“سید کاشف رضا کی شاعری کا تیسرا پڑاؤ: ”گلِ دوگانہ
شاعری کے ساتھ سید کاشف رضا کا تعلق تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے اور اس تعلق کی نوعیت نے نہ صرف انتہائی سنجیدہ ہے بلکہ پیچیدگی اور گہرائی کی حامل بھی ہے۔ شاعری اس کے لیے محض لفظوں کے انبار، کھوکھلی نرگسیت کے اظہار اور داخلی جذبات و احساسات کی بھرمار نہیں ہے بلکہ ایک منفرد اسلوب ِ حیات ہے۔ اسی لیے وہ قلم سے قرطاس پر محض مصرعے سیدھے نہیں کرتا بلکہ شاعری کے ساتھ ایک نامیاتی وجود کی طرح جیتا، اسے برتتا اور اس سے معاملہ کرتا ہے۔ وہ اب تک شاعری کی کئی اصناف میں طبع آزمائی کرچکا ہے جن میں غزل، نثری نظم، آزاد نظم، رباعی اور گیت شامل ہیں لیکن اس کی بیشتر شاعری نثری نظم، آزاد نظم اور غزل پر مشتمل ہے۔ وہ ان تینوں اصناف میں سے کسی ایک کو ترجیح یا فوقیت نہیں دے سکا۔ ایسا کرنا اس کے بس میں نہیں ہے کیوں کہ اس کا یہ فیصلہ شعوری نہیں بلکہ لا شعوری ہے اور وہ اسی بھرے پُرے انداز سے شاعری کے ساتھ زندگی گزارنے کا عادی ہو چکا ہے۔
اس نے اوائلِ عمری میں ہی خود کو شاعری کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا جس پر اسے کوئی پچھتاوا نہیں۔ اپنی بعد کی زندگی میں اس کی علمی و ادبی دلچسپیوں کا دائرہ وسیع تر ہوتا چلا گیا اور اس میں شاعری کے علاوہ ترجمہ نگاری، فکشن نگاری، مضمون نگاری، فلم بینی، فلموں پر تنقید، ادارت اور کچھ دیگر مشاغل جگہ پاتے چلے گئے۔ اس کے مطالعے کا میدان پھیلتا رہا لیکن شاعری سے اس کے قلبی تعلق میں کمی واقع نہیں ہوئی کیوں کہ یہ اس کی پہلی محبت ہے اور شاید آخری بھی، سو اس کے ساتھ اس کی وابستگی اور دل بستگی میں وقت گزرنے کے ساتھ شدت آتی چلی گئی ہے۔
مجھے کاشف کی شاعری کی پہلی کتاب ”محبت کا محلِ وقوع“ کی بیشتر نظموں اور غزلوں کا اولین سامع اور قاری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس کی یہ کتاب غزلوں، آزاد نظموں اور نثری نظموں پر مشتمل ہے۔ ”محبت کا محلِ وقوع“ میں وہ رومانوی اور جنسی جذبات و احساسات کی تیز آنچ اور ان کی شدت سے مغلوب دکھائی دیتا ہے لیکن یہ ایسی مغلوبیت ہے، جو بالکل فطری معلوم ہوتی ہے۔ اسی لیے اس کتاب میں کہیں اندام نہانی کی شاعری پڑھنے کو ملتی ہے، تو کہیں بھولے ناتھ پر نظم ہماری توجہ کھینچ لیتی ہے اور کہیں شاعر محبوبہ کے ہونٹوں سے مجنونانہ لپ اسٹک اتارنے اور اسے اپنے ناخنوں سے رگیدنے کی خواہش کے زیرِ اثر دکھائی دیتا ہے۔ کاشف کا شعری کمال یہ ہے کہ جنسی اور رومانی خواہشات و جذبات کے اظہار میں اس کے ہاں تلذذ پسندی کا شائبہ تک نہیں ملتا بلکہ اس نے انہیں ایسے تخلیقی اور جمالیاتی سلیقے سے اسے برتا ہے کہ اس کی شاعری میں یہ چیزیں بنیادی انسانی مسئلے کے طور اجاگر ہوتی محسوس ہیں اور وجودیت کے فلسفے سے جڑتی نظر آتی ہیں۔
”محبت کا محلِ وقوع“ 2003 میں چھپ کر سامنے آئی تھی۔ اس کے پسِ ورق پر نثری نظم کی بڑی شاعرہ عذرا عباس کی رائے درج ہے، ایک جگہ وہ لکھتی ہیں : ”کاشف عشق کے راستے پر چلنا اور نظمیں لکھنا چاہتا ہے لیکن دھوئیں سے بھرے اس شہر میں جب وہ تمام دن کی مسافت کے بعد منہ اندھیرے گھر لوٹتا ہے تو ایک نظم کو اپنے ہاتھوں میں بجھتا ہوا دیکھتا ہے۔ اپنی رومانویت کو تڑختے ہوئے دیکھ کر وہ ایک گھر کے بجائے ایک دن بنانے کا خواب دیکھتا ہے، جس میں اس کے خواب اس کو خوش آمدید کہیں گے۔“
ذی شان ساحل اردو شاعری کا ایک معتبر حوالہ ہیں، وہ کاشف کی پہلی کتاب میں شامل اپنے فلیپ کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں : ”محبت کا محلِ وقوع“ شاعری کی دنیا میں کاشف کا پہلا قدم ہے جو اس نے بہت جما کے رکھا ہے۔ ایک سیدھا اور سچا رومانس ہے جس نے کاشف کی نظموں اور غزلوں کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ انہیں پڑھتے ہوئے اسی حیرانی اور مسرت کا سامنا ہوتا ہے جو اولین رومانس کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ ”
کاشف کے پہلے شعری مجموعے کی فضا میں جس طرح کی رومانویت کا رنگ گھلا ملا ہوا ہے وہ مجھے اس کی ذات سے مخصوص دکھائی دیتا ہے کیوں کہ اِس کے پیچھے اُس کی ذاتی زندگی کے تجربات و حوادث پورے شد و مد کے ساتھ موجود ہیں۔ وہ اپنا رومانس صرف شاعری کی کتابوں سے نہیں بلکہ اپنی زندگی کے جگسا پزل سے بھی کشید کرتا ہے اور اسے تخلیقی انداز سے لکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ رومانس کے علاوہ بڑے شہر میں رہنے والے ایک فرد اور ایک شاعر کی تنہائی بھی کاشف کی شاعری کا اہم موضوع بنتی ہے۔ یہ تنہائی اُس کی ایسی محبوبہ ہے جس کے حصول کے لیے وہ دن بھر کوشاں رہتا ہے۔ جب نیوز روم کی چکا چوند سے نکل کر نصف شب کے بعد وہ اپنے گھر پہنچتا ہے تب کہیں جا کر وہ تنہائی اسے اپنی ہلکی سی چھب دکھاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب اس کے اندر کا شاعر انگڑائی لے کر بیدار ہونے لگتا ہے لیکن کچھ ہی دیر بعد دن کی روشنی اور پچھلی رات کی تھکن مل کر اسے سلا نے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ شاعر ایک مرتبہ پھر روز و شب کی چکی میں پسنے کی فکر میں غلطاں ہو کر اپنی تنہائی سے دور ہوجاتا ہے۔
کاشف کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ”ممنوع موسموں کی کتاب“ ہے۔ اس میں صرف نثری نظمیں شامل ہیں۔ اس مجموعے تک آتے آتے اس کی شاعری میں کچھ نئے رنگ اور نئے موضوعات شامل ہوتے چلے گئے، جن پر پہلے مجموعے میں بطور شاعر اس کی توجہ نہیں تھی یا بہت کم تھی۔ رومانس اور تنہائی کے علاوہ اس کتاب کی شاعری مختلف سیاسی اور سماجی موضوعات پر اس کے احتجاج اور شعری اظہار پر بھی مبنی ہے۔ اس کی غالب شاعری لڑکیوں کے حسن و جمال کی باریکیوں کے حامل شعری مشاہدات اور شاعر کی داخلی تنہائی سے متعلق ضرور ہے لیکن اس کتاب کا ایک مختصر حصہ سیاسی بھی ہے۔ کراچی کا شہرِ آشوب ہو یا بلوچستان کے مسنگ پرسنز کا قضیہ، اس نے اس طرح کی نظموں میں اہم ملکی سیاسی مسائل پر اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ذی شان ساحل نے اس کی پہلی کتاب کے فلیپ میں جس سیدھے اور سچے رومانس کا ذکر کیا ہے اس کا آشفتہ سر اور تند خو چشمہ دوسری کتاب میں بھی پوری آب و تاب سے رواں رہتا ہے۔
”ممنوع موسموں کی کتاب“ میں کاشف کا لکھا ہوا ایک دیباچہ بھی شامل ہے، جس کی مدد سے اس کے تخلیقی خیالات کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ اس میں ایک جگہ وہ لکھتا ہے :
”کائنات میں انسان کا سب سے بڑا وصف کئی قسم کی تخلیق پر قادر ہونا ہے اور عورت تخلیق کا منبع ہے، اس لیے مجھے مخلوقات میں سب سے زیادہ وہی پسند ہے۔ لفظ بھی وہی اچھے رہے جو اس کی شکر گزاری میں صرف ہو گئے۔
نسبتاً چوڑے ہاڑ اور کشادہ چہرے والی عورتوں کا اسیر رہا ہوں۔ اداسی اور سرخوشی کے لمحوں میں ان کے ریشمی رخساروں کو یاد کیا کرتا ہوں۔ ان میں سے زیادہ کو میں کسی بھی امر کی بروقت اطلاع بھی نہیں دے سکا کہ زندگی کو، رومان کی طرف لے جانی والی خوش طبعی کے ساتھ ساتھ قناعت پر آمادہ کرنے والے وقار کے ساتھ بھی بسر کرنا چاہا ہے۔ ”
اسی میں آگے چل کر وہ لکھتا ہے : ”پے َ در پے َ فوجی آمریتوں، فسطائی رجحانات اور مذہبی تنگ نظری نے میرے سماج کو بہت دکھ دیے ہیں، سو ان سے میری کھلی جنگ ہے۔ میرا ملک، میرا سماج ان دنوں سے بہت دور نظر آتے ہیں جب کوئی شاعر صرف محبت کے گیت لکھے گا اور تاریخ اسے بے ضمیر نہیں لکھے گی۔“
پہلے دو اقتباسات میں وہ عورتوں کے حوالے سے اپنے شعری خیالات کا اظہار کچھ اس طور کر رہا ہے کہ اس میں ”خوش طبعی کے ساتھ قناعت پر آمادہ وقار“ بھی نظر آتا ہے۔ اس کی لکھی ہوئی بیشتر نظمیں عورتوں سے متعلق ایک مرد شاعر کی وہ حسی یادیں ہیں جن کے چند ٹکڑے اس کے ذہن و دل میں باقی رہ گئے ہیں اور وہ انہیں کرید کر ٹٹول کر ان پر نظمیں تخلیق کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
”گلِ دوگانہ“ کاشف کی شاعری کا تیسرا اہم ترین پڑاؤ ہے۔ پچھلے مجموعوں کی طرح اس میں بھی محبت اور تنہائی کے موضوعات حاوی دکھائی دیتے ہیں جنہیں فنی چابک دستی اور تخلیقی ہنر مندی کے ساتھ غزلوں اور نظموں کے پیکر میں ڈھالا گیا ہے۔ ”گلِ دوگانہ“ تک آتے آتے اس کے رومان کی کایا کلپ ہو چکی ہے اور اس کی صورت اور نوعیت میں کچھ تغیرات آچکے ہیں۔ اس مجموعے کی غزلیں اور نظمیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے شاعر کمالِ فن کے کئی مدارج طے کرچکا ہے اور اپنے محبوب کے لیے اس کے دل میں جو تڑپ ہے اب وہ اس کے لیے سکون کا باعث بن چکی ہے، اسی لیے وہ ایک شعر میں کہتا ہے :
تڑپ بھی ہے مری اور باعثِ سکوں بھی ہے
ترا بدن مرا حاصل بھی ہے اور جنوں بھی ہے
اس شعر کے تیور بتاتے ہیں کہ محبوب کے بدن کو حاصل کہتے ہوئے اس کا جنون اس کی پرانی شاعری سے کچھ بدلا اور سنبھلا ہوا ہے اور اس میں توازن اور ٹھہراؤ بھی آ چکا ہے۔
مجموعی طور پر سید کاشف کی شاعری میں محبت کے ست رنگے احساس اور جذبے کو کلیدی حیثیت حاصل ہے لیکن یہ کوئی اتھلی یا سطحی قسم کی محبت نہیں ہے۔ اس محبت کے ڈانڈے ایک جانب ڈی ایچ لارنس کی مثالی جنسیت پسندی سے جا ملتے ہیں تو دوسری جانب یہ رومان میلان کنڈیرا کی وجودیت سے مملو جنس نگاری کا پرتو نظر آتا ہے۔ اگر اردو شاعری کو سامنے رکھ کر بات کی جائے تو کاشف کے ہاں ملنے والے جنسی رویے ایک طرف میرا جی کی تلذذ و تجرد پسند اور ابہام و علامات سے بھری ہوئی شاعری سے یکسر مختلف ہیں تو دوسری جانب فیض، راشد اور مجید امجد کے ہاں ملنے والے تصورِ محبت سے بھی پوری طرح الگ تھلگ ہیں۔ ان کا گہرا تعلق آج کی سرمایہ دارانہ اور کارپوریٹ دنیا میں زندگی کرنے والے فرد کی داخلی زندگی سے ہے۔ اس کا رومانس لغوی معنی میں جدید اور مابعد جدید محسوس ہوتا ہے۔
ایک مرد شاعر کے لیے محبت کا حقیقی محلِ وقوع نسائی پیکر کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ کاشف کی شاعری میں بھی ہمیں ایک سے زائد نسائی پیکر جھلکتے محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے ہاں ملنے والی محبت پیچیدہ اور عمیق ہے اور اس میں جنسی جذبات کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ جنسی جذبات دنیا کی بھی کوئی ایسی سیدھی سادی دنیا نہیں کہ اسے آسانی سے سمجھا اور سمجھایا جا سکے۔ اسے سمجھنے کے لیے وجودی فلسفے، علم الابدان اور نفسیات وغیرہ جیسے علوم کی مدد درکار ہے۔ اسی لیے جب کاشف جنسی جذبات کی پیچیدگی کا اظہار کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے وجود کی سچائی اور کھرے پن کا اظہار بھی کرتا ہے۔ وہ جذباتی اور احساساتی منافقت سے کوسوں دور نظر آتا ہے۔ اس نے اس بے باکی اور جرات کا انتخاب شعوری طور پر کیا ہے۔ اس کے بے باک اور جرات مندانہ اظہار کو اس کی شاعری کی امتیازی خصوصیت بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔
کاشف کی شاعری میں ایک قوت انگیز شدت محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایسی شدت جب کسی پہاڑ میں پنہاں ہوتی ہے تو وہ آتش فشاں بن جاتا ہے اور اس کے اندر چھپی ہوئی آگ لاوے کی صورت چاروں طرف پھیلنی شروع ہو جاتی ہے۔ ایسی شدت تباہی کے ساتھ تعمیر کی کئی صورتیں بھی اپنے جلو میں لے کر آتی ہے۔ کاشف کی شاعری کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
وہ اپنے اظہار کے لیے ایسے اسلوب اور لفظیات کا متلاشی دکھائی دیتا ہے، جو سراسر اس کی اپنی ہوں اور اس پر کسی دوسرے شاعر کا سایہ تک نہ پڑا ہو لیکن ظاہر ہے کہ یہ ایک ناممکن عمل ہے۔ ہر شاعر اپنے شعری سفر کے دوران اپنے متاخرین سے پہلے پہل بہت کچھ لیتا ہے تو اس کے بعد کہیں جا کر وہ شاعری کو کچھ دینے کے قابل ہو پاتا ہے۔ ”گلِ دوگانہ“ کے پہلے شعر میں وہ اپنا شعری نقطہ نظر کچھ اس طرح بیان کرتا ہے :
نکل کے دیکھ کبھی زورِ برشگال مرا
کہ شاعری بھی ہے ایک عالمِ وصال مرا
ایک جانب وہ اپنے موقلم کے زور یا قوت کا نظارہ کرنے کی دعوت دے رہا ہے تو دوسری جانب اپنی شاعری کو وصال کا ایک عالم قرار دے رہا ہے لیکن وصال کی یہ دنیا اس کی پرانی شاعری میں بیان کی گئی کیفیات سے ازحد مختلف اور متوازن ہے۔ اس میں دھیمے پن کی آنچ ہے جو اپنے پڑھنے والے پر جادوئی اثر کرتی ہے۔
”گلِ دوگانہ“ کے مطالعے کے دوران مجھے بار بار یہ خیال آتا رہا کہ ایک عورت یا بہت سی عورتوں کی خوشبوؤں سے گھرا ہوا، اس کے ذائقوں سے بھرا ہوا، اس کی باتوں سے مہکتا ہوا اور اس کی سانسوں میں جیتا ہوا یہ رومان پرور شاعر اگر ماقبل اسلام کے دورِ جاہلی میں پیدا ہوا ہوتا تو ہر سال کعبہ کے طواف کے لیے آنے والی خواتین کو چھپ چھپ کر تاکتا، ان کے حسن و نور کی چھب سے اپنے تخیل کو سیراب کرتا اور پھر ان کے نام لے لے کر ان کے حسن و جمال پر ایسی نظمیں کہتا کہ وہ عورتیں عرب دنیا میں مقبول ہو جاتیں لیکن شاعر کے حصے میں رسوائی اور موت کے سوا کچھ نہ آتا۔
وہ خواتین اپنی کنیزوں کے ذریعے شاعر کو پیغام بھیج کر اس کی منتیں کرتیں کہ وہ ان کے ناموں سے نظمیں نہ لکھے۔ ان عورتوں کے رشتے دار آ آ کرشاعر کے قبیلے کے سردار سے اس کی شکایتیں کرتے اور یوں پورا قبیلہ جب اس شاعر کے درپے ہو جاتا تب بھی وہ حسن کے باغوں کی سیر اور ان کے گلِ دوگانہ کی تحسین سے باز نہ آتا۔ وہ اپنے قبیلے سے نکالے جانے پر صحراؤں کی خاک چھانتے ہوئے اپنی پرتاثیر نظمیں پیچھے چھوڑ جاتا۔ وہ خود تو صحراؤں میں بھٹکتا ریت میں دفن ہو جاتا لیکن اس کی نظمیں سینہ بہ سینہ گردش کرتیں، ہمیشہ زندہ رہتیں۔ وہ خود جان دے کر ان خواتین کے حسن و نور کو ہمیشہ کے لیے امر کر جاتا۔
کاشف کے لیے عورت کا بدن محض اس کے پیچ و خم کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے وہ ایک الہامی کتاب کا درجہ رکھتا ہے، جس میں حیرتوں اور بوالعجبیوں کے کتنے ہی باب تحریر ہیں۔ وہ باب در باب غور و فکر کرتا ہے جن کے کسی دریچے میں پھول رکھے ہیں تو کہیں چراغ ِ حسن اپنی لو دے رہا ہے۔ شاعر اسی چراغِ جمال سے اپنی شاعری کا رزق کشید کرتا ہے اور وہ اسی دیے کی روشنی سے خود کو سجا ہوا محسوس کرتا ہے۔ وہ اسے اپنے لیے ایک اعزاز خیال کرتا ہے۔ نظم ”ایک عورت کا باغ“ میں کاشف کہتا ہے :
بدن کی کوئی کتاب ہے وہ
کتاب میں حیرتوں کے کتنے ہی باب لکھے ہیں
باب در باب جھانکتا ہوں
”گلِ دوگانہ“ تک آتے آتے کاشف کی شاعری نے طول طویل اسفار طے کیے ہیں۔ اب اس کا جنون، دیوانگی اور آشفتہ سری پوری طرح سے فن میں ڈھل چکے ہیں اور حسن کی ندرت کی جو باریکیاں اس سے اوجھل تھیں اب اس کے سامنے مکمل طور پر وا ہو چکی ہیں۔ اب اس کی شاعری پہاڑوں سے نکلتی، بہتی، شور مچاتی ندی جیسی نہیں بلکہ وہ چوڑے چکلے پاٹوں کے بیچ بہتے دریا کا روپ دھار چکی ہے جو اپنے جلو میں بے شمار ندیوں کو آسودہ کیے دھیمے پن اور وقار کے ساتھ نئی منزلوں کی جانب رواں دواں ہے۔ اپنی نظم ”آج باتیں کریں“ میں وہ کہتا ہے۔
آج باتیں کریں
آج آہستہ آہستہ باتیں کریں
کوئی دھن ہو بہت نرم رَو اور ہم
اس پہ آہستہ آہستہ باتیں کریں
کاشف کے شاعرانہ مزاج کو یہ آہستہ خرامی اور نرم روی تین دہائیوں سے زائد عرصے تک شعر کی ریاضت کا کشٹ کاٹنے کے بعد نصیب ہوئی ہے۔ اپنی ایک غزل میں وہ کہتا ہے :
یہ ہاتھ دیکھ مرے، دیکھ میرے شاعر ہاتھ
بدن حرام ہے اس پر نہ جو مباح ہوا
یہ کیا ہوس ہے کہ ملتا مجھے زیادہ وہ
مرے لیے تو وہ اتنا بھی بے پناہ ہوا
یہ بے پناہ ہونے کی بات اور قناعت پسندی کا رویہ کاشف کی شاعری کا نیا نکور چہرہ ہے۔ وہ اپنی ہوس کو ملامت کرتا رہتا ہے۔ اسے جو کچھ بھی اور جتنا مل رہا ہے وہ اس پر قانع دکھائی دیتا ہے۔ اس کی تازہ شاعری اپنی لفظیات اور مزاج کے اعتبار سے خالصتاً جمالیاتی احساسات و جذبات سے مزین ہے اور اپنے پڑھنے والوں کو حسن کی ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جو سامنے کی ہونے کے باوجود ان دیکھی، ان چھوئی اور سحر انگیز ہے۔ وہ اپنی غزل میں روایت سے جڑا ہوا اور اس سے استفادہ کرتا نظر آتا ہے۔ ایک غزل میں کہتا ہے :
خوشبو کوئی بہارِ عدن سے تراشتا
اک بوسہ تیرے کنجِ دہن سے تراشتا
اک پھول توڑتا ترے صد رنگ باغ سے
اک شاخ لمس تیرے چمن سے تراشتا
آئینہِ حلب سے بناتا ترا وجود
اور تیرے ہونٹ لعلِ یمن سے تراشتا
کاشف کی شاعری کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے شعر اور نظمیں زندگی کے کسی نہ کسی تجربے سے پھوٹتے ہیں اسی لیے اس کے ہاں مبالغہ آرائی کم ہے۔ اسے اپنے تجربات و مشاہدات مجرد قسم کی وارداتِ قلبی و ذہنی سے زیادہ عزیز ہیں۔ اسے اپنے تجربے کی جزئیات میں اترنا خوب آتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کی بیشتر شاعری عام ڈگر سے الگ محسوس ہوتی ہے۔ اس کے ہاں وافر مقدار میں شاعرانہ تعلی ملتی ہے نہ نرگسیت جو اکثر شعرا کے محبوب موضوعات ہیں۔ اس کے ہاں اظہار کے ساتھ خیالات کی ندرت بھی وافر مقدار میں ہے جو اس کی شاعری کی تاثیر میں اضافہ کر دیتی ہے۔ ایک غزل کے شعر دیکھیے :
پہلے کرتی ہے صبا باغ میں اس کو سرمست
مست پھر مجھ کو وہ سرمستِ صبا کرتی ہے
روح سے کیا وہ اٹھے گی کہ بدن سے اس کے
اک لپٹ ایسی تعلق کی اٹھا کرتی ہے
”گلِ دوگانہ“ میں شامل غزلیں اور نظمیں پڑھ کر صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے کہ کاشف کی شاعری ایک جست لگا کر انسانی تجربات و مشاہدات کے نئے آفاق اور نئے سرچشمے نہ صرف دریافت کرتی ہے بلکہ اپنی دریافتوں میں قاری کو بھی شامل کرتی ہے۔ اسی لیے اس کا شعری اظہار ابہام و ایہام سے بے نیاز لگتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی شاعری میں زیادہ لوگوں کو شریک کرنا چاہتا ہے اور اپنی محبتوں کا پیغام دور تک پہچانا چاہتا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ ”گلِ دوگانہ“ کے قارئین اس کی تازہ شاعری کے اس منفرد ذائقے سے مسحور ہو کر رہ جائیں گے اور اسے تادیر یاد رکھیں گے۔



