کہاں گئے وہ لوگ“ اور عباس اطہر”
”کہاں گئے وہ لوگ؟“ عباس اطہر کے کچھ کالموں کا مجموعہ ہے۔ اگر ان کالموں کو بغور اور صاف دل سے پڑھا جائے تو یہ مکمل طور پر بلھے شاہ کے اس مصرع کی تفسیر ہیں کہ ”کیہہ جاناں میں کون؟“ ۔ یادِ رفتگاں پر مشتمل یہ تمام تحریریں ایسی ہیں کہ ان کی خواندگی کے دوران بار بار احمد مشتاق کا مندرجہ ذیل شعر جیسے یاد آ کر رک سا جاتا ہے۔
رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ رفتگاں
پھول مہنگے ہو گئے قبریں پرانی ہو گئیں
اس کتاب کے حوالے سے یادِ رفتگاں کو تازہ کرنے کا سلسلہ اس کی اشاعت سے لے کر اب تک مسلسل جاری ہے۔ کئی نامور ادیب اور دانشور اسے تحسین و آفرین سے نواز چکے ہیں۔ مجھے چونکہ اس کے مطالعہ کا موقع ابھی ملا ہے، تو میں بھی عباس اطہر عرف شاہ جی سے، اب جو خود بھی رفتگاں میں شامل ہو چکے ہیں، اپنی احترامانہ محبت کا اظہار ضروری خیال کرتا ہوں۔
کالموں کے اس مجموعہ کی قرات ہر قاری پر مختلف نوع سے اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کی اثر پذیری کا انحصار زیادہ تر خود قاری کی لوحِ یادداشت پر محفوظ مطالعہ، مشاہدہ اور ملاقاتوں پر ہے۔ جیسے اسے پڑھتے ہوئے میں خود، کئی بار گزرے ہوئے دنوں میں پہنچتا اور زمانۂ حال میں واپس آتا رہا ہوں۔
جو لوگ عباس اطہر کی شخصیت، جدوجہد اور کارناموں سے واقفیت نہیں رکھتے، وہ بھی ”کہاں گئے وہ لوگ؟“ کے مطالعہ کے دوران رنجیدہ اور دکھ بھرے لطف سے گزریں گے۔ جو انہیں جانتے ہیں وہ اس کے ذریعے ایک جہانِ دیگر کا حصہ بنیں گے۔
1972 تک بیشتر پاکستانی فلمیں بلیک اینڈ وائٹ ہوا کرتی تھیں۔ اس کا زیادہ تر فائدہ اداکاروں اور ہدایتکاروں کو ہوتا تھا کہ سیاہ و سفید میں اُن کے بہت سے عیب چھپ جاتے تھے، لیکن شاعری، نثری ادب اور صحافت میں بلیک اینڈ وائٹ کے معنی بالکل الگ بلکہ کئی زاویوں سے فلم کی نسبت اُلٹ تھے۔
پاکستانی شاعری، نثری ادب اور صحافت میں بلیک اینڈ وائٹ کا زمانہ جولائی 1977 میں جنرل ضیاء کے مارشل لاء کی آمد تک جاری رہا۔ مذکورہ شعبہ جات میں بلیک اینڈ وائٹ ہونا ایک مثبت امر تھا۔ لوگوں کے خیالات، نظریات اور رجحانات واضح تھے۔ اس ضمن میں اگر منافقت تھی تو بہت ہی کم۔ فکری اختلاف جو اکثر بہت واضح ہوتا تھا، کے باوجود لوگ ایک دوسرے سے صاف دل سے ملتے تھے۔ مختلف ذہنی رجحانات والے لوگ کسی ایک ہی ادارے میں کام کرتے ہوئے بھی، فکری فرق کو ذاتی عناد نہیں بننے دیتے تھے۔
پھر جنرل ضیاء کا مارشل لاء آ گیا اور فکری اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کا کلچر عموماً ملٹی کلر منافقت کی نذر ہو گیا۔ نظریات، رجحانات حتیٰ کہ چہرے بھی اس رنگینی میں ایسے رنگے گئے کہ کسی بھی رنگ کی پہچان مشکل ہو گئی۔ بڑے بڑے جغادری سیاستدانوں نے ایسے روپ دھارے کہ ان میں امتیاز کرنا مشکل ہو گیا۔ نظریاتی وابستگی (خواہ دائیں بازو کی ہو یا بائیں بازو کی) سے شناخت بنانے والے صحافی جنرل ضیاء کے حکومت پر غاصبانہ قبضے کی حمایت میں ایسی ایسی تاویلیں لانے لگے کہ کنفیوژن نے قارئین کے دماغ ہی گھما کے رکھ دیے۔ خود عباس اطہر تب پرانے وقت کو یاد کر کے لکھتے ہیں ”اُس عہد کی تہذیبی روایات اور وضع داری باقی رہی نہ سخت سے سخت بات کو الفاظ کے محتاط اور نرم سانچے میں ڈھالنے کا فن ہمارے حصہ میں آیا“ ۔
ایسے میں جو چند صحافی اپنی مجاہدانہ حق بیانی پر قائم رہے، عباس اطہر کا نام اُن میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ اُن کی راست گوئی اِن کہانیوں میں بھی موجود ہے جو انہوں نے رفتگاں کی یاد میں لکھی ہیں۔ یہ ہماری روایات اور اقدار کا تقاضا ہے کہ ہم گزر جانے والوں کی خوبیوں کا ذکر زیادہ کرتے ہیں۔ عباس اطہر نے بھی اس روایت کی پاسداری کی ہے لیکن اس خصوصیت کے ساتھ کہ اُن کا قلم توازن کی نازک پگڈنڈی پر چلتے ہوئے کہیں بھی ڈولنے نہیں پایا۔ زیرِ نظر کتاب میں انہوں نے کم از کم چالیس رفتگاں کو یاد کیا ہے۔ انہی اذکار میں انہوں نے کچھ ایسے نکات کو بھی اہمیت دی ہے جو بہت دیر سے تشنہ تشریح تھے۔ خاص طور پر اُن کی لکھی ایک سرخی، جو روزنامہ آزاد کی پیشانی پر شائع ہوئی تھی ”اُدھر تم، اِدھر ہم“ ۔ میرے خیال میں اس کے بعد کم از کم غیر جانبدارانہ سوچ رکھنے والوں کی غلط فہمی ضرور دُور ہو گئی ہو گی۔
وہ لکھتے ہیں ”میری یہ سرخی نہ صرف ملک کی صحافتی تاریخ کا حصہ بنی بلکہ بھٹو صاحب کے لئے اس طعنے کی بنیاد بن گئی کہ انہوں نے ’ادھر تم، ادھر ہم‘ کہہ کر ملک کو دو ٹکڑے کروا دیا۔ یہ سرخی میں نے نشتر پارک کراچی کے جلسہ میں بھٹو صاحب کی ایک تقریر کے چند جملوں کی تشریح اور تاثر سے اخذ کی تھی۔ اس میں میرا اپنا یہ تجزیہ بھی شامل تھا کہ پاکستان دو حصوں میں بٹ جائے گا۔ ملک ٹوٹنے کے بعد میری یہ سرخی بھٹو صاحب پر ملک توڑنے کی فردِ جرم بن گئی“ ۔
وہ مزید بیان کرتے ہیں ”الشمس اور البدر جیسی تنظیموں کی سرپرستی کرنے والی جماعتِ اسلامی کے لیڈروں سمیت پیپلز پارٹی کی تمام مخالف جماعتوں نے ایوب خان کی نا انصافیوں سے پیدا ہونے والی محرومیوں اور آخر میں نہتے مشرقی پاکستانی شہریوں پر ٹینکوں اور توپوں سے فوج کشی، قتلِ عام اور نسلیں بدلنے جیسے جرائم سمیت اس سانحہ کے اصل محرکات ایک طرف رکھ دیے اور میرے وضع کیے ہوئے چار الفاظ کو ملک ٹوٹنے کا سبب بنا دیا۔ یہ لفظ بھٹو صاحب نے کہے ہی نہیں تھے۔ اس سرخی کا پس منظر یہ ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن سرحد اور بلوچستان کی قوم پرست پارٹیوں کے ساتھ مل کر اپنے چھے نکات پر مبنی آئین بنانا چاہتے تھے، جس کا مطلب پاکستان کو پانچ ٹکڑوں میں تقسیم کرنا تھا“ ۔
اسی ضمن میں آگے چل کر وہ کہتے ہیں ”میں پیپلز پارٹی میں بھٹو صاحب کے سیاسی وارثوں کو جو میری سرخی کا طعنہ سن کر چپ ہو جاتے ہیں یہ مشورہ دینا چاہوں گا کہ مجیب الرحمٰن کے چھے نکات اور انیس سو ستر کے انتخابات سے لے کر شکست مشرقی پاکستان تک کے اخبارات پڑھ لیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ بھٹو صاحب نے ملک کے دو ٹکڑے نہیں کروائے بلکہ اسے پانچ ٹکڑوں میں بٹنے سے بچا لیا۔ مشرقی پاکستان میں فوجی شکست کے بعد اندرا گاندھی مغربی حصہ کو بھی ٹکڑوں میں بانٹنے پر تلی ہوئی تھی لیکن پاکستان روانگی سے پہلے بھٹو صاحب نے صدر نکسن کو اس باقی ماندہ پاکستان کے وجود کی اہمیت کا قائل کیا اور امریکہ نے سخت ترین کارروائی کی دھمکی دے کر بھارتی فوج کو جنگ بندی پر مجبور کیا۔ بھٹو صاحب ہماری تاریخ کے مقبول ترین اور مظلوم ترین لیڈر تھے“ ۔
آئیے! اب ذرا تاریخ میں جھانکنے کی کوشش کریں اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد تک پہنچیں۔ 21 مارچ 1948 کو قائد اعظمؒ نے ڈھاکہ کے رملہ میدان میں ایک تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا ”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی، اور کوئی دوسری زبان نہیں“ ۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ بائیس مارچ 1948 کے اخبار اُٹھا کر دیکھ سکتا ہے۔
قائد اعظم ؒکی اس تقریر کے بعد بنگلہ زبان کی تحریک مزید شدت اختیار کر گئی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ میں طلبا نے احتجاج کیا۔ مظاہرین پر گولی چلا دی گئی اور پانچ طلبا جان سے گئے۔ انہی معاملات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عباس اطہر نے اسی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے ”قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے فیصلے ہمارے ایمان کا حصہ ہیں لیکن ایک اکثریتی صوبے پر اقلیتی صوبے کی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر مسلط کرنا کہاں کا انصاف تھا؟“ ۔
بے شک عباس اطہر کی اس تشریح کے بعد بھی ہر کوئی اس معاملے کو اپنی سیاسی پسند، ناپسند اور وابستگی کے حوالے سے ہی دیکھے گا مگر ایک غیرجانبدار انسان کے لئے اب تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے میں آسانی ضرور پیدا ہو گئی ہے۔ کسی بھی صحافی کے کسی کام کا جائزہ لیتے ہوئے زیادہ تر اس عمل کے نتیجہ کو ہی اہمیت دی جاتی ہے۔ اُسے ناول نگار یا افسانہ نویس کی طرح یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی کہ اُس کی تحریر کو مصنف کی زندگی کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا سکے۔
ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے لئے اُن کے دل میں جو نرم گوشہ تھا، اُسے کسی طور بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ ایک اور بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ 1978 ء میں فوجی آمر جنرل ضیا کے زمانے میں انہوں نے بھٹو صاحب کی کتاب ”اگر مجھے قتل کیا گیا“ اپنے پریس سے شائع کی تھی۔ اسی پاداش میں وہ گرفتار بھی ہوئے، عقوبت خانوں کی اذیتیں بھی جھیلیں اور جیل بھی کاٹی تھی۔
اب آئیے اگلے موضوع کی طرف جس پر عباس اطہر نے اس کتاب میں بہت تفصیلی بحث کی ہے، اُس کی وجہ گورنر سلمان تاثیر کی شہادت کا سانحہ ہے۔ عباس اطہر نے اس سانحہ اور تو ہینِ رسالت ﷺ کے قانون کو ہر پہلو سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش میں پورے پچاس صفحات پر خامہ فرسائی کی ہے۔ میں یہاں اُن کی اس طویل تحریر میں سے صرف دو اقتباسات خاص مثالوں کے طور پر، آپ تک پہنچانا ضروری خیال کرتا ہوں۔
اس سے پہلے ہمیں اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ فوجی آمر جنرل ضیاء نے جو پاکستان پینل کوڈ میں دو دفعات کا اضافہ کیا ہے، ان کے نفاذ کے بعد سے لے کر عمومی طور پر اور پچھلے پچیس تیس برسوں میں خاص طور پر کتنی قیمتی جانوں کا زیاں ہوا ہے۔ مذکورہ دفعات کے غلط استعمال کی وجہ سے ڈر خوف اور نفرت کے ماحول میں کس قدر اضافہ ہو چکا ہے۔
وہ لکھتے ہیں ”فوجی آمر جنرل ضیاء نے پاکستان پینل کوڈ میں دفعہ دو سو پچانوے بی کا اضافہ کیا، جس کے تحت قرآن کریم کی براہِ راست یا بلا واسطہ یا اشاروں یا کنایوں میں توہین کی سزا عمر قید رکھی (توریت، زبور اور انجیل سمیت کسی اور الہامی کتاب یا صحیفے پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا) جبکہ دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت رسول اکرمﷺ کی براہِ راست یا بلا واسطہ یا اشاروں کنایوں میں توہین کی کم از کم سزا موت ہے۔ (اس دفعہ کے دائرے میں دیگر انبیائے کرام نہیں آتے ) ۔
آگے چل کر وہ مزید لکھتے ہیں ”سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان میں اکتیس برس سے نافذ توہین مذہب کا قانونی مسودہ واقعی الہامی حیثیت رکھتا ہے (جیسا کہ اسے پاکستان کی کئی مذہبی جماعتیں کہتی ہیں ) تو پھر سعودی عرب اور ایران سمیت دنیا کا کوئی اور مسلمان ملک اب تک اسے اپنا ماڈل نہ بنا کر اس کے فیوض و برکات سے کیوں محروم ہے؟
تو کیا پاکستان کے سوا باقی مسلمان ممالک اور حکومتوں کا عقیدہ کمزور یا گمراہ ہے؟ یا وہ اسلام کی اس تشریح کو سمجھنے سے قاصر ہیں، جسے پاکستانی مسلمانوں کا ایک طبقہ درست سمجھتا ہے۔
پاکستان میں دنیا کی کل مسلمان آبادی کا صرف گیارہ فیصد بستا ہے۔ اس گیارہ فیصد میں ایسی کیا خصوصیت ہے جو انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور نائیجیریا کو بھی نصیب نہیں۔ حالانکہ ان تین ممالک میں مجموعی طور پر ساڑھے باون کروڑ مسلمان رہ رہے ہیں ”۔
قارئینِ کرام! عباس اطہر کے مذکورہ بالا اقتباسات کے بعد میں آپ کی توجہ اُن مقدمات کی طرف بھی دلانا چاہوں گا جو اس وقت اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ یہ ایک خاص گینگ کے خلاف ہیں، جس پر الزام ہے کہ وہ توہین مذہب کے سلسلے میں نوجوانوں کو پھنسا کر انہیں بلیک میل کرتے اور اُن کی بات نہ ماننے والوں کو سزائیں بھی دلوا دیتے تھے۔ اُن کی اس کارروائی کو ”ہنی ٹریپ“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ قانونِ توہین مذہب کے غلط استعمال کی ایک بڑی مثال کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
سات سال کی عمر میں موت سے پہلا تعارف حاصل کرنے والے عباس اطہر نے ”کیہہ جاناں میں کون؟“ کے عنوان سے خاندان کے دیگر قریبی لوگوں کو بھی بہت رنجیدگی سے یاد کیا ہے لیکن اپنے داماد سجاد حسین شاہ کی موت پر وہ بہت دکھی ہوئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں ”اپنے ان نواسوں کے بچپن سے لے کر سجاد کی آخری ہچکی تک میں نے انہیں بہت ’بگاڑ‘ رکھا تھا۔ میں اُن کا ہر کام کر دیتا اور ہر فرمائش پوری کرتا۔ وہ یوں سمجھتے تھے جیسے اُن کے ہر مسئلے کا حل میرے پاس ہے اور اُن کی ہر خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ اس ایک موت نے جہاں دوسرے بہت سے نقصانات کیے ہیں وہاں نواسوں کے سامنے میرا بھرم بھی ٹوٹ گیا ہے۔ جن کو زعم تھا کہ میں مشکل سے مشکل کام بھی آسان بنا سکتا ہوں“ ۔
”کہاں گئے وہ لوگ؟“ فرخ سہیل گوئندی کے اشاعتی ادارے ”جمہوری پبلیکیشزز“ نے شائع کی ہے۔



