اسلام آباد: ترقی یافتہ شہر، مگر خواتین کے لیے خوف کی سرزمین کیوں؟


اسلام آباد پاکستان کا جدید اور خوبصورت ترین شہر ہے، جہاں کشادہ سڑکیں، روشن راستے، سیف سٹی کیمرے اور خواتین کے لیے پنک، بلیو اور گرین بسیں چلتی ہیں۔ پمز ہسپتال سے شہر کے مختلف سیکٹرز تک جدید ٹرانسپورٹ نیٹ ورک موجود ہے تاکہ خواتین اور شہری آرام دہ اور محفوظ سفر کر سکیں، لیکن اس ظاہری ترقی کے پیچھے ایک تلخ حقیقت چھپی ہے۔ آج بھی جب کوئی لڑکی یا خاتون گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس کے ساتھ انجانا خوف بھی ہوتا ہے۔ سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراسانی معمول کی بات بن چکی ہے۔ کار والے لفٹ کی پیشکش کرتے ہیں، اور اگر وہ انکار کر بھی دے یا خاموشی اختیار کرے تب بھی یہ لوگ کچھ دیر تک راستے میں پیچھا کرتے رہتے ہیں اور بار بار تنگ کرتے ہیں۔

ایسی ہی کہانی 24 سالہ زینب کی ہے، جو اسلام آباد کی ایک نجی کمپنی میں ایچ آر اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہے۔ روزانہ صبح وہ اپنے گھر سے پمز ہسپتال آتی ہے اور وہاں سے گرین بس کے ذریعے جی۔ 5 (ریڈ زون) میں واقع اپنے دفتر پہنچتی ہے۔ زینب کہتی ہے : ”مجھے اکثر کار والے تو کبھی موٹرسائیکل والے راستے میں تنگ کرتے ہیں، جیسے میں کسی محفوظ شہر میں نہیں بلکہ جنگل میں چل رہی ہوں۔“ زینب کی کہانی اسلام آباد کی ہزاروں خواتین کی داستان ہے، جو روزانہ اسی خاموش اذیت سے گزرتی ہیں۔

اسلام آباد میں سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت سینکڑوں کیمرے نصب ہیں، لیکن یہ کیمرے تب کیا کریں جب ہراسانی کرنے والے چہرے بدلتے رہیں اور رویے نہ بدلیں۔ حکومت نے پنک، بلیو، اور گرین بسیں تو فراہم کیں، لیکن ان میں بھی خواتین کو پُرسکون ماحول نہ مل سکا۔ 2019 سے 2024 کے درمیان صرف اسلام آباد میں خواتین کے خلاف ہراسانی کے 600 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جب کہ اصل تعداد شاید اس سے کہیں زیادہ ہو۔

دنیا کے جدید شہروں میں ہراسانی کے خلاف Artificial Intelligence، اسمارٹ پولیسنگ اور موبائل ایپس کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ دبئی میں فیس ریکگنیشن کیمرے مشکوک حرکتوں پر فوری الرٹ جاری کرتے ہیں، سنگاپور میں خواتین کی بس سیٹوں پر panic buttons موجود ہیں جو فوری پولیس الرٹ کرتے ہیں۔ جس طرح پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے خواتین کے تحفظ کے لیے ”ویمن سیفٹی ایپ“ متعارف کروائی ہے، جس کے ذریعے خواتین کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنی لوکیشن، ویڈیو یا آڈیو شکایت چند سیکنڈز میں پولیس تک پہنچا سکتی ہیں۔ لاہور میں مخصوص ہراسانی مقامات پر پولیس کی اضافی تعیناتی، CCTV مانیٹرنگ اور سوشل میڈیا پر ہراسانی کے واقعات کو رپورٹ کرنے کے لئے ہیلپ لائنز بھی قائم کی گئی ہیں۔

اسلام آباد پولیس اگر سنجیدہ ہے تو درج ذیل جدید اقدامات فوری اپنانے چاہئیں : سیف سٹی کیمروں میں Artificial Intelligence کا انضمام کیا جائے تاکہ مشکوک حرکات پر فوری الرٹ جاری ہوں اور پولیس بروقت پہنچ سکے۔ خواتین کے لیے ”ویمن سیفٹی موبائل ایپ“ لانچ کی جائے، جس میں panic button، لوکیشن شیئرنگ، اور ہنگامی رابطے شامل ہوں۔

واٹس ایپ ہیلپ لائنز اور سوشل میڈیا چینلز جیسے فیس بک پیجز، انسٹاگرام اور ٹویٹر ہینڈلز بنائے جائیں تاکہ خواتین فوری طور پر اپنی تصویر، ویڈیو یا آڈیو پیغام شیئر کر کے پولیس سے مدد حاصل کر سکیں۔

پبلک مقامات، مارکیٹوں اور بس اسٹاپس پر خواتین پولیس اہلکاروں کی مستقل تعیناتی کی جائے تاکہ خواتین کو فوری مدد اور اعتماد حاصل ہو۔

ڈیجیٹل اور مین اسٹریم میڈیا (ٹی وی چینلز، ریڈیو، اخبارات، ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا) پر ”No Means No“ ، جیسے مثبت پیغامات کے ساتھ مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی آئے۔

ہراسانی کرنے والوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا، نیوز چینلز اور ویب سائٹس پر جاری کی جائیں تاکہ نہ صرف ان کے گھر والوں بلکہ محلے داروں اور معاشرے کو بھی ان کے کردار کا علم ہو اور معاشرتی دباؤ کے تحت یہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز آئیں۔

تعلیمی اداروں، دفاتر اور پبلک مقامات پر خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ٹریننگ ورکشاپس اور آگاہی سیشنز منعقد کیے جائیں تاکہ مرد حضرات اور نوجوان نسل کو خواتین کے احترام اور تحفظ کی تربیت دی جا سکے۔

دنیا کے کئی ممالک میں یہ رواج عام ہے کہ جرم کرنے والے افراد کی CCTV فوٹیج یا تصاویر مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے خبردار رہیں اور وہ سماجی دباؤ کے تحت اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں۔ پاکستان میں بھی اب وقت ہے کہ ان مجرموں کے چہروں کو چھپایا نہ جائے، بلکہ ان کی حرکات کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ معاشرتی دباؤ بڑھے اور مجرم خود کو تنہا محسوس کرے۔

لیکن مسئلہ صرف قانون یا ٹیکنالوجی سے حل نہیں ہو گا۔ اصل مسئلہ ہمارے معاشرتی رویوں کا ہے۔ جب تک ہم خواتین کو برابر کا انسان اور شہری تسلیم نہیں کریں گے، تب تک شہر چاہے جتنا مرضی جدید ہو جائے، عورت کے لیے راستہ غیر محفوظ ہی رہے گا۔ آج ضرورت ہے کہ اسلام آباد اپنی جدید عمارتوں، روشن سڑکوں اور آرام دہ بسوں سے آگے بڑھ کر اپنی سوچ کو جدید کرے۔ ایسا اسلام آباد جہاں عورت کو فٹ پاتھ پر چلنے کے لیے بار بار پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا پڑے، جہاں ہر آواز میں طنز نہ چھپا ہو، اور ہر راہ گیر کے دل میں عزت کا جذبہ ہو، خوف کا نہیں۔

اگر اسلام آباد میں یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو جائے اور خواتین کو حقیقی معنوں میں تحفظ ملنے لگے تو یہی ماڈل پورے ملک میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔ پھر پاکستان دنیا کے سامنے ایک مثبت مثال بن سکتا ہے کہ ہم نے خواتین کو ہراسانی جیسی لعنت سے کیسے نجات دلائی۔ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط قانون، اور باشعور معاشرتی رویوں کے ذریعے۔ آج دنیا کو ایسے ہی معاشروں کی ضرورت ہے جو صرف سڑکوں اور عمارتوں میں نہیں بلکہ سوچ اور رویوں میں بھی ترقی یافتہ ہوں، اور اگر ہم چاہیں تو اسلام آباد سے یہ مثبت تبدیلی شروع ہو سکتی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اسلام آباد: ترقی یافتہ شہر، مگر خواتین کے لیے خوف کی سرزمین کیوں؟

  • 07/07/2025 at 2:10 شام
    Permalink

    آپ نے نقشہ تو ایسے کھینچا ہے جیسے خواتین کو ہراسگی کے معاملے میں نزدیک شہر پنڈی سے لیکر دوسرے بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل اباد یا ملتان میں لوگ راہ چلتی خواتین پر عقیدت اور احترام کے پھول برساتے ہیں۔

    اسلام آباد اور پنڈی میں لڑکیوں اور خواتین کی بڑی تعداد (چاہے وجہ کچھ بھی ہو) منشیات کی فروخت سے لے کرجسم فروشی یا دوسرے غلط کاموں میں بھی ملوث ہیں (ظاہر ہے سب نہیں) اور اس کا سیدھا اثر ان شریف اور معصوم بچیوں پر پڑتا ہے جن پر لوگ یہ سمجھ کر کہ وہ بھی ایسی ہی ہونگی یہ حرکتیں کربیٹھتے ہیں۔

    پنڈی اسلام آباد میں صرف ایک سال میں سو سے زیادہ ایسے کیس بھی رجسٹر ہوئے ہیں جہاں خواتین نے محض ہراسگی نہیں عزت لوٹنے کا پرچہ کرایا اور یہ سب بعد میں بلیک میلنگ کے واقعات نکلے یعنی مرد معصوم نکلے۔

    بچیاں اپنی حفاظت کے لے بہت کچھ کرسکتی ہیں لیکن ان کی تفصیل کے لئے یہ جگہ مناسب نہیں۔

Comments are closed.