سفر نامہ جاپان (10)
”پاکستان ہیروئن کی جنت“
”لرزے ہے موج مَے تری رفتار دیکھ کر“
پروفیسر راجرز بتا رہے تھے :
”انسانی تاریخ کی طرح منشیات کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ افیون، حشیش، ماری جوانا، کوکین، ہیروئن، ایل ایس ڈی۔ اس میں شراب کا ذکر نہیں ہو گا۔“
” کیوں نہیں؟“ میں نے دل میں کہا
یہی ایک نشہ ہے جس کے، جب زور سنبھالا ہے، ہم عادی ہو چکے ہیں۔ اس کا ذکر آتے ہی بن پیئے ہم پر نشہ چڑھ جاتا ہے۔ شراب کو میں ادبی نشہ کہتا ہوں، باقی سارے نشے غیر ادبی ہیں۔
بُرا ہو ان شاعروں اور ادیبوں کا کہ جب سے ہم نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا ہے انہوں نے ہمیں شراب کا دیوانہ بنا دیا ہے۔ بڑے بڑے ادیبوں شاعروں نے ہماری انگلی پکڑی اور لگے تعارف کرانے حسنِ انساں سے حسن فطرت سے اور پھر ان کا تعلق شراب سے ایسا جوڑا اور اس کو ایسے انداز سے پیش کیا کہ ہم پر ہمیشہ شراب کا نشہ طاری رہا۔
دیکھیں میر صاحب کیا کہتے ہیں :
میر ان نیم باز انکھوں میں
سارے مستی شراب کی سی ہے
ہمارے شاعر فطرت سے انسان کا تعلق کتنے خوبصورتی سے جوڑتے ہیں :
ناز کی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے ”
”انسانی حسن کی داستانیں پڑھ کر شراب جیسا نشہ چھا جاتا تھا۔ اسی طرح ہمارے ادیب اور شاعر جب فطرت کی جلوہ سامانیوں کا ذکر کرتے یا موسم کی تابناکیوں کا، حد نگاہ تک پھیلی بارشوں کا، سیاہ بدلیوں کا، جھوم جھوم کر آنے والے کالی گھٹاؤں کا، بادلوں میں تیرتی بجلیوں کا جو ایک سمت سے بھرتی اور دوسری طرف آسمانوں کی پنہائیوں میں گم ہو جاتیں۔ پھر اچانک ایسے نمودار ہوتی جیسے کوئی خوفناک اندیشہ اور وسوسہ اچانک ذہن سے ابھرتا ہے یہی تخلیق کار ہمیں پہاڑوں کی بلندیوں پر لے جاتے جن کی چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی۔
بہتے دریا اور ان میں موجزن طوفانی لہریں سمندروں سے اٹھنے والی گھٹائیں مرغزار وادیاں اور ان میں موجود دلربا حسینائیں جن کے حسن کا تذکرہ اس قدر دلکش ہوتا کہ یہ سارے مناظر شراب کی طرح ہمیں مخمور کر دیتے۔ یہ شاعر اور ادیب لوگ بھی کیا لوگ ہوتے ہیں خالق کی صفت تخلیق لئے ایسی خوبصورت چیز تخلیق کرتے ہیں کہ تہی دست ہونے کے باوجود ہمارا دامن خوشیوں سے بھر دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے ہمیں اپنے شاعری اور ادبی شراب سے ایسا شرابی بنا دیا ہے کہ آج تک یہ نشہ ٹوٹتا ہی نہیں کیونکہ“ شراب چیز ہی ایسی ہے نہ چھوڑی جائے، یہ میرے یار کے جیسی ہے نہ چھوڑی جائے۔ ”
اور پروفیسر صاحب ہیں کہہ رہے ہیں کہ شراب کو چھوڑو یہ قابل ذکر چیز نہیں ہے۔ ”
ایک ہفتہ سے شیڈول آ گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے امریکی پروفیسر مسٹر راجرز منشیات پر لیکچر دیں گے اور کل رات نوٹس بورڈ پر بھی اگلے دو روز کا پروگرام آ گیا تھا کہ اس موضوع پر دو دن صبر آزما سیشن ہو گا۔ پہلے روز وہ منشیات کے بارے تفصیل کے ساتھ لیکچر دیں گے۔ دوسرے روز ہم لوگ اپنی گزارشات پیش کریں گے اور پھر وہ ان سب کا تفصیل سے جواب دیں گے۔
اگر تو علمی مباحثہ ہوتا جیسے مختلف نفسیات دانوں کے انسانی روئیے کے بارے مختلف خیالات ان کی تھیوری کہ کیا انسان ایک خاص عمر کے بعد اپنی سوچ اور رویہ بدل سکتا ہے؟ جرائم کی طرف دھکیلنے والے عناصر مثلاً حیاتیاتی عنصر، ماحول، جبلت کس حد تک انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں اور کیا تعلیم، فنی تعلیم، اخلاقی تعلیم اور مذہبی تعلیم اور معاشی اہلیت پیدا کرنے والے فیکٹر کس حد تک انسان کو اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں لیکن آج کا عنوان منشیات کے بارے میں تھا جس میں مجھے کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
افیون، گانجا، چرس، کوکین، ہیروئن ان سے ہمارا کیا لینا دینا۔ اس لیے میں سوچ رہا تھا کہ یہ دو دن ما سوائے وقت کے ضیاع کے اور کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ وہ دو دن ہوں گے جو میرے لیے پہاڑ جیسے ثابت ہوں گے کہ جن سے سر ٹکرانے کو دل کرے گا، دن کا سکون تباہ ہو جائے گا اور رات کی نیند اچاٹ ہو جائے گی اور ہم جو اتنے عرصے سے میجی شہنشاہ کے مہمان تھے اور بقول غالب ”ہم جو کئی مہینوں سے شاہ کے مصاحب بنے شہر میں اتراتے پھرتے تھے“ ہماری کوڑی کی عزت نہیں رہے گی۔
اس کی وجہ شاید ہماری وطن اور ملک سے محبت تھی جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی تھی۔ ہم جو کئی مہینوں سے اس ملک میں آئے ہوئے تھے ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، کوئی ملنے والا نہیں تھا۔ ادھر ہر وقت اعلان ہو رہے تھے کہ برازیل کے مسٹر رچرڈ سے ایک مہمان خاتون ملنے آئی ہے، ترکی کے مسٹر عصمت سے مس فلاں ملنے آئی ہے، مصر کے مصطفی سے فلاں ملنے آیا ہے۔ سارا دن اعلان اس طرح گونجتے رہتے۔ ہم ایشیاء ہاؤس کی شاپ پر ہوتے، لاؤنج میں ہوتے، ٹک شاپ پر یا ڈائننگ ہال میں، ہر جگہ اس طرح کے اعلان سنتے رہتے۔ اگر کسی کا نام نہ تھا تو ہم تین ملکوں کے باشندوں کا۔ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش۔ ہم سے نہ کوئی ملنے آتا ظاہر ہے نہ کوئی اعلان ہوتا تھا۔
دادا رحمن نے جاپانیوں کے روئیے کے خلاف ایک دن احتجاج میں گزار دیا تھا۔
وہ کہتا تھا: ”یہ کیا بات ہوئی؟ نہ ہمیں کوئی ملنے آتا ہے نہ کوئی ہمارا نام لینے والا ہے“ ۔
میں ہنستا اور کہتا: ”دادا یہاں تو خدا کا نام لینے والا کوئی نہیں تم کس کھیت کی مولی ہو“ ۔
دادا غصے میں بپھرتے ہوئے کہتا: ”آپ اخبار اٹھا لیں ہمیں آئے ہوئے کئی ماہ گزر گئے ہیں لیکن ہم تینوں میں سے کسی بھی ملک کا نام اخبار میں نہیں چھپتا کوئی خبر نہیں آتی جیسے دنیا کے نقشے پر ہمارا کوئی وجود ہی نہیں“ ۔
چٹراج کہتا: ”یار انڈیا کتنا بڑا ملک ہے میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ یہ میرا ملک ہے لیکن حقیقت ہے کہ یہ دنیا کی دوسری بڑی جمہوریت ہے بلکہ رقبے کے لحاظ سے اور پرانی تہذیب کے لحاظ سے ایک اہم ملک ہے۔ لیکن حال یہ ہے کہ یہاں ہمارے جاپانی ساتھی پوچھتے ہیں کہ یہ ملک کہاں پر ہے؟“
میں نے بتایا کہ: ”ایک جاپانی دوست مجھ سے بڑے پیار سے پوچھ رہا تھا کہ پاکستان کہاں واقع ہے؟ جنوبی امریکہ کا کوئی ملک ہے؟“
میں نے اسے بتایا: ”انڈیا کے ساتھ والا ملک ہے تو وہ کہنے لگا کہ یہ انڈیا کے اندر واقع ہے؟“
اس نے سمجھا کہ شاید یہ ہر وقت جو اکٹھے اٹھتے بیٹھتے ہیں یہ تینوں ایک ملک کے باشندے ہوں گے وہ شاید ہمارے ملکوں کو انڈیا کے صوبے سمجھ رہا تھا۔
چٹراج بولا: ”حد ہے۔ جاپانیوں کا جنرل نالج اتنا کمزور ہے؟“
میں نے کہا ”آپ کو مزے کی بات بتاؤں آپ صرف جاپانیوں کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔ دوسرے ملکوں کے لوگوں کا بھی یہی حال ہے۔ ایک دن مجھ سے ایرانی دوست مصطفی حیرانی سے پوچھتا ہے کہ یار تم لوگ ایک زبان بولتے ہو لیکن سمجھ نہیں آتی کہ جب اسی ایک زبان کو لکھنے بیٹھتے ہو تو کوئی دائیں سے لکھ رہا ہوتا ہے کوئی بائیں سے، کوئی عربی میں لکھ رہا ہے کوئی انگریزی میں۔ ایک ملک ہے، ایک زبان ہے لیکن لکھنے کا طریقہ مختلف ہے“ ۔
چٹراج ایک سنجیدہ آدمی تھا۔
دادا کو بہت غصہ آتا تھا۔ وہ کہتے : ”ہمیں یہاں کوئی ملنے کیوں نہیں آتا۔ نہ کوئی آدمی نہ دوشیزائیں۔ ہمارے بارے میں کوئی اعلان کیوں نہیں ہوتا؟“
ان کا زور دوشیزاؤں پر ہوتا۔
میں کہتا: ”دادا جو تمہاری حرکتیں ہیں تم نے مروانا ہے۔ وہ ابھی دیکھ رہے ہیں اعلان تو ضرور ہو گا اور وہ یہ ہو گا کہ ان تینوں کی حرکتیں مشکوک ہیں۔ شہنشاہ بہادر کا حکم آیا ہے کہ ان تینوں کو اٹھا کر بحرالکاہل میں پھینک دو۔ کاہل کہیں کے ایک ہی جگہ پڑے رہتے ہیں۔ کسی سے ملتے جلتے نہیں ہیں اور معصوم دوشیزاؤں کو خطرناک آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ پھر بحرالکاہل میں یا تو تم مچھلیاں کھاؤ گے یا مچھلیاں تمہیں کھائیں گی“ ۔
دادا جواب میں بولتا: ”یار کانٹے دار بات نہ کیا کرو خاص طور پر جب حسن کا، جمال کا اور کو خوبصورتی کا ذکر ہو رہا ہے۔ آپ بحرالکاہل تک پہنچ جاتے ہاں اگر وہاں کوئی جل پری ہمارا انتظار کرر ہی ہے تو ہم ابھی چلنے کو تیار ہیں“ ۔
اس طرح کی نوک جھونک چلتی رہتی۔
اس طرح روز مرہ کی باتیں جو ہم دیکھتے تھے، سنتے تھے، ہمارے اندر ایک احساس کمتری ضرور پیدا ہوتا تھا۔ اگرچہ جب کسی بھی موضوع پر بحث ہوتی تو ان کو ہمارے ہونے کا احساس ہوتا لیکن سوشل لائف ہماری نہ ہونے کے برابر تھی اور یہ احساس ہمارے ذہن کے دریچوں میں موجود تھا کہ ملکی سطح پر ہماری نہ کوئی حیثیت ہے نہ شناخت ہے۔
ایک دن چٹراج نے کہا: ”یار اس کا کیا کریں؟“
میں نے کہا کہ اس کا علاج میں نے تو ڈھونڈ لیا ہے۔ وہ ہے رابطہ، اور اردگرد کے لوگوں سے پیار ہے۔ میں جب شام کو سیر کے لیے نکلتا ہوں تو انسٹیٹیوٹ کے باہر جو چھوٹی چھوٹی دکانیں ہیں وہاں بیٹھے جاپانیوں سے ’ہائے ہو‘ کرتا ہوں اور یہ بہت اچھے لوگ ہیں اور جو انسٹیٹیوٹ کے اندر ہمارے اتنے ساتھی ہیں سب کو ہیلو ہائے کرتا ہوں۔ ہم بے شک ان کی رات گئے تک چلنے والی محفلوں میں زیادہ دیر تک نہ بیٹھیں لیکن جائیں ضرور۔ ہمارا کوریا کا ساتھی کتنی مرتبہ چکا ہے کہ ادھر ہمسائیگی میں کئی فیملیز اس کی واقف ہیں، وہاں چلیں۔ لیکن ہم لاؤنج سے باہر نہیں نکلتے۔ ہم نکلیں گے تو برف پگھلے گی اب دیکھیں ہم جب سے آئے ہیں دیکھ رہے ہیں کہ یہاں پر زبان کے لحاظ سے، کلچر کے لحاظ سے، پینے پلانے اور نائٹ لائف کے لحاظ سے کئی گروپ ہیں۔
دادا بولا: ”بالکل صحیح ہے۔ سب سے بڑا گروپ عربوں کا ہے جو پینے پلانے، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے کے لحاظ سے، نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لحاظ سے، مزاج کے لحاظ سے بڑا مضبوط گروپ ہے۔ ان میں بڑی صلح اور یگانگت ہے“ ۔
اس طرح یورپ والوں کا مزاج اور کلچر ایک جیسا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ ہم نے تین بندوں کا ایک نہایت نحیف سا گروپ بنایا ہوا ہے۔ جس کی بڑی وجہ ایک تو ہمارا ملنا جلنا کسی سے نہیں ہے، دوسری اجنبیت، پھر رات گئے تک برپا ہونے والی محفلیں سے دوری۔
اپنے لاشعور میں یہ احساسات لیے اور آج عنوان سے کلیتاً غیر دلچسپی اور ایک قسم کی لا تعلقی لیے ہم ہال میں موجود تھے کہ پروفیسر راجرز اندر داخل ہوئے۔ پہلے اپنا تعارف کروایا۔ پی ایچ ڈی تھے، ڈاکٹریٹ انہوں نے سوشیالوجی میں کر رکھی تھی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے دیے گئے کئی ٹاسک وہ سر انجام دے چکے تھے۔ آج کل وہ منشیات پر کام کر رہے تھے انہوں نے آج کے عنوان کے بارے میں بتایا اور پھر دو دن ہونے والی گفتگو کا طریق کار بتایا۔ پھر انہوں نے وائٹ بورڈ پر منشیات لکھا جس پر ابھی انہوں نے گفتگو کا آغاز کرنا تھا۔ عنوان لکھنے کے فوراً بعد اچانک وہ تھوڑا سا آگے آئے اور پوچھا:
”کیا یہاں کوئی پاکستانی موجود ہے؟“



