مارکسی دانشور اور بابائے صحافت خورشید عالم کی یادیں


 

حال ہی میں ترقی پسند خیالات کی ترویج و ترقی کی نامور علم بردار اور سوشلسٹ راہنما نزہت عباس جی کی مرتب کردہ کتاب ”خورشید عالم، یادیں، باتیں اور خطوط“ کی فیصل آباد میں تقریب رونمائی ہوئی، جِس میں نامور مارکسی دانشور اور صحافت کے درخشاں ستارے خورشید عالم کی یادوں، باتوں اور خطوط کو یکجا کر کے کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ نزہت جی کا کہنا ہے کہ ان کے خطوط اور مضامین اردو میں لکھے گئے تھے مگر ان کی خواہش تھی اس کتاب کو اردو اور پنجابی میں شائع کیا جائے۔ اس لیے وہ پنجابی (شاہ مکھی اور گُورمکھی) رسم الخط میں شائع کرنے پر بھی کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب کو لکھنا، ترتیب دینا، اس میں بقیدِ حیات دوستوں کو حتی الوسع شامل کرنا اور خورشید عالم کے خطوط کا ساتھ چھپنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ خورشید عالم کی یادوں، باتوں اور خطوط کو انہوں نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں ہمراز احسن، مسعود قریشی، ڈاکٹر عبدالرحمان، یاسمین احمد، حسن جعفر زیدی، اسماء کوثر، اطہر عباس، راشد نعیم، ڈاکٹر علی امین، محمد عباس، زاہد شکیل اور نزہت عباس کے مضامین شامل ہیں۔ کتاب کے دوسرے حصے میں ڈاکٹر مبشر حسن سے بات چیت انٹرویوز اور تیسرے حصے میں خو رشید عالم بنام نزہت عباس کا ایک سلسلہ شامل ہے۔

برطانیہ کے شہر آکسفورڈ میں قیام پذیر نزہت عباس اور ان کے شوہر محمد عباس ترقی پسند رجحانات کی ترویج و ترقی کا مضبوط مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ وہ محنت، عزم، مستقل مزاجی، محبت، یکجہتی اور باہمی احترام کا اعلیٰ امتزاج ہیں اور ہر موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہتے ہیں۔ نزہت جی ایک شاعرہ بھی ہیں، ادیب بھی، کہانی نویس بھی، تخلیق کار بھی، موسیقار بھی، مادری زبان کی مستند وکیل بھی اور سب سے بڑھ کر انقلابی کارکن و راہنما بھی ہیں۔ وہ ایک دہائی سے عوامی ورکرز پارٹی کے ساتھ منسلک ہیں اور اس کی برطانیہ چیپٹر کی نائب صدر رہ چکی ہیں۔ وہ مارچ 2022 ء سے پارٹی کی فیڈرل کمیٹی (مرکزی کمیٹی) کی رکن ہیں۔ نزہت جی کو اپنے بچپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ ان کی خورشید عالم کے ساتھ بہت رقابت تھی، یوں سمجھیے کہ ان کی نظریاتی اور سیاسی تربیت سہرا خورشید عالم جی کے سر جاتا ہے۔ کالج پہنچیں تو ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ وابستہ ہو گئیں اور اس کے مرکزی رہنماؤں میں شمار ہوتی تھیں۔ پھر عالمی ادب میں اعلیٰ تعلیم کے لیے پیٹرس لوممبا یونیورسٹی ماسکو چلی گئیں۔ پاکستان واپس آ کر آکسفیم برطانیہ کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اسی زمانے میں انہوں نے نامور ترقی پسند دانشور و براڈکاسٹر اسلم اظہر کی رہنمائی اور تربیت میں پاکستانی عورتوں کی تعلیم، صحت اور روز گار بارے تین ڈاکومنٹریز مرتب کیں۔ برطانیہ میں وہ ایک عرصہ سے ایک غیر سرکاری ادارے کے ساتھ چھوٹے بچوں کی بنیادی تعلیم و تربیت بارے کام کر رہی ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں اور چند برس قبل انہوں نے احمد سلیم کے مل کر جام ساقی کی زندگی اور جدوجہد پر کتاب مرتب کی تھی، پھر نامور ترقی پسند رہنما باجی نسیم شمیم ملک کے انٹرویوز پر مشتمل ڈیجیٹل ڈاکومنٹری مرتب کی، اور اب انہوں نے خورشید عالم، یادیں، باتیں اور خطوط مرتب کر کے اردو ادب اور ترقی پسند رجحانات کی ترویج و ترقی میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ ایک پُر عزم، با عمل اور مستقل مزاج انقلابی کارکن ہونے کے ناتے ان کی تحریریں عوامی مسائل اور حقوق کی جدوجہد کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور گہرا اثر رکھتی ہیں۔

جہاں گرد، بت شکن، اور شیخ با چراغ کے قلمی ناموں سے لکھنے والے خورشید عالم اعلیٰ پائے کے ترقی پسند ادیب، مارکسی دانشور اور بابائے صحافت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا سفر تحریک خلافت سے متاثر ہوتے ہوئے مجلس کبیر پاکستان سے شروع کیا، اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے اپنا قلمی جہاد زندگی بھر جاری رکھا اور ملک کے نامور اخبارات اور رسالوں میں ان گنت مضامین لکھے۔ خورشید عالم 12 دسمبر 1911 ء کو پوٹھوار کے شہر گوجر خان کے ایک پڑھے لکھے گھرانے میں پیدا ہوئے، جہاں میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد گارڈن کالج راولپنڈی سے بی اے کی ڈگری مکمل کر کے انہوں نے محکمہ ڈاک میں ملازمت اختیار کر لی۔ بعد ازاں 1947 ء میں کراچی سے قندیل اخبار نکالنے کا موقع ملا تو صحافت کا سلسلہ یوں رواں ہوا کہ ٹائم آف کراچی، پاکستان ٹائمز اور پھر سول ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر بن کر ابھرے۔ خورشید عالم روزنامہ مساوات کے سیاسی ایڈیشن کے ایڈیٹر، ماہنامہ حکایت کے نگران مدیر اور دوست شمارے کے قلمی معاون بھی رہے۔ بعد ازاں 8 نومبر 2001 ء کو وہ لاہور میں انتقال کر گئے۔ وہ اپنی آخری سانس تک پاکستان کے تحفظ، عوام کی بھلائی، ترقی پسند خیالات کی ترویج و ترقی، استحصال کے خاتمہ اور سماجی انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں رہے۔

اپنے مضمون ”خورشید عالم، تشنگی کا متلاشی“ میں ہمراز احسن لکھتے ہیں کہ خورشید عالم زندگی بھر انسانوں میں تشنگی کے متلاشی رہے۔ جہاں تشنگی دیکھی، ایک صاف و شفاف، ہر دم بہتے دریا کی مانند اُسے اپنے علم و شعور سے سیراب کر دیا اور کبھی کبھی یوں بھی ہوا کہ احساسِ تشنگی سے محروم لوگوں پر اپنے دھیمے لہجے میں ایک سوچے سمجھے تواتر کے ساتھ ایسا منتر پھونکا کہ انہیں اپنے خالی پن سے آشنا کر دیا۔ خورشید عالم ایک سوشلسٹ دانشور تھے، لیکن اُن کا طریقہ دیگر سوشلسٹ ہم عصروں سے یکسر مختلف تھا کہ وہ اپنی بات لوگوں کے دل میں اتارنے اور انہیں اپنی سوچ و فکر کو بڑھاوا دینے پر اُکساتے کہ جیسے ایک شفیق استاد دوست کے روپ میں صلاح دیتا ہے۔ میں نے ان کے ساتھ مل کر پنجابی روزنامہ نکالنے کی بھی کوشش کی پر ہم کامیاب نہ ہو سکے۔

حسن جعفر زیدی لکھتے ہیں کہ 60 ء کی دہائی کی عوامی تحریک پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ اہم سنگ میل ہے، جِس نے نہ صرف نوجوان انقلابیوں کی ایک پوری نسل پیدا کی بلکہ پختہ عمر کے وہ بے شمار افراد بھی، جو پختہ سوچ کے حامل تھے اور افکارِ تازہ کے لیے ذہن کے گوشے وا رکھتے تھے، انقلاب کے جدید تصورات سے ہم آہنگ ہوئے، اور انقلابی دھارے میں شامل ہو گئے۔ خورشید عالم بھی اُن صاحب فکر حضرات میں سے تھے۔ ان کے انقلاب سے لگاؤ پر لکھوں تو اتنے دھیمے مزاج کا انقلابی سوشلسٹ، کمیونسٹ شاید ہی کسی انقلابی تحریک میں پایا گیا ہو۔ منکسر المزاج، دوسروں کی لمبی بات بھی غور سے سننا، اپنے مخالف نقطۂ نظر کو تحمل مزاجی سے وصول کرنا، ایسی خوبیاں تھیں جو عام جوشیلے انقلابیوں سے ذرا ہٹ کر تھیں۔ اپنے دور کا عظیم انقلابی راہنما اور دانشور ڈاکٹر عزیز الحق زاہد چوہدری کی زیرِ نگرانی ایک انقلابی پلیٹ فارم ’ینگ پیپلز فرنٹ‘ کے نام سے منظم کر رہے تھے، جو بیشتر نوجوانوں پر مشتمل تھا۔ لیکن ان نوجوانوں کے ساتھ ایک پختہ عمر کا سینئر کارکن بھی رواں دواں تھا اور وہ تھا خورشید عالم۔ وہ ینگ پیپلز فورم کے اسٹڈی سرکلز، پمفلٹ لکھنے اور تقسیم کرنے کے علاوہ تنظیمی کام میں بھی نوجوانوں کے شانہ بشانہ کام کرتے تھے۔ ایک وطن پرست، قوم پرست اور انقلاب پرست خورشید عالم اپنی صحافتی ذمہ داریاں بھی بخوبی انجام دیتے تھے۔ وہ 50 ء کے عشرے کے اوائل میں زیڈ اے سلہری کے کراچی ٹائمز سے لے کر 77۔ 76 ء میں روزنامہ مساوات تک بے حد اہم صحافتی ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ اُن کی صحافتی خدمات کا طویل عرصہ لاہور کے انگریزی روزنامہ سول اینڈ ملٹری گزٹ کا تھا۔ بعد ازاں 70۔ 1969 ء میں حامد محمود کی نیشنل نیوز میں بھی کام کیا، جِس میں زاہد چوہدری چیف رپورٹر اور خورشید عالم ایڈیٹر تھے۔ علاوہ ازیں ان کی ہفت روزہ نصرت، ماہ نامہ سیارہ ڈائجسٹ اور ماہنامہ حکایت کے چیف ایڈیٹر کی ذمہ داریاں قابلِ ذکر ہیں۔ جب 76۔ 1975 ء میں ڈاکٹر مبشر حسن نے پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے روزنامہ مساوات کا ہفتہ وار ایڈیشن شروع کیا، جِس کا مقصد سیاسی کارکنوں کی سیاسی اور نظریاتی تربیت تھا۔ یہ کام خورشید عالم نے کچھ عرصہ چیف ایڈیٹر مساوات کی حیثیت سے اور کچھ عرصہ اس ایڈیشن کے انچارج کی حیثیت سے سر انجام دیا۔ وہ ہر قسم کی انا پرستی سے بالاتر ایک ایسے استاد تھے، جو مرتے دم تک طالب علم بنے رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا طلبِ علم کا جنون ہی دراصل ان کی آخری سانس تک زندگی کو جاوداں، پیہم رواں، ہر دم جوان رکھنے کا سبب تھا۔

مسعود قریشی جی لکھتے ہیں کہ بت شکن بھی خورشید عالم کا قلمی نام تھا۔ وہ شخصیت پرستی کے خلاف تھے اور ساری عمر اعلیٰ خیالات اور اعلیٰ مقاصد کی بالادستی کے لیے کوشاں رہے۔ بڑھاپے اور بیماری کے باوجود ان کا ذہن چمکدار اور تیز رفتار تھا۔ آخری دم تک ان کی تحفظ پاکستان کی فکر دامن گیر تھی۔ جن کی بات کوئی نہیں سنتا تھا ان کی بات خورشید عالم سنتے تھے اور بات کہنے کا اعتماد پیدا کرتے تھے۔ انہوں نے کہیں سے لکھنے کی تربیت نہیں لی تھی، البتہ تحقیق، گفتگو، بحث و مباحثہ، علمی جستجو ان کی زندگی کا حصہ تھی۔ ان کی رہائش گاہ ایک چھوٹی سی یونیورسٹی تھی، جِس پر باقاعدگی سے دانشوروں اور علم سے جستجو رکھنے والوں کے اجلاس ہوتے تھے، جہاں میں نے 26 برس تک شرکت کی۔

برطانیہ میں مقیم ترقی پسند دانشور ڈاکٹر عبدالرحمان اپنے مضمون ”خورشید عالم، زندگی کا پیامبر“ میں لکھے ہیں کہ وہ کالج پہنچے تو اپنے دوست طارق محمود کے توسط سے خورشید عالم سے ملے، جو اس کے دادا کے دوست تھے۔ وہ اس قدر پیار اور تپاک سے ملے کہ میری روح کے اندر تک وہ پیار سرایت کر گیا اور اس لمحے شروع ہونے والا تعلق ان کی آخری سانس تک برقرار رہا۔ ہم نے اپنے اشتیاق میں اپنے دوستوں کو بھی شامل کیا اور ایک حلقہ بنا کر مطالعہ و تبادلہ خیال کی بنیاد ڈالی۔ خورشید عالم کی مجالس لاہور لارنس گارڈن اور پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں بھی منعقد ہونے لگیں۔ میں اتوار کو ان کے گھر جا کر سارا دن ان سے دنیا جہان کے موضوعات پر باتیں سنتا، تاریخ عالم، فلسفے، سیاسیات، ادب اور معاشرت پہ وہ بات کرتے تو یوں لگتا کہ معلومات کا ایک دریا سامنے سے گزر رہا ہے۔ سوال جواب بھی ہوتے، وہ بولتے جاتے اور میں اپنی ڈائری میں نوٹس لیتا جاتا۔ واپسی پر میں ٹرین میں بیٹھا اپنے نوٹس پر پھر سے نظر دوڑاتا اور مجھے اپنا آپ بہت معتبر لگنے لگتا۔ آہستہ آہستہ وہ کب ہم سب بہن بھائیوں کے تایا جان کا مقام پا گئے پتہ ہی نہ چلا۔ پھر تایا جان نے بھی ہمارے ہاں فیصل آباد آنا شروع کر دیا۔ جب وہ ہمارے ہاں آتے تو ہمارا گھر باقاعدہ ایک درس گاہ کا منظر پیش کرتا اور درجنوں کی تعداد میں طالب علم لڑکے لڑکیاں اُن سے ملنے اور فیض یاب ہونے کے لیے آ جاتے۔ سب نے طبقاتی جدوجہد کے ساتھ ساتھ جدلیاتی و تاریخی مادیت کے بارے میں یہیں خورشید عالم جی سے سنا، پڑھا اور سمجھا، جس سے سب کی زندگیاں اور خیالات کی نشوونما ہوئی۔ خورشید عالم کا تاریخِ عالم کے ساتھ ساتھ ایک اور محبوب موضوع انسانوں کے مابین سماجی تعلقات، معاملات و حالات کو جدلیاتی و طبقاتی پسِ منظر میں دیکھنا اور تجزیہ کرنا بھی رہا۔ وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ہمارے معاشرے کی فکری تطہیر کبھی نہیں ہوئی اور یہ معاشرہ ابھی بھی جاگیرداری نظریۂ حیات کے تحت زندگی گزار رہا ہے، ایسے معاشرے میں لوگ جھوٹی اور چھوٹی اناء میں جیتے مرتے ہیں۔

یاسمین احمد نے اپنے مضمون ”خورشید عالم، درویش با چراغ“ میں لکھتی ہیں کہ یہ ہماری خوش بختی تھی کہ ہم ان سے مل سکے اور ان سے بہت کچھ سیکھ سکے۔ وہ انہیں اپنا روحانی باپ سمجھتی ہیں اور ان کے ساتھ گزارے وقت کی یادیں ایک البم کی صورت ان کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ انہوں نے ہماری ذہنی نشوونما اور فکری تربیت کو سائنسی انداز میں آگے بڑھایا۔ میری ان سے پہلی ملاقات بھی نزہت کے گھر ہوئی تھی۔ انہوں نے پہلی ملاقات میں ہی مجھے تعلیم کے ساتھ ساتھ زندگی کے باقی اہم معاملات میں بھی توازن رکھنے کی تلقین کی۔ وہ ادب کا خزانہ تھے اور ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو اپنی آستینوں میں یدِ بیضا لیے پھرتے ہوتے ہیں۔ ان کے رکھ رکھاؤ میں بہت شائستگی تھی۔ ان کے ساتھ اقبال کی طویل نظمیں پڑھتے ہوئے درمیان میں فلاسفی بھی آئی تو انہوں نے فلاسفی بارے بتانا بھی شروع کیا، جِس سے میری دلچسپی اور بھی بڑھ گئی۔ جب انہوں نے جدلیاتی مادیت اور پھر تاریخی مادیت کا تذکرہ کیا تو اس سے مجھے معاشرتی و سماجی معاملات کو گہرائی سے سمجھنے کا شعور ملا۔ زندگی کی پیچیدگیاں یوں کھلتی چلی جا رہی تھیں گویا یہ عام سی بات ہو، مگر وہ عام سی باتیں نہیں تھیں اور نہ ہی ہمارے آس پاس کے لوگوں کی ان تک رسائی تھی۔ اب آ کر مجھے آشکار ہوا کہ جب علم و آگہی نصیب ہوتی ہے تو ظلمت اور اندھیرا واقعی کافور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مجھے ٹالسٹائی، دستوفسکی اور میکسم گورکی سے روشناس کرایا اور ان کی بدولت میری دسترس میں روسی اور پھر چینی ادب بھی آیا۔ میری شادی ہوئی تو انہوں نے مجھے کلیات اقبال کا ایک خوبصورت نسخہ اپنے ہاتھ سے یہ لکھ کر دیا۔ لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب ’جو میرے لیے بہت اعزاز کی بات تھی۔ اُن کا تحفہ آج بھی میرے پاس موجود میری زندگی کو مہکاتا رہتا ہے۔

اسماء کوثر اپنے مضمون ”تایا جان خورشید عالم“ میں لکھتی ہیں کہ میری فکری اور ذہنی نشوونما میں خورشید عالم جی کا ساتھ منفرد اور با مقصد رہا۔ انہوں نے ہمیں پڑھنے کی ترغیب دی اور خاص طور پر اپنے لیے سوچنا سکھایا۔ وہ عام باپ کی طرح ایک بیٹی کی جسمانی ضروریات کی دیکھ بھال کرنے والے باپ نہیں تھے بلکہ اپنی بیٹیوں کی زندگی کے اتار چڑھاؤ میں وہ ایک سرپرست اور روحانی رہنما تھے۔ ان کی بہت سی روحانی بیٹیاں تھیں اور ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جہاں بیٹیوں کو گوُنگی اور بہری سمجھا جاتا ہے، وہاں خورشید عالم کے لیے ہم سب ایک خاص مقام رکھتی تھیں۔ ہم ایک انسان تھیں جنہیں اپنی انفرادیت کے ساتھ آگے بڑھنے اور سوچنے کے لیے ذہنی پرورش، نشوونما اور رہنمائی کی ضرورت تھی۔ مطالعہ اور تبادلہ خیال وہ جملہ ہے جس میں ان کا ہم سب کے لیے پیغام ہوا کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ باقاعدگی سے مطالعے اور تبادلہ خیال کی نصیحت کرتے اور زندگی کے نصب العین پر نظر رکھتے ہوئے اپنے کردار کو متعین کرنے کی اہمیت اجاگر کرتے رہتے تھے۔ ان کا ہر ایک کے ساتھ تعلق فکری، عملی اور ذہنی ترقی کا تھا۔ ان کی نصیحت کا موضع انسان کے جدلیاتی اور طبقاتی شعور کو سمجھنے اور پروان چڑھانے کے لیے اسے خود اپنے نصب العین کا حصہ بنانا ہوتا تھا۔ یہی فلسفہ ان کی زندگی اور کام کا نچوڑ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی نصب العین کے فروغ کے لیے، معاشی استحصالی اور طبقاتی معاشرے کی خرابیوں کا شعور بیدار کرنے میں صرف کی۔ انہوں نے ہمیشہ ہمیں یہی درس دیا کہ وقت اور زندگی کے نصب العین پر نظر رکھتے ہوئے سماج اور انسانیت کی بھلائی کے لیے تگ و دو بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے جو بیج بوئے اور اپنی آخری سانس تک بوتے چلے گئے۔ ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم سب بھی زندگی کی راہوں سے خار چنتے اور پھول بکھیرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو آگے بڑھاتے چلے جائیں۔

اطہر عباس لکھتے ہیں کہ فیصل آباد میں نزہت عباس کا کھر اس دور میں ادبی اور سیاسی علم، تعلیم و تربیت اور سیاسی سرگرمیوں کا گہوارہ ہوتا تھا۔ اس تعلیم و تربیت کے خانوادے میں جہاں ہم ڈی ایس ایف، پنجاب نوجوان محاذ اور کمیونسٹ پارٹی کی سٹڈی سرکل میں حصہ لیتے تھے، سیاسی تجزیے کرتے تھے، احتجاج کی حکمت عملی ترتیب دیتے تھے، وہاں اکثر و پیشتر کسی عظیم شخصیت سے بھی ملاقات ہو جاتی تھے۔ انہی شخصیات میں سے ایک خورشید عالم بھی تھے، جنہیں ہم سب تایا جی بولتے تھے۔ جب ان سے پہلی بار ملا تو ان کی قائل کرنے کی صلاحیت اور مشکل اور فلسفیانہ باتوں کو بھی انتہائی آسان اسلوب میں نفاست اور روانی کے ساتھ بیان کرنے کے انداز کو سراہنے لگا۔ ان کی ہر تحریر میں یوں محسوس ہوتا جیسے وہ ہم سب سے مخاطب ہیں، ہم سب کو تلقین کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ شکست و ریخت کے تیز عمل میں سے گزر رہا ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ دراصل ان طبقات میں ہو رہی ہے، جو حکمران اور بالادست ہیں۔ یہ ہیں جاگیردار، سرمایہ دار، نوکر شاہی اور اسٹیبلشمنٹ، جنہوں نے ناجائز طریقے سے دولت و اختیار حاصل کیا ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے آپس میں برسرِپیکار رہتے ہیں اور عوام کو بھی لڑاتے رہتے ہیں۔ یہ سمجھنا اور عوام کو سمجھانا بہت ضروری ہے، تاکہ ان کے مذموم مقاصد کو شکست دی جا سکے۔

راشد نعیم لکھتے ہیں کہ میں آج اپنے اندر سوال کرنے اور جاننے کی جستجو کا جو شعوری ادراک رکھتا ہوں وہ انہی کا مرہونِ منت ہے۔ ان کے خطوط میں اس قدر جدت تھی کہ جب بھی ڈاکیا بند لفافہ میرے سامنے رکھتا تو مجھے یوں لگتا کہ غلافِ خط کھلتے ہی میرے دل و دماغ کی تاریکیاں دور ہو جائیں گی اور میں بقول اقبال ”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“ کے مصداق نئی جدوجہد کا سلسلہ شروع کروں گا اور ایسا ہی ہوتا۔ ڈاکٹر علی امین نے اپنے مقالے میں لکھا کہ خورشید عالم اعلیٰ پائے کے دانشور اور مدبر تھے، جو اس سماج کی طبقاتی تقسیم کے بہت خلاف تھے۔ ان کی تمام زندگی اس بوسیدہ اور استحصالی نظام کو اپنے طریقے سے بدلنے کی جدوجہد میں گزری۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں ان کی باتیں کرتے کرتے آنکھیں نم ہو جایا کرتی تھیں، کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے پاکستان بنتے دیکھا تھا اور پاکستان پر روایتی جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور بیوروکریسی جیسے سامراج کی آلہٰ کار، جعلی حکمران طبقے جیسی گدھوں کو ملک کے غریب عوام کی بوٹیاں نوچتے دیکھا ہوتا آنکھیں پُر نم ہی ہوتی ہیں اور اسے تبدیل کرنے کے لیے جذبے بھی جوان رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو اس سماج میں جو شعور ملا ہے وہ اب آپ پر قرض ہے جو آپ نے سماج کی طرف واپس لوٹانا ہے۔

زاہد شکیل لکھتے ہیں کہ میرا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا اور میں جماعت اسلامی میں کام کرتا تھا۔ پھر ایک روز عبدالرحمان اور نزہت کے توسط سے میری ملاقات خورشید عالم سے ہو گئی۔ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور ہمیں سوال کرنے اور نفی کرنے کی ترغیب دیتے تھے، جبکہ مذہب میں تو سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان کی تربیت سے سوچ میں وسعت آنے لگی، اور جو کچھ پڑھا جاتا تھا اس پر سوال کرنے کی ہمت بھی آئی اور دلیل سے سمجھنے کی بھی۔ ایسے لگنے لگا جیسے پہلے میں کسی اور دور میں رہتا تھا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ عہدِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق رہنا ہی مقصد ہے۔ محمد عباس جی لکھتے ہیں کہ خورشید عالم اپنے نظریات اور عملی کام سے اس قدر کمٹڈ تھے کہ انہوں نے اپنا گھر تو کیا، ایک کمرہ بھی نہیں بنایا بلکہ ان گنت لوگوں کے دلوں میں گھر بنایا۔ انہوں نے اپنے پیچھے کتابوں، اپنی تحریروں اور ایک لمبی قطار اپنے نظریاتی چاہنے والوں کی چھوڑی، جن کے نظریات نکھارنے میں وہ اپنے ہو قسم کے وسائل بروئے کار لاتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پاکستانی سماج کا مارکسی نقطۂ نظر سے ایک متفقہ تجزیہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ کسی شخصی کوشش کے مقابلے میں ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں مل کر کریں اور اس پر وسیع حلقوں میں بحث مباحثے کے بعد ایک متفقہ دستاویز تیار کریں جو کہ ایک ترقی یافتہ پاکستان بنانے لے لیے اشد ضروری ہے۔ دوسرا وہ مطالعے اور تبادلہ خیال کی اہمیت پر مسلسل زور دیتے رہے کہ اس کے بغیر ہم اپنے علم کو وسیع اور گہرا نہیں کر سکتے۔ آج ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو اب بھی اس رویے کا فقدان ملتا ہے۔ میں دیانتداری سے یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے لیے ترقی کا راستہ وہی ہے جِس کی نشاندہی خورشید عالم اور ان جیسے دوسرے مفکر کرتے چلے آئے ہیں۔

نزہت عباس لکھتی ہیں کہ دُنیا جگمگا رہی ہے ایسے انسانوں کی وجہ سے جو انسان کی روح تک پہنچنے، اسے اپنے اصل روپ میں رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ایسے انسان اس پوری کائنات کے وہ چیدہ چیدہ ستارے ہیں، جو جگہ جگہ جگنو کی مانند چمک کر محبت، رفاقت، شمولیت اور ہواؤں میں بکھر جانے کی لو لگانے کا کام کرتے ہیں۔ میرے لیے خورشید عالم ایسے ہی تھے، اور انہوں نے مجھے تراش کے وہ انسان بنایا جو میں آج ہوں۔ خورشید عالم جب میری زندگی میں آئے تو میں چوتھی جماعت کی طالب علم تھی۔ اس زمانے اور کم عمری میں انہوں نے مجھے احساس دلایا کہ یہ دن، رات اور وقت تو ہمارے اپنے ہیں پھر ہم ان کے بارے میں سوچتے کیوں نہیں؟ یہی وہ وقت تھا جب میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دن چڑھنے، سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے کے عمل پر غور کرنا اور محسوس کرنا شروع کیا۔ اس طرح ہمارے ارد گرد کے سماجی حالات کا مشاہدہ کرنے اور ان کے بارے میں سوچنے کا عمل شروع ہوا۔ وہ ہمارے گھر کے فرد تھے، یوں ان کے گھر والے بھی ہمارے ہو گئے۔ وہ ایک ایسے خوبصورت انسان تھے جو پاکستان اور اس کی عوام سے بے پناہ محبت کرتے، اس دنیا کو امن پسند، بھائی چارے سے بھرپور، پُر سکون، خوشحال اور باشعور جگہ بنانا چاہتے تھے۔ وہ ایک ایسے استاد تھے کہ جن کے پاس علم کی جتنی بھی دولت تھی، وہ بانٹ دیتے تھے۔ وہ بہت پیار اور دھیان سے کبھی کبھی یہ ضرور کہتے کہ بات ہمیشہ مختصر اور جامع ہونی چاہیے۔ ان کا زور صرف اس بات پر ہوتا تھا کہ پڑھو، مل کر پڑھو اور تبادلہ خیال کرو۔ پڑھنے اور تبادلہ خیال کرنے سے سوچ نکھرتی ہے، خیالات و نظریات کو سمجھنے اور جاننے میں کی صلاحیت بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ اکثر کہتے کہ خیالات آسمانوں سے نہیں آتے، وہ تو ہمارے معاشی، سماجی اور سیاسی حالات سے جنم لیتے ہیں، تو پھر اپنے سماجی حالات اور ارد گرد کا مشاہدہ کیوں نہ کیا جائے۔ ان تک سب کی رسائی تھی؛ وہ بچوں، بڑوں، بزرگوں، مل مزدوروں اور ٹریڈ یونین کے ممبران کی باتیں دلجمعی اور توجہ سے سنتے، ان کے ساتھ مل کر بیٹھتے، بات کرتے، پڑھتے اور آپسی تبادلہ خیال کرتے تھے۔ وہ پنجابی، اردو اور انگریزی کے ماہر تھے اور ہر زبان کو ذریعہ ابلاغ اور رابطے کا عنصر سمجھتے تھے۔ ان کی محفلوں میں کسان تحریک کی باتیں ہوتیں، ملوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی باتیں ہوتیں، غریب طبقے کے روٹی کپڑا اور مکان کے مسائل کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی بہتر پڑھائی اور خاص طور پر عورتوں کے مساوی حقوق اور لڑکیوں کی تعلیم پر اکثر زور دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ داری نظام غیر انسانی نظام ہے۔ یہ انسان کو انسان سے جڑنے نہیں دیتا بلکہ انسان کو اپنے اندر سے یوں چیر دیتا ہے کہ انسان خود نہ ایک رہتا ہے اور نہ ہی دو ہو پاتا ہے۔ اس نظام میں انسان ہمیشہ استحصال کا شکار رہے گا، اس لیے طالب علموں، مزدوروں اور تمام محنت کشوں کو اکٹھے ہونا پڑے گا، اس نظام کی استحصالی شکلوں کو سمجھنا ہو گا اور بھر متحد ہو کر اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہی ایک طریقہ ہے جِس سے انسان اور انسانیت کو بچایا جا سکتا ہے۔

نامور دانشور اور سیاسی راہنما ڈاکٹر مبشر حسن اور ڈاکٹر مہدی حسن سے خورشید عالم کی گہری دوستی تھی۔ ڈاکٹر مبشر حسن خورشید عالم بارے نزہت عباس جی کے ساتھ انٹرویو میں کہے ہیں کہ خورشید عالم کا سب سے بڑا کمال تو یہ تھا کہ ان کے پاس کوئی پیچیدہ مسئلہ شامل ہو اور ان کو غصہ بھی ہو تو ان کی شکل دیکھ کے ہی وہ غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا تھا۔ ان کے سامنے لوگوں کو اپنی بات کرتے ہی جھجک آ جاتی تھی اور وہ بات نرم ہو جاتی تھی اور لوگ بلا خوف اور بلا تکلف ان سے درکار مدد کا کہہ پاتے تھے۔ وہ بھی کسی کو مایوس نہیں کرتے تھے، اور اس کے لیے کسی سے بھی بات کرنی پڑے تو کرتے تھے۔ میرا ان کے ساتھ تعلق 68۔ 1967 ء میں بڑھا جب پیپلز پارٹی شروع ہوئی۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ کوئی بات ایسی نہیں ہوتی تھی جِس میں ان کا مشورہ شامل نہ ہو۔ ان کا نوجوانوں کو شعور دینے میں بڑا کردار تھا۔ ہم نے مل کر ایک رسالہ ”دوست“ بھی نکالا، جس کے انچارج خورشید عالم تھے اور مسعود قریشی اس کی پروف ریڈنگ کرتے تھے۔ وہ جو کچھ لکھتے تھے اس پر بحث مباحثہ بھی ہوتا تھا۔ وہ ایک لمبے عرصہ تک ہفتہ وار اسٹڈی سرکل چلاتے رہے، جس سے نوجوانوں کی تعلیم و تربیت میں مدد ملتی تھی۔ انہوں نے جو کچھ لکھا عراق کے بارے میں، فلسطین کے بارے میں اور اسرائیل کے بارے میں، وہ سب کچھ ہم آج اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ایسی گہری نظر اور تجربہ تھا خورشید عالم کا۔

آپ یوں سمجھیے کہ خط و کتابت خورشید عالم کا مشغلہ تھا، کیونکہ اس زمانے میں کمیونیکیشن کا یہی ذریعہ تھا جِسے وہ بہت مستقل مزاجی سے کرتے تھے۔ وہ اسے نوجوانوں کے تربیت اور ان کے شعوری عمل میں تسلسل میں اہم گردانتے تھے۔ یوں کہیے کہ وہ جو کچھ کماتے تھے اسے ترقی پسند رجحانات کی ترویج و ترقی اور خط و کتابت پر صرف کر دیتے تھے۔ نزہت عباس کے ساتھ خطوط کا سلسلہ ان کی ابتدائی زندگی میں ہی شروع ہو گیا تھا، لیکن انہوں نے اس کتاب میں صرف وہ خطوط شامل کیے ہیں جو خورشید عالم نے نزہت جی کو ان کی ماسکو میں تعلیم کے دوران لکھے تھے۔ وہ 8 جنوری 1990 ء کو نزہت عباس کو لکھے گئے اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور جو سوشلزم کی دُنیا میں ہو رہا ہے اس پر بھی۔ اس کے لیے ایک یہ ضروری ہے کہ خبریں دلچسپی سے پڑھی جائیں۔ دوسرا تجزیاتی مواد غور سے پڑھا جائے، جو اخبارات اور ریڈیو، ٹی وی (بیرونی) کے تبصروں میں ملتا ہے۔ تیسرے یہ کہ آپس میں تبادلہ خیال کیا جائے۔ تبادلہ خیال زبانی مل بیٹھ کر بھی اور خط و کتابت کے ذریعے بھی۔ وہاں کی ادبی، علمی، ثقافتی محفلوں میں جہاں تک ہو سکے شرکت کرو۔ اس کا بہرحال خیال رکھو کہ وقت ضائع نہ جائے اور اس کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہو۔ وہ 14 فروری 1990 کو لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ مشرقی یورپ اور روس میں ہو رہا ہے وہ سوشلزم اور کمیونزم کا خاتمہ ہے۔ یہ کمیونزم کا خاتمہ نہیں، اور نہ ہی یہ ہو سکتا ہے۔ کمیونزم کا مطلب ذرائع پیداوار کا پرولتاریہ کے قبضے میں آنا ہے۔ یہ تاریخ کا عمل ہے جس سے ہر ملک گزرے گا۔ گویا کمیونزم ان ممالک میں بھی آئے گا جو اب یہ کہہ رہے ہیں کہ سوویت بلاک میں کمیونزم ختم ہو گیا۔ سرمایہ دار دُنیا امریکہ کی قیادت میں، اپنی اور اپنے نظام کی برتری جتانے کے لیے یہ نفسیاتی جنگ لڑ رہی ہے کہ کمیونزم تو گیا۔ یہ خود فریبی بھی ہے اور دُنیا فریبی بھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کا بالآخر خاتمہ ہو کے رہے گا۔ یہ پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ کب ہو گا۔

وہ 25 ستمبر 1990 ء کے خط میں لکھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ شکست و ریخت کے تیز عمل میں ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ دراصل ان طبقات میں ہو رہی ہے جو بالادست اور حکمران ہیں۔ یہ ہیں جاگیردار، سرمایہ دار، افسر شاہی اور وہ جنہوں نے طرح طرح کے ہاتھ مار کے ناجائز دولت جمع کی اور کرتے جا رہے ہیں۔ یہ حکمران مملکت پاکستان کو نہیں چلا سکتے۔ یہ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا، یہ انہی کا کرشمہ ہے۔ اسے سمجھنا اور سمجھانا بہت ضروری ہے۔ یہ شعور عام ہو گا تو منظم اور موثر رائے عامہ قائم ہو گی اور اس قوت سے حکمرانوں کے سامنے بند باندھا جا سکے گا اور انہیں شکست دے کر پاکستان کا مستقبل روشن کیا جا سکے گا۔ اس کے بغیر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ نزہت بیٹی ہم نے یہ قدم اٹھا لیا ہے، اسے آگے بڑھنا اور بڑھتے جانا چاہیے، قدم، قدم، قدم۔ چراغ اپنا جلائے رکھنا چاہیے۔ اس سے روشنی ہو گی، ہو کر رہے گی۔ ایسے ہی یہ شعر یاد آ گیا۔

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب
ہمارے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے۔

نزہت عباس کا کہنا ہے کہ خورشید عالم ایک گہری سوچ، کشادہ خیالات اور مارکسی نظریات کا نام ہے اور یہ سوچ، خیالات اور نظریات ہم سب کے ساتھ ساتھ ہر پڑھنے والے کی اور ہماری آنے والی نئی نسل کی امانت ہیں۔ میں یہ امانت آپ سب کے سپرد کرتی ہوں۔ امید ہے کہ یہ کتاب ایک نیا دن اور نئی سوچ بن کر ابھرے گی۔ ساغر صدیقی نے کہا تھا:

وہ جن کے ہوتے ہوئے خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے۔

اِس اہم کتاب میں نزہت عباس نے اپنے گرو، راہنما، دوست، اُستاد اور ساتھی خورشید عالم کی علم بصیرت اور یادوں پر مشتمل کتاب مرتب کی ہے جو نئی نسل کے لیے ایک تحفہ خاص ہے جس میں اہم شخصیات کے مضامین، ڈاکٹر مبشر حسن کا تفصیلی انٹرویو اور خطوط شامل ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ خورشید عالم نے اِس عالمِ تگ و تاز میں اپنے معاشرے سے استحصال کا خاتمہ کرنے اور اسے سنوارنے کے لیے کتنی سچائی اور عزم سے اپنی زندگی کے آخری سانسوں تک مسلسل کام کیا۔ یقیناً خورشید عالم کے افکار آئندہ زمانوں کی امانت ہیں جن کو نزہت عباس نے انتہائی محنت اور کاوش سے اس کتاب میں محفوظ کر دیا ہے۔ یہ کتاب ہمارے شعور کو روشن کر دینے والی کتاب ہے جس کا مطالعہ نئی نسل کو ضرور کرنا چاہیے تا کہ وہ اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکیں۔

Facebook Comments HS

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 60 posts and counting.See all posts by pervez-fateh