ناگہانی تا ناگہانی: طاہرہ کاظمی کی زبانی وجود، وبا اور کہانی


ڈاکٹر طاہرہ کاظمی میری پسندیدہ ادیب ہیں۔ اس سے پیشتر میں ان کی کتابوں، ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ ، ”مجھے فیمینسٹ نہ کہیو“ اور ”جتی“ پر اپنی گزارشات پیش کر چکا ہوں۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ ایک ناولٹ، دو خطوط اور کچھ کہانیوں پر مشتمل ہے۔

ادب، محض الفاظ کی آرائش نہیں، ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی ان دیکھی صورتوں، انجانی کیفیات اور غیر فہم ناگہانی سچائیوں کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا تخلیقی سفر اور خاص طور پر ان کا ناولٹ اسی آئینے کا ایک ایسا زاویہ ہے جو نہ صرف فرد کی داخلی کائنات کو نمایاں کرتا ہے بلکہ وبائی دنیا کی روح فرسا خامشی کو بھی الفاظ میں ڈھالتا ہے جو انسان کی تنہائی کو اس کے اپنے سائے سے بھی زیادہ گہرا کر دیتی ہے۔

ناگہانی تا ناگہانی، محض ایک ناولٹ نہیں بلکہ انسانی وجود کی دھندلائی ہوئی حدود پر لکھی گئی ایک ایسی تحریر ہے جو قاری کو لا شعور کی ان گلیوں میں لے جاتی ہے جہاں روشنی نہیں، صرف سوال ہوتے ہیں۔ کہانی کا پس منظر کرونا وبا کی عالمی قیامت ہے لیکن اس کا اصل میدان انسانی نفسیات، سماجی ڈھانچے اور کائناتی بے یقینی ہے۔ کرونا کی وبا نے انسان کو اس کی فطری اجتماعی جبلتوں کے برعکس تنہائی کے غار میں دھکیل دیا تھا۔

اس ناولٹ کا مرکزی کردار اسی تنہائی کی قید میں ہے لیکن یہ قید جسمانی کم اور وجودی زیادہ ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی نے وبا کی ظاہری ہولناکی کو اس مہارت سے کردار کی داخلی شکست و ریخت سے جوڑا ہے کہ قاری محسوس کرتا ہے گویا وبا ایک استعارہ ہے، اس داخلی وبا کا جو ہر انسان کی ذات کے بھیتر مدتوں سے پلتی رہتی ہے۔

ائر پورٹ، جہاں ہزاروں افراد بیک وقت موجود ہوتے ہیں یہاں اجنبیت اور تنہائی کی جس شدت کو مصنفہ نے محسوس کروایا ہے وہ ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ ہجوم ہمیشہ قربت کی ضمانت نہیں ہوتا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فرد اپنی داخلی چیخوں کی آواز سنتا ہے اور یہ خاموشی کی آواز دراصل وہی ناگہانی ہے جو ہمیں ہماری اصل سے ملاقات کرواتی ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے کرداروں کے ذریعے انسانی نفسیات کے نظریے کو غیر روایتی انداز میں کہانی کے تانے بانے میں بُنا ہے۔ یہ کردار صرف خارجی دنیا سے نہیں، بلکہ اپنی داخلی دنیا سے بھی بر سر پیکار نظر آتے ہیں۔ ہر فیصلہ، ہر رویہ کسی نہ کسی لا شعوری قوت کی پیداوار نظر اتا ہے۔ ضرورت کا فلسفہ یہاں پورا منہ کھولے کھڑا نظر آتا ہے۔ وہ لمحہ جب ایک خود مختار عورت ضرورت پوری نہ ہونے پر بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہے، ہمیں دکھاتا ہے کہ انسان خواہ کتنی بھی ترقی کر لے اس کی سب سے بڑی ضرورت تحفظ ہی رہتی ہے۔ جسمانی بھی، وجودی بھی۔ طاہرہ کاظمی نے اس تحفظ کی تلاش کو کہانی کے ہر موڑ پر بڑی فنکاری سے نمایاں کیا ہے۔

اس ناولٹ میں ڈاکٹر صاحبہ نے انسانی فیصلوں، رویوں اور رد عمل کی تفہیم کو ایسے خوبصورت استعاراتی انداز میں پیش کیا ہے جو نہ صرف ادبی طور پر پر کشش ہے، بلکہ فکری طور پر بھی گہرے معانی رکھتا ہے۔ یہ فلسفہ کہ کوئی بھی شے مستقل نہیں اور ہر لمحہ ایک نئی سمت نئی کروٹ لے سکتا ہے۔ یہ ناولٹ ہمیں بتاتا ہے۔ وبا کی غیر یقینی کو انسانی زندگی کی دائمی بے یقینی سے جوڑ کر طاہرہ کاظمی نے ہمیں بتا دیا ہے کہ اصل ناگہانی یہ وائرس ہے نہ بیماری بلکہ وہ کیفیت ہے جب انسان اپنی ہی ذات کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ ”ناگہانی تا ناگہانی“ کا اختتام ایک ایسی درز چھوڑتا ہے جہاں سے قاری اپنی ذات میں جھانکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں رہ گئی بلکہ ایک فکری مکاشفہ ہے جو زندگی کی ان ”ناگہانی“ کیفیات کو ظاہر کرتا ہے۔

ناولٹ کے ساتھ ساتھ خطوط اور کہانیوں کا یہ مجموعہ ایک کولاج تشکیل دیتا ہے جو قاری کے ذہن میں یکساں طور پر کئی سطحوں پر کام کرتا ہے۔ ماں اور بیٹی کے خطوط میں محبت، بے بسی اور قربت کا ایسا رنگ ہے جو صرف وبائی تنہائی میں ہی میں نہیں بلکہ ہر زمانے میں قابل فہم ہے۔ خطوط کی نثر بھی بہت عمدہ ہے۔

کہانیاں اگرچہ خواتین کے طبی مسائل پر مرکوز ہیں تاہم یہ محض طبی نہیں، سماجی اور نفسیاتی مظاہر کی عکاس ہیں۔ کہانیوں میں ”ایک سے سو“ ، ”جنریشن گیپ“ ، ”حسب معمول“ اور ”آج پھر سے“ مختلف موضوعات اور تھیم کی کہانیاں ہیں لیکن ان میں بھی آگاہی ہے، مقصدیت ہے، کہیں میاں بیوی کے درمیان میکانکی جنسی تعلقات کی آگاہی ہے۔ کہیں مرد کی بے صبری کے شاخسانے ہیں، جنریشن گیپ جیسے کہ نام سے واضح ہے گیپ کے بارے میں ہے لیکن اس کا وکیل کچھ دیسی کچھ بدیسی لگتا ہے۔

رشتہ داریوں میں بے زاری یا تعلق میں خلیج اور عدم اطمینان کس طرح سے جنم لیتے ہیں ان کہانیوں کو پڑھ کر واضح ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے طبی تجربات ان کہانیوں کی سچائی ہیں اور یہ سچائی صرف تخیل سے نہیں آ سکتی۔ جنسی صحت پر وہ بے باکی سے لکھتی ہیں لیکن اس میں ایک تہذیبی وقار ہے، جمالیات ہے اور صداقت ہے۔ طاہرہ کاظمی ایک ایسی تخلیق کار ہیں جو اپنے اندر کے درد، مشاہدے اور مطالعے کو اتنی خوبصورتی سے الفاظ میں ڈھالتی ہیں جو سیدھا قاری کی روح کو چھو سکتا ہے۔

” ناگہانی تا ناگہانی“ ایک آئینہ ہے، ایک طغیانی ہے، ایک اعتراف ہے کہ ہم سب کے اندر ایک خاموش جنگ جاری ہے اور ہر ناگہانی لمحہ ہمیں خود سے ملا دیتا ہے، خود جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔

Facebook Comments HS