سگمنڈ فرائڈ کے پانچ لیکچر
سگمنڈ فرائڈ نے انیس سو نو 1909 میں امریکہ میں جو پانچ لیکچر دیے تھے اور انہیں جرمن زبان میں رقم کیا تھا۔ ان لیکچرز کا انگریزی ترجمہ انیس سو سترہ 1917 میں پہلی بار چھپا تھا۔ میں ان لیکچرز کا ترجمہ اور تلخیص آپ کی خدمت میں قسط وار پیش کرنا چاہتا ہوں۔
سگمنڈ فرائڈ کے تحلیل نفسی کے بارے میں پہلے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ
خواتین و حضرات!
یہ میرے لیے نیا اور حیران کن تجربہ ہے کہ میں نئی دنیا میں ایسے سامعین سے مخاطب ہونے لگا ہوں جو بڑے ذوق و شوق سے میرے خیالات و نظریات سننے آئے ہیں۔ امریکہ میں مجھے یہ عزت اس لیے دی گئی ہے کیونکہ میرا نام تحلیل نفسی کے موضوع کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس لیے میری کوشش ہوگی کہ میں اس نئے نفسیاتی تجزیے اور علاج کی تاریخ اور ارتقا، اختصار اور جامعیت کے ساتھ آپ کے سامنے پیش کروں۔ اس طریقہ علاج کا آغاز مجھ سے پہلے ہو چکا تھا۔ میں نے اس طریقہ علاج کو اپنے مریضوں کے لیے اپنایا تو مجھے نئے تجربے ہوئے جن کی وجہ سے اس طریقہ علاج میں اہم تبدیلیاں آئیں۔
جب میں اپنی طالب علمی کے آخری سال میں امتحان کی تیاریاں کر رہا تھا ان دنوں میرے شہر ویانا کے ڈاکٹر جوزف برائر نے اپنی ہسٹیریا کی مریضہ کی مدد کے لیے اس طریقہ علاج کو استعمال کیا تھا۔ میں اس مریضہ کی کہانی آپ کو سناتا ہوں تا کہ آپ اس طریقہ علاج کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر برائر اور میں نے مل کر ہسٹیریا کے بارے میں ایک تفصیلی مقالہ بھی لکھا تھا۔
اپنی تقریر کرنے سے پہلے میں ایک اہم بات کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ آج کے سامعین کی اکثریت ڈاکٹروں کی نہیں ہے۔ جس کی آپ لوگوں کو بالکل فکر نہیں کرنی چاہیے۔ میری تقریر کو سمجھنے کے لیے آپ کا ڈاکٹر ہونا ضروری نہیں۔ ہم اپنے سفر کے آغاز میں کچھ عرصہ ڈاکٹروں کے ساتھ چلیں گے لیکن پھر اپنا راستہ جدا کر لیں گے۔
ڈاکٹر برائر کی مریضہ، جسے ہم اینا او کا فرضی نام دیتے ہیں، ایک اکیس برس کی لڑکی تھی جو بہت ذہین تھی۔ وہ دو سال تک نفسیاتی مسائل کا سامنا کرتی رہی۔ ان مسائل کی وجہ سے وہ جسمانی اور ذہنی عوارض کا شکار رہی۔ ان عوارض میں مندرجہ ذیل علامات شامل تھیں :
اس کے جسم کے کچھ حصے بے حس ہو جاتے تھے
کبھی دائیں بازو اور ٹانگ اور کبھی بائیں بازو اور ٹانگ مفلوج ہو جاتے تھے
اس کی آنکھوں میں غیر معمولی حرکت ہوتی تھی
اس کی بینائی کمزور ہو جاتی تھی
اس کا سر ایک طرف ڈھلک جاتا تھا
وہ بار بار کھانستی تھی
کبھی کبھار وہ نہ کچھ کھا سکتی نہ کچھ پی سکتی تھی
کبھی کبھار گفتگو بھی نہ کر سکتی تھی
گفتگو کرنے کی کوشش کرتی تو آواز میں لرزش پیدا ہوتی تھی
حاضرین!
آپ نے ڈاکٹر نہ ہوتے بھی محسوس کر لیا ہو گا کہ اس لڑکی کا مسئلہ سنجیدہ تھا اور مسئلے کا تعلق اس کے ذہن سے تھا۔
آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ جب اس لڑکی کے جسمانی ٹیسٹ کیے گئے تو وہ سب نارمل تھے۔
ڈاکٹر برائر کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اس لڑکی کا مسئلہ
جسمانی نہیں ذہنی ہے
دماغ کا نہیں جذبات کا ہے
اس لڑکی کو ماضی میں
نفسیاتی دکھ پہنچے تھے
جذباتی کچوکے لگے تھے
جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی مریضہ بن گئی تھی اور وہ جس نفسیاتی مسئلے کا شکار تھی وہ ہسٹیریا کہلاتا تھا۔ یونانی طبیب بھی اس بیماری سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ اس بیماری سے مریضہ کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور وہ مریضہ دوبارہ صحتمند بھی ہو سکتی ہے۔
گفتگو کے اس موڑ پر اس بات کی نشاندہی کرنا اہم ہے کہ بعض دفعہ ناتجربہ کار طبیبوں کے لیے جسمانی بیماری کو ذہنی بیماری سے متمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن تجربہ کار طبیب جانتے ہیں کہ مسئلہ ذہنی ہے جسمانی نہیں ہے۔
ڈاکٹر برائر جانتے تھے کہ ان کی مریضہ ہسٹیریا کی مریضہ ہے۔
اب ہم اس بات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں کہ اینا او کی نفسیاتی بیماری کا آغاز کب اور کیسے ہوا۔
اینا او اس وقت بیمار ہوئی جب وہ اپنے والد کی تیمارداری کر رہی تھی۔ وہ اپنے باپ سے بہت محبت کرتی تھی اور دل و جان سے ان کا خیال رکھتی تھی۔ تیمارداری کے دوران اینا او خود اتنی بیمار ہو گئی کہ وہ اپنے والد کا خیال نہ رکھ سکی۔ آخر کار اس کے والد اتنے سخت بیمار ہوئے کہ فوت ہو گئے۔
اینا او کی کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے اب ہمیں ڈاکٹری کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ اینا او کی بیماری جسمانی بیماری نہیں ذہنی بیماری تھی۔
ہسٹیریا کی تشخیص مریضہ کے لیے اتنی اہم نہیں جتنی کہ طبیب کے لیے اہم ہے۔ بعض دفعہ جب ڈاکٹر کو پتہ چلتا ہے کہ اس کی مریضہ کو جسمانی بیماری نہیں ہے تو اس کی مریضہ میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ بیماری کم اہم ہے کیونکہ وہ مریضہ اس بیماری سے فوت نہیں ہوگی۔
ہسٹیریا کی بیماری کے سامنے ڈاکٹر کا طب کا علم گھٹنے ٹیک دیتا ہے کیونکہ وہ علم اس کی مدد نہیں کرتا اور اسے نہیں بتاتا کہ اسے ہسٹیریا کے مریض کا کس طرح علاج کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر سمجھتا ہے کہ ہسٹیریا کا مرض طب اور سائنس کے اصولوں کی پیروی نہیں کرتا۔ بعض ڈاکٹر یہ سمجھتے ہیں کہ مریضہ مبالغہ آمیزی سے کام لے رہی ہے اور بیماری کے عوارض بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ وہ مریضہ پر اعتبار نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مریضہ جھوٹ گھڑ رہی ہے۔ چونکہ مریضہ کا مرض ڈاکٹر کی سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے اس لیے وہ جذباتی طور پر مریضہ سے قطع تعلقی اختیار کر لیتا ہے۔
اچھا ہوا کہ ڈاکٹر برائر نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے مریضہ سے جذباتی طور پر قطع تعلقی اختیار نہیں کی۔ وہ مریضہ سے ہمدردانہ رویہ تو رکھتے تھے لیکن انہیں یہ سمجھ نہ آتا تھا کہ وہ مریضہ کی کس طرح مدد کریں۔
آخر ڈاکٹر برائر کو اس مریضہ کی مدد کرنے کا ایک طریقہ سوجھا۔ ڈاکٹر برائر کا یہ مشاہدہ تھا کہ جب اینا او غیر حاضر دماغ ہوتی ہے تو وہ چند الفاظ بڑبڑاتی ہے۔
ڈاکٹر برائر جب اینا او کو ہپناٹائز کرتے تو اس نیم بے ہوشی کے عالم میں اسے وہ الفاظ سناتے جو اس نے غیر حاضر دماغی کے دوران کہے تھے۔
وہ الفاظ سننے کے بعد مریضہ نے اپنے نفسیاتی راز بیان کرنے شروع کر دیے۔ ہپنوسس کے دوران اینا او نے ان واقعات کی تفصیل بتانی شروع کی جب وہ اپنے والد کی تیمارداری کر رہی تھی۔
جب اینا او وہ واقعات سناتی تو اس کی طبیعت بہتر ہو جاتی لیکن وہ صحت مندی صرف چند گھنٹے رہتی اور وہ پھر بیمار ہو جاتی۔
ڈاکٹر برائر نے یہ طریقہ کئی بار استعمال کیا اور وہ کئی بار بہتر بھی ہوئی لیکن وہ شفایابی عارضی تھی کیونکہ وہ پھر بیمار ہو جاتی۔
اینا او جب بہتر ہوتی تو خوشی سے اس طریقہ علاج کو
گفتگو سے علاج
TALKING CURE
کہتی اور ڈاکٹر برائر سے کہتی کہ وہ
CHIMNEY SWEEPING
کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر برائر کے طریقے سے واضح ہوا کہ ہپنوسس سے ہسٹیریا کا علاج ممکن ہے۔
جب ڈاکٹر برائر نے وہ مریضہ مجھے بھیجی تو میں نے اینا او کا علاج کرنا شروع کر دیا۔
اس کے علاج کے دوران میں نے یہ جانا کہ اگر اینا او ہپنوسس کے دوران ان بھولے ہوئے واقعات کو یاد کرنے کے ساتھ ان شدید جذبات کا اظہار بھی کر سکے جب اس کی بیماری کا آغاز ہوا تھا تو مستقل صحتیابی بھی ممکن ہے۔ اینا او کی صحتیابی کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
ایک دن سخت گرمی تھی اور اینا او پیاسی تھی لیکن وہ اتنی بیمار تھی کہ پانی نہ پی سکتی تھی۔ ان دنوں وہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے پھل خاص طور پر تربوز کھاتی تھی۔
وہ گلاس اٹھاتی تھی ہونٹوں تک لے جاتی تھی لیکن پھر دور کر دیتی تھی۔
اس دن جب اینا او کو ہپناٹائز کیا گیا تو اس نے اپنی نوکرانی کا ذکر کیا جسے وہ ناپسند کرتی تھی۔
ایک دن وہ نوکرانی کے کمرے میں گئی تو اس نے کیا دیکھا کہ اس کا کتا اس کے گلاس سے پانی پی رہا ہے۔ اور جب نوکرانی نے اینا او کو وہ گلاس دیا جس سے کتا پانی پی چکا تھا تو اینا او دل میں بہت برہم ہوئی لیکن نوکرانی کے احترام میں خاموش رہی۔ پانی پینے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے منفی جذبات بھی پی گئی اور بیمار ہو گئی۔
تھراپی میں جب اینا او نے ان جذبات کی شدت کا اظہار کیا تو اسے افاقہ ہوا۔ اپنی نوکرانی، کتے اور پانی کی کہانی سنانے کے بعد وہ بہتر ہو گئی۔
اس تھراپی کے سیشن کے بعد جب میں نے اسے پانی کا گلاس دیا تو وہ سارا گلاس پی گئی اور پھر کبھی بیمار نہ ہوئی۔
اینا او صحتمند ہو گئی اور ہمیں ہسٹیریا کی بیماری کا راز مل گیا۔ اس سے پہلے ہمیں کسی نے ہسٹیریا کی بیماری کا راز نہیں بتایا تھا۔
اینا او کی صحتیابی کے بعد سوال یہ پیدا ہوا کہ کیا یہ طریقہ علاج صرف اینا او کے لیے کار آمد تھا یا اس سے دوسری مریضائیں بھی بہتر ہو سکتی ہیں۔
خوشی کی بات یہ تھی کہ جب ہم نے دوسری مریضاؤں کا اس طریقے سے علاج کیا تو وہ بھی صحتمند ہو گئیں۔
اینا او کے کامیاب علاج سے ہم نے یہ سیکھا کہ ماضی میں مریضہ کو
کوئی نفسیاتی دھچکہ لگا تھا
کوئی جذباتی حادثہ ہوا تھا
یا PSYCHIC TRAUMA ہوا تھا
جس کے بعد وہ بیمار ہو گئی تھی اور اس واقعے کو بھول گئی تھی کیونکہ وہ اس کے لاشعور میں کہیں دفن ہو گیا تھا۔ تھراپی کے دوران جب مریضہ کو وہ واقعہ وہ حادثہ یاد آیا اور اس نے جذبات کی شدت کا اظہار کیا تو وہ شفایاب اور صحتمند ہو گئی۔
ہسٹیریا کی دیگر مریضاؤں کے علاج سے ہم نے یہ بھی سیکھا کہ ان مریضاؤں کے ماضی میں صرف ایک نفسیاتی دھچکہ نہیں تھا بلکہ تکلیف دہ واقعات بار بار ہوتے تھے اور پھر وہ واقعات مریضہ کے لاشعور میں دفن ہو کر بیماری کا روپ دھار لیتے تھے۔
ہپنوسس کے دوران جب مریضہ کو وہ تکلیف دہ واقعات یاد آتے تھے اور جذبات کی شدت کا اظہار ہوتا تھا تو وہ صحتمند ہو جاتی تھی۔
میں نے اینا او کے پانی نہ پی سکنے کا رشتہ نوکرانی کے کتے کے گلاس سے جوڑا تھا۔
ڈاکٹر برائر نے اینا او کی بینائی میں کمی کا تعلق ایک اور واقعہ سے جوڑا تھا۔
ایک شام اینا او اپنے والد کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس کے والد نے پوچھا
بیٹا کیا وقت ہے؟
اینا او کی آنکھوں میں آنسو تھے اس لیے اس کی نظر دھندلائی ہوئی تھی۔ وہ گھڑی کو آنکھوں کے قریب لائی اور وقت پڑھنے کی کوشش کرنے لگی۔
اس وقت اینا او نے اپنے آنسوؤں کو چھپانے کی کوشش کی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے والد کو پتہ چلے کہ وہ کتنی دکھی اور اداس ہے۔ اس نے اپنے آنسو پینے کی کوشش کی اور بیمار ہو گئی۔
ایک رات اینا او اپنے والد کے بستر کے پاس بیٹھی تھی۔ اس کا دایاں بازو کرسی کے پیچھے تھا۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ کب اونگھی اور کب سو گئی۔ خواب میں کیا دیکھتی ہے کہ ایک سانپ ہے جو اس کے والد کی طرف بڑھ رہا ہے اور انہیں ڈسنا چاہتا ہے۔ اینا او نے اس سانپ کو دور رکھنے کی کوشش کی لیکن اس کا بازو سو رہا تھا وہ اسے نہ ہلا سکی اسے یوں لگا جیسے اس کا بازو مفلوج ہو گیا ہو۔
جب اس نے اپنی انگلیوں کی طرف دیکھا تو اسے یوں لگا جیسے اس کی انگلیاں سانپ بن گئی ہوں اور انگلیوں کے ناخن سانپ کے سر ہوں۔
جب اینا او خواب سے جاگی تو بہت پریشان ہوئی اور پریشانی کے عالم میں دعائیں مانگنے لگی۔
ہپنوسس کے دوران جب اینا او نے یہ تکلیف دہ واقعہ سنایا تو اس کا بازو جو کئی دنوں سے بے حس اور مفلوج تھا صحتمند ہو گیا۔ اینا او ہپنوسس کے علاج سے صحتمند ہو گئی۔
ڈاکٹر برائر نے جس طریقہ علاج کا آغاز کیا تھا میں نے بھی اسے اپنی مریضاؤں پر استعمال کیا اور انہیں بہت فائدہ ہوا۔
میری ایک چالیس سالہ مریضہ جب وفور جذبات سے مغلوب ہوتی تھی تو اس کے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکلتی تھیں۔
جب تحلیل نفسی میں اس کا تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ ایک دفعہ اس نے کوشش کی تھی کہ کچھ نہ کہے۔ وہ جتنا اپنی آواز کو دبانے کی کوشش کرتی وہ آواز اتنی ہی شدت سے ابھر کر آتی اور وہ بے قابو ہو جاتی۔
اس عورت کا بچہ بیمار تھا اور اس نے بڑی مشکل سے اسے سلایا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ خود خاموش رہے تا کہ اس کا بچہ جاگ نہ جائے۔ اس نے جتنی خاموش رہنے کی کوشش کی اتنی ہی اس کے منہ سے بے معنی آوازیں نکلنے لگیں۔
میں نے اپنی کتاب
STUDIES OF HYSTERIA
میں کئی اور مریضاؤں کی مثالیں بھی پیش کی ہیں۔
خواتین و حضرات! ہسٹیریا کی مریضاؤں کی مثالیں پیش کرنے کے بعد اب میں آپ کے سامنے اپنا نظریہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہسٹیریا کی مریضہ کی علامات کا تعلق اس کے ماضی کے نفسیاتی جھٹکوں اور جذباتی زخموں سے ہوتا ہے
مریضہ وہ واقعات بھول جاتی ہے کیونکہ وہ اسے لاشعور میں دفن کر دیتی ہے
تھراپی میں مریضہ کو ماضی کے بھولے ہوئے واقعات و حادثات یاد آتے ہیں
وہ ان واقعات کے ساتھ منسوب جذبات کی شدت کا اظہار کرتی ہے
اس اظہار سے جذباتی تناؤ اور لاشعور کا نفسیاتی دباؤ کم ہوتا ہے
تکلیف دہ جذبات کا کیتھارسس ہوتا ہے
اور مریضہ صحتمند ہو جاتی ہے۔
اینا او نے اپنے والد کی وفات کے بعد سوگ منایا۔ سوگ منانا ایک فطری عمل ہے۔ اگر اینا او کو اس وقت نفسیاتی مدد مل جاتی تو شاید وہ اتنی بیمار نہ ہوتی۔ وقت پر علاج نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے تکلیف دہ جذبات کا کسی سے اظہار نہ کر سکی وہ ان شدید جذبات کو دباتی رہی اپنے لاشعور میں دفن کرتی رہی اور بیمار ہوتی گئی۔
جب تھیرپی میں ڈاکٹر نے اینا او کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور اسے آنسو بہانے اور جذبات کے اظہار کا موقع ملا تو وہ بہتر ہونے لگی۔
ماضی میں جذبات کو دبانے سے وہ بیمار ہو گئی
تھراپی میں جذبات کے اظہار سے وہ شفایاب ہو گئی
جب لاشعور میں دبے جذبات جسمانی بیماری کا روپ دھارتے ہیں تو ہم اس عمل کو ہسٹیریکل کنورشن ریئکشن
HYSTERICAL CONVERSION REACTION
کا نام دیتے ہیں۔ لاشعور کے اس عمل سے نفسیاتی مسئلہ جسمانی مسئلہ بن جاتا ہے۔
مریض کا مسئلہ بظاہر جسمانی مسئلہ دکھائی دیتا ہے لیکن جب ڈاکٹر ٹیسٹ کرتا ہے تو سب ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں۔ اس طرح اسے پتہ چلتا ہے کہ بظاہر جسمانی مسئلہ در پردہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے جس کے لیے مریضہ کو نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔
ہم نے ہسٹیریا کے علاج سے سیکھا کہ انسانی ذہن کے دو حصے ہیں
شعور اور لاشعور
شعور کے تکلیف دہ واقعات و حادثات لاشعور میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ وہ عارضی طور پر دفن ہو جاتے ہیں اور بیماری کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ تھراپی میں لاشعور کے جذبات دوبارہ شعور میں آ جاتے ہیں اور مریضہ صحتمند ہو جاتی ہے۔
ایسا طریقہ علاج تحلیل نفسی کہلاتا ہے۔
(نوٹ: اگلے کالم میں سگمنڈ فرائڈ کے تحلیل نفسی کے دوسرے لیکچر کا ترجمہ اور تلخیص پیش کیا جائے گا: خالد سہیل)


