خواب، محبت اور زندگی (42)
نارتھ ناظم آباد کراچی میں
ان ہی دنوں کراچی میں ناظم آباد سے آگے ایک نیا پوش علاقہ بنا تھا جو نارتھ ناظم آباد کہلاتا تھا۔ ہمارے والدین نے وہاں ایل بلاک میں ایک مکان خرید کر ہم بچوں کو وہاں بھیج دیا۔ خدا کی بستی کے مصنف شوکت صدیقی صاحب اور سب رنگ ڈائجسٹ کے شکیل عادل زادہ بھی وہیں رہتے تھے۔ موجودہ انتہائی کمرشلائزڈ اور پرہجوم نارتھ ناظم آباد کو دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرے گا کہ ستر کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں یہ مکمل طور پر رہائشی اور غیر تجارتی علاقہ تھا۔ وہاں صرف ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں یہ شہر سے دور ایک خوب صورت، ہرا بھرا، غیر تجارتی اور پرسکون رہائشی علاقہ ہوا کرتا تھا۔
اس وقت میرے نظریاتی گرو خورشید عالم صاحب روزنامہ مساوات لاہور کے ایڈیٹر تھے جو زندگی کے اس دور میں میرے لئے چراغ راہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، ماہنامہ حرم لاہور کی مدیرہ ظہیرہ بدر امی کی گہری دوست تھیں۔ بچپن سے ہم اس رسالے کے قاری تھے۔ ایم اے کرنے کے بعد شکارپور میں بے کار بیٹھے ہوئے میں نے اس رسالے کے لئے ”حرف بے اختیار“ کے عنوان سے ایک کالم لکھنا شروع کیا جو اس رسالے کے قارئین کے چھوٹے سے حلقے میں بے حد مقبول ہوا۔ اس کالم میں نظام اور سماج کے خلاف میری نفرت، مایوسی اور فرسٹریشن کا بھر پور اظہار ہوتا تھا۔
خورشید عالم اس رسالے میں خاور کے قلمی نام سے لکھا کرتے تھے۔ میرا کالم پڑھ کر انہوں نے مجھ سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا اور جلد ہی میں ان کی بیٹی اور وہ میرے نظریاتی استاد اور بزرگ بن گئے۔ اپنے خطوط کے ذریعے انہوں نے مجھے عزیز الحق سے متعارف کروایا جنہیں اب ’لاہور کا سقراط‘ کہا جاتا ہے۔ ہم انقلاب کے بارے میں اپنے خطوط میں لمبی چوڑی بحث کیا کرتے تھے اور وہ میری نظریاتی رہنمائی کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عزیز الحق زندہ رہتے تو وہ پاکستان کے ماؤزے تنگ ثابت ہوتے۔ اس طرح کی باتیں سن کر وہ میرے لئے ایک داستانوی شخصیت بن گئے تھے۔ ہوا یوں تھا کہ ان کی ایک نظریاتی ساتھی کے شوہر نے غلط فہمی کی بنا پر نوجوانوں کے اس قائد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور پھر خود کو بھی گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔ گولی تو اس نے ان خاتون یعنی اپنی بیوی کو بھی ماری تھی لیکن وہ مرنے سے بچ گئی تھیں۔ سالوں بعد میری ان خاتون سے ملاقات ہوئی تھی لیکن وہ الگ کہانی ہے۔
میں نے خورشید عالم صاحب کے خطوط بہت سنبھال کے رکھے تھے لیکن شادی کے بعد میں ان خطوط کی حفاظت نہیں کر پائی ورنہ وہ بھی اس خود نوشت کا حصہ ہوتے۔ عجیب اتفاق ہے کہ چند دن پہلے ”ہم سب“ میں برطانیہ سے پرویز فتح کا مضمون ”مارکسی دانشور اور بابائے صحافت خورشید عالم“ نظر سے گزرا جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ نزہت عباس کی حال میں شائع ہونے والی کتاب ”خورشید عالم: یادیں، باتیں اور خطوط“ میں وہ خطوط شامل ہیں جو انہوں نے نزہت عباس کو لکھے تھے۔ اور میری طرح ان کی بھی نظریاتی اور سیاسی تربیت کی تھی۔
روزنامہ مساوات اور وہ شخص جس نے میری زندگی بدل دی
کراچی آ کر بھی میں بے روزگار بیٹھی تھی۔ ایک روز اخبار پڑھتے ہوئے ایک چھوٹے سے اشتہار پر نظر پڑی۔ ایک غیر معروف سے اخبار کو صحافیوں کی ضرورت تھی۔ میں نے درخواست بھیج دی اور مجھے انٹرویو کے لئے بلا لیا گیا۔ میں حسب عادت رخسانہ اور تسنیم کو اپنے ساتھ لے گئی۔ اخبار کا دفتر ایمپریس مارکیٹ کی قدیم اور نیم تاریک عمارت گھڑیالی بلڈنگ میں واقع تھا۔ جب ایڈیٹر صاحب کو پتہ چلا کہ میرے ساتھ آنے والی لڑکیوں میں ایک معراج محمد خان کی بھتیجی ہے تو وہ انٹرویو بھول گئے اور رخسانہ سے درخواست کرنے لگے کہ وہ معراج صاحب سے ان کا رابطہ کروا دے تا کہ وہ اپنے مستقبل کے سیاسی عزائم کو عملی شکل دے سکیں۔ میرا غصے کے مارے برا حال تھا۔ میں ان صاحب کے مزاج درست کرنا چاہتی تھی لیکن رخسانہ نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ خوامخواہ ایک سیاسی اسکینڈل بن جائے گا۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ میں خاموش رہوں اور وہاں ملازمت کا خیال بھلا دوں۔
اتفاق سے ان ہی دنوں خورشید عالم صاحب نے اپنے خط میں مجھے اطلاع دی کہ روزنامہ مساوات کراچی سے بھی نکلنے والا ہے۔ شوکت صدیقی صاحب اس کے مدیر ہوں گے اور مجھے ان سے جا کر ملنا چاہیے۔ حسب توقع ابی کے لئے کسی اردو اخبار میں میری ملازمت کا امکان پیدا ہونا کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ ”تم اپنے چھوٹے بھائی کو گھر میں پڑھا دیا کرو، جتنی تمہیں اخبار میں تنخواہ ملے گی، میں دے دیا کروں گا“ ابی نے مجھے ملازمت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ امی نے ہمیشہ کی طرح میرا ساتھ دیا اور میں انہیں لے کر شوکت صدیقی صاحب کے گھر پہنچ گئی۔ وہ چند گلیاں چھوڑ کر ہمارے ہی بلاک میں رہتے تھے۔ انہوں نے اور ان کی بیگم صاحبہ نے خوش دلی سے ہمارا استقبال کیا۔ امی نے چھوٹتے ہی انہیں بتا دیا کہ میرے والد اس ملازمت کے حق میں نہیں ہیں اور تنخواہ والی بات بھی بتا دی۔ شوکت صاحب یہ بات سن کر بہت محظوظ ہوئے اور بعد میں اپنی مخصوص ہنسی کے ساتھ میرے کولیگز کو بھی یہ بات بتایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں میگزین سیکشن جوائن کر سکتی ہوں۔ اور کل دفتر جا کے میگزین ایڈیٹر سے مل لوں۔ اب یہ تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ میگزین ایڈیٹر کون تھا؟


