ظاہری شان کا فریب
وہ خطبہ جو انسانیت کا ضمیر تھا آج نصابی حوالہ بن کر رہ گیا۔ پیغام بھول گیا اور رسمیں نبھاتے نبھاتے زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں جا گرے۔ میری ایک درد بھری پکار پہ پلیز خاموش نہ رہنا، ساتھ دینا، جو لوگ مجھے ذاتی طور پہ جانتے ہیں وہ میری التجا پہ ضرور عمل کریں جو نہیں جانتے اور مجھ ناچیز کی فریاد کو وہ اہمیت نہیں دیتے وہ اپنے دل و دماغ میں وہ آخری خطبہ ضرور زندہ کریں اور اپنی باقی بچی کھچی زندگی کو ان تعلیمات کی روشنی میں زندہ رہنے کا ایک موقع ضرور دیں۔ جس خطبے نے انسان کو انسان بنایا تھا برابری کا وہ تصور کہ آج بھی آنکھوں میں ایک سمندر اࣿتار دیتا ہے۔
ہلاک کیا ہمیں مال و دولت کی دوڑ نے، حتیٰ کہ ہم نہ سچ سن سکے، نہ حق پہ چل سکے، ہم نے سادگی کو کمزوری جانا، دکھاوے کو عزت اور رسموں کو عبادت بنا لیا، یہاں تک کہ قبر کا دروازہ کھلنے لگا، اور اب ہاتھ خالی ہے اور سیاہ دل لئے اْس کے روبرو جا پہنچے۔
سادگی کا پیغام جو ہمارا فخر تھا اس دکھاوے نے اسے تاریک قبر بنا دیا۔ کیا کہوں کہ دل اداس ہے مگر احساس کی شدت زبان سے آگے نکل چکی ہے
اے میرے عزیزو! ، میری بہنو! اور بھائیو!
کبھی میں بھی جاہل تھا اور کوئی عقل والی بات کی گہرائی تک پہنچنے سے بالکل قاصر تھا ایک انگلش کا محاورہ ہے کہ بعض اوقات کسی چیز کی اپنی خوبصورتی اس کا سب سے بڑا پرابلم بن جاتی ہے لیکن بھلا ہو چند معجزوں کا جنہوں نے میری سوچ کو یوں بدلا جیسے ہیرا اس دھوکے اور فریب کی چادروں کے سائے کو چیر کر رکھ دے جس نے روح پہ چھائے ہوئے اندر کے نور کو حقیقی روشنی سے محروم رکھا ہو۔ لیکن پھر ان تمام نادان دوستوں اور بے رنگ و بے معنی ہجوم سے الگ ہو کر اپنے آپ کو پہچانا تو پتہ چلا کہ پروردگار نے مجھے سب صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان کو اسٹیمپ کرنے کے لئے ایک ہی صاحبِ بصیرت اور مخلص دوست کافی ہے۔
قرآن پاک میں بار بار ہمیں سختی اور ظلم سے بچنے اور سیدھے اور آسان راستے پہ چلنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے دلوں کو تاریک سوچوں سے نکالیں، خدا کی رضا اور حقیقی سکون سے رحم دلی اور حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنائیں۔
کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی جیبوں میں جو سوراخ ہیں، وہ آپ نے خود نہیں بنائے یہ کسی اور نے آپ کو بار بار جیب میں ہاتھ رگڑنے پہ مجبور کیا اور آپ کی جیب اور جھولی میں جو سو چھید ہوئے وہ پیسے انہی رسموں کی تیز دھاروں سے کاٹے گئے، وہ چوری ہوئے لیکن فرسودہ رسم و رواج کے نام پہ۔ جن پیسوں پہ آپ کے بچوں کا حق تھا وہ ناجائز رسموں پہ لْٹ گیا، ہماری تربیت کو ہزاروں سلام۔
انتہائی عاجزی اور انکساری سے واقع سنانے پہ مجبور ہوں۔ ایک ضرورت مند نے چند برس پہلے دو ہزار مانگے میں نے دے دیے۔ تھوڑی دیر بعد پریشان حال واپس آیا تو وہ چھید دکھایا، وہ جیب ان کاغذوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ شاید جسے ملے ہوں وہ اس سے بھی زیادہ ضرورت مند تھا، میں نے دوبارہ دے دیے کچھ اہتمام کے ساتھ۔
فنکاروں کی ایک فوج آپ کو گھیرے بیٹھی ہے۔ ٹی وی اسکرینوں سے، سوشل میڈیا کی چکاچوند وارداتیں، شادی ہالوں کی تصویریں، وہ تمھارا سونا، چاندی، پسینہ، حتیٰ کہ تمھارا ایمان نوچ رہی ہیں اور آپ کو یہ احساس تک نہیں۔
بیٹا، بیٹی پہلی شادی ہو یا دسویں، مطلب بے تحاشا خرچ کرنا نہیں۔ اصل مقصد خوشی ہے میرے پاس کئی کیسز آتے ہیں جہاں کروڑوں روپے خرچ کیے گئے جس چیز کی کمی تھی وہ تھی سچی خوشی۔
یہ جھوٹا تاثر پھیلانے والے آپ کی عقل پہ تالا لگا رہنے کے لئے کیا کیا ڈائیلاگ ہر موقع کی مناسبت سے بولتے ہیں، جہیز کم ہوا تو ناک کٹ جائے گی
”ڈیزائنر جوڑا نہ پہنا تو آپ چھوٹے لوگ سمجھے جائیں گے“
خدارا! یہ سب فریب ہے۔ وہ تمھاری محنت کو راکھ میں اُڑا کر تمھیں بتاتے ہیں تم عظیم ہو، حالانکہ عظمت تو تقویٰ میں ہے، سادگی میں ہے، تسلیم و رضا میں ہے۔ اللہ کی کتاب اعلان کرتی ہے
”اور زمین میں اکڑ کر مت چلو؛ بے شک اللہ تکبّر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا
میرے آقا نے فرمایا سب سے بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو۔
وہ ماں یاد رکھو جس کی آنکھوں میں صرف ایک خواب ہے اُس کے بچے سکون سے جئیں، عزت سے بسیں۔ نہ قرض کا بوجھ ہو، نہ رسموں کی زنجیر۔ مگر جب وہ شادی ہالوں کی جھلمل دیکھتی ہے، اُس کا کلیجہ دہل جاتا ہے کہ کہیں معاشرہ میری سادگی کو ”کمی“ نہ سمجھے۔ یہی خوف تمھارے گھروں میں داخل ہو کر تمھیں غلام بنا چکا ہے۔ آپ آزاد نہیں ہیں۔
خدارا مجھ جیسے خاکسار کو ایسی تقاریب میں نہ بلانا جن سے لوٹتے وقت میرے دل پر یہ بوجھ آن گرے کہ میں اپنی اولاد کی سادہ شادی بھی شاید نہ کر سکوں! میں امیروں کی چمک کے آگے اپنا سر نہیں جھکانا چاہتا۔ میں اُس اونچی موسیقی، اُس بے لگام اسراف، اُن جھوٹے شو آف اور ہر طرح کی نمائش سے بچنا چاہتا ہوں جو دوسروں کی غربت کا مذاق اڑاتی ہیں۔
میرے بچّے لالٹین کی زرد روشنی میں بھی اللہ کے محبوب بن سکتے ہیں۔ انہیں آتشبازی، گھنٹوں کی ڈانس شو اور ڈیزائنرز لباس کی ضرورت نہیں۔ انہیں دعا چاہیے، خلوص چاہیے، دو بول پیار کے چاہئیں۔
کیا آپ نہیں سمجھ سکتے؟ آپ کو عزت اللہ دیتا ہے، وہ مہنگے میرج ہال نہیں۔ تمھیں مقام وہ رب عطا کرتا ہے، نہ کہ سنہرے زیورات اور چمچماتے سیلفی اسٹینڈ۔ آج، ابھی فیصلہ کر لو
شیطانی مقابلے ختم کر دو! میرے گھر کی خوشی میرے رب کی دین ہے صرف بہن بھائی اور چند قریبی عزیز و اقارب مل بیٹھ کر سادگی سے مسجد میں، گھر میں یہ فریضہ ادا کریں اور شو بازوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیں جنہوں نے آپ کو یہ خوف بیچا ہے کہ دکھاوے کے بغیر عزت نہیں ملتی۔ اُن پر رحم کرو، اُن کی بات مت مانو! اُن کی اشتہاری مہموں پر کان مت دھرو جو تمھاری غربت کو اُن کی دولت کا ایندھن بناتی ہیں۔ اپنا حق واپس لو سکون، وقار، اور سادہ اسلامی وقار کے ساتھ جیو۔
آپ کو ہزاروں سلام اگر میری آواز کو دل کی دھڑکن بنا لو۔ آگے اس فضول خرچی کو کسی سمندر یا جو بھی قریبی دریا ہو اس میں بہا دو۔ اپنے گھروں میں بس اتنا چراغ جلاؤ کہ ایمان کی روشنی بجھنے نہ پائے۔ یہی آپ کی حقیقی عزت یہی آپ کا وقار۔ میں نے آئینہ دیکھ لیا ابھی آپ کی باری ہے۔


