عمر رسیدہ شہریوں کے لیے میرپور شہر ایک جنگل


No country for old man مشہور امریکی ناول نگار کارمیک مکارتھی کے 2005 میں چھپنے والے ناول کا نام ہے جس پر 2007 میں ہالی ووڈ میں فلم بھی بنی۔ اس فلم کو سال کی بہترین فلم سمیت چار آسکر ایوارڈ ملے۔ ”بوڑھے مردوں کے لیے کسی ملک میں جگہ نہیں“ یہ ایک سوال ہے کہ کیا دنیا میں واقعی اچھائی اور برائی کے درمیان توازن موجود ہے۔ ناول کے مرکزی کرداروں میں پولیس افسر ایڈٹام بیل ملک میں اخلاق سے گرے ہوئے لوگوں میں ایک اچھا آدمی ہے جو انصاف کا بول بالا کرنے اور بے گناہوں کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کوئی بھی ملک یا معاشرہ ایسے بوڑھے آدمی کو پسند نہیں کرتا جو انصاف، اخلاقیات اور قانون پر عمل کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے، جہاں نوجوان اپنی من مرضی کرتے ہیں اور قانون کے ضابطوں کو نہیں مانتے۔ وہ معاشرے کی اس گراوٹ کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

اس فلم کے تناظر میں اگر ہم اپنے میرپور شہر کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے والا ایک پُرامن شہر آہستہ آہستہ ایک جنگل بنتا جا رہا ہے۔ ہماری اخلاقی اقدار گراوٹ کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ لڑائی جھگڑوں سے پاک شہر میں اب لاقانونیت بڑھتی جا رہی ہے۔ گاڑیوں کے کالے شیشے، بغیر نمبر پلیٹ، بغیر لائسنس موٹر سائیکل اور گاڑیاں چلاتے نو عمر ڈرائیور، بسوں، ویگنوں اور رکشوں میں عمر رسیدہ افراد اور خواتین مسافروں کی بے عزتی اور زیادہ کرایہ وصول کرنے کے واقعات، بینک، بیکریوں، ہوٹلوں اور شاپنگ مال کے کاؤنٹرز پر گاہکوں سے ناروا سلوک، ٹریفک قوانین کی پابندی نہ کرنا، تھانوں اور کچہریوں میں عمر رسیدہ اور عام افراد سے ناروا سلوک، معمر افراد کی عزت نہ کرنا اور اُن کا ٹھٹھا اڑانا ایسی معاشرتی بیماریاں ہیں جو ہمارے معاشرے میں پھیلتی جا رہی ہیں جن کا اگر سختی سے تدارک نہ کیا گیا تو چند سالوں بعد یہ شہر ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو جائے گا جہاں سب کا اپنا اپنا قانون ہو گا۔

گورنمنٹ کی رٹ قائم کرنے والی انتظامی مشینری اور اداروں کے افسران اپنا کام تندہی سے کر رہے ہیں۔ لیکن اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ جب بھی کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور دوسرے انتظامی دفاتر سے نظام کی بہتری کے لیے کوئی نوٹیفیکیشن جاری ہوتا ہے تو چند دن اس پر سختی سے عمل ہوتا ہے لیکن ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد حالات پھر اُسی ڈگر پر چل پڑتے ہیں۔ ہمارے انتظامی افسران اپنے اہل کاروں کے آگے بے بس نظر آتے ہیں کیوں کہ اگر انتظامی افسران کسی بھی اہل کار کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی کرتے ہیں تو حکومتی وزیر اور مشیر اس افسر کے خلاف محاذ کھول لیتے ہیں اور انتظامیہ بے بس ہو جاتی ہے۔

میں اڑسٹھ سالہ ایک عمر رسیدہ شہری ہوں۔ اپنے سارے کام خود کرتا ہوں۔ اوپر بیان کی گئی صورت حال پر میں اپنی تین ذاتی مثالیں بیان کرتا ہوں جس میں اعلیٰ انتظامی افسران کے حکم صادر کرنے کے باوجود عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے مجھے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور میرا انتظامی افسران پر اعتماد اٹھ گیا۔

( 1 ) کچھ عرصہ پہلے اپنی دیہی زمین کی جمعہ بندی حاصل کرنے کے لیے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر تحریری درخواست کی۔ انھوں نے اسی وقت متعلقہ پٹواری کو طلب کیا اور فوری نقول جاری کرنے کو کہا۔ اپنے دفتر کے ایک سینئر اہلکار کی ڈیوٹی لگائی کہ ان کا کام جلد ہو جانا چاہیے تا کہ انھیں دوبارہ آنے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔ چھ سات دفعہ صاحب کے دفتر کے چکر لگانے اور پٹواری سے رابطہ کرنے پر بھی متعلقہ کاغذات جاری نہیں ہوئے۔ ایک دن میں خود پٹواری کے دفتر میں حاضر ہوا اور کچھ ہزار روپوں کے عوض دوسرے دن متعلقہ کاغذات جاری ہو گئے تو مجھے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صاحب کی بے بسی پر رونا آیا اور میں نے کان لپیٹ کر اپنی زبان بند کر لی۔

( 2 ) پچھلے سال ایک شام کو میں ریاض ہسپتال کے سامنے سڑک پار کر کے البدر میڈیکل سٹور پر جانے کے لیے دائیں طرف سے آنے والی ٹریفک کو دیکھ رہا تھا کہ بائیں طرف سے غلط سمت پر موٹر سائیکل چلانے والے مولوی صاحب نے مجھے ٹکر ماری جس پر میں زمین پر گر گیا اور مجھے بازو پر چوٹیں آئیں۔ مولوی صاحب کے سڑک پر غلط سمت پر موٹرسائیکل چلانے پر میں نے غصہ کیا تو موٹر سائیکل پران کے پیچھے بیٹھے چھوٹے مولوی صاحب نے میرا گریبان پکڑ لیا اور جان سے مار دینے کی دھمکی دیتے ہوئے مجھے مارنے کی کوشش کی۔ وہ مجھے کوئی مذہبی شدت پسند نظر آئے۔ سڑک کے کنارے کھڑی میری گاڑی میں بیٹھی میری بیٹی اور بچوں نے شور مچایا اور لوگ اکٹھے ہوئے تو میری جان بخشی ہوئی۔ وہ کچی آبادی کی کسی مسجد کے امام تھے۔ چھوٹے مولوی صاحب ان کے پاس ٹھہرے تھے اور کسی اور ضلع کے لب و لہجہ میں بات کر رہے تھے۔ اگلے دن میں نے ضلعی پولیس کے دفتر میں حاضر ہو کر ایس ایس پی صاحب کو درخواست دی کہ یہ وقوعہ میرے ساتھ ہوا ہے۔ آپ مساجد میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ریاستی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں تا کہ ایسے واقعات نہ ہو سکیں۔ انھوں نے تھانہ سٹی میں ایس ایچ او کو درخواست پر کارروائی کا آرڈر کیا اور مجھے تھانہ بھیج دیا۔ ایس ایچ او صاحب نے ایک اے ایس آئی کے پاس بھیج دیا۔ پندرہ بیس دن میں نے درخواست کا پیچھا کیا اور پھر تھک ہار کر اپنی بے عزتی پر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔

( 3 ) دو ہفتے پہلے میں فوارہ چوک سے بینک سکوائر جانے کے لیے رکشہ میں سوار ہوا۔ ڈویژنل ٹیچنگ ہسپتال کے سامنے پٹھان ڈرائیور نے رکشہ کھڑا کیا اور مجھے اپنے ساتھ آگے بیٹھنے کو کہا جو غیر قانونی ہے۔ میں نے بیٹھنے سے انکار کیا تو اس نے زبردستی مجھے رکشہ سے اتارنے کی کوشش کی۔ میرے انکار پر مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی اور زبردستی رکشہ سے اتار دیا۔ میں اگر رکشہ سے نہ اترتا تو وہ مجھے مارنے لگتا۔ رکشہ نمبر نوٹ کیا۔ سٹی تھانے میں درخواست دی۔ میرے ایک مہربان مجھے ایس ایس پی کے دفتر لے گئے۔ وہ بڑی محبت سے ملے کافی پلائی فوراً ایس ایچ او کو فون کیا اور رکشہ نمبر لکھوا کر اسے پکڑنے کو کہا اور فوری کارروائی کا آرڈر دیا۔ سٹی تھانہ میں تفتیشی صاحب نے بلایا۔ ایس ایچ او صاحب بھی ملے۔ بہت جلد کارروائی کرنے کی نوید سنائی، بیس دن گزرنے کے باوجود رکشہ مل سکا اور نہ اس کا ڈرائیور۔ اب ایک عمر رسیدہ شخص اس بات پر تھانے کے چکر لگاتا پھرے۔ دو دن پہلے تھانہ میں مزید کارروائی نہ کرنے کی درخواست دی اور ذہنی اذیت سے جان چھڑائی اور توبہ کی کہ بھائی اگر سلامتی چاہیے تو چوہے کی طرح اپنے بل میں پڑے رہو، اب گھر سے باہر نہیں نکلنا۔

میرا مشاہدہ بھی ہے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ چھوٹے چھوٹے واقعات کی اگر روک تھام نہ کی جائے تو لوگوں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے جو عمومی رویوں میں تشدد کو رواج دیتا ہے۔ لوگ اپنی من مانی کرنے لگتے ہیں۔ تھانے میں درخواست دینے کا مقصد داد رسی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ پولیس کا فرض بنتا ہے کہ وہ معاملے کی تفتیش کرے اور تحت ضابطہ کارروائی کرے۔ غلط درخواست دینے یا جھوٹی ایف آئی آر ثابت ہونے پر درخواست گزار کے خلاف کارروائی کرے۔ جب معاشرے میں ان واقعات پر لوگوں کی داد رسی نہیں ہو گی تو وہ پھر اپنے ساتھ زیادتی کرنے والوں سے خود نبٹنے کی کوشش کریں گے جو شہر اور ملک میں انارکی پھیلنے کا سبب بنے گا۔ میں روزانہ رکشہ ڈرائیوروں کی من مانیاں دیکھتا ہوں، لوگوں کی غلط پارکنگ دیکھتا ہوں، سڑک پر غلط سمت پر گاڑیاں اور موٹر سائیکل چلتے ہوئے دیکھتا ہوں، چھوٹے چھوٹے بچوں کو بغیر نمبر پلیٹ کے موٹر سائیکل چلاتے دیکھتا ہوں تو افسوس ہوتا ہے۔ کیا یہ شہر اسی طرح چلے گا یا اس میں کوئی بہتری آئے گی۔ ہماری سول سوسائٹی، ہمارے کونسلر، ہمارے وزیر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں ان کی خاموشی پر بھی تعجب ہوتا ہے۔

بچپن میں نصاب کی کتابوں میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ ایک بیٹا چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ عدالت میں پیشی ہوئی اور چوری کے جرم کی سزا سنائی گئی تو جیل جانے سے پہلے اس نے اپنی والدہ سے ملنے کی درخواست کی۔ جب والدہ ملنے آئی تو اس نے والدہ کو گلے لگا کر اس کا کان کاٹ کھایا۔ جب عدالت نے چور سے ماں کو کاٹنے کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا۔ ”حضور اگر میری ماں پہلے دن ہی چوری کرنے پر مجھے منع کرتی اور سزا دیتی تو آج میں چور نہ بنتا۔“

میں نے اسی لیے دو دفعہ چھوٹے چھوٹے واقعات کی رپورٹ تھانہ میں درج کروائی تاکہ ان برائیوں کی روک تھام کے لیے کارروائی کی جائے۔ میری درخواست پر ایس ایچ او صاحب کہتے ہیں کہ کیا آپ کسی ترقی یافتہ معاشرے میں رہتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں۔ حضور! ہم نے مل کر معاشرے سے ان چھوٹی چھوٹی برائیوں کی روک تھام کر کے اس معاشرے کو بہتر بنانا ہے۔

Facebook Comments HS