نوبل انعام برائے صبر و برداشت
آپ نے جنگ نہیں کی؟ بہت اچھے! بات مان لی؟ سبحان اللہ! اب جو صدرِ محترم ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نگاہِ ناز دوڑائی تو قرعہ نکل آیا عسکری قیادت کے نام۔ جیسے ہی سلامی کا وقت آیا، ٹرمپ نے اسٹیبلشمنٹ سے براہِ راست بات کرنا ہی بہتر سمجھا، ظاہر ہے، کون چکر کاٹے جمہوریت کی گلیوں میں جہاں بات بات پر اختلاف ہو، اور ہر کوئی طنز کے تیر لیے گھات میں بیٹھا ہو۔
مگر حیرت تو یہ ہوئی کہ اس بار نہ کوئی اعتراض ہوا، نہ ہی سوشل میڈیا پر طنزیہ فائرنگ! لگتا ہے امریکی صدر کے سامنے سبھی زبان دان، خاموشی کے نوبل کے حقدار بن گئے۔ آخر وہ کوئی ”بانی پی ٹی آئی“ تو نہیں کہ کچھ بھی بولیں اور پورا ملک ”مزاحیہ تجزیہ“ میں مصروف ہو جائے۔
بند کمرے میں گفتگو ہوئی، خیر مبارک! کیا باتیں ہوئیں، کسی کو کچھ پتا نہیں، لیکن اتنا ضرور معلوم ہوا کہ آدھے گھنٹے کی طے شدہ ملاقات دو گھنٹے تک کھچ گئی۔ غالباً چائے اچھی بنی ہوگی یا ترجمہ تھوڑا سست رہا ہو گا۔
ٹرمپ صاحب نے پاکستان کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے کہ قوم کو خود اپنے اوپر شک ہونے لگا ”بھئی ہم نے ایسا کیا کارنامہ کیا ہے؟“ لیکن پھر صدر ٹرمپ نے احسان چکانے کا موقع دیا: فرمایا، جنگ نہ ہونے دی۔ ہم شرمندہ ہوئے، کیونکہ ہمیں تو لگا تھا ہم نے جنگ لڑی، جیتی اور اب تک جشن بھی منا رہے ہیں! اتنے میں ٹرمپ نے نوبل امن انعام کی خواہش بھی جتا دی۔ کہتے ہیں لبرلز اور ترقی پسندوں کو ہی کیوں ملتا ہے؟ شاید وہ اپنے آپ کو ترقی باز نہیں بلکہ قدامت فروش سمجھتے ہیں۔
یہ سب پاکستانی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے ہوا۔ وزیرِ اعظم جاگ رہے تھے یا خوابِ خرگوش میں، یہ تو ان کے سیکرٹری ضیاء ہی جانتے ہوں گے جنہیں شاید ہدایت تھی کہ ”اگر کوئی بڑی بات ہو تو جگا دینا، باقی سب خود سنبھال لینا“ ۔
مگر حکومت نے وہ کیا کہ دنیا حیران! رات کے اندھیرے میں ہی نوبل انعام کی رسمی سفارش پیش کر دی گئی، غالباً اس ڈر سے کہ کہیں صبح ہوتے ہی ٹرمپ کا ارادہ نہ بدل جائے۔ لیکن ہوا وہی جو ہوتا آیا ہے۔ اگلے دن امریکہ نے ایران پر بمباری کر دی، اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان بھی کر دیا اور ہم بیچ چوراہے میں، ہاتھ میں امن کی موم بتی لیے کھڑے رہ گئے۔
اب حکومت کنفیوز، مذمت کی جائے یا سفارش واپس لی جائے؟ تجزیہ کار پوسٹیں ڈیلیٹ کر رہے ہیں، یوٹرن کا زاویہ ناپا جا رہا ہے، اور قوم نئی وائرل میم کے انتظار میں۔
بھئی، ایسا ہو جاتا ہے۔ جسے ہم نجات دہندہ سمجھتے ہیں، وہ اکثر ریڈ زون میں ”ریڈ لائن“ کراس کر جاتا ہے۔ ادھر قوم اپنے نوبل انعام یافتگان سے نالاں ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ روایتی بے اعتنائی، اور ملالہ کے ساتھ وہی شک کا سایہ جو ہر روشن چراغ پر پڑتا ہے۔
ہاں، البتہ ٹرمپ کی سفارش کرنے والے واقعی عوام سے خصوصی سلوک کرتے آئے ہیں۔ کبھی کچھ حقوق دے دیے، کبھی کچھ لے لیے۔ مہنگائی، زائد بلوں اور ٹیکسوں کے ستائے کچھ گلے شکوے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ اس لیے اب اقوامِ متحدہ سے گزارش ہے کہ پاکستان کے عوام کو ”نوبل انعام برائے صبر و برداشت“ عطا کیا جائے۔ آخر جمہوریت، سفارت اور تعریفوں کے ان نرالے جھٹکوں کو سہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔


