہ تاثر بھی عام تھا کہ وہ انتخابات میں جیتنے کی صورت میں آئین کو دوبارہ پارلیمانی نظام میں تبدیل کر کے اقتدار سیاسی پارٹیوں کے حوالے کر کے ریٹائر ہو جائیں گی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کو اس انتخاب کی توقع نہیں تھی۔ وہ تو ایک منتشر اپوزیشن کی توقع کر رہے تھے۔ لیکن اب تو فاطمہ جناح کی شکل میں ان کے سامنے ایک مضبوط حریف موجود تھا۔
اکتوبر 1964 سے انتخابی مہم کا آغاز ہو گیا۔ ملک بھر میں ایوب خان اور فاطمہ جناح کے جلسے شروع ہو گئے۔ ہمارے گھر سے بمشکل پندرہ منٹ کے فاصلے پر قلعہ بالا حصار کے سامنے جناح پارک تھا جہاں میں اکیلا ہی ان جلسوں میں شرکت کے لیے چلا جاتا تھا۔ یکم اکتوبر کو فاطمہ جناح اور تیرہ اکتوبر کو ایوب خان نے پشاور کے جناح پارک سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ ایوب خان کے جلسے میں لوگوں کی تعداد فاطمہ جناح کے جلسوں کی نسبت زیادہ لگتی تھی۔ لیکن بہت ساری بسوں کی موجودگی کے باعث لگتا تھا کہ بیشتر لوگ دور دراز علاقوں سے لائے گئے ہیں۔ فاطمہ جناح کے جلسوں میں شرکا کی اکثریت لوکل لوگوں پر مشتمل لگتی تھی۔ جہاں تک مجھے یاد ہے، ایوب خان کے جلسے میں صرف ایوب خان ہی مقرر تھے۔ ان کی اردو میں روانی نہیں تھی۔ وہ اپنی حکومت کے کارنامے سناتے رہے۔ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے بٹیروں کی مثال دی کہ کس طرح بٹیروں کی لڑائی میں جب ایک بٹیر ہار جاتا ہے تو دوبارہ لڑنے نہیں آتا۔ ان کا اشارہ ان سیاستدانوں کی طرف تھا جو پچاس کی دہائی میں حکومت کر چکے تھے اور اب فاطمہ جناح کی حمایت کر رہے تھے۔
فاطمہ جناح کے جلسوں کی خاص بات ان رہنماؤں کی سٹیج پر موجودگی تھی جن کے میں نے نام سن رکھے تھے لیکن ایوب خان کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے باعث ان کو دیکھنے اور سننے کا اتفاْق نہیں ہوا تھا۔ ان میں سر فہرست خواجہ ناظم الدین تھے جو پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے وزیر اعظم تھے۔ ان کے علاوہ ممتاز دولتانہ، با چا خان، مولانا مودودی، ایوب کھوڑو اور دیگر رہنماؤں نے تقریریں کیں۔ فاطمہ جناح اور دیگر مقررین کا زور اس بات پر تھا کہ اگر وہ الیکشن جیت گئے تو پارلیمانی نظام کی شکل میں حقیقی جمہوریت لے آئیں گے۔ یہ بات یوں عجیب تھی کہ جن بی ڈی ممبروں نے ان کو ووٹ دینا تھا، وہ ان کو ہی ختم کرنے کی بات کر رہے تھے۔ جیسے ہوتا ہے، وقت کے ساتھ الیکشن کی مہم میں خوب گرمی آتی گئی اس امر کے باوجود کہ جو عوام جلسوں میں جا رہے تھے اور خوب جذباتی تھے، انہیں تو ووٹ ڈالنے کا حق ہی حاصل نہیں تھا۔ بی ڈی ممبروں کی البتہ حکومت کی طرف سے خوب آؤ بھگت ہو رہی تھی۔
الیکشن کے دن لوگوں کو ایک سخت مقابلے کی توقع تھی۔ بیشتر لوگ تو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ فاطمہ جناح کو شکست دینا ممکن نہیں ہو گا۔ لیکن جب ریڈیو پر رزلٹ آنا شروع ہوئے تو ابتدا سے ہی یہ بات واضح تھی کہ ایوب خان بھاری اکثریت سے جیت جائیں گے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ سوائے کراچی اور ڈھاکہ کے انہوں نے ہر جگہ کامیابی حاصل کی تھی۔ ایوب خان نے الیکشن تو جیت لیا لیکن یہ فتح بالآخر ان کی ناکامی پر منتج ہوئی۔
سب سے پہلی بات یہ کہ یہ تاثر عام تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ بیشتر الیکشن کے نتائج متنازعہ رہے ہیں۔ الیکشن کی شفافیت پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ اس تاثر سے ایوب خان کی حکومت کی ساکھ میں نمایاں کمی آئی۔ تاہم جس چیز نے ایوب خان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا وہ انتخابات کے بعد کراچی میں رونما ہونے والے واقعات تھے۔ کراچی والوں نے فاطمہ جناح کو ووٹ دیا تھا۔ ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب خان نے کراچی میں فتح کا جلوس نکالا جس نے کراچی کے ان علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کی جو فاطمہ جناح کے گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ ہمارے بہت سے رشتہ داروں نے، جنہوں نے تقسیم کے وقت ہندوستان سے ہجرت کی تھی اور بڑے پیمانے پر خونریزی دیکھی تھی، ان واقعات کو تقسیم کے وقت پیش آنے والے واقعات سے بھی بدتر قرار دیا۔ ان واقعات کی خبروں نے ایوب خان کی ساکھ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
پھر ایوب خان نے وہ قدم اٹھایا جس نے ملکی سالمیت کو تو داؤ پر لگا دیا، لیکن کچھ عرصے کے لیے ان کی مقبولیت بحال ہو گئی۔

