اسلحہ سازی: صنعت یا موت کھیل
دنیا میں جب بھی کوئی جنگ چھڑتی ہے تو ریاستی بیانیہ اور مین اسٹریم میڈیا اکثر ہمیں سادہ، جذباتی اور محدود وضاحتیں فراہم کرتے ہیں : دشمن نے حملہ کیا، ہماری خودمختاری کو خطرہ لاحق ہے، یا یہ ایک ناگزیر دفاعی اقدام ہے۔ لیکن اگر ہم ان نعروں، سرکاری بیانات، اور جذباتی وضاحتوں سے ہٹ کر پس منظر کا جائزہ لیں تو ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے جو کہیں زیادہ طاقتور، خاموش، اور دیرپا ہے۔ وہ ہے عالمی اسلحہ ساز صنعت کا خفیہ کردار۔ یہ صنعت نہ صرف جنگوں کو ممکن بناتی ہے، بلکہ انہیں طوالت دینے، گہرا کرنے، اور نئے محاذ کھولنے میں بھی ایک فعال اور مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔
اسلحہ سازی ایک منفرد کاروباری منطق پر قائم ہے : اس کی ترقی، منافع اور بقا جنگ، بدامنی اور خوف پر منحصر ہے۔ معروف امریکی محقق اور صحافی نک ٹرس اپنی کتاب ”The Complex“ میں لکھتے ہیں کہ امریکی فوجی صنعتی نظام اب ریاست سے اس درجہ جُڑ چکا ہے کہ وہ ہر پالیسی، میڈیا بیان، اور معاشی فیصلہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ دفاعی صنعتوں کے لیے ”امن“ ایک خطرہ ہے، جب کہ ”خطرہ“ ایک مارکیٹ موقع ہے۔
ایران اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی اس کی تازہ مثال ہے۔ 2024۔ 25 میں جب دونوں ریاستیں براہِ راست عسکری تصادم میں داخل ہوئیں، تو دنیا بھر کی اسلحہ کمپنیوں کے حصص میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ اسرائیلی کمپنی Elbit Systems نے اپنے ”Combat Proven“ میزائل سسٹمز۔ جیسے Iron Dome اور Spike Missiles۔ کو عالمی سطح پر مشتہر کیا۔ ان حملوں میں ہزاروں فلسطینی شہری جاں بحق ہوئے، لیکن اس کے بعد دفاعی مصنوعات کی عالمی نمائشوں میں انہیں ”Field Tested“ قرار دے کر بیچا گیا۔ Raytheon اور Lockheed Martin جیسی امریکی کمپنیاں اسرائیل کو اربوں ڈالر کا اسلحہ فراہم کرتی رہیں، جب کہ ایران کو روس اور چین کے ذریعے ڈرونز اور میزائل فراہم کیے گئے۔ اس سب کے بیچ جنگ ایک انسانی المیہ سے زیادہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکی تھی۔
معروف صحافی جیرمی سکاہل اپنی کتاب Dirty Wars میں لکھتے ہیں کہ کس طرح امریکہ نے افغانستان اور عراق کو اپنی اسلحہ مصنوعات کی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا، اور بعد میں انہی ہتھیاروں کو دیگر ممالک کو بیچ کر اربوں ڈالر کمائے گئے۔ جنگ، ان کے بقول، ”اب سیاسی فیصلہ نہیں رہا بلکہ اقتصادی ماڈل بن چکی ہے۔“
روس اور پولینڈ کی حالیہ کشیدگی اس ماڈل کا یورپی مظہر ہے۔ نیٹو افواج نے پولینڈ کی سرحدوں پر عسکری موجودگی بڑھائی، اور اس کے نتیجے میں امریکی اور یورپی کمپنیوں نے پولینڈ کو جدید میزائل، ٹینک، اور جنگی طیارے بیچنے کے نئے معاہدے طے کیے۔ جرمن کمپنی Rheinmetall اور فرانسیسی کمپنی Thales نے کھلے عام کہا کہ ان کی پیداوار کی رفتار بڑھا دی گئی ہے تاکہ ”مشرقی یورپ کی دفاعی ضروریات“ پوری ہو سکیں۔ اس تمام صورتِ حال میں امن کی کسی حقیقی کوشش کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب دنیا کے دیگر کاروباری شعبے۔ جیسے خوراک، صحت، تعلیم، توانائی۔ امن اور استحکام پر انحصار کرتے ہیں۔ ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب لوگ صحت مند رہیں، خوراک کا شعبہ اس وقت بڑھتا ہے جب قحط نہ ہوں، تعلیمی ادارے اس وقت پروان چڑھتے ہیں جب سیاسی استحکام ہو۔ مگر اسلحہ ساز صنعت ان تمام اصولوں سے الٹ ہے۔ اس کی ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب کوئی دشمن موجود ہو، جب میڈیا خوف پیدا کرے، اور جب حکومتیں عسکری بجٹ بڑھائیں۔
کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے محققین اس تضاد کو ”Profit from Violence“ کا نام دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ اگر کوئی خوراک یا دوا کی کمپنی جان بوجھ کر بیماری یا قحط پیدا کرے تو اسے مجرم قرار دیا جائے گا، مگر اسلحہ ساز کمپنیاں جب خفیہ طور پر جنگوں کو ہوا دیتی ہیں، تو انہیں قومی دفاع کے ”ہیرو“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ معروف امریکی صحافی سی مور ہرش نے انکشاف کیا کہ پینٹاگون کے کئی اعلیٰ افسران نے ریٹائرمنٹ کے بعد انہی کمپنیوں میں ملازمت اختیار کی جنہیں وہ اپنے دورِ ملازمت میں دفاعی ٹھیکے دلواتے رہے۔ یہ سلسلہ ”Revolving Door Politics“ کہلاتا ہے، جو امریکی فوجی صنعت کا مستقل ستون بن چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ ان تجربات کا سب سے بڑا میدان بن چکا ہے۔ شام، عراق، یمن، لیبیا، اور اب غزہ۔ ہر جگہ جنگ کو ایک کاروبار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سویڈن کے تحقیقاتی ادارے SIPRI کے مطابق، 2023 میں دنیا کے کل اسلحہ سودوں کا 32 فیصد صرف مشرق وسطیٰ میں ہوا۔ اس وقت مشرقِ وسطیٰ اسلحے کی سب سے بڑی منڈی ہے، اور اسی لیے وہاں امن کو پائیدار ہونے نہیں دیا جاتا۔
دوسرے کاروباروں کے ساتھ اسلحہ سازی کا تقابل ایک تہلکہ خیز حقیقت آشکار کرتا ہے۔ صحت کی صنعت میں معیارِ زندگی بہتر بنانے کا ہدف ہوتا ہے، خوراک کی صنعت بھوک مٹاتی ہے، تعلیم ترقی کی کنجی ہے، جب کہ اسلحہ صنعت انسانیت کے خلاف سب سے خطرناک سرمایہ کاری ہے۔ ایک ایسی صنعت جو تبھی پھلتی پھولتی ہے جب خون بہے، شہر تباہ ہوں، اور قومیں آپس میں لڑتی رہیں۔
جرمن فلسفی ہربرٹ مارکوس اس رجحان کو ”تشدد کی تکنیکی عقلیت“ کہتے ہیں، جہاں انسان کو مارنے والی ٹیکنالوجی کو ترقی اور نفع کے معیار سے پرکھا جاتا ہے۔ مارکوس کے مطابق، جب منافع اخلاقی اصولوں پر غالب آ جائے، تو تباہی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ان تمام سرگرمیوں میں سب سے زیادہ استعمال مذہبی جذبات کا ہوتا ہے، اور بدقسمتی سے سب سے زیادہ بیوقوف بننے والا طبقہ بھی مذہبی افراد کا ہی ہوتا ہے۔ انہیں جہاد، شہادت، دفاعِ ملت، یا مقدس جنگ جیسے نعروں سے جذباتی طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ پیچھے اصل ایجنڈا صرف اسلحہ بیچنے، منافع کمانے اور نئی مارکیٹیں بنانے کا ہوتا ہے۔ معروف مصری اسکالر اور مفکر ڈاکٹر حسن حنفی اپنی کتاب ”الدین والثورة“ میں لکھتے ہیں کہ: ”طاقتور قوتیں مذہب کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں اور عوامی مذہبی جذبات کو جنگوں کا ایندھن بناتی ہیں، جبکہ اصل جنگ عوام کے خلاف ہوتی ہے، نہ کہ دشمن کے خلاف۔“ جنگ کا میدان ان کے لیے عقیدے کا امتحان ہوتا ہے، لیکن اسلحہ سازوں کے لیے صرف لیبارٹری اور منافع کی منڈی۔
یہی وقت ہے کہ باشعور معاشرے، دانشور، صحافی اور تعلیمی ادارے اس خاموش اور مہلک صنعت کو بے نقاب کریں۔ امن کی بات صرف مظلوموں کی اپیل نہیں، بلکہ انسانیت کے بقاء کی شرط ہے۔ اگر اسلحہ ساز اداروں کا احتساب نہ کیا گیا تو وہ دن دور نہیں جب دنیا کا ہر خطہ غزہ بن جائے گا، اور ہر انسان محض ایک منافع بخش ہدف، اس موت کے کھیل کو بند ہونا چاہیے۔



اس میں سب سے بڑے احمق تیل پیدا کرنے والے شرق وسطی کے ممالک اور وہ یورپی ممالک شامل ہیں جن کا کوئی دشمن نہیں مگر وہ ایک غیرمرئی دشمن سے لڑنے کے لئے اپنے وسائل کو جدید اسلحے کے نام پر جھونکتے رہتے ہیں۔
یورپ کو پھر بھی عقل ہے اور وہ ایک بڑی تعداد میں اسلحہ خود بھی بنالیتی ہے اور دوسرے ممالک کو بھی بیچ کر اپنی معیشیت کو مضبوط کرلیتی ہے۔