چوری پکڑی گئی
آفس میں داخل ہوا تو دھواں دھار بحث جاری تھی۔ جس طرح صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسی طرح خبروں کے دفتر میں خبروں پر حاشیہ آرائی لازم و ملزوم ہے۔ خبر گرم تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیٹیں چوری ہو گئی ہیں۔ ہر ایک اسی پر طبع آزمائی کر رہا تھا۔ کوئی سچ تو کوئی جھوٹ ثابت کرنے میں اپنے اپنے دلائل کے انبار لگا رہا تھا۔ لازم تھا کہ سیاسی معرکہ آرائی میں، میں بھی کود پڑتا کہ یکایک خیال آیا۔ بھائی صاحب پہلے گھر کی خبر تو لیں۔ میں صبح ناشتہ ادھورا چھوڑ کر نکل بھاگا تھا۔ بیگم صاحبہ کے چہرے پر خفگی نمایاں تھی مگر وہ حسب معمول سیڑھیوں تک الوداع کہنے آئیں۔ میں جب تک دروازے پر پہنچا وہ بالکنی میں نمودار ہو چکی تھیں۔ مسکراتے ہوئے ہاتھ بھی ہلایا لیکن ان کی آنکھیں چغلی کھا رہی تھیں۔ گاڑی چلاتے ہوئے میں نے سوچا تھا آفس پہنچتے ہی فون کر لوں گا۔ اس سے پہلے کہ سیاسی کج بحثی میں الجھ جاتا میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر دوسرے کیبن میں چلا آیا اور بیگم صاحبہ کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔
جناب نے یاد ہی نہیں کیا؟ شکوہ کا سہی فون تو کر لیتے، خیریت تھی؟ میں نے بڑے چاؤ سے پوچھا۔
ریسیور میں آواز ابھری، بس آپ کے جانے کے بعد کچن کا کام سمیٹنے میں مصروف ہو گئی تھی۔
اوہ! تو اس کا مطلب ناشتہ بھی مکمل نہیں کیا؟
آپ نکل گئے تو بھوک مٹ گئی۔ اس لئے سوچا کام نمٹا لیتی ہوں۔
حضور معاف کر دیجئے۔ آفس سے دیر ہو رہی تھی۔ نوکری کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ آپ کا بچپنا بھی نا، ابھی تک چل رہا ہے؟
آپ جسے بچپنا کہتے ہیں میں اسے احساس مانتی ہوں۔ ساتھ چلنا اسے کہتے ہیں جب منزل تک قدم سے قدم ملتے رہیں۔ راستے میں بچھڑ جانے والے بس کے مسافر ہوتے ہیں۔ جس کا جہاں سٹاپ آیا، اتر گیا۔ یہی تو فرق رہا آپ کی اور میری سوچ میں۔
اس سے پہلے کہ ہلکی پھلکی جملہ بازی تلخی میں بدل جاتی میں نے موضوع تبدیل کرنے میں عافیت سمجھی اور بولا، اچھے بچوں کی طرح ناشتہ مکمل کیجئے اور میڈیسن لینا مت بھولئے گا۔
جی اچھا! بیگم صاحبہ کا مختصر سا فقرہ تھا۔
اور ہاں! کتابوں کی الماری کے اوپری خانے میں سبز ڈھکنے والے کرسٹل جار میں تازہ برفی رکھی ہے۔ میڈیسن کے بعد ایک آدھ ٹکڑی ضرور کھا لیجیے گا۔ منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو جائے گا۔
پاپا جان! آپ چیزیں چھپا کر رکھتے ہیں کیا؟
بیگم صاحبہ کے بجائے بیٹی کی آواز ابھری تو میں لمحہ بھر کے لئے ٹھٹھک گیا۔ بیگم صاحبہ نے فون کا اسپیکر آن کر رکھا تھا اور بال بچوں کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آئی بیٹی اپنی ماں کے پاس ہی کھڑی تھی۔
بے بے جی یعنی میری دادی کے جستی صندوق پر ہمیشہ جندری پڑی رہتی تھی۔ ان وقتوں میں چائنہ کے تالے اتنے مقبول نہیں ہوئے تھے۔ بڑے بڑے موٹے، کالے رنگ کے لوہے کے تالے ہوتے تھے یا پھر ننھی منی جندریاں، جنہیں تھوڑا سا نیچے کھینچنے پر کھولا یا ہلکا سا دبانے پر آسانی سے بند کیا جا سکتا تھا۔ بے بے جی دن میں دو ایک بار چھوٹی سی چابی کے ساتھ اپنے صندوق کی جندری کھولتیں، اس میں رکھا تانبے اور جست کا مرکب، سونے رنگ کا چمکتا، دمکتا پیتل کا ڈول نکالتیں، اس کا باریک سی مٹھی والا ڈھکنا اتارتیں اور چاندی کے منقش چمچ سے مقوی پنجیری نکال کر ہمیں بھی کھلاتیں اور خود بھی کھاتی تھیں۔ بے بے جی اپنی جادو کی پٹاری سے کئی مرتبہ ڈرائی فروٹ نکال کر بھی ہمیں دیتی تھیں۔ ہم بچوں کے لئے وہ لمحات بہت صبر آزما ہوتے تھے۔ دن بھر بے بے جی کی طرف دیکھتے رہنا، مٹھی بھر چیز کے لئے انتظار کرنا، برداشت نہیں ہوتا تھا۔ ایک دن ہم بہن بھائیوں نے منصوبہ بنایا کیوں نہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو ایک ہی بار میں حلال کر لیا جائے۔ میں نے کمانڈو ایکشن بھرنے کی حامی بھری اور مشن 007 کے لئے تیار ہو گیا۔
اگلی رات چپکے سے بے بے جی کے رنگین پایوں والے شاہانہ نواڑی پلنگ کے نیچے دھرا جستی صندوق تھوڑا سا باہر کھسکایا اور منا سا زور لگا کر جندری کھول دی۔ ایسا لگا قارون کا خزانہ ہاتھ آ گیا۔ پلیٹ بھر کر پنجیری نکالی، جیبیں ڈرائی فروٹ سے بھریں، ہلکے سے دباؤ کے ساتھ جندری دوبارہ سے بند کر دی، صندوق واپس پیچھے دھکیل کر دبے پاؤں چلتا، اپنے کمرے میں آ گیا۔
سردیوں کی رات تھی۔ بہن بھائی لحاف میں دبکے میرے ہی انتظار میں تھے۔ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے میں بھی بستر میں سرک گیا۔ ہم سب خوشی خوشی کبھی گری بادام چباتے، کبھی پستہ اور کاجو۔ کوئی کشمش سے منہ میٹھا کرتا تو کوئی چلغوزے چھیل چھیل کھاتا۔ کوئی گری کھوپرا کی کاش کاٹ کاٹ کھاتا تو کوئی انجیر۔ ریوڑیاں، بتاشے کھانے کی باری سب سے آخر میں آنا تھی۔ اس لئے انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا رہا تھا البتہ مونگ پھلی کے چھلکوں کا ڈھیر ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس میں سب کی رغبت جو تھی۔
کھانے کے ساتھ باتوں کا دور بھی چل رہا تھا کہ باجی نے کچھ عجیب نکتے اٹھا دیے۔ بولیں، یہ سب چیزیں تو گھر میں وافر پڑی رہتی ہیں، کسی کو کھانے پینے کی روک ٹوک بھی نہیں۔ پھر بے بے جی انہیں چھپا کر کیوں رکھتی ہیں؟ کیا بڑھاپے میں والدین کو یہ خوف دامن گیر ہو جاتا کہ کام دھندے میں مصروف جوان اولاد اب انہیں نہیں پوچھے گی؟ کیا بند مٹھی میں سے سرکتی ریت کی طرح کم ہوتی زندگی آدمی میں لالچ کا جذبہ پیدا کر دیتی ہے؟ یا پھر سب سے اہم سوال کہ کیا ماں باپ جان جوکھوں میں ڈال کر اس لئے اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہیں کہ بچے بڑے ہو کر ان کا سہارا بنیں گے؟
باجی نے اپنا سوال بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ کیا والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے ان کی ضروریات زندگی کا خیال رکھیں گے؟ بیماری میں ان کے دوا دارو کا اہتمام کریں گے؟ زندگی کے آخری ایام میں ان کی بیساکھی بن جائیں گے؟ جوانی کے دنوں کی ان کی حسرتیں پوری کریں گے؟ الغرض ماں باپ سوچتے ہیں کہ ان کی محنت رنگ لائے گی، بچے بڑے ہو کر ان کی تمام تر توقعات پر پورا اتریں گے؟ اس وقت تو باجی کے سوال سمجھ ہی نہیں آئے۔ آج توقعات پوری ہونے نہ ہونے کے بارے میں سوچا تو ذہن مجھے 43 سال پیچھے کالج لائف میں لے گیا۔
1982 میں کالج کے اصلی والے الیکشن میں مجھے لٹریری سوسائٹی کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں فارم 45 اور فارم 47 میں جمع تفریق نہیں کی جاتی تھی۔ لڑکے، لڑکیاں انتخابی مہم کے دوران اپنی اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں خوب دھما چوکڑی مچاتے۔ وال چاکنگ ہوتی، بینر لگتے، ہینڈ بلز تقسیم کیے جاتے۔ الیکشن کے ایک دن پہلے چاند رات منائی جاتی اور پھر اگلے روز سب لوگ قطار اندر قطار کھڑے ہو کر بیلٹ پیپر پر اپنی گواہی ثبت کر دیتے۔
اس زمانے میں مر جاؤ یا مار دو کا کلچر ابھی پروان نہیں چڑھا تھا۔ کہیں دھول دھپا ہو جاتا، کسی کو دو چار گھونسے مار دیے جاتے، کسی کو لاتیں پڑ جاتیں، بس۔ لاٹھی گولی خال خال ہی چلتی تھی۔ الیکشن جیتنے کے چند روز بعد ہی ایک آزمائش آن پڑی۔ لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام مشاعرے کا انعقاد کیا جانا تھا۔ سوسائٹی کی انچارج میڈم، اللہ کریم جنت میں گھر کرے اور اگلی منزلیں آسان فرمائے، کے حضور میری طلبی ہو گئی۔ ارشاد فرمایا مشاعرے کے لئے کل طرح مصرع سوچ کر آئیے گا۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ان کے کمرے سے باہر نکل آیا۔
اگلی صبح کالج جانے کے لئے بس میں سوار اپنی موج مستی جاری تھی کہ یاد آیا، ارے میڈم نے بلا رکھا ہے۔ میڈم کی یاد کے ساتھ ہی طرح مصرع نہ ہونے کا قلق بھی ستانے لگا، یک نہ شد دو شد۔ بی ایس سی آنرز کا پہلا سال، 20 سال کی عمر، میں سکہ بند شاعر تو ہر گز نہیں تھا البتہ تک بندی اسکول کے دور سے شروع تھی۔ اس زمانے میں نشہ پتا کرتا نہیں تھا۔ سگریٹ دارو پہنچ میں نہیں تھا۔ ان دنوں خیال آفرینی کے لئے بس آنکھیں بند کر لیتا تھا۔ سو بس فراٹے بھرتی رہی اور میں نے خیال کے گھوڑے کو چابک دکھائی، حروف کے سمندر میں غوطہ زن ہوا اور کالج کے گیٹ پر پہنچنے سے پہلے چند سیپ لے کر پانیوں کی سطح پر نمودار ہو گیا۔ یعنی شعر ہو گیا تھا۔
عجب نہیں مجھے میری وفا ہی لے ڈوبے
بدلتی رت کی ہوائیں جو میری نظر میں ہیں
عزیز از جان دوست ندیم کہ جس کے بارے میں چچا غالب بہت پہلے کیا خوب کہہ گئے تھے۔
غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست
اللہ کریم مغفرت فرمائے کہ فانی دنیا میں وہ بھی داغ مفارقت دے گیا۔ ندیم کا ہاتھ پکڑے میڈم کے کمرے میں داخل ہوا۔ سلام عرض کر کے ہم دونوں با ادب کھڑے ہو گئے۔ میڈم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور سامنے کرسیوں پر بیٹھنے کا اشارہ کر دیا۔ ہم دونوں بیٹھ گئے تو میڈم نے طرح مصرع کے حوالے سے استفسار کیا۔ میں نے جھٹ سے شعر پیش کر دیا۔ میڈم نے فوراً پوچھا کس کا شعر ہے؟ میں بڑے احترام سے بولا، جی میرا خود کا۔ شعر سننا تھا کہ میڈم کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ چہرے پر کچھ تناؤ آیا۔ میں گھبرایا کہ شعر فنی محاسن کی تقطیع پر پورا نہیں اترا یا پھر عرض کرنے میں کجی آ گئی۔
میڈم نے مقرر ارشاد کا بولا تو میں نے ڈرتے ہوئے پھر سے عرض گزار دیا۔ میڈم نے کرسی کی پشت پر ٹیک لگا کر اپنی آنکھیں موند لیں۔ پیشانی پر پسینے کے قطرے ابھرے، رنگ پھیکا پڑنے لگا۔ میں اور ندیم گھبرا گئے کہ ماجرا کیا ہوا؟ ندیم نے شیشے کے گلاس میں پانی انڈیلا، گلاس آگے بڑھایا اور بولا۔ میڈم پلیز پانی پیجئے؟ لیکن خاموشی مزید گہری ہو گئی تھی۔ ہم دونوں کا حال یوں تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں۔
چہار اطراف برآمدوں کی غلام گردش کے ایک طرف کالج فیکلٹی کے دفاتر، دوسری طرف ایڈمن کے کمرے تھے اور دو اطراف میں کلاس رومز جبکہ عین وسط میں بچھے گراؤنڈ نے عمارت کے سب حصوں کو ایک دوسرے کے روبرو کھڑا کر رکھا تھا۔ کھلے دروازے، کھلی کھڑکیوں میں سب صاف نظر آ رہا تھا۔ میں اور ندیم میز کی مخالف سمت کھڑے میڈم سے پانی پی لینے کے ملتجی تھے مگر ان کی طرف تو گہری خاموشی تھی۔ ہم دونوں پریشان کہ کسی نے دیکھ لیا تو کیا قیامت آئے گی؟ ہم ابھی جل تو جلال تو کا ورد کر ہی رہے تھے کہ سامنے کرسی پر کچھ حرکت ہوئی، میڈم نے آنکھیں کھولیں اور ہم دونوں کو ایک بار پھر سے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ ہم دونوں ڈرے سہمے کرسیوں پر بیٹھ گئے تو میڈم گمبھیر آواز میں مجھ سے مخاطب ہوئیں۔
سچ سچ بتاؤ کوئی گھریلو پریشانی ہے؟ گھر کے معاشی حالات کیسے ہیں؟ ماں باپ میں ناچاقی تو نہیں؟ کوئی چوٹ کھائے ہو کیا؟ میں نے حلفا اور قسما کہا، ایسا کچھ بھی نہیں، گھر کا لاڈلا، یار بیلیوں کا پیارا ہوں، کوئی چوٹ بھی نہیں کھائی، ہر محفل کی جان ہوتا ہوں لیکن میڈم میرے کسی جواب سے مطمئن نہ ہوئیں اور بولیں، ایسا شعر زمانے کا دھتکارا کوئی دل جلا ہی کہے گا۔ تمھاری عمر میں لڑکے ان احساسات سے محروم ہوتے ہیں۔ ایسے دلدوز جذبات غیر معمولی حالات میں ہی پرورش پاتے ہیں۔ تم ایسے سنجیدہ بھی نہیں لگتے، اس لئے سچ بتاؤ یہ شعر کس کا ہے؟
میڈم کے آخری فقرے سے انا کو ٹھیس پہنچی تو میں نے فلسفیانہ انداز میں کہا، دیکھئے کوئی بھی شخص جب کسی دوسرے سے بھلائی کرتا ہے تو جواب میں کوئی نہ کوئی توقع ضرور رکھتا ہے۔ بھلے شکریہ کا ایک معمولی سا لفظ ہی کیوں نہ ہو؟ بندے کو اپنی نیکی کے بدلے کچھ نہ کچھ تو چاہیے ہوتا ہے۔ میرے نزدیک توقعات، خدمات کے لئے مہمیز کا کام کرتی ہیں۔ میڈم نے گہری نظروں سے مجھے دیکھا اور بولیں۔ توقعات اور خدمات کا قطعاً آپسی میل نہیں۔ دونوں کا مشروط ہونا بھی غلط العام ہے۔ جبلت اور فطرت دونوں کا تعلق ہماری عادات اور صفات سے ہے۔ فطرت میں وہ چیزیں شامل ہیں جو انسان کو پیدائشی طور پر ودیعت کی گئیں جبکہ جبلت سے مراد وہ عادات ہیں جنہیں آپ کا ذہن وقت کے ساتھ ساتھ اپنا لیتا ہے۔ لہذا انسانی صفات، فطرت اور عادات، جبلت کا حصہ ہیں۔
مجھے اور ندیم کو ہمہ تن گوش دیکھ کر میڈم کہنے لگیں۔ آپ کے خیال میں بچہ روئے تو ماں اسے دودھ پلاتی ہے کیا؟ ہر گز نہیں۔ بچے کو دودھ پلانا قدرت کی ودیعت ہے، کسی خاتون کی عادت نہیں۔ درحقیقت ماں کی چھاتیاں جب بھر جاتی ہیں تو درد سے نجات کے لئے وہ اپنے بچے کو سینے سے لپٹاتی ہے۔ اسی طرح راستے پر پڑا پتھر اٹھانے کا جذبہ انسان کے اندر فطرتا موجود ہوتا ہے، آدمی آگے بڑھ کر پتھر سڑک کنارے پھینک دیتا ہے تو اسے تسکین ملتی ہے۔ یہی قدرت ہے، یہی فطرت۔ اب بھلا ودیعت کی گئی نیکی کے لئے توقعات چہ معنی دارد؟
الاماں! الحفیظ۔ خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں۔ ماں ایسی میڈم خاک کی چادر اوڑھ کر سو گئیں۔ بھائیوں جیسا دوست ندیم بھی رخصت ہو گیا، اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر۔ آج 43 سال پہلے 1982 کا وہ دن آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔ میڈم کے ساتھ مکالمہ بھی بخدا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ ایک ایک حرف زندہ تصویر بن گیا ہے۔ رہے نام اللہ کا۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔
چوری کی بات ہوئی تو بے بے جی یاد آ گئیں، بچپن کی شرارتوں کا ذکر ہوا تو توقعات کے حوالے سے باجی کے سوال ذہن میں ابھر آئے، توقعات ہونے نہ ہونے کے فلسفے پر مرحومہ میڈم کے مشفق، متفکر، مغموم اور اداس چہرے کی شبیہ سامنے آئی۔ میری سیماب صفت روح کی طرح خیالات بھی ہمیشہ بھٹکتے ہی پھرتے ہیں۔
اب جو شام میں آفس سے گھر واپسی کا سفر شروع کیا تو ایک بار پھر سے تشویش ہونے لگی۔ ڈرائیو کے دوران بھی اسی ادھیڑ بن میں ہوں کہ بیٹی نے صبح والا سوال دوبارہ سے پوچھ لیا تو کیا جواب دوں گا؟ دن بھر اگرچہ کام کے گرداب میں پھنسا رہا تھا لیکن بیٹی کے سوال پر ایک لمحے کے لئے بھی سوچوں کے بھنور سے نہیں نکل سکا تھا۔ بیٹی کہ جس نے تمام عمر باپ کو ہیرو سمجھا، آئیڈیل بنائے رکھا، جب دیکھے گی کہ اس کے پاپا جان بچوں سے چیزیں چھپا لیتے ہیں اور چوری چھپے کھاتے بھی ہیں؟ کیا تاثر لے گی؟ سچ ہے کچی عمر کی چھوٹی موٹی چوری تو پھر بھی قابل معافی ہوتی ہے، پکی عمر کی چوری پکڑی جائے تو شرمندگی بہت ہوتی ہے۔


