کیا عمران خان کی رہائی اور بلاول کی پیش قدمی صدر زرداری کا سیاسی منصوبہ ہے؟
پاکستانی سیاست میں دو جذبات ہمیشہ عوام کو اپنی طرف کھینچتے رہے ہیں، مظلومیت اور مزاحمت۔ جو بھی رہنما خود کو مظلوم یا تنہا ثابت کر دے، وہی عوام کی ہمدردی اور میڈیا کی توجہ حاصل کر لیتا ہے۔ آج کل صدر آصف علی زرداری کے گرد جو سیاسی فضا بنتی جا رہی ہے، اس میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا وہ بھی اسی آزمودہ اسکرپٹ کے اگلے کردار بننے جا رہے ہیں؟
یہ کہانی نئی نہیں۔ بھٹو صاحب جب تختہ دار پر چڑھے تو ان کی مظلومیت نے انہیں عوام کے دلوں میں امر کر دیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اپنی جان دے کر بھی عوام کے حق اور آئین کی بالادستی کی جنگ لڑی۔ ان کی پھانسی نے انہیں تاریخ کے صفحات میں زندہ کر دیا۔
پھر محترمہ بے نظیر بھٹو آئیں، جنہوں نے اپنے والد کی موت کے بعد نہ صرف جلاوطنی، قید و بند اور سیاسی انتقام کا سامنا کیا بلکہ آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت کے طور پر عوام میں مقبول ہوئیں۔ جب وہ طویل جدوجہد کے بعد وطن واپس آئیں تو عوام نے انہیں جمہوریت کی امید کے طور پر خوش آمدید کہا۔
اسی طرح میاں نواز شریف کی سیاست میں بھی مظلومیت کا پہلو بار بار نمایاں ہوا۔ چاہے وہ جنرل مشرف کے دور میں جلاوطنی ہو یا پانامہ کیس میں نا اہلی اور قید، ہر بار وہ ”ووٹ کو عزت دو“ جیسے عوامی نعروں کے ساتھ واپس آئے اور اپنی سیاسی ساکھ بحال کی۔
عمران خان نے اقتدار سے معزولی، مقدمات اور قید کے بعد خود کو مظلوم اور مزاحمتی رہنما کے طور پر پیش کیا، جس سے ان کی عوامی ہمدردی اور نوجوانوں میں مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ ان کے حامی انہیں اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی اتحاد کی سازشوں کا شکار سمجھتے ہیں۔
آج سیاست سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز کے ذریعے کی جا رہی ہے، جہاں رہنما اپنی مشکلات اور بیانیہ مختصر ویڈیوز میں پیش کرتے ہیں۔ نوجوان نسل طویل تقاریر کے بجائے مختصر اور موثر پیغام کو ترجیح دیتی ہے، اسی لیے سیاست میں وائرل کلپس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
آج کل صدر آصف علی زرداری کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ آئین میں مجوزہ 27 ویں ترمیم کے سخت خلاف ہیں۔ اس ترمیم کے ذریعے بعض غیر منتخب اداروں کو آئینی دائرہ کار سے باہر اختیارات دینے اور پارلیمان کو محدود کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ زرداری صاحب اس ترمیم کو وفاقی اور جمہوری ڈھانچے کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسے روکنے کے لیے مختلف بیانات، آئینی تشریحات اور تجزیے سامنے لا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کے خلاف چلنے والی بعض خبریں خود ایوانِ صدر سے لیک کی جا رہی ہیں تاکہ یہ تاثر پیدا ہو کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور انہیں آئینی مزاحمت کی سزا دی جا رہی ہے۔ یہ حکمت عملی انہیں مظلومیت کے بیانیے کے تحت عوامی ہمدردی دلا سکتی ہے۔
یہ صورتحال 1970 کی دہائی سے ملتی جلتی ہے، جب چودھری فضل الہٰی رسمی طور پر صدر تھے مگر اختیارات کہیں اور تھے۔ تب لاہور اور گجرات کی دیواروں پر طنزیہ طور پر لکھا جاتا تھا ”صدر فضل الہٰی کو رہا کرو“ ، جو اس وقت کی بے اختیار صدارت پر طنز تھا۔ آج کچھ لوگ زرداری صاحب کے لیے بھی اسی طرح کے جملے استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی، خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا میں دوبارہ جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کو فرنٹ پر لا کر نوجوان طبقے کو اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے تاکہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھریں۔ کہا جا رہا ہے کہ صدر زرداری شاید عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کر کے سیاسی میدان میں نیا توازن قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ صرف حکومت کی حمایت پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی اپنی جگہ مل سکے۔
کہا جا رہا ہے کہ اگر صدر زرداری واقعی عمران خان کی رہائی میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں تو یہ نہ صرف موجودہ سیاسی ماحول میں ایک بڑا بریک تھرو ہو گا بلکہ مستقبل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان کسی ممکنہ سیاسی اشتراک کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
صدر زرداری کے بارے میں یہ بھی رائے ہے کہ وہ نہ صرف آئین میں غیر ضروری ترامیم کو روکنا چاہتے ہیں بلکہ اس عمل کے ذریعے خود کو ”رہبرِ اعلیٰ“ کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جو صرف پیپلز پارٹی کے ہی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے آئینی محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا زرداری اپنی مظلومیت اور آئینی مزاحمت کے بیانیے سے تاریخ میں جگہ بنائیں گے یا عمران خان اپنی قید اور تنہائی کو سیاسی طاقت میں بدل کر واپس آئیں گے؟ اور کیا بلاول بھٹو زرداری نوجوانوں کو متحرک کر کے پیپلز پارٹی کو دوبارہ قومی سیاست میں فعال بنا پائیں گے؟


