پرانی یادیں : بھارت کے خلاف 1965 کی جنگ

1965 کی پاک بھارت جنگ پاکستانی تاریخ کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہے۔ اس جنگ کے نتائج نے بعد کی تاریخ پر بہت گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ جنگ کشمیر کی آزادی کے نام پر لڑی گئی۔ لیکن اس جنگ کے نتیجے میں، اگر روایتی نعروں کو نظر انداز کیا جائے اور حقیقت پسندانہ انداز میں سوچا جائے، تو پاکستان نے بھارتی کنٹرول میں موجود کشمیر کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔ اس جنگ کے ملکی معیشت اور سیاسی حالات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے۔ ایوب خان کے خلاف ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں ان کا اقتدار اپنے اختتام کو پہنچا۔ جنگ کے چھ سال بعد ایک خونریز خانہ جنگی کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا اور پاکستانی افواج انتہائی ہزیمت آ میز شکست سے دوچار ہوئیں۔ فوج کی بار بار مداخلت نے ایک مضبوط سیاسی نظام کو پنپنے نہیں دیا۔ عوام کی بہبود سے وابستہ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، اور روزگار کے شعبوں میں ہم آج تک دنیا کی قوموں کی صف میں کوئی نمایاں مقام حاصل کر نے میں ناکام رہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ تھا جب قوم پوری طرح متحد تھی۔ یہ تاثر عام تھا کہ پاکستان نے جنگی میدان میں بھارت کو شکست دی تھی۔ اس جنگ کا پس منظر کچھ یوں تھا۔
ابھی 2 جنوری کے صدارتی الیکشن کو چند دن ہوئے تھے جس میں ایوب خان نے فاطمہ جناح کو شکست دی تھی جب پاکستان نے رن آف کچھ کے ایک علاقے پر دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔ یہ علاقہ پاکستان کے جنوب میں سندھ سے متصل تھا۔ رن آف کچھ ان چند علاقوں میں سے ایک تھا جہاں 1947 کی تقسیم کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین سرحدوں کا تعین نہیں ہوسکا تھا۔ اب پاکستان نے اس متنازعہ علاقے پر فوجی آپریشن شروع کر دیا تھا جس پر بھارتی قبضہ تھا۔ دلدلی علاقہ ہونے کے باعث بھارتی فوجوں کے لئے اس علاقے تک رسائی نسبتاً مشکل تھی۔ اپریل اور مئی میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان چپقلش شروع ہو چکی تھی۔ مگر اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ہیرالڈ ولسن کی کوششوں کی بدولت جون کے آخر تک جنگ بندی ممکن ہو سکی اور دونوں افواج اپنی جنوری کی سرحدوں تک لوٹ گئیں۔ اس جنگ میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا۔
میرے خیال میں رن آف کچھ میں جنگ کا مقصد ان الزامات پر سے عوام کی توجہ ہٹانا تھا جو الیکشن میں دھاندلی سے متعلق تھے۔ دوسرا مقصد بھارت کی جنگی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔ اصل مقصد تو کشمیر کی آزادی کی جنگ تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی عوام کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے تیا ر تھے۔ 10 اگست سے ایسی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ کشمیری حریت پسند فعال ہو چکے ہیں۔ کہیں پل تباہ کیے جا رہے تھے، کہیں حریت پسندوں کے ہاتھوں فوجی چوکیوں کو تباہ کرنے کے دعوے تھے، اور کہیں بھارتی فوجیوں پر حریت پسندوں کے حملے تھے۔ میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا اور بہت جذبے کے ساتھ ان خبروں میں دلچسپی رکھتا تھا۔ خبروں کا ایک خاص ذریعہ رات کو ریڈیو پر صدائے کشمیر کے نام سے ایک نئے چینل پر پیش کردہ براڈکاسٹ تھی جو میں بلا ناغہ سنا کرتا تھا۔ یہ دعویٰ تھا کہ یہ ریڈیو چینل مقبوضہ کشمیر میں ایک نامعلوم مقام سے آپریٹ کر رہا ہے۔ میں دل ہی دل میں اس چینل پر پروگرام پیش کرنے والوں کی عظمت اور دلیری کا قائل تھا کہ کس طرح صدائے کشمیر کے یہ براڈکاسٹر اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر دشمن کی تباہی کی خبریں جمع کر کے ہم تک پہنچا رہے تھے۔ میں ان کی سلامتی کی دعائیں مانگتا تھا۔ اس چینل سے پیش کردہ ایک یا دو گھنٹے پر مشتمل پروگرام دلوں کو گرما دینے والے تھے۔ قومی نغمے، انتہائی جذباتی تقریریں، اور سب سے بڑھ کر دشمن کی تباہی کی ہوش ربا خبریں یہ احساس دلاتی تھیں کہ مقبوضہ کشمیر میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے اور آزادی کی منزل اب دور نہیں رہی۔
جنگ ختم ہونے کے بعد جب یہ معلوم ہوا کہ صدائے کشمیر تو راولپنڈی کے قریب پاکستانی سرحد کے اندر آپریٹ کر رہا تھا اور اس پر بیان کردہ خبریں جنگی پروپیگنڈا کے علاوہ کچھ نہیں تھیں تو ایک ایسا جھٹکا لگا کہ میں آج تک دنیا میں ہونے والی جنگ میں کسی ایسے دعوے پریقین نہیں کر سکا جس کی تصدیق نیوٹرل اور آزاد ذرائع نہ کر دیں۔ صدائے کشمیر سے وابستہ جو نیوز کاسٹر میرے ہیرو تھے اب مجرم محسوس ہونے لگے جن کی جھوٹ سے بھرپور نشریات نے ایک جنگی جنونیت پیدا کرنے میں ایک رول ادا کیا تھا۔ وہ ایسی جنگ کے ذمہ دار تھے جس میں کچھ لوگوں کے سیاسی مقاصد کی تکمیل میں ہزاروں انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ بہت سی مائیں اپنی سب سے قیمتی متاع کھو بیٹھی تھیں۔ کئی نوجوان خواتین بیوہ ہو گئیں اور بہت سے بچے یتیم ہو گئے۔
یکم ستمبر کو پاکستان نے کشمیر میں چھمب اور جوڑیاں سیکٹروں میں بھارت پر حملہ کر دیا۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی افواج بڑی تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے کشمیر کو آزاد کرانے کی منزل سے بہت نزدیک تھیں۔ ایسے میں 6 ستمبر کو کشمیر پر دباؤ کم کرنے کی کوشش میں بھارتی فوجوں نے لاہور پر حملہ کر دیا۔ اب پاکستان اور بھارت کے مابین مکمل جنگ شروع ہو چکی تھی۔
اس وقت پوری قوم کا جذبہ عروج پر تھا۔ پاکستانی ریڈیو ولولہ انداز میں پاکستانی افواج کی کامیابیوں کی نوید سنا رہا تھا۔ یہ وقت قومی ترانوں کا تھا۔ فوج اور ان کے ٹرک جن راستوں سے گزرتے وہاں بوڑھی عورتیں اور مرد ان کو دعائیں دیتے اور نوجوان ان پر پھول برساتے نظر آتے۔
ہماری فیملی اس وقت پشاور میں مقیم تھی جو پاکستان ایر فورس کا ہیڈ کوارٹر تھا۔ جنگ شروع ہوتے ہی مکمل بلیک آؤٹ نافذ کر دیا گیا۔ ہمارے گھر کے لان میں خندقیں کھود دی گئیں جہاں بمباری کی صورت میں پناہ لینی تھی۔ ہمارا گھر ائرپورٹ سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جو بھارتی فوج کا ممکنہ ٹارگٹ تھا۔
پشاور میں جنگ کے دوران دو دفعہ بمباری ہوئی۔ پہلی دفعہ تو بمباری شروع ہو چکی تھی جب سائرن کی آواز سنائی دی۔ اتنا موقع بھی نہیں تھا کہ گھر سے نکل کر خندقوں تک جا سکیں۔ ایک غلط فہمی نے صورت حال کو مزید ہولناک بنا دیا تھا۔ ہر طرف سے دھماکوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ بعض بم تو ہمارے گھر کے بہت نزدیک گرتے محسوس ہو رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ کسی لمحے ہماری باری آ سکتی تھی۔ کبھی کبھی دھماکوں کے ساتھ آسمان روشن ہو جاتا تھا۔ جب بھارتی جہاز بمباری کر کے چلے گئے اور خطرے سے نجات کا سائرن بجا تو رات کی تاریکی میں سب لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ میرا خیال تھا کہ ہر طرف تباہی پھیلی ہو گی لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ سب کچھ سلامت تھا۔ ہوا یوں تھا کہ بم تو چھ یا سات ہی گرائے گئے تھے لیکن جو آوازیں مستقل آ رہی تھیں اور جن کو ہم بم سمجھ رہے تھے وہ آوازیں اینٹی ایر کرافٹ گنز کی تھیں۔ اس حملے میں پشاور کا ہوائی اڈہ مکمل محفوظ رہا مگر کچھ جانی نقصان ضرور ہوا۔ ایک دو بم آبادی والے علاقوں پر گرے تھے۔ جب چند دن کے بعد دوبارہ پشاور پر بمباری ہوئی تو خطرے کا سائرن بج چکا تھا اور ہم خندق میں منتقل ہو چکے تھے۔ اس وقت تک ہم بم اور اینٹی ایر کرافٹ گن میں تمیز کرنا بھی سیکھ چکے تھے۔ اس طور یہ رات پہلی رات کی طرح خوفناک نہیں تھی۔
یہ جنگ 23 ستمبر تک 17 دن جاری رہی جب دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام جنگ بندی قبول کر لی۔ پاکستان میں یہ تاثر عام تھا کہ ہماری افواج ملک کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی تھیں۔ ہماری فضائی فوج نے یقیناً اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ بھارت نے لاہور پر حملہ کیا تھا لیکن لاہور پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔ لیکن کشمیر کی صورت حال بھی تقریباً جوں کی توں تھی۔ پاکستانی افواج اس حد تک پیش قدمی کرنے میں ناکام رہی تھیں کہ انڈین مقبوضہ کشمیر تک بھارتی رسائی روک سکیں جو کہ اس جنگ کو شروع کرنے کا اصل مقصد تھا۔ فتح کے تاثر کی بدولت اکثر حلقوں میں، خاص طور پر نوجوانوں میں، جنگ بندی کا فیصلہ مقبول نہیں تھا۔ ان جذبات کی ترجمانی اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس تقریر میں کی جو سیز فائر کی قرارداد قبول کرتے ہوئے انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں کی تھی۔ اس ایک تقریر نے بعد کے سالوں میں ان کے سیاسی عروج میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستانی سیاست پر اہم نقوش چھوڑے۔
1965 کی جنگ نے ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات چھوڑے۔ ترقی کا پہیہ جو کافی تیزی سے گھومنے لگا تھا۔ یک دم رک گیا۔ اس سے پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جنگ کے نتیجے میں ملکی معیشت کو کتنا بڑا جھٹکا پڑتا ہے۔ اور پھر ایسی جنگ جس میں کسی ملک کو واضح فتح حاصل نہیں ہو۔ جب تاشقند معاہدے کے نتیجے میں دونوں طرف کی افواج واپس اپنی سرحدوں پر لوٹ گئیں تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ ان دونوں ممالک سے زیادہ احمق کوئی نہیں تھا جنہوں نے کوئی مقصد حاصل کیے بغیر اپنے عوام کی تباہی کا سودا کیا۔
حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو اس جنگ کی ابتدا پاکستان نے کشمیر میں دراندازی کر کے کی تھی اور انہیں اس جنگ کے تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ ایوب خان، جنہوں نے اپنی کھوئی مقبولیت حاصل کرنے اور اقتدار کو طول دینے کے لیے یہ جنگ چھیڑی تھی، جنگ کے بعد پرسکون حالت میں حکومت نہ کر سکے اور تین سالوں میں ہی ان کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا۔
اس جنگ نے جہاں پاکستان کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے وہیں بین الاقوامی سیاست کے بارے میں میرے تاثرات کو خوب متاثر کیا۔ اس جنگ تک مجھے کشمیر کے مسئلے کے بارے میں پاکستانی موقف کی سچائی پر بھرپور اعتماد تھا۔ کشمیر کو طاقت کے زور پر آزاد کرانے کا خیال بہت مناسب لگتا تھا۔ لیکن اس جنگ اور اس کے بعد ہونے والے واقعات نے یہ احساس دلایا کہ وہ موقعہ نکل گیا جب کشمیر کو طاقت کے زور پر فتح کیا جا سکتا تھا۔ اب بہترین راستہ یہ تھا کہ حقیقت کو قبول کر لیا جائے اور جو حصہ انڈیا کے پاس تھا وہ انڈیا کا حصہ بن جائے اور جو حصہ پاکستان کے پاس ہے وہ پاکستان کا حصہ بن جائے۔ اس طور انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات کا راستہ کھل جائے گا۔ ایک بڑی اور مہنگی فوج کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور جو رقم فوج پر خرچ ہو رہی تھی وہ لوگوں کی تعلیم، صحت اور دوسرے فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ ہو سکے گی۔ دوسرے موضوعات کی طرح اس موضوع پر بھی میرے خیالات دوسروں سے بہت مختلف رہے۔
مجھے یقین ہے کہ جب تک ہم بھارت اور اپنے دوسرے ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم نہیں کرتے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ تمام ہمسایوں سے دوستانہ تعلقات ہماری قومی پالیسی کا انتہائی اہم جزو ہونا چاہیے۔ 1965 میں دنیا کے بہت سے ممالک بشمول چین، کوریا، مشرق بعید، مشرق و سطیٰ، جنوبی امریکہ اور لاطینی امریکہ معاشی لحاظ سے تقریباً ہم جیسے تھے لیکن آج یہ تمام ممالک معاشی لحاظ سے نہ صرف مستحکم ہیں بلکہ ترقی کی راہوں پر تیزی سے گامزن ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے حالات نہ صرف جوں کے توں ہیں بلکہ بعض لحاظ سے بہت بد تر۔ اکر اس بدتری کی سب سے اہم وجہ تلاش کرنی ہو تو ہماری پڑوسیوں، خاص طور پر بھارت سے جنگی صورت حال ہے۔ بعض سول حکومتوں نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی لیکن اس کی ان کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔
پاکستان میں جنگی جنونیت جس کا ایک مظاہرہ ابھی ہم نے حال میں دیکھا ہے کا موازنہ ایک اور صورت حال سے کرتا ہوں۔ پاکستان میں بھارت کے خلاف جو نفرت پائی جاتی ہے اس کا اظہار فوجی برتری کی صورت میں کیا جاتا ہے۔ یہ خواب دکھائے گئے ہیں کہ ہم پاکستانی جھنڈا ایک دن لال قلعے پر لہرائیں گے چاہے اس کے لئے ہمیں گھاس ہی نہ کھانا پڑے۔
چند سال قبل مجھے جنوبی کوریا جانے کا اتفاق ہوا۔ عوامی سطح پر کورین عوام میں جاپان کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے، دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے کوریا پر قبضہ کیا تھا اور انتہائی توہین آمیز رویہ روا رکھا تھا۔ اس کا ایک مظاہرہ یہ تھا کہ کوریا کے شاہی محلوں کو گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس دور کی یادیں آج بھی کورین ذہن میں محفوظ ہیں۔ لیکن کورین عوام میں جنگی جنون کی بجائے یہ احساس پیدا کیا گیا کہ انہوں نے جاپان کو فوجی میدان کی بجائے معاشی میدان میں شکست دینی ہے۔ انہوں نے اپنی عوام کو یہ خواب دکھائے کہ کوریا نے جاپان کو کاروں، سیل فون، اور دوسری ٹیکنالوجی میں نیچا دکھانا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت ٹیکنالوجی میں کوریا دنیا کی صف اول قوموں میں شامل ہے۔
کاش ہم بھی انڈیا کو تعلیم، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور دوسرے شعبوں میں نیچا دکھانا اپنا گول متعین کرتے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم گداگر کی بجائے اقوام عالم میں ایک اہم مقام پر فائز ہوتے۔
میری نظر میں مفاد پرستوں کی طرف سے یہ حکایت پھیلائی گئی ہے کہ بھارت پاکستان کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے اور ان کا خواب متحد بھارت ہے۔ یہ سچ کیسے ہو سکتا ہے؟
1971 میں ہماری افواج نے بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ یہ ہندوستانیوں کے لیے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرنے اور بنگال کو دوبارہ متحد کرنے اور متحدہ ہندوستان کے خواب کو جزوی طور پر پورا کرنے کا بہترین موقع تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ مشرقی پاکستان کی فتح کے فوراً بعد ہندوستانی افواج نے علاقہ چھوڑ دیا اور بنگلہ دیش کی ایک نئی آزاد ریاست کا اعلان کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش ایک آزاد ملک رہا ہے جس کی اپنی اقتصادی اور خارجہ پالیسی ہے۔ اس تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارت نے مشرقی پاکستان پر اس لیے قبضہ نہیں کیا کہ یہ اس کے اپنے قومی مفاد میں نہیں تھا۔ بھارت ایک ایسے ملک پر کیوں قبضہ کرے گا جو سیاسی اور معاشی بوجھ بن سکتا ہے؟


کچھ باتوں کی تصصیح ضروری ہے ہرجاء کہ دماغ میں اگر کوئی بات پختہ ہوچکی ہو تو اب آسانی سے تبدیل نہیں ہوسکتی۔
سو یہ ایک عام قاری کے لئے ہی ہے۔
–
آپ نے لکھا : ابھی 2 جنوری کے صدارتی الیکشن کو چند دن ہوئے تھے جس میں ایوب خان نے فاطمہ جناح کو شکست دی تھی جب پاکستان نے رن آف کچھ کے ایک علاقے پر دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔ یہ علاقہ پاکستان کے جنوب میں سندھ سے متصل تھا
–
رن آف کچھ یا سر کریک SIR CREEK کا علاقہ دریائے سندھ جہاں سمندر میں آکر گرتا ہے لگ بھگ وہی علاقہ ہے۔ اور اس کا پاٹ 60 سال بعد اب بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔ کاغذات میں سرحد کے حوالے سے اس بیابان اور دلدلی علاقے کے بارے میں لکھا تھا کہ دریائے سندھ حد سرحد ہوگی اور اس کا مشرقی علاقہ انڈیا اور مغربی علاقہ پاکستان کے پاس ہوگا۔ لیکن یہ ڈیلٹا کئی سو میل چوڑا تھا۔ جس میں متعدد کٹی پھٹی کھاڑیاں موجود تھیں۔
ایوب سے نفرت کرنے والے اس تنازعے کو صدارتی انتخاب سے جوڑتے ہیں جب کہ اصل معاملہ یہ ہوا کہ فروری یا مارچ میں ایک غیرملکی جریدہ میں یہ رپورٹ شائع ہوئی کہ سر کریک کے علاقے میں بھاری مقدار میں تیل کے ذخائر موجود ہیں جو ایران سے زیادہ نہ سہی مگر اس سے کم بھی نہیں ہیں۔
یوں دونوں ممالک اس لالچ میں اس علاقے میں موجود غیرمرئی تیل کے ذخائر کے لئے لڑپڑے۔
میری یادداشت کے مطابق پاکستان کو اس علاقے تک پہنچنے میں کوئی خاص فوقیت حاصل نہیں تھی۔ نہ پاک فضائیہ کا یہاں کوئی اڈا نزدیک تھا اور نہ نیوی یا آرمی کی کوئی پوسٹ۔ مسرور اور بدین کے ہوائی اڈوں سے محض معمولی مدد مل سکتی تھی۔
نیوی یا آرمی کے بھی جو لوگ یہاں متعین رہے ان تک اسلحہ اور رسد پہنچانا بے انتہا مشکل ہوتا تھا اور وہاں سے کراچی یا بدین تک بات کرنا ایک ناممکن کام ہوتا تھا۔
یہ بھی یاد رہے کہ یہ غیرآباد دلدلی علاقہ دریائی جنگلوں پرمشتمل تھا جس میں موجود انتہائی زہریلے وائپر نسل کے سانپ اور اتنے ہی زہریلے لال بچھو قدم قدم پر موجود ہوتے تھے۔ جن سے کاٹے جانے کا دوسرا نام موت تھا کیوں کہ جب کھانے کو روٹی یا اسلحہ یا گھر ہی موجود نہ ہو تو فوجی رہے گا کہاں اور دوا کہاں سے آئے گی۔ حقیقیت تو یہ ہے کہ یہ اس وقت کے فوجیوں کے لئے سیاچن سے کم بھیانک تعیناتی نہیں تھی۔
یاد رہے اس علاقے کا پرانا نام بنگال کے "سندر بن” یعنی خوب صورت جنگل کی طرح "بن گنگا یا گنگا بن” بھی تھا یعنی "دریائے گنگا کا جنگل” کہ ہزاروں سال پہلے سندھ کو گنگا کا ہی تسلسل سمجھا جاتا تھا۔
–
انڈیا کو کسی حد تک پاکستانی افواج پر اس لئے فوقیت تھی کہ بھوج، جام نگر اور فاضلکا کے ہوائی اڈے قریب تھے اور ہندوستانی ریاست گجرات مے ایک بڑے علاقے میں سڑک اور ٹرین کی سہولتیں موجود تھیں جہاں سے ان علاقوں کو پہنچا جاسکتا تھا۔ ۔۔۔
یہ بھی یاد رہے کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا سے ان دنوں 17 سے 20 کھاڑیاں یا کریک سمندر میں بنتی تھیں۔ جیسے کراچی کا مشہور کورنگی کریک نام ہے۔ ان کھاڑیوں میں زیادہ تر انڈیا کے حصے میں تھیں اور محض 5 یا چھ پاکستان کے پاس تھیں۔ رن آف کچھ چونکہ ایک بڑا علاقہ تھا اس لئے جنگ کا نام رن آف کچھ پڑ گیا وگرنہ "کچھ” کبھی متنازعہ علاقہ نہیں رہا تھا۔ بلکہ "سر کریک ” یا "گنگا بن” کا علاقہ تھا۔
–
1968 میں دونوں ملکوں نے برطانوی ٹریبونل کے ساتھ مل کر اس علاقے پر تصفیہ کرلیا جس کے بعد انڈیا کو لگ بھگ 90 فی صد اور پاکستان کو 10 فی صد علاقہ ملا۔
–
اپریل۔مئی 1965 تک یہاں مارپیٹ ہوتی رہی جس کے بعد یہاں سیز فائر ہوگیا۔
–
یہ کہنا کہ پاکستان نے کشمیر آزاد کرانے کے لئے آپریشن جبرالٹر شروع کیا۔ ایک اور مسئلہ یاد رکھنا ضروری ہے۔
اگست 1965 میں انڈین افواج نے "اڑی اور پونچھ” کو ملانے والے ایک اہم پہاڑی علاقے "حاجی پیر پاس” پر قبضہ کرلیا۔ یہ ان دنوں کے سیاچن یا کارگل جیسا ہی اہمیت والا علاقہ تھا۔
–
کشمیر چونکہ بین الاقوامی سرحد نہیں تھی اس لئے دونوں ملک ادھر ادھر مسئلے ڈالتے رہتے تھے۔ اور یہ معاملہ 1965 کی جنگ نہیں بلکہ 1971 کی جنگ کے بعد ہونے والے شملہ معاہدے کے بعد لائن اگ کنٹرول میں تبدیل ہوا تھا۔
–
ہرجا 1965 میں ہونے والے ہر غلط اور احمقانہ کام کا ملبہ ایوب پر ہی ڈالنا چاہئے لیکن اس جنگ میں بہت بڑا ہاتھ اس کے مشیروں کا بھی ہاتھ جس میں سرفہرست نام "وزیر خارجہ بھٹو” کا تھا۔
–
1971 میں مشرقی پاکستان میں فوج نے ہتھیار شکست کی وجہ سے نہیں ڈالے تھے بلکہ انہیں جی ایچ کیو راول پنڈی کی طرف سے یہ حکم دیا گیا تھا۔ یحیی خان نے بعد میں اپنی نظربندی کے دوران جو مقدمہ لڑا اس میں اس نے جو ثبوت پیش کئے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ اس ہتھیار ڈالنے کے فیصلے میں صرف مغربی پاکستان کی فوج ہی نہیں "بیشتر سیاست دانوں کا فیصلہ اور حامی بھی شامل تھی” جن میں بھٹو ایک بار پھر سر فہرست تھا۔