پرانی یادیں: ایوب خان کا زوال اور مارشل لا

1968 میں 27 اکتوبر 1958 کے ایوب خان کے فوجی انقلاب کو دس سال ہو چکے تھے۔ اس موقعے پر ملک بھر میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ حکومت اپنے کارنامے اجاگر کر نا چاہتی تھی۔
ایوب خان کے دور سے وابستہ متضاد آرا تھیں۔
ان کے دور میں ایک استحکام تھا جو اس کے بعد پاکستانی قوم کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب پانچ سالہ منصوبے بنتے تھے اور ان پر عمل ہوتا تھا۔ تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم، سٹیل مل اور نیوکلیر ریکٹرز جیسے بڑے منصوبوں کی پلاننگ ہوتی تھی۔
افراط زر نہ ہونے کے برابر تھا، مجھے ذاتی طور پر اس کا اندازہ اس بات سے تھا کہ پورے دور میں کئی سال تک مٹھائی کا ایک سیر کا ڈبہ پانچ روپے میں ملتا رہا۔ یہ مجھے یوں معلوم ہے کہ جب بھی کوئی مہمان ہمارے گھر آتے تھے تو ان کی مہمانداری کے لئے بازار سے مٹھائی اور دوسرے لوازمات لانا میری ذمہ داری تھی۔
امن کی صورت حال ایسی تھی کہ آج اس کا تصور کرنا مشکل ہے۔ میرے نانا اور نانی حیدرآباد میں رہتے تھے۔ میری والدہ اکثر کسی خوف کے بغیر ٹرین میں اکیلی یا کسی بچے کے ساتھ پشاور سے حیدرآباد کا سفر کرتی تھیں۔ یاد رہے، یہ وہ دور تھا جب ٹیلیفون نایاب تھے اور سفر کے دوران کسی رابطے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
یہ وہ دور تھا جب باہمی احترام کی فضا موجود تھی۔ تو تکار کی زبان معاشرے کا حصہ نہیں بنی تھی۔
لیکن یہ تو روشن پہلو تھے۔
ایک جمہوری آئین کے باوجود وہ دور ایک ڈکٹیٹرشپ کا دور تھا۔ ایسا تو نہیں تھا کہ سیاسی مخالفین کو اٹھا لیا جائے لیکن ایک خوف کی فضا ضرور تھی۔ اخبارات اور ریڈیو محض صدر کی مصروفیت کی تفصیل سے بھرے ہوتے تھے۔ میں ہمیشہ سے اخبار باقاعدگی سے پڑھتا رہا ہوں لیکن مجھے یاد نہیں کہ میں نے اس دور میں کبھی کوئی خبر یا مضمون حکومت کی مخالفت میں پڑھا ہو۔ اپوزیشن لیڈروں کا ذکر ہی اخباروں میں مفقود تھا۔
مجھے اس وقت تو احساس نہیں تھا لیکن یہ وہ وقت تھا جب مشرقی پاکستان کے عوام میں محرومی کا احساس بڑی تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ تمام بڑے منصوبے مغربی پاکستان میں لگ رہے تھے، جبکہ مشرقی پاکستان میں آئے دن سیلاب آتے رہتے تھے جس میں بھاری جانی اور مالی نقصان ہوتا تھا۔ لیکن مستقل بنیاد پر ایسی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آئی جس سے اس مسئلے کا سد باب ہو سکے۔
1965 میں ہونے والے الیکشن اور بھارت کے خلاف جنگ کے بعد ایوب خان کی اقتدار پر گرفت اتنی مضبوط نہیں محسوس ہوتی تھی۔ خاص طور پر تاشقند میں ہونے والے معاہدے نے، جس میں دونوں ممالک نے اپنے مقبوضہ علاقے خالی کر دیے تھے، اس تاثر کو فروغ دیا کہ ایوب خان نے جنگی محاذ پر جیتی ہوئی جنگ مذاکرات کی میز پر ہار دی۔
پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار بھٹو نے اس تاثر کو خوب ہوا دی، انہوں نے وزارت سے استعفی دیا، ایک نئی سیاسی پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، کی بنیاد رکھی، اور حکومت کے خلاف ایک تحریک کا عندیہ دیا۔
1965 کی جنگ نے ملک میں معاشی ترقی پر بہت برا اثر ڈالا تھا۔ فوج پر اخراجات میں اضافہ کر دیا گیا۔ ترقی کا پہیہ رک گیا تھا۔ 1968 تک ایوب خان بہت غیر مقبول ہو چکے تھے۔ دس سال کے گھٹن کے ماحول کی وجہ سے ایک لاوا پک گیا تھا جو کسی وقت پھٹنے کے لئے تیار تھا۔
تحریک کی ابتدا بہت معمولی واقعے سے ہوئی۔ چینی کی قیمت میں چند آنوں کا اضافہ ہو گیا جس کے خلاف کئی جگہ پر مظاہرے شروع ہو گئے۔ اس دوران حکومت کے خلاف ہنگامے میں راولپنڈی کا ایک طالب علم ہلاک ہو گیا۔ اس واقعے نے حکومت کے خلاف ہنگاموں کو ایک جلا بخشی۔
پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کے بعد ایوب خان کے خلاف باقاعدہ تحریک کا آغاز ہو گیا جو بالآخر ان کے اقتدار کے خاتمے پر منتج ہوا۔
ایوب خان نے حالات کو قابو کرنے کے لئے 7 نومبر کو پشاور کے جناح پارک میں ایک عوامی جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک بڑا جلسہ تھا۔ جناح پارک میں ہونے والے ہر سیاسی جلسے کی طرح میں نے اس جلسے میں بھی شرکت کا فیصلہ کیا۔ مجھے سٹیج سے پندرہ یا بیس گز کے فاصلے پر کافی آگے جگہ ملی۔ ابھی ایوب خان نے تقریر شروع کی تھی کہ ایک فائر کی آواز آئی۔ یہ فائر ہاشم نامی ایک شخص نے سٹیج کے سامنے سے کیا تھا۔ فائر کی آواز کے ساتھ ہی پورے جلسہ گاہ میں کھلبلی مچ گئی۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں تھا کہ ایوب خان کو گولی لگی ہے یا نہیں اور یہ کہ وہ زخمی ہیں یا ہلاک ہو گئے ہیں۔
مجھے اپنے تاثرات بہت واضح طور پر یاد ہیں۔
میں نے پڑھا تھا کہ جب راولپنڈی کے جلسے میں لیاقت علی خان پر گولی چلائی گئی تھی تو چاروں طرف سے گولیاں چلنی شروع ہو گئی تھیں جن میں لیاقت علی خان کے مبینہ قاتل اکبر نامی شخص کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہ سوچتے ہی میں نے پیچھے کی طرف دوڑنا شروع کیا تاکہ جتنا جلدی ممکن ہو جلسہ گاہ سے نکل سکوں۔ لیکن جب تک میں پیچھے پہنچا، سٹیج سے اعلان ہونے لگا کہ ایوب خان خیریت سے ہیں اور وہ جلد ہی اپنی تقریر جاری کریں گے۔ اعلان کرنے والے پاکستانی افواج کے سابق کمانڈر انچیف جنرل موسی تھے جو اس وقت مغربی پاکستان کے گورنر تھے۔ کچھ دیر میں ایوب خان نے اپنی تقریر دوبارہ سے شروع کی۔
اس واقعے نے حکومتی اعصاب کو بہت متاثر کیا۔ یہ خبریں تھیں کہ جب ہاشم خان کو گرفتار کیا تو اس نے بھٹو زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ اس امر کے باوجود کہ ایوب خان پر قاتلانہ حملے میں بھٹو کے ملوث ہونے کے کوئی واضح ثبوت نہیں تھے، ان کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس حملے کے بعد ملک میں ایوب خان کے خلاف ہنگامے شروع ہو گئے۔ اسی دن ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ یہ تعلیمی ادارے چار ماہ بند رہنے کے بعد 26 مارچ 1969 کو اس وقت کھلے، جب ایوب خان کے اقتدار کا سورج غروب ہو چکا تھا۔
بھٹو کی گرفتاری کے بعد واضح نہیں تھا کہ ایوب خان کے خلاف تحریک جاری رہ سکے گی، ایسے میں ایک شخص کی سیاست میں شمولیت نے ایوب خان کے خلاف تحریک میں جان ڈال دی۔ یہ شخص ایر مارشل اصغر خان تھے۔ اصغر خان کو ایک قومی ہیرو جیسی حیثیت حاصل تھی۔ وہ پاکستانی فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ تھے اور 1965 کی جنگ سے صرف چند ماہ قبل ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کو ایسی فضائیہ قائم کرنے کا کریڈٹ دیا جاتا تھا جس نے 1965 کی جنگ میں دشمن کے مقابلے میں چھوٹی ہونے کے باوجود انتہائی کامیابی سے ملک کا دفاع کیا تھا۔
اصغر خان اپنی مقبولیت سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اگر اس موقعے پر ایک عوامی سیاسی پارٹی بنا کر ایوب خان کے خلاف تحریک چلاتے تو ان کے قومی لیڈر کے طور پر ابھرنے کے بڑے امکان تھے۔ لیکن انہوں نے اپنا مقصد یہ بنایا کہ ان تمام جماعتوں کو جمع کیا جائے جنہوں نے ایوب خان کے طویل دور میں ان کی مخالفت کی تھی۔ جب یہ تمام پارٹیاں نوابزادہ نصراللہ خان کی صدارت میں جمع ہو گئیں تو اصغر خان نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ انہوں نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے، سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ سیاسی طور پر بہت غلط فیصلہ تھا۔
بعد کے حالات نے بتایا کہ ان جماعتوں کی عوام میں خاص پذیرائی نہیں تھی۔
ایک واقعے نے مشرقی پاکستان کے عوام کے دلوں میں مغربی پاکستان کے رہنماؤں کے لئے نفرت کے جذبات ابھارنے میں اہم رول ادا کیا۔
جنوری 1968 میں حکومت نے اعلان کیا کہ ایک ملک دشمن سازش پکڑی گئی ہے جس کے سرغنہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے رہنما مجیب الرحمن ہیں۔ اگرتلہ مشرقی پاکستان کے بارڈر کے نزدیک بھارت کا ایک شہر ہے اور الزام یہ تھا کہ شیخ مجیب الرحمن نے اس شہر میں فوج کے کچھ جونیر افسروں کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو آزاد کرانے کی سازش کی ہے۔ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایسا لگتا تھا کہ اس الزام نے جیسے مشرقی پاکستان کے تمام افراد کی حب الوطنی پر نشان لگا دیا ہو۔ ہمارے پڑوس میں میرے والد کے ایک کولیگ رہتے تھے جن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ جس دن اگرتلہ سازش کا انکشاف ہوا اس دن یوں لگتا تھا جیسے ان میں ہم سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہیں تھی۔ جیسے ہر مغربی پاکستانی کی نظر میں مشرقی پاکستان کا رہنے والا ہر فرد غدار ہو۔
یہ بات کبھی واضح نہیں ہوئی کہ اگرتلہ سازش میں کتنی حقیقت تھی، لیکن اس کی تشہیر نے پاکستان کے دونوں بازوؤں کے مابین ایک بڑی خلیج پیدا کر دی جو بالآخر مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوئی۔
ایوب خان نے مجبور ہو کر ایک راؤنڈ ٹیبل کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا۔ کانفرنس میں ملک کے تقریباً تمام اہم سیاسی رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ان میں جماعت اسلامی کے مولانا مودودی، پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی بھٹو، نیشنل عوامی پارٹی کے عبدالولی خان، نواب زادہ نصراللہ خان، اسلامی جمعیت اسلام کے مفتی محمود، کونسل مسلم لیگ کے ممتاز دولتانہ، نور الامین، چوہدری محمد علی اور مولانا عبد الحمید بھاشانی شامل تھے۔ خصوصی دعوت نامے اصغر خان، جنرل اعظم خان اور سید مرشد کو بھی دیے گئے تھے۔
لیکن کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی ڈیڈلاک کا شکار ہو گئی۔ اپوزیشن لیڈران کا متفقہ تقاضا تھا کہ مجیب الرحمن کو جیل سے رہا کر کے کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جائے۔ مجیب کے بغیر وہ کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے۔
ایوب خان انتہائی دباؤ کا شکار تھے۔ وہ تمام سیاسی رہنما جن کو انہوں نے اپنے مقابلے میں کسی قابل نہیں سمجھا تھا، اب ان پر حاوی تھے۔ دوسری طرف پورے ملک میں ان کے خلاف ہنگامے جاری تھے۔ مشرقی پاکستان میں ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی۔ روزانہ سینکڑوں افراد ان ہنگاموں میں پولیس کے ہاتھوں مارے جا رہے تھے۔
حالات کو کنٹرول کرنے کے آخری حربے کے طور پر 21 فروری کو ایوب خان نے ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ 1970 میں ہونے والے آئندہ صدارتی انتخاب میں امیدوار نہیں ہوں گے۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس اعلان کا عوامی مظاہروں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ بلکہ یہ سوچ پیدا ہوئی کہ حکومت کمزور ہو گئی ہے اور اگر ایک دھکا دیا جائے تو اس کو فوری ختم کرنا ممکن ہو گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔
اپوزیشن کی ڈیمانڈ کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے 22 فروری کو مجیب الرحمن کو پیرول پر رہا کر کے راولپنڈی لایا گیا۔ 26 فروری کو راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔
جو دو نمایاں رہنما اس کانفرنس میں شریک نہیں تھے وہ مشرقی پاکستان سے مولانا عبدالحمید بھاشانی اور مغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ انہوں نے کانفرنس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ بھاشانی اپنے مطالبات کی منظوری کے لئے جلاؤ گھیراؤ کی تحریک چلا رہے تھے۔ جس دن راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد ہو رہا تھا، بھٹو پشاور کے جناح پارک میں ایک ٹرک پر کھڑے تقریر کر رہے تھے۔ یہ ایک مختصر مجمع تھا۔ میں ٹرک کے بہت پاس وہاں موجود تھا۔ میرے ذہن میں تو بھٹو کا تصور ایک بین الاقوامی مدبر کا تھا۔ یہ تاثر ان کی بحیثیت وزیر خارجہ تقاریر کی بنیاد پر قائم تھا۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ مجھے بھٹو کو براہ راست دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہو رہا تھا۔ جس چیز نے مجھے بہت مایوس کیا، وہ بھٹو کی مختلف سیاستدانوں، خاص طور پر اصغر خان، نور خان اور عبدالقیوم خان، کے خلاف بازاری اور بہت ناشائستہ زبان تھی۔ میں نے سیاسی یا کسی اور قسم کے جلسوں میں ایسی گری زبان اس سے پہلے نہیں سنی تھی۔ بھٹو ایوب خان سے فوری استعفے اور نئے صدارتی انتخاب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مجھے یوں لگا کہ بھٹو اصغر خان کو اپنے سیاسی مستقبل کے لئے خاص طور پر خطرہ محسوس کرتے تھے۔ اصغر خان 1965 کی جنگ کے ہیرو کے طور پر ایک قومی سطح کے لیڈر کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
مذاکرات میں بیشتر سیاسی رہنما پارلیمانی آئین کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے، مجیب الرحمن اپنے چھ نکات کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے تھے جس کے مطابق مشرقی پاکستان عملاً آزاد ہو جاتا۔ کانفرنس سے باہر بھٹو ایوب خان کے فوری استعفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ حکومت کے خلاف مظاہروں میں تیزی آ گئی تھی۔ ایوب خان نے پارلیمانی آئین کا مطالبہ تو مان لیا تھا لیکن وہ مجیب الرحمن کے چھ نکات پر راضی نہیں ہوئے۔ اس طور مذاکرات ناکام ہو گئے۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد 25 مارچ کو ایوب خان نے اقتدار فوج کے کمانڈر انچیف جنرل یحیی خان کے حوالے کیا جنہوں نے آئین کو معطل کر دیا اور مارشل لا نافذ کر دیا۔ انہوں نے صدارت کا حلف اٹھائے بغیر صدر کے تمام اختیارات بھی سنبھال لئے۔ 1962 کے آئین کے تحت صدر کے استعفے کی صورت میں اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کے حوالے کرنا تھا جو اس وقت مشرقی پاکستانی رہنما عبدالجبار تھے۔ لیکن اقتدار کی ہوس اور طاقت کے نشے میں قانون کی حکمرانی کا کیا سوال۔
پاکستان کی تاریخ کا منحوس ترین دور شروع ہو چکا تھا جس میں لاکھوں جانوں کا خون ہوا۔ اور ملک دو ٹکڑے ہو گیا۔


بیگم ایوب نے متعدد مرتبہ اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے میاں کے اقتدار کے زوال کی سب سے بڑی وجہ اور کچھ نہیں بلکہ ان کے میاں کا وہ غلط فیصلہ تھا جس کی رو سے انہوں نے چھ سال مغربی پاکستان کے کامیابی سے گورنر رہنے والے شخص نواب کالا باغ کو ہٹاکر ستمبر 1966 میں ایک کمزور منتظم شخص جنرل موسی کو گورنر مغربی پاکستان بنایا تھا۔
۔
المیہ یہ بھی ہوا کہ محض سال بھر بعد ان کے بیٹے نے ان کا قتل کردیا اور یوں 1967 کے بعد ایوب کے پاس کوئی مضبوط اور قابل اعتماد شخص نہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ امیر محمد خان کی موجودگی میں کیا بھٹو کیا یحیی اور کیا اصغر خان۔۔۔سب چپ رہتے۔
ان لوگوں نے اسی لئے ایوب کے کان بھرے اور اپنا مقصد پالیا۔