اپنی دوست سکوگاگ جھیل سے سگمنڈ فرائڈ کی باتیں


آج کینیڈا میں موسم گرما کا پہلا دن ہے۔ سورج کی روشنی میں کسی مہربان کے جذبات کی گرمی موجود ہے۔ میں سکوگاگ جھیل سے ملنے آیا ہوں۔ یہ جھیل میری دیرینہ دوست ہے جو میرے گھر سے تیس میل شمال میں رہتی اور بہتی ہے۔ میں ہر سال گرمیوں کے موسم میں اس سے ملنے آتا ہوں اور اس کے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اس کے ساتھ ایک سہ پہر گزارتا ہوں۔ میں نے پچھلے چالیس برسوں میں نجانے کتنی غزلیں نظمیں افسانے اور کالم یہاں بیٹھ کر لکھے ہیں۔

میں اس جھیل کی قربت میں بیٹھ کر پرسکون محسوس کرتا ہوں۔ اب تو ہم ایک دوسرے سے بات کیے بغیر بھی مکالمہ کر سکتے ہیں۔ ہم پرانے دوستوں کی طرح ہیں جنہیں کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقف ہوتے ہیں۔

اس جھیل کی دوستی نے مجھے سکھایا ہے کہ انسانوں کی انسانوں کے علاوہ دوسرے جانداروں اور فطرت کے نظاروں سے بھی دوستی ہو سکتی ہے

جانوروں سے بھی پرندوں سے بھی
شاہراہوں سے بھی پگڈنڈیوں سے بھی
پہاڑوں سے بھی وادیوں سے بھی
دریاؤں سے بھی سمندروں سے بھی
درختوں سے بھی جھیلوں سے بھی

جب میری دوست سکوگاگ جھیل نے مجھ سے پوچھا کہ آج آپ اتنے خوش کیوں دکھائی دے رہے ہیں تو میں نے اسے سرگوشی کے انداز میں بتایا کہ آج میری چہرے پر جو مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے وہ عام مسکراہٹ نہیں بلکہ خاص مسکراہٹ ہے ایسی مسکراہٹ جو

چہرے سے دل کی گہرائیوں
اور
دل کی گہرائیوں سے ذہن کی بلندیوں تک پھیل جاتی ہے

یہ خصوصی مسکراہٹ اس وقت میرے سراپا کو اپنی آغوش میں لیتی ہے جب میں کوئی نیا تخلیقی پروجیکٹ شروع کرتا ہوں۔

یہ مسکراہٹ محبوبہ کے پہلے بوسے کی طرح شریر و دلگداز ہے۔

میں نے کچھ عرصہ پہلے اپنے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ مجھے بیسویں صدی کے دانشوروں کی سوانح عمریوں اور ان کے مقالوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہیے اور پھر ان کی تخلیقات کا اردو میں ترجمہ کرنا چاہیے تا کہ اردو کے قارئین بھی عالمی ادب تخلیق کرنے والے ان دانشوروں سے متعارف ہو سکیں۔

اس سلسلے کے پہلے دانشور سگمنڈ فرائڈ تھے۔ چنانچہ میں نے ان کے حوالے سے چند کتابیں منگوائیں۔
میں نے اپنی دوست سکوگاگ جھیل کو بتایا کہ میں نے آج صبح بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائڈ کے نام سے دس صفحوں کا ایک مضمون لکھا ہے جو پیٹر گے کے سوانحی خاکے کا ترجمہ اور تلخیص ہے۔

سوانحی خاکہ لکھنے کے بعد میں نے فرائڈ کے پانچ لیکچر پڑھے جو انہوں نے انیس سو نو میں امریکہ میں جرمن زبان میں فی البدیہہ دیے تھے اور بعد میں انہیں رقم کیا تھا۔ یہ لیکچر انگریزی میں ترجمہ ہو کر پہلی دفعہ انیس سو سترہ میں چھپے تھے۔ وہ لیکچر پڑھنے کے بعد میں نے اپنے دل سے پوچھا

کیا میں ان لیکچرز کا اردو میں ترجمہ کر سکتا ہوں؟
کیا میں ان لیکچرز کا ترجمہ کرنا چاہتا ہوں؟
اور جب میرے دل کا جواب، ہاں، میں آیا تو میرے دل کی گہرائیوں سے ایک مسکراہٹ ابھری جو پہلے میرے چہرے پر اور پھر میرے ذہن کی بلندیوں تک پھیل گئی اور میرے سراپا میں ایک تخلیقی مسرت کی لہر دوڑ گئی جسے میں
Creative euphoria
کا نام دیتا ہوں۔

میں نے سکوگاگ جھیل کو بتایا کہ سگمنڈ فرائڈ ایک مستند ماہر نفسیات ہی نہیں بلکہ ایک معزز ادیب اور معتبر استاد بھی تھے۔ مجھے لیکچرز پڑھتے ہوئے اندازہ ہو رہا تھا کہ انہیں اپنے موضوع پر اتنا عبور حاصل ہے کہ وہ گنجلک پیچیدہ اور دشوار زبان کی بجائے عام فہم زبان میں ان سامعین کے سامنے اپنے خیالات و نظریات پیش کر رہے ہیں جو نہ ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی ماہرین نفسیات۔ خواص میں تو وہ پہلے ہی مقبول تھے ان لیکچرز کے چھپنے کے بعد وہ عوام میں بھی مشہور ہو گئے۔

اب میں بڑی خوشی سے ان لیکچرز کا اردو میں ترجمہ کروں گا۔

میری دوست نے کہا جانے سے پہلے مجھے وہ مضمون تو سناتے جائیں جو آپ نے آج صبح لکھا ہے۔ چنانچہ میں نے اپنی دیرینہ دوست جھیل سکوگاگ کو وہ مضموں سنایا جو اس نے بڑے تحمل اور بردباری سے سنا اور کہنے لگی کہ اب موسم گرما آ گیا ہے جب بھی فرصت ہو ملنے آ جایا کریں۔ آپ کی قربت میں میں بھی پرسکون محسوس کرتی ہوں۔

چونکہ آپ نے وہ مضمون نہیں سنا اس لیے اب آپ بھی اسے پڑھ سکتے ہیں۔ حاضر خدمت ہے۔

بابائے تحلیل نفسی سگمنڈ فرائڈ

پیٹر گے کے سوانحی خاکے کی تلخیص و ترجمہ
۔

سگمنڈ فرائڈ نے لاشعور کے راز فاش کر کے انسانیت کو غفلت کی گہری نیند سے جگایا اور انسانوں کو اپنے خوابوں کی تعبیروں سے روشناس کرایا۔

فرائڈ چھ مئی اٹھارہ سو چھپن MAY 6، 1856

کو یورپ میں موراویا کے شہر فرائی برگ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک یہودی خاندان سے تھا۔ ان کے والد جیکب فرائڈ ان کی والدہ ایمیلیا سے بیس برس بڑے تھے۔ وہ ان کی تیسری بیوی تھیں۔ جیکب فرائڈ کی پہلی بیوی سے دو بیٹے تھے جن کی عمریں ان کی سوتیلی ماں ایمیلیا کے قریب تھیں۔

فرائڈ شروع سے ہی ایک ذہین اور متجسس بچے تھے۔ جب ان کی عمر چار برس ہوئی تو وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے آسٹریا کے شہر ویانا آ گئے کیونکہ سیاسی حالات بہتر ہونے کی وجہ سے یہودیوں کو ایسے معاشی و سماجی حقوق و مراعات ملنے لگے تھے جن سے وہ پہلے محروم تھے۔

فرائڈ اپنی والدہ ایمیلیا کے پہلوٹھی کے بیٹے تھے اس لیے انہیں بہت لاڈ پیار سے پالا پوسا گیا اور ان کے لیے گھر میں ایک علیحدہ کمرے کا انتظام و اہتمام کیا گیا۔

فرائڈ اتنے قابل اور ذہین تھے کہ وہ سکول میں اپنی کلاس میں اول نمبر پر آتے تھے۔

فرائڈ نے سترہ برس کی عمر میں یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا تھا۔ پہلے ان کا وکیل بننے کا ارادہ تھے لیکن پھر انہوں نے ارادہ بدل کر ڈاکٹر بننے کا فیصلہ کیا۔ میڈیکل کالج میں انہیں رچرڈ بروک جیسے بین الاقوامی شہرت یافتہ پروفیسروں کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا سنہری موقع ملا جس سے انہوں نے بہت استفادہ کیا۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران ان کے نظریات میں وضاحت پیدا ہوتی گئی۔ وہ سائنس، طب اور نفسیات کے قریب اور خدا، روایت اور مذہب سے دور ہوتے گئے۔

اٹھارہ سو بیاسی 1882 میں اپنے پروفیسر رچرڈ بروک کے مشورے پر انہوں نے ویانا کے جنرل ہسپتال میں کام کرنا شروع کر دیا تھا جہاں ان کی ملاقات پری چہری مارتھا برنیز سے ہوئی اور وہ ان کی زلف کے اسیر ہو گئے۔ دونوں کی محبت کی پینگیں بڑھیں اور ان دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا لیکن شادی کی رسم ادا کرنے میں اس لیے تاخیر ہوئی کہ فرائڈ کے پاس تقریب منعقد کرنے کی رقم نہ تھی۔ شادی کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے فرائڈ نے اپنا ایک کلینک کھولا اور چند دوستوں اور رشتہ داروں سے مالی مدد حاصل کی۔ چنانچہ اٹھارہ سو چھیاسی 1886 میں تیس برس کی عمر میں فرائڈ کی شادی ہوئی۔ اس شادی سے ان کے چھ بچے ہوئی۔ ان کی سب سے چھوٹی بیٹی اینا بھی بعد میں اپنے باپ کی طرح ایک ماہر نفسیات بنیں اور بچوں کی نفسیات کی تحقیق کی وجہ سے بہت مشہور و مقبول ہوئیں۔

شادی سے ایک برس پیشتر فرائڈ چند ماہ کے لیے پیرس گئے جہاں انہیں ایک ماہر نیورالوجسٹ ژاں مارٹن شارکو کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو اپنے مریضوں کے علاج میں ہپناٹزم استعمال کرتے تھے۔ شارکو کا خیال تھا کہ ہسٹیریا کے نفسیاتی مسئلے کا عورتیں ہی نہیں مرد بھی شکار ہوتے ہیں۔ شارکو کے ساتھ کام کرنے سے فرائڈ کے دل میں بھی نفسیاتی مسائل کے مریضوں کے ساتھ کام کرنے کا شوق پروان چڑھا۔

اٹھارہ سو پچانوے 1895 میں فرائڈ کی ملاقات ایک بزرگ ڈاکٹر جوزف برائر سے ہوئی۔ جوزف برائر نے اپنی ایک ہسٹیریا کی مریضہ علاج کے لیے فرائڈ کو بھیجی۔ وہ مریضہ نفسیات کی تاریخ میں اینا او ANNA O کے نام سے جانی جاتی ہے۔ برائر اس مریضہ کا علاج کرنے میں ناکام رہے تھے لیکن فرائڈ نے اس مریضہ کا کامیاب علاج کیا تھا۔ فرائڈ نے اٹھارہ سو چھیانوے 1896 میں اس مریضہ کے علاج کے دوران پہلی مرتبہ تحلیل نفسی PSYCHOANANALYSIS کا نام استعمال کیا تھا جو بعد میں ان کے طریقہ علاج کے حوالے سے مشہور و مقبول ہوا۔

اسی سال فرائڈ کے والد فوت ہوئے، جب فرائڈ کی عمر چالیس برس تھی۔ فرائڈ کو والد کی وفات کے بعد عجیب و غریب خواب آنے لگے اور وہ اپنے خوابوں کا خود تجزیہ کرنے لگے۔ اسی لیے فرائڈ کا کہنا تھا کہ ایک مرد کے لیے اس کے والد کی موت کا واقعہ بہت اہم ہوتا ہے جو اس کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔

فرائڈ نے اپنے خوابوں کی تحلیل نفسی کی اور ایک کتاب چھاپی جس کا نام
THE INTERPRETATION OF DREAMS
رکھا یہ کتاب انیس سو 1900 میں چھپی جب فرائڈ کی عمر چوالیس برس تھی۔ اس کتاب نے تحلیل نفسی کے علم کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ بعد میں اس کتاب نے ساری دنیا کے ماہرین نفسیات کے لیے بائبل کا درجہ اختیار کر لیا۔

فرائڈ نے جوان خواتین کے ہسٹیریا کے نفسیاتی مسئلے کے بارے میں یہ نظریہ پیش کیا کہ اس کا تعلق عورتوں کی لاشعوری ناآسودہ جنسی خواہشات سے ہے۔ فرائڈ نے جوزف برائر کے ساتھ مل کر ہسٹیریا پر تحقیقی مقالہ بھی لکھا کیونکہ برائر نے ہی انہیں علاج کے لیے اینا او نامی مریضہ بھیجی تھی۔

فرائڈ کو اپنی نفسیاتی تحقیقات اور نظریات کی وجہ سے آسٹریا میں مقبولیت حاصل ہوئی تو انہیں یونیورسٹی نے پروفیسر کا عہدہ پیش کیا جو انہوں نے بخوشی قبول کیا۔

فرائڈ نے اپنے تحلیل نفسی میں دلچسپی رکھنے والے دوستوں کے ساتھ ہر ہفتے بدھ کی شام کو ملنا شروع کیا تا کہ وہ مل کر نفسیاتی مسائل اور ان کے علاج کے بارے میں سنجیدگی سے تبادلہ خیال کر سکیں۔ وہ حلقہ بعد میں ویانا کے تحلیل نفسی کے مکتب فکر
VIENNA PSYCHOANALYTIC SCHOOL
کے طور پر جانا پہچانا گیا۔

انیس سو پانچ سے انیس سو پندرہ کی دہائی میں فرائڈ نے جن مختلف نفسیاتی بیماریوں پر سنجیدہ تحقیقی مقالے لکھے ان میں

فوبیا، PHOBIA
اوبسیسو کمپلسیو ڈس آرڈر OBSESSIVE COMPULSIVE
اور پیرانویا PARANOIA
شامل ہیں۔ اسی دوران انہوں نے بچپن کی نابالغ سوچ
پرائمری پروسس PRIMARY PROCESS
اور جوانی کی بالغانہ سوچ
سیکنڈری پروسس SECONDARY PROCESS
کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا۔

دھیرے دھیرے فرائڈ کے خیالات اور موضوعات میں وسعت پیدا ہوتی گئی اور وہ نفسیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ تخلیقی، سماجی اور ثفافتی مسائل پر بھی لکھنے لگے۔

اس دہائی میں فرائڈ کی جن دو اہم ماہرین نفسیات سے پہلے قربت پھر دوری پیدا ہوئی وہ الفریڈ ایڈلر اور کارل ینگ تھے۔

الفریڈ ایڈلر شروع میں فرائڈ کی جنسی نفسیات کے نظریے سے متاثر تھے لیکن پھر انہوں نے اختلاف کرتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ نفسیاتی مسائل میں جارحیت جنسیت سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس بات پر فرائڈ اور ایڈلر کا اختلاف اتنا بڑھا کہ انیس سو گیارہ 1911 میں ایڈلر نے اپنے ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر فرائڈ سے علیحدگی اختیار کر لی۔

کارل ینگ سے فرائڈ کی دوستی کی کہانی نہایت دلچسپ ہے۔

انیس سو چھ 1906 میں نوجوان کارل ینگ نے، جو سوٹزرلینڈ میں زیورخ ہسپتال میں نفسیاتی مریضوں کا علاج کرتے تھے، بزرگ فرائڈ کو اپنا ایک نفسیاتی مقالہ بھیجا جو فرائڈ کو بہت پسند آیا اور انہوں نے ینگ سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ اگلے سال 1907 میں دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی جس میں دونوں گیارہ گھنٹوں تک تبادلہ خیال کرتے رہے۔

فرائڈ کو ینگ اتنے پسند آئے کہ انہوں نے ینگ کو اپنا منہ بولا بیٹا کہنا شروع کر دیا اور یہ سمجھنے لگے کہ ینگ ان کے پیشہ ورانہ جانشین بن جائیں گے اور تحلیل نفسی کی روایت کو بڑھاوا دیں گے۔ اسی لیے جب انیس سو دس 1910 میں بین الاقوامی تحلیل نفسی ایسوسئیشن
INTERNATIONAL PSYCHOANALYTICAL ASSOCIATION
کی بنیاد رکھی گئی تو کارل ینگ اس کے پہلے صدر منتخب کیے گئے۔

کارل ینگ کے صدر بننے سے جہاں انہیں اہمیت و شہرت ملی وہیں فرائڈ کے دیگر دوست اور شاگرد ینگ سے حسد بھی کرنے لگے۔ انہیں یہ شکایت ہوئی کہ ینگ کے صدر بننے کے بعد تحلیل نفسی کا مرکز فرائڈ کے ملک آسٹریا کی بجائے ینگ کا ملک سوٹزرلینڈ بن گیا ہے۔

انیس سو بارہ 1912 میں فرائڈ کے قریبی دوست اور پرستار ارنسٹ جونز ERNEST JONES نے جن ہم خیال دوستوں کے ساتھ مل کر نیا گروہ بنایا ان میں فرائڈ اور جونز کے ساتھ
SANDOR FRENCZI سینڈر فرینزی
HANNS SACHS ہینز سیکس
KARL ABRAHAM کارل ابراہم اور
OTTO RANK اوٹو رینک
شامل تھے۔

اس گروہ کی تشکیل کے بعد فرائڈ اور ینگ کی دوستی میں کشیدگی بڑھنے لگی۔ وقت کے ساتھ وہ کشیدگی اتنی بڑھی کہ ینگ نے انیس سو چودہ 1914 میں صدارت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ سماجی اور سیاسی مخالفت کے ساتھ فرائڈ اور ینگ میں نظریاتی اختلافات بھی پیدا ہو گئے تھے۔ فرائڈ سمجھتے تھے کہ ینگ انسانی نفسیات میں روحانیت کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جبکہ ینگ کا موقف تھا کہ فرائڈ نفسیاتی مسائل میں جنسیات کو حد سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔

انیس سو چودہ 1914 میں جب عالمی جنگ شروع ہوئی تو اس سے تحلیل نفسی کی تحریک بہت متاثر ہوئی۔

جنگ کے باوجود فرائڈ نے اپنا تحقیقی و تخلیقی کام جاری رکھا۔ انہوں نے انیس سو سترہ 1917 میں تحلیل نفسی کے ابتدائی لیکچر
INTRODUCTORY LECTURES IN PSYCHOANALYSIS
جرمن سے انگریزی میں ترجمہ کر کے چھپوائے۔ ان لیکچرز نے فرائڈ کی شہرت کو بڑھاوا دیا۔ ان لیکچرز کی وجہ سے وہ خواص کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی مقبول ہوتے گئے۔

انیس سو تئیس میں فرائڈ کی اہم تصنیف
THE EGO AND THE ID
منظر عام پر آئی۔ اس کتاب میں فرائڈ نے انسانی سائیکی کے پہلے نظریے
شعور، تحت الشعور اور لاشعور
میں ایک تین منزلہ نفسیاتی ڈھانچے کا اضافہ کیا اور ان منزلوں کو اڈ۔ ایگو۔ سوپر ایگو
ID….EGO….SUPEREGO
کے نام دیے۔

فرائڈ انیس سو تئیس 1923 سے بیمار رہنے لگے۔ ان کے چہرے میں درد رہنے لگا۔ انہیں بات چیت میں بھی دقت پیش آنے لگی۔ اپنی بیماری کے باوجود وہ امریکہ سے آئے ڈاکٹروں کی تحلیل نفسی کرتے رہے اور وہ ڈاکٹر واپس امریکہ جا کر ان کے نظریات کو مقبول عام بناتے گئے۔

اپنی جسمانی تکالیف کے ہوتے ہوئے بھی فرائڈ نے لکھنا نہ چھوڑا انہوں نے
انیس سو ستائیس میں THE FUTURE OF AN ILLUSION
انیس سو تیس میں
CIVILIZATIONS AND ITS DISCONTENTS
جیسی اہم کتابیں لکھیں۔

فرائڈ کی بیماری اتنی بڑھی کہ ان کی تشخیص کینسر قرار پائی۔
انیس سو تیتیس 1933 میں جب ایڈولف ہٹلر بر سر اقتدار آیا تو یہودیوں کا دائرہ حیات تنگ ہونے لگا۔

اس دہائی میں فرائڈ کے دو قریبی دوست کارل ابراہم اور سینڈر فرینزی بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے جس کا فرائڈ کو بہت دکھ ہوا۔

فرائڈ کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ شہر اور ملک چھوڑ کر ہجرت کر جائیں لیکن فرائڈ کو اپنے شہر ویانا سے اس قدر محبت تھی کہ وہ اس سے جدا نہیں ہونا چاہتے تھے لیکن جب نازی شہر میں داخل ہو گئے اور لوگوں نے ان کا پرجوش استقبال کیا تو فرائڈ کو اندازہ ہو گیا کہ ان کا یہودی ہونا خطرے کی علامت ہے۔ نازی ان کی بیٹی اینا کو پکڑ کر لے گئے۔ نازیوں نے اینا کو چھوڑ تو دیا لیکن فرائڈ کو اندازہ ہو گیا کہ وہ اس شہر میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتے۔

چنانچہ چار جون انیس سو اڑتیس کو فرائڈ ویانا سے پیرس اور دو دن بعد پیرس سے لندن منتقل ہو گئے تا کہ وہاں بقول ان کے ”آزادی سے مر سکیں“۔

اپنے تمام تر سماجی اور سیاسی مسائل کے باوجود فرائڈ آ خری دم تک تخلیقی طور پر فعال رہے۔ ان کی آخری کتاب
MOSES AND MONOTHEISM
تھی جس میں انہوں نے یہودیت اور مذہب پر شدید تنقید کی تھی جس کی وجہ سے ان کے چند یہودی دوست ان سے ناراض بھی ہو گئے تھے لیکن فرائڈ اپنا سچ رقم کرنے میں اس بات کی پرواہ نہ کرتے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے۔

جب فرائڈ کا چہرے کے کینسر کا درد حد سے تجاوز کر گیا تو انہوں نے اپنے ڈاکٹر دوست سے تئیس ستمبر انیس سو انتالیس کو درخواست کی وہ انہیں مارفین کا ٹیکہ لگائیں تا کہ وہ درد سے نجات پائیں اور اپنی موت کو اپنی مرضی سے گلے لگائیں۔

فرائڈ خود تو فوت ہو گئے لیکن ان کے خیالات اور نظریات ان کی تخلیقات میں آج تک زندہ ہیں جن سے ساری دنیا کے نفسیاتی مریض اور معالج استفادہ کر رہے ہیں۔

سگمنڈ فرائڈ ایک نابغہ روزگار تھے۔ وہ ایک ہمدرد نفسیاتی مسیحا تھے۔ ان کے غیر معمولی اور غیر روایتی نظریات نے بیسویں صدی میں نفسیات کی دنیا میں ایک پرامن انقلاب پیدا کیا تھا۔ انہوں نے انسانوں کا اپنے لاشعور سے رشتہ جوڑا تھا تا کہ وہ اپنے خوابوں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور انہیں شرمندہ تعبیر کر کے ذہنی طور پر ایک صحتمند زندگی گزار سکیں۔

۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail