مشترکہ فیملی نظام ایک خوبرو اور حساس نوجوان کی جان لے گیا


حادثاتی طور پر ملنے والی یہ انمول سی زندگی جسے اپنے حساب سے جینا تو درکنار سوچنا بھی جرم ٹھہرا، کس قدر روایتی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ہے، بظاہر آزاد پیدا ہونے والے انسان پر اس دنیا میں قدم رکھتے ساتھ ہی آبائی مذہب کی مہر چپکا دی جاتی ہے، بلوغت کی دہلیز تک پہنچتے سمے وہ کسی ایک مذہب کی تعلیمات کو حتمی سچائی کے طور پر تسلیم کر چکا ہوتا ہے، یہ جانے بغیر کہ کل کلاں کو کوئی دوسرا مذہب سچا نکل آیا تو اس کے آبائی تصورات کا کیا بنے گا؟

مذاہب عالم کا مقصد تو انسانی اخلاقیات کو سنوارنا اور تزکیہ نفس تھا لیکن انسانوں نے مذہب کو نفرت اور احساس تفاخر کے طور پر استعمال کیا، عمل کی بجائے استحصال کے جواز تراشنے لگے۔

اسی طرح سے مذہب کی آڑ میں انسانوں نے دوسروں کا استحصال کرنے اور کھوکھلی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے رسوم و رواج گڑھے اور ان پر تقدس کی تہہ چڑھا دی۔

دنیا میں بے شمار مذاہب ہیں کون جانے کس کی تعلیمات کو فوقیت حاصل ہے، بس ہر کوئی اندھے وشواس کی حد تک قدرت کی قربت کا دعویدار اور چوزن ون ہونے کا یقین دل میں بٹھائے بیٹھا ہے اور اسی بنیاد پر مختلف مذاہب کو برا بھلا کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا اور حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم مذہب کے درمیان بھی چھوٹے موٹے اختلافات پر درجنوں فرقے بن چکے ہیں۔

ظاہر ہے اخلاقی تعلیمات کی بنیاد پر ہی تو استحصالی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

مشرقی روایات میں جو سب سے بڑی قباحت ہے وہ مشترکہ فیملی نظام ہے، اس کے مطابق گھر کا ایک سربراہ ہوتا ہے جس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے پانچ سے آٹھ بچوں کو شادی کے بعد بھی اپنی محکومی میں رکھے، میاں بیوی کی پرائیویسی میں مخل رہنے اور بچوں کو اپنے احکام کا اسیر بنا کر رکھنے میں اسے لطف محسوس ہوتا ہے۔

یہاں تک کہ جنسی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے میاں بیوی کو رات تک کا انتظار کرنا پڑتا ہے، چونکہ حیا اور مشرقی روایات کا تقاضا ہے کہ دن کے اوقات میں جنسی تسکین کے لیے میاں بیوی اپنے کمرے کی کنڈی نہیں لگا سکتے ورنہ بے شرم کہلائیں گے، سوال یہ ہے کہ اگر دن میں کبھی موڈ بن جائے تو وہ کیا کریں بھائی؟

کیا جنسی موڈ مشرقی روایات کے تابع ہوتا ہے؟

نجانے کتنے نوجوان خاموشی سے مشرقی روایات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، ماں اپنے بچوں کو ساری زندگی اپنی جذباتی آنول سے آزاد نہیں کرتی، بچے کی شادی ہونے کے باوجود بھی اسے اپنے جذبات کا اسیر بنائے رکھتی ہے اور والد ساری زندگی اسے ایک فرد سمجھنے سے انکاری رہتا ہے کہ کہیں ہمارا بیٹا جورو کا غلام نہ بن جائے۔

جذباتی رشتوں کے بیچ ایک حساس انسان پس کر رہ جاتا ہے، انہی جذباتی پہیلیوں کو سلجھاتے ہوئے وہ خود بری طرح سے الجھ جاتا ہے اور ہمت ہار کر یا تو خود کشی کر لیتا ہے یا ٹاکسیٹی کی وجہ سے اپنی زوجہ سے علیحدگی اختیار کر لیتا ہے، بڑوں کی جذباتی انا کئی لوگوں کی خوشیاں برباد کر دیتی ہے۔

حالیہ دنوں میں انہی تقاضوں سے جوجتا ہوا ایک اور چراغ بجھ گیا، وقاص رضا 30 سال کا ایک خوبصورت نوجوان جو رئیل اسٹیٹ کا بزنس کرتا تھا رشتوں کی گتھیوں کو سلجھاتا ہوا ہمت ہار گیا اور موت کو گلے لگا لیا۔

شنید ہے کہ اس نے کچھ عرصہ پہلے پسند کی شادی کی تھی جو کہ اس کا ایک انفرادی حق تھا، دو محبت کرنے والوں کے بیچ تیسرے کی تو قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہوتی، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ رشتے کی توہین ہے، جو جس کے ساتھ بھی زندگی بسر کرنا چاہیے کرے ہم کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے؟

وقاص نے پسند کی شادی تو کر لی لیکن والد اسے ازدواجی سطح پر ایک الگ تھلگ زندگی گزارنے کی اجازت دینے سے انکاری تھا، اب ایسی زندگی کا بھی کیا فائدہ کہ دو محبت کرنے والے بے خودی کے دو پل بھی آزادی سے نہ بتا پائیں اور ان کی رومانوی زندگی پر نگرانی کے درجنوں کیمرے نصب ہوں، فطری موڈ کو ٹالنا پڑے اور بے وقت کی راگنی کی طرح سے خود پر سیکس کو طاری کرنا پڑے، ذرا اس لمحے کی اذیت کا اندازہ تو لگائیں؟

اب ایک کامیاب انسان جو مڈل طبقے سے ابھرا، اس کے روشن دماغ ہونے کا اندازہ ایک جملے سے لگا لیں جو اس کے دفتر کی میز پر درج ہے۔

”When you take ownership of all your flaws and weaknesses, you have won“

اس قدر مضبوط انسان خاندانی انا کے سامنے ہار گیا، نا تو ماں باپ کا دل توڑ سکا اور نا ہی اپنی شریک حیات کو کوئی مقام دلوانے بنا اس کا سامنا کرنے کی ہمت کر سکا، اسی کشمکش میں انائیں جیت گئیں اور وقاص ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے بڑے پرائیویسی کی سینس کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے یا اپنے حصے کی آزادی اپنے بچوں کو دینا نہیں چاہتے، دوسروں کو سپیس دینا، انفرادی حدود کا احترام کرنا، بچوں کی زندگیوں میں مداخلت سے باز رہنا اور شادی کے بعد دونوں پارٹنر کو مکمل آزادی سے جینے دینا بنیادی انسانی تقاضے ہیں جن سے انحراف زندگیاں برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔

Facebook Comments HS