ریڈیو پاکستان لاہور کے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے بات چیت (1 )


ریڈیو پاکستان لاہور میرا دوسرا گھر ہے۔ لاہور آنا ہو تو یہاں ضرور آتا ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے پروگرام منیجر سلیم بزمی صاحب سے ان کے براڈکاسٹنگ سفر پر بات ہوئی۔ پھر اتنے برس یہاں گزارنے کے بعد کیا وہ مطمئن ہیں؟ اور آخر میں بچتے بچاتے آج ریڈیو پاکستان کا جو حال ہے اس کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی۔ ویسے عید تک انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیے۔ آج کل چھٹیوں پر ہیں۔

موسیقی کا آغاز

” میرا موسیقی کا سفر بچپن سے شروع ہوتا ہے۔ میرے دادا اور دادی حج سے واپسی پرایک ریڈیو سیٹ لائے۔ میں تب چھوٹا تھا۔ مجھے بڑا اچھا لگا کی ایک چھوٹے سے ڈبے میں سے آوازیں اور گانے آتے ہیں۔ وہاں سے میرا ریڈیو سُننا شروع ہوا۔ اُس وقت ریڈیو پاکستان ہی ایک میڈیم تھا۔ میں میڈم نورجہاں، مہدی حسن، عنایت حسین بھٹی، مسعود رانا، سلیم رضا، غلام علی اور دیگر گلوکاروں کو بہت شوق سے سنتا تھا۔ میں نے میڈم کے گانے یاد کر لیے اور غلام علی صاحب کی غزلوں کو گنگناتا تھا اور کمرہ بند کر کے میز بجا کر گاتا تھا۔ قدرتی طور پر میرے ذہن میں یہ چیز موجود تھی۔ میں نے گورنمنٹ ہائی اسکول علی پور چٹھہ، ضلع گوجرانوالہ سے میٹرک میں ٹاپ کیا اور میرا داخلہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہو گیا“ ۔

موسیقی اور گانے کا سفر

” گورنمنٹ کالج لاہور میں باقاعدہ ڈاکٹر نذیر احمد میوزک سوسائٹی تھی۔ طارق سلمان فارانی اس کے انچارج تھے۔ میں نے بھی اس کی ممبر شپ لے لی۔ یہاں میرے ساتھ شفقت امانت علی، علی عمران شوکت، عمران جعفری، وارث بیگ، حدیقہ کیانی، علی ظفر تھے۔ ہر ویک اینڈ پر میوزک کنسرٹ ہوتا جہاں گانے کا شوق رکھنے والے طلباء گاتے۔ مجھے تب موسیقی کی تکنیک کا نہیں پتا تھا۔ اسی لئے میں نے سب سے پہلے شفقت امانت علی خاں صاحب سے کہا کہ مجھے ہارمونیم بجانا نہیں آتا۔ انہوں نے بلاول ٹھاٹھ پر میرے ہاتھ رکھوائے اور اسی ٹھاٹھ کی آروہی اور امروہی بتائی اور مشق کرنے کا کہا۔ یہاں سے میرے گانے کا سفر شروع ہوا“ ۔

” میں کالج میں مُکیش، کِشور کُمار اور محمد رفیع کے گیت گاتا تھا۔ یہاں سے گریجویشن کے بعد اسلامیہ کالج سول لائنز میں ایم اے انگلش میں داخلہ ہو گیا۔ لیکن میں روزانہ گورنمنٹ کالج لاہور کی میوزک سوسائٹی میں آتا تھا کیوں کہ گانے والے سارے دوست وہیں تھے۔ پٹیالہ گھرانے کے استاد امانت علی خان کے بیٹے شفقت امانت علی کلاسیکل گاتے تھے۔ اُن سے راگوں کو سُن سُن کر مجھے بھی اُن کے استھائی انترے، بندشوں کے ساتھ یاد ہو گئے۔ اس دور میں لوگ اپنے گھروں میں بہت فنکشن کرایا کرتے تھے۔ میں نے اور شفقت امانت علی نے پورے پنجاب میں فنکشن کیے۔ پروگرام کے شروع میں دو گیت میں گاتا پھر خاں صاحب ہارمونیم لے کر بیٹھ جاتے تھے“ ۔

موسیقار وزیر حسین صاحب کی شاگردی

” ایم اے کے دوران میرے ایک دوست راجہ ارشد صاحب جو آج کل سیشن جج ہیں تب وہ وکیل تھے۔ مجھ سے کہنے لگے کہ کیوں نہ وہ مجھے موسیقار جوڑی بخشی وزیر کے وزیر حسین صاحب کا شاگرد کروا دیں؟ میں نے کہا نیکی اور پوچھ پوچھ! وہ مجھے راجہ چیمبرز، مزنگ چونگی میں واقع وزیر حسین صاحب کی میوزک اکیڈمی لے گئے۔ وزیر صاحب کہنے لگے کہ میں سنے بغیر کسی کو شاگرد نہیں کرتا۔ میرا چونکہ گورنمنٹ کالج سے گانے کا تجربہ تھا لہٰذا میں نے باجا پکڑا اور راگ بھوپالی میں اسد امانت علی خاں صاحب کی کمپوزیشن ’عمراں لنگیاں۔ ‘ پورا سرگم کے ساتھ سنا دیا۔ اس پر وزیر صاحب بہت خوش ہوئے اور مجھے شاگرد کر لیا۔ یہ میرے پہلے با ضابطہ استاد ہیں۔ میں نے ان سے راگ مالکونس، بھوپالی، باگیشری، بھیم پلاسی اور بھیرویں کے استھائی انترے اور سرگم پلٹے باقاعدہ لکھوا کر یاد کیے۔ میں اُن کے پاس تقریباً ڈھائی سال باقاعدگی سے گیا۔ وہ خود ہارمونیم بجا کر مجھے ریاض کرواتے تھے۔ وہاں میرے علاوہ اور بھی سیکھنے والے آتے تھے جیسے فلمی اداکارہ زارا شیخ جو اس وقت سیمی شیخ تھیں، ریاض کرتیں اور اچھا گاتی تھیں۔ اسی طرح شازیہ منظور۔ پھر بخشی صاحب (وزیر حسین صاحب کے بہنوئی) سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے بھی مجھے موسیقی کے اسرار و رموز بتلائے۔ وزیر حسین فلم کے لاجواب کمپوزر تھے میں نے ان سے پوچھا کہ کم و بیش تمام ہی میوزک ڈائریکٹر فلم میں کام کر رہے ہیں اور آپ کیوں میوزک اکیڈمی کھول کے بیٹھ گئے؟ کہنے لگے کہ میں نے جو فلمی گانے کمپوز کیے وہ انڈیا والوں نے اپنی فلم میں لئے۔ اب جب میں فلم انڈسٹری میں جاتا ہوں تو وہاں کے فلمساز کہتے ہیں کہ انڈیا کا فلاں گانا میں نے پنجابی میں لکھوایا ہے بس اُس جیسا بنا دیں۔ اب میں تو ایسا کام نہیں کر سکتا، میں تو اصل گانے بنانے والا موسیقار ہوں اس لئے میں نے فلم انڈسٹری کو چھوڑ دیا“ ۔

’ اکھ لڑی بدو بدی، موقع ملے کدی کدی۔‘

وزیر حسین نے ایک دلچسپ بات بتائی ”جب سُپر ہِٹ فلم ’بنارسی ٹھگ‘ ( 1973 ) کے گانے بن رہے تھے تو ہدایت کار اقبال کاشمیری مجھے کہنے لگے کہ ایک تیز اور اُٹھا ہوا کلب کا گانا بنانا ہے۔ ’اکھ لڑی بدو بدی، موقع ملے کدی کدی۔‘ یہ گانا لکھا ہوا میرے سامنے آیا۔ میں نے اسے اپنے حساب سے کمپوز کیا۔ اقبال کاشمیری کہنے لگے کہ نہیں جی! اسے اور اٹھائیں! میں نے کہا کہ اسے کیا چھت پر چڑھا دوں؟ میں نے فلمساز کو بلوایا اور کہا کہ یہ اپنا کام کریں اور مجھے اپنا کام کرنے دیں۔ تو آپ دیکھیں کہ یہ گانا ہِٹ ہو گیا“ ۔

فلم ’اَت خدا دا ویر ( 1970 )

وزیر حسین صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: ”جب فلم ’اَت خدا دا ویر‘ ( 1970 ) میں تنویرؔ نقوی صاحب کا لکھا ہوا گانا ’جدوں ہولی جئی لینا ایں میرا ناں، میں تھاں مر جانیاں‘ مقبول ہوا تو بمبئی سے نامور موسیقار جوڑی لکشمی کانت پیارے لال والوں کا فون اور خط بھی آیا۔ انہیں ایک فلم ملی جس میں راگ درباری میں لتا منگیشکر کے لئے ایک گانا بنانا تھا۔ کہنے لگے کہ میں درباری کے جس کونے میں بھی جاتا ہوں وہیں آگے آپ کھڑے نظر آتے ہیں۔ تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ کا یہ گانا اپنی فلم میں لے لوں۔ اِس پر میں نے لکشمی کانت سے کہا کہ یہ گانا آپ کا اپنا ہی ہے اور آپ اسے خوشی خوشی کریں“ ۔ واضح ہو کہ پھر لکشمی کانت پیارے لال صاحبان نے یہ گانا فلم ’موم کی گڑیا‘ ( 1972 ) میں گیت نگار آنند بخشی سے کچھ تبدیلیوں کے بعد لتا منگیشکر اور خود آنند بخشی کی آواز میں دوگانے کی صورت ریکارڈ کروایا: ’باغوں میں بہار آئی۔‘ ”۔ سلیم بزمی صاحب اپنے استاد وزیر حسین صاحب کے بارے میں کہتے ہیں :“ دیکھیں ہمارے موسیقار ایسے تھے ”۔

غلام عباس کی شاگردی

” وزیر حسین صاحب ڈھائی سال بعد فوت ہو گئے۔ میرا دل ٹوٹ گیا۔ وہ بہت شفیق انسان تھے۔ اتنا اچھا بتاتے تھے جتنا کوئی کسی کو میوزک نہیں بتاتا! میں نے افسردہ ہو کر اپنا خریدا ہوا ہارمونیم بیچ دیا۔ اسی دوران میں اپنے دوست ڈاکٹر ظفر سے ملنے گیا۔ جب ان کے گھر پہنچا تو گلوکار غلام عباس صاحب بیٹھے تھے۔ میرا تعارف غلام عباس صاحب سے کرایا اور کہا کہ انہیں بھی گانے کا شوق ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اپنے استاد صاحب کے فوت ہو جانے کے بعد اب میں نے گانا چھوڑ دیا ہے۔ پوچھا کہ آپ کے استاد کون تھے؟ میں نے کہا کہ بخشی وزیر صاحبان۔ کہنے لگے کہ وہ فوت ہو گئے تو ہم ہیں نا! آپ پوچھیں کیا پوچھنا ہے! یقین جانیے انہوں نے وہیں ہارمونیم پر بیٹھے بیٹھے اتنی زیادہ موسیقی کی رمزیں بتا دیں کہ میں ساری زندگی بھی مشق کرتا رہوں تو ختم نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو اور بھی دیں گے۔ ابھی اس کی مشق کریں۔ اس میں انہوں نے 10 ٹھاٹھ اور مختلف ٹھاٹھوں کے راگ بتائے۔ اُس زمانے میں آڈیو کیسٹ کا دور تھا، ڈاکٹر ظفر نے ایک کیسٹ سنائی جس میں غلام عباس صاحب کی آواز میں 200 راگوں کے استھائی انترے ریکارڈ تھے! کتنی عجیب بات ہے کہ ماسٹر منظور صاحب غلام عباس صاحب کو خاں صاحب کہتے تھے یعنی خاں صاحب غلام عباس خان اور مہدی حسن کو صرف مہدی حسن“ ۔

موسیقی کا سفر دوبارہ

” اِس کے کچھ عرصہ بعد 24 دسمبر 2001 سے میرا موسیقی کا سفر دوبارہ شروع ہوا جب میں ریڈیو پاکستان سے بحیثیت پروڈیوسر منسلک ہوا۔ خالد اصغر صاحب اُس وقت اسٹیشن ڈائریکٹر تھے جو خود بھی میوزک کے آدمی تھے۔ اُن کا ہارمونیم پی اے کے کمرے میں پڑا ہوا تھا۔ میں صبح جب ’جوائننگ‘ دینے آیا تو ہارمونیم دیکھ کر پوچھا کہ کس کا ہے؟ بتایا گیا کہ اسٹیشن ڈائریکٹر کا۔ میں نے اُس پر ایمن چھیڑا اور رفیع صاحب کا گانا ’دل جو نہ کہہ سکا، وہی رازِ دل کہنے کی رات آئی‘ گایا۔ وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے کہ کون گا رہا ہے۔ کچھ افراد نے تعریف بھی کی۔ خالد صاحب کو پتا چل گیا کہ کسی نے ان کا ہارمونیم بجایا ہے۔ جب انہوں نے نئے آنے والے پروڈیوسروں کو اپنے کمرے میں بلوایا تو پوچھا کہ آپ میں سے میرا ہارمونیم کس نے چھیڑا ہے؟ میں نے کہا کہ جی میں نے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ آئندہ نہیں چھیڑنا۔ پھر انہوں نے میرے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے میوزک کا کام سونپا۔ تب سے اب تک میوزک پروڈیوسر ہوں“ ۔

” میں نے کلاسیکل، نیم کلاسیکل، ٹھُمری، دادرا، ٹپّہ، لائٹ غزل، گیت، خصوصی موقع کے گیت، کلامِ اقبال، قائدِاعظم پر گیت، شخصیات پر گیت، فصلوں کے گیت، موسموں کے گیت وغیرہ پیش کیے۔ میں نے اندازہً 21 سالہ سروس میں ہر قسم کا گیت پروڈیوس کیا ہے“ ۔

لوری پر کام

” موسیقی کی اصناف پر بات ہو رہی ہے۔ کیا کبھی آپ نے کسی استاد سے ’لوری‘ بھی کروائی؟“
” میں نے شاید فتح علی خان حیدرآبادی کے ساتھ لوری پر کام کیا تھا۔ اب ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا“ ۔

7500 سے زیادہ آئٹم

” میں نے تمام کلاسیکل گلوکاروں کو اپنی پروڈکشن میں گوایا جیسے غلام حسین شگن صاحب اور قادر علی شگن صاحب۔ یہ دونوں باپ بیٹا اکٹھے گاتے تھے۔ اس کے بعد پٹیالہ گھرانے کے فتح علی خاں اور حامد علی خاں صاحبان۔ پھر جعفر غلام شبیر خاں صاحب، مبارک علی خاں صاحب، اُستاد تصدق علی خاں صاحب، شرافت علی خاں صاحب جو سلامت علی خاں صاحب کے بڑے بیٹے تھے، شفقت سلامت علی خاں صاحب۔ پھر بہت سے نئے کلاسیکل گانے والوں کو میں نے ریڈیو سے منظور کروا کر ریکارڈ کیا۔ پھر لائٹ کلاسیکل میں ٹھمری اور دادرا۔ غزل میں غلام علی، فریدہ خانم، آصف مہدی، حامد علی خاں، اسد امانت علی خاں، پرویز مہدی، غلام عباس، انور رفیع، شاہدہ مِنی، شبنم مجید، فریحہ پرویز، سائرہ نسیم، آصف جاوید، فدا حسین ( یہ بھی میرے استاد تھے ) اور دوسرے۔ ایک دن میں حساب لگا رہا تھا تو وہ تمام اصناف جو میں نے اپنی سروس کے دوران ریکارڈ کیے وہ 7500 سے زیاد بنتے ہیں۔ اتنے کسی بھی پروڈیوسر نے نہیں کیے“ ۔

میری خوش قسمتی

” ایک تو خود گانے کا شوقین پھر وہ سارے استاد اور موسیقار مجھے یہاں مل گئے جیسے اختر حسین اکھیاں، اُن کے ساتھ میں نے ڈھائی سال کام کیا۔ انہوں نے مجھے ریاض کا وہ طریقہ بھی بتایا جو اُن کا اپنا تھا۔ میں اُس طریقے سے ریاض بھی کرتا رہا۔ میں گولڈن جوبلی پنجابی سُپر ہِٹ فلم“ سِدھا رستہ ” ( 1974 ) سے اُن کا پرستار بنا تھا۔ جس میں مہدی حسن اور نورجہاں وغیرہ کے گیت تھے۔ میوزک ڈائریکٹر نذیر علی اُن کے شاگردوں میں سے ہیں اور اکھیاں صاحب کے فلمی گیتوں میں ڈھولک بجاتے تھے“ ۔

اکھیاں صاحب اور فلم ’سدھا رستہ‘

” نذیر علی بحیثیت میوزک ڈائریکٹر غالباً اپنی دوسری فلم“ سلطان ”( 1972 ) کے گیت ’دلدار صدقے، لکھ وار صدقے‘ سے مشہور ہو گئے۔ اکھیاں صاحب نے یہ بات مجھے بتائی کہ فلمساز نے مجھے بلوایا اور کہا کہ آپ اپنے شاگرد کا کورس دیکھیں کتنا ہِٹ ہوا ہے۔ اب ہم فلم“ سدھا رستہ ”شروع کر رہے ہیں ہمیں اس میں بھی کورس چاہیے اور اُس کورس میں لگے کہ نذیر علی شاگرد اور آپ اس کے استاد ہیں۔ اختر صاحب نے کہا کہ پھر پیسے میں اپنی مرضی سے لوں گا۔ فلمساز نے حامی بھر لی۔ تب اختر صاحب نے کہا کہ میں 75,000 روپے اور ڈرائیور کے ساتھ ایک گاڑی لوں گا جب کہ اس وقت میوزک ڈائریکٹر 10000 روپے لیتا تھا۔ مزید یہ کہ آپ نے مجھ سے یہ نہیں پوچھنا کہ گانے کب کرنے ہیں۔ میں اپنا گیت نگار بھی ساتھ لوں گا۔ فلمساز نے اسی وقت پچھتر ہزار روپے اور ڈرائیور کے ساتھ گاڑی دے دی۔ اختر صاحب نے بتایا کہ میں نے ڈھولک والے اور گیت نگار کو ساتھ لیا اور سیدھا مری میں جا کر کمرہ لیا۔ گیت نگار لکھتا جاتا اور میں دھنیں بناتا جاتا تھا۔ تقریباً مہینے بعد میں لاہور واپس آیا اور کورس ’اک اک شے چنا لبھ کے سجائی اے‘ سنایا۔ اس گانے کی ارینجمنٹ آپ آج بھی سنیں تو اس طرح لگتا ہے جیسے یہ آج کا گانا ہے۔ انہوں نے اس گانے میں بولوں کے لحاظ سے سازوں کا چناؤ اور ان کا استعمال کیا۔ اس فلم کے تمام گانے ہٹ تھے۔ اسی وجہ سے میں اکھیاں صاحب کا پرستار تھا“ ۔

” تو جب سی پی یو لاہور میں میری پوسٹنگ ہوئی تو سید شہوار حیدر میرے سینئر تھے۔ اُن سے میں نے پوچھا کہ موسیقار کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ مجاہد حسین، سلیم حیدر، رفیق حسین، طالب حسین، ماسٹر منظور حسین، استاد غلام حیدر خاں صاحب، معین بوبی اور آخر میں اختر حسین اکھیاں کا نام لیا۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ کیا اختر حسین اکھیاں صاحب بھی یہاں آتے ہیں؟ تو مجھے کہا کہ ہاں آتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اب وہ جب آئیں تو مجھے ضرور بتائیے گا“ ۔

اکھیاں صاحب سے پہلی ملاقات

” ایک دن میں صبح دس بجے شہوار صاحب کے کمرے میں آیا تو ایک صاحب کاٹن کا سوٹ پہنے نظر آئے۔ شہوار صاحب کہنے لگے کہ آپ اختر حسین اکھیاں صاحب کا پوچھ رہے تھے نا، یہی اختر صاحب ہیں۔ میں تو سیدھا ان کے قدموں میں چلا گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کیا لاجواب آرٹسٹ ہیں۔ میں ان کو لے کر اسٹوڈیو چلا گیا۔ وہاں میں نے ہارمونیم پر اُن کو ان ہی کے گانے سنائے۔ وہ بڑے خوش ہوئے۔ ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر عبدا اللہ، طافو صاحب اور اختر صاحب مزنگ گھرانے کے ہیں۔ ماسٹر عنایت حسین کے بارے میں اختر صاحب نے بتایا کہ ہم ان کے سامنے بولتے نہیں تھے۔ اگر کبھی ان کے پاس جانا ہوتا تو وہ اپنی بیٹھک میں خاموشی سے ٹہل رہے ہوتے۔ میری جرات نہیں ہوتی تھی کہ میں ان سے کچھ بولوں۔ بس چُپ چاپ دو زانو ہو کر ان کے سامنے بیٹھ جاتا کہ یہ خود ہی اس کیفیت سے نکلیں گے تو مجھ سے بات کریں گے۔ وہ اس کیفیت میں فلمی گیت کی دھنوں کا سوچ رہے ہوتے تھے۔ اختر صاحب نے کہا کہ عین اسی طرح ماسٹر عنایت حسین کے سامنے ماسٹر عبدااللہ بھی خاموشی سے جا کر بیٹھ جاتے تھے“ ۔

اختر حسین اکھیاں نے امانت علی خاں کو غزل گائیک بنا دیا

”اسی طرح مجھے اکھیاں صاحب نے ایک اور مزیدار واقعہ سنایا۔ استاد امانت علی خان اور اختر اکھیاں دونوں آپس میں دوست تھے۔ ایک دن اختر صاحب نے امانت علی خاں صاحب سے کہا کہ امانت علی! تم مجھے نذر دو۔ اس پر امانت علی نے کہا کہ اختر! میں تم کو کس چیز کی اور کیوں نذر دوں؟ تو اختر صاحب نے کہا کہ مجھے آپ اس چیز کی نذر دیں کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اس پر امانت علی خان صاحب نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ سو کا نوٹ نکال کر کہا کہ لیں اگر ایسی بات ہے تو یہ پکڑیں۔ میں نے نذر لے کر جیب میں ڈالی اور کہا کہ صبح ریڈیو پاکستان آ جائیں۔ کہتے ہیں کہ میں امانت علی سے پہلے ریڈیو آ گیا۔ رضی ترمذی صاحب اسٹیشن ڈائریکٹر تھے میں ان کے پاس چلا گیا اور کہا کہ رضی صاحب! مجھے کوئی اچھی سی غزل تو نکال کر دیں۔ پوچھا کہ کیا کرنا ہے؟ میں نے کہا کہ استاد امانت علی خان سے گوانی ہے۔ ترمذی صاحب کہنے لگے کہ یہ کیا بات کر رہے ہیں وہ تو کلاسیکل گویے ہیں اور لائٹ تو گاتے ہی نہیں۔ میں نے کہا کہ اب وہ لائٹ بھی گائیں گے“ ۔ تو اسٹیشن ڈائریکٹر صاحب نے حیدر علی آتشؔ کی غزل دی

یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رو برو کرتے
ہم اور بلبلِ بیتاب گفتگو کرتے

اختر صاحب کہتے ہیں کہ میں اسٹو ڈیو چلا گیا اور اسی وقت کمپوز کی۔ ساتھ ہی امانت علی خاں صاحب آ گئے۔ میں نے وہ غزل انہیں یاد کروائی۔ وہ آن ائر گئی اور پورے ملک میں مشہور ہو گئی۔ پھر ظہیر کاشمیری کی غزل ’موسم بدلا رُت گدرائی اہلِ جنوں بیباک ہوئے‘ وہ بھی ہِٹ ہوئی۔ پھر رضی ترمذی صاحب کی غزل ’دل میں میٹھے میٹھے درد کے پھول کھلے‘ ۔ پھر اداؔ جعفری کی غزل ’ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے۔ ‘ پھر درباری میں قتیلؔ شفائی صاحب کا کلام ’آ میرے پیار کی خوشبو‘ ۔ پھر تو ایک لمبی قطار یوں استاد امانت علی خان غزل گائیک کے طور پر بھی پہچانے گئے۔ تو یہ اختر حسین اکھیاں صاحب کی نظر تھی کہ امانت علی خاں کی آواز میں انہیں ایک بڑا غزل گائیک دکھائی دے رہا تھا۔
(جاری ہے )

Facebook Comments HS