سگمنڈ فرائڈ کے دوسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ


خواتین و حضرات!
جب آسٹریا کے شہر ویانا میں ڈاکٹر جوزف برائر گفتگو سے نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے تھے اور TALKING CURE متعارف کروا رہے تھے ان ہی دنوں فرانس کے شہر پیرس میں ایک ڈاکٹر شارکو بھی اسی طرح کی مریضاؤں کے علاج میں تحقیق کر رہے تھے۔


میں نے جب ڈاکٹر برائر کے ساتھ مل کر ہسٹیریا کے بارے میں مقالہ لکھا تو ہم نے شارکو کے تجربات و مشاہدات سے استفادہ کیا۔ اس مقالے میں ہم نے لکھا کہ جب مریضہ ذہنی اذیت سے گزرتی ہے تو اس کے ذہنی عوارض جسمانی عوارض میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس کی مثالیں مریضہ کے جسم کے کئی حصوں کا بے حس اور مفلوج ہو جانا ہے۔ ہسٹیریا کے مرض میں مریضہ کے جسم کے عوارض کے باوجود اس کے ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں کیونکہ اس کا مسئلہ جسمانی نہیں ذہنی ہوتا ہے۔

شارکو نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ہسٹیریا کے عوارض ذہنی ہیں مختلف مریضاؤں کو ہپناٹائز کر کے مرض کی وہ علامات پیدا کر کے دکھائیں۔

مجھے۔ 1885۔ 1886 میں شارکو کے ساتھ پیرس میں کام کرنے کا شرف حاصل ہے۔ شارکو خود تو ہسٹیریا کی مریضاؤں میں زیادہ تحقیق کرنے کے حق میں نہ تھے لیکن ان کے شاگرد پیر جینٹ نے ان مریضاؤں پر تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور ہسٹیریا کے نفسیاتی راز جاننے کی کوشش کی۔

جینٹ نے اپنی تحقیق کے بعد ہسٹیریا کے بارے میں ایک نظریہ پیش کیا۔ جینٹ کا موقف تھا کہ ہسٹیریا کی مریضہ پیدائشی طور پر ایک کمزور دماغ لے کر پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ جذباتی دباؤ برداشت نہیں کر سکتی اور نفسیاتی مسئلے کا شکار ہو جاتی ہے۔ جینٹ کا کہنا تھا کہ ہسٹیریا کی مریضہ ذہنی طور پر بہت سے متضاد خیالات اور جذبات کو یکجا رکھنے کے قابل نہیں ہوتی اس لیے اس کا ذہنی شیرازہ بکھر جاتا ہے اور وہ بیمار ہو جاتی ہے۔

ہسٹیریا کی مریضہ کی مثال ایسی عورت سے دی جا سکتی ہے جو بازار سے سودا خریدنے جاتی ہے اور بہت سی چیزیں خرید لیتی ہے اتنی زیادہ چیزیں کہ اپنے دونوں ہاتھوں اور بازوؤں سے پکڑ نہیں سکتی۔ اس لیے چلتے چلتے اس کی ایک چیز گر جاتی ہے اور جب وہ اس چیز کو اٹھانے کی کوشش کرتی ہے تو دوسری چیز اور پھر تیسری چیز اور پھر چوتھی چیز نیچے گر جاتی ہے۔ وہ عورت اپنا جسمانی توازن قائم نہیں رکھ پاتی۔ اس عورت کی طرح ہسٹیریا کی مریضہ بھی اپنا ذہنی توازن قائم نہیں رکھ پاتی اور بیمار ہو جاتی ہے۔

جینٹ کا مقصد ہسٹیریا کے مریضوں پر تحقیق کر کے اس مرض کے راز جاننا تھا لیکن میرا مقصد ان مریضاؤں کا علاج کرنا بھی تھا۔ انہیں صحتمند بنانا بھی تھا۔

برائر اپنے مریضاؤں کو ہپناٹائز کرتے تھے تا کہ مریضہ کے لاشعور میں جا کر اس کے مسئلے کی جڑ تک پہنچ سکیں اور جان سکیں کہ مرض کی ابتدا کس تکلیف دہ واقعے سے شروع ہوئی تھی۔ وہ کیا حادثہ تھا جس نے اس بیماری کو جنم دیا تھا۔

کچھ عرصہ تک تو میں نے بھی ہپنوسس کو استعمال کیا لیکن پھر میں نے اپنی مریضاؤں کو ہپناٹائز کرنا بند کر دیا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ میں ان کے لاشعور تک ہپنوسس کے بغیر پہنچ سکوں۔

میرے لیے مشکل مرحلہ یہ تھا کہ میں اپنی مریضہ سے لاشعور میں چھپی وہ باتیں کیسے جان سکتا ہوں جو وہ شعوری طور پر خود بھی نہیں جانتی؟

میں جب اس مشکل سوال سے نبرد آزما تھا تو مجھے وہ دور یاد آیا جب میں برنہائم کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ میں نے مشاہدہ کیا تھا کہ جب برنہائم مریضہ سے سوال پوچھتے تھے اور جب وہ کہتی تھی

مجھے نہیں پتہ
تو برنہائم کہتے تھے
نہیں تمہیں پتہ ہے
مریضہ انکار کرتی لیکن جب برنہائم اصرار کرتے تو وہ صحیح جواب بتا دیتی اور وہ کامیاب ہو جاتے۔

میں نے بھی برنہائم کا طریقہ اپنی مریضاؤں کے ساتھ اپنایا۔ اگر وہ کہتیں کہ
مجھے نہیں پتہ
تو میں ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا
نہیں تمہیں پتہ ہے

اور مجھے خوش گوار حیرت ہوتی کہ مریضہ اپنے لاشعور میں چھپی وہ باتیں مجھے بتا دیتی جو میں جاننا چاہتا تھا۔

اس طرح میں نے ہپناٹزم کے بغیر مریضہ کے لاشعور تک رسائی حاصل کر لی جو میرے لیے ایک بڑی کامیابی تھی۔

اس نفسیاتی تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ جب مریضہ کوئی بات یا واقعہ بھول جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس نے اس واقعہ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔ وہ واقعہ یا حادثہ اس کے لاشعور کی بھول بھلیوں میں چھپ جاتا ہے اس لیے شعور کو اسے تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

جب مریضہ شعوری طور پر اس واقعہ کو یاد کرنا چاہتی ہے تو اسے وہ واقعہ یاد نہیں آتا۔ تکلیف دہ واقعہ لاشعور میں اپنے گرد ایک حفاظتی دیوار کھڑی کر لیتا ہے ہم اس دیوار کو رزسٹنس
RESISTENCE
کا نام دیتے ہیں۔ یہ دیوار تکلیف دہ یاد کو شعور سے بچا کر رکھتی ہے۔

ہسٹیریا کی مریضہ اپنے نفسیاتی مسئلے کی وجہ سے اپنے ذہن میں دو طاقتوں سے نبرد آزما ہوتی ہے۔

پہلی طاقت تکلیف دہ واقعہ کو شعور سے لاشعور میں دھکیل دیتی ہے اور شعور کی آنکھ سے اوجھل کر دیتی ہے ہم اس طاقت کو ریپریشن
REPRESSION
کا نام دیتے ہیں۔

دوسری طاقت اسے واپس شعور میں آنے سے روکتی ہے مزاحمت کرتی ہے راستے کی دیوار بن جاتی ہے ہم اس طاقت کو
RESISTENCE
کا نام دیتے ہیں۔

اگر ہم مریضہ کی ذہنی کیفیت کا تجزیہ کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مریضہ کے ذہن میں ایک خواہش ابھرتی ہے اور وہ کچھ کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا ضمیر اور اس کی اخلاقیات اسے اس خواہش پر عمل کرنے سے روکتی ہے کیونکہ وہ اسے غلط یا گناہ سمجھتی ہے۔ مریضہ ایک تضاد کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ تضاد تکلیف دہ اور پریشان کن بن جاتا ہے۔ اس تضاد اور اس تضاد سے پیدا ہونے والے کرب سے بچنے کے لیے اس کا ذہن اس تضاد کو لاشعور میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ اسے ریپریس کر دیتا ہے۔ اس طرح شعوری خواہش اور اخلاقی اعتراض کا تضاد اس ریپریشن کا جواز بنتا ہے۔ چونکہ مریضہ شعوری طور پر احساس گناہ یا احساس ندامت کا شکار ہوتی ہے اس لیے اس احساس خجالت سے بچنے کے لیے وہ خواہش شعور سے لاشعور میں چلی جاتی ہے۔

میں اپنے موقف کی وضاحت کے لیے آپ کے سامنے اپنی ایک مریضہ کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔

میری مریضہ ایک لڑکی تھی جو اپنے بیمار والد کی تیمارداری کرتی تھی لیکن پھر اس کے والد فوت ہو گئے۔ میری مریضہ برائر کی مریضہ سے قدرے مماثلت رکھتی تھی۔

والد کی وفات کے بعد میری مریضہ کی بڑی بہن کی شادی ہو گئی۔ میری مریضہ نے جب اپنے بہنوئی کو پہلی بار دیکھا تو اس نے اپنے دل میں اپنے بہنوئی کے لیے کشش محسوس کی لیکن اس نے ان رومانوی جذبات کر نظر انداز کیا اور انہیں صرف دوستانہ جذبات سمجھا۔

کچھ عرصے کے بعد اس کی بہن بیمار ہوئی اور فوت ہو گئی۔ خاندان والوں نے اس کی ماں اور میری مریضہ کو بلایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کی بہن فوت ہو گئی ہے۔

جب میری مریضہ اپنی مردہ بہن کے بستر کے قریب بیٹھی تو اس کے دل میں ایک خیال نے سرگوشی کی
اب میرا بہنوئی آزاد ہے اب وہ مجھ سے شادی کر سکتا ہے

اس وقت میری مریضہ اپنے ان رومانوی جذبات سے دوبارہ آشنا ہوئی جنہیں اس نے نظرانداز کر رکھا تھا لیکن وہ پھر بھی اپنے رومانوی جذبات کو قبول نہ کر سکی اور اس نے انہیں لاشعور میں دھکیل دیا اور بیمار ہو گئی۔

جب مریضہ کا علاج ہوا اور اسے تھراپی میں بھولے ہوئے واقعات یاد آئے تو اس نے اپنے جذبات کا شدت سے اظہار کیا اور وہ صحتمند ہو گئی۔ یوں لگا جیسے اس کی روح کا کانٹا نکل گیا ہو۔

میں اس سارے شعوری اور لاشعوری عمل کو سمجھانے کے لیے آپ کی خدمت میں ایک اور مثال پیش کرنا چاہتا ہوں۔

فرض کریں اس کمرے میں، جہاں میں آپ کو نفسیات کے موضوع پر لیکچر دے رہا ہوں، اور آپ بڑے انہماک سے میرا لیکچر سن رہے ہیں، ایک جوشیلا اور باغی نوجوان شور مچانا شروع کر دے، زور زور سے ہنسنے لگے، اونچی اونچی باتیں کرنے لگے اور کمرے کا ماحول بگاڑنے لگے

اور میں اعلان کروں کہ میں اس شور میں لیکچر نہیں دے سکتا۔

میری بات سن کر تین چار جوان اٹھیں اور اس نوجوان کو اٹھا کر کمرے سے باہر لے جائیں۔
اس نوجوان کا کمرے سے باہر جانا ریپریشن کا اظہار ہو گا

جس کے بعد میں اپنا لیکچر جاری رکھ سکوں گا لیکن اگر باہر نکالا ہوا نوجوان دوبارہ کمرے میں آنا چاہے اور اسے دوبارہ اندر آنے سے روکنے لیے ہم دروازے کے پیچھے کرسیاں رکھ دیں تو وہ کرسیاں رزسٹنس کا کام کریں گی۔

اس صورت حال میں کمرہ شعور بن جائے گا
کمرے سے باہر کا علاقہ لاشعور بن جائے گا
اب آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ جینٹ کے ہسٹیریا کے نظریے اور ہمارے نظریے میں کیا فرق ہے۔

جینٹ کے نظریے کے مطابق مریضہ کا دماغ پیدائشی طور پر کمزور تھا جو مختلف ذہنی چیزوں کو یکجا نہ رکھ سکا اور اس کا ذہنی شیرازہ بکھر گیا اور وہ بیمار ہو گئی۔

ہمارے نظریے کے مطابق مریضہ کے ذہن میں ایک تضاد تھا اور اس نے اس تضاد کو لاشعور میں دھکیل دیا۔ لاشعور میں دھکیلنا پہلا قدم تھا۔ دوسرا قدم اس تضاد کا ایک عارضے کی شکل اختیار کرنا تھا۔ اس عمل اور اس تبدیلی کے بارے میں گنجلک اور دشوار وضاحت کی بجائے میں اپنی مثال کی طرف لوٹتا ہوں۔

جس باغی نوجوان کو کمرے سے باہر نکالا گیا تھا وہ ناخوش تھا اور اس نے اس ناخوشی کا اظہار اس طرح کیا کہ اس نے دروازے کو باہر سے پیٹنا شروع کر دیا اور ہمارے سکون کو ایک دفعہ پھر برباد کر دیا۔

جب ذہنی تضاد ایک عارضہ بنتا ہے تو وہ باہر سے دروازہ پیٹنے والے نوجوان کی طرح ذہنی سکون کو ایک دفعہ پھر برباد کرتا ہے۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم معزز ڈاکٹر ہال سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ کمرے سے باہر جا کر اس سرکش نوجوان سے بات کریں۔ ڈاکٹر ہال سرکش نوجوان سے بات کرنے کے بعد مشورہ دیتے ہیں کہ ہم اس نوجوان کو دوبارہ کمرے میں بلا لیں اور وہ نوجوان وعدہ کرتا ہے کہ وہ شور نہیں کرے گا اور خاموشی اور ادب سے میرا لیکچر سنے گا۔

تھراپی میں تھراپسٹ کا کردار ڈاکٹر ہال کے کردار سے ملتا جلتا ہے۔ تھراپسٹ تحلیل نفسی سے مریضہ کی لاشعوری رکاوٹ اس کی رزسٹنس کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ تکلیف دہ تضاد لاشعور سے واپس شعور میں آ سکے۔ جب تضاد دوبارہ شعور میں آتا ہے تو مریضہ کا عارضہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ صحتیاب ہو جاتی ہے۔ اس طرح تھراپسٹ ڈاکٹر ہال کی طرح اس مسئلے کا ایک پرسکون اور صحتمند حل تلاش کرتا ہے۔

مریضہ کے مسئلے اور تضاد کا ایک حل یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی غیر اخلاقی خواہش کا کوئی ایسا متبادل تلاش کرے جو سماجی طور پر قابل قبول ہو۔ ایسا عمل نفسیات کی زبان میں سبلیمیشن SUBLIMATION کہلاتا ہے۔

(سبلیمیشن کی مثالیں کسی غصے والے جارحیت پسند مریض کا باکسر یا پہلوان بننا یا تیز گاڑی چلانے والے کا ایمبولنس ڈرائیور بننا ہیں۔ )

بعض مریض اپنی غیر اخلاقی خواہشات کو شعوری طور پر یہ کہہ کر قبول کرتے ہیں کہ وہ انسان ہیں فرشتہ نہیں ہیں اور بہت سے انسانوں کو بہت سے غیر اخلاقی خیالات آتے ہیں لیکن وہ ان پر عمل نہیں کرتے۔

میں نے تحلیل نفسی کے پیچیدہ مضمون کو عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس علاج کے کئی اور پہلو ہیں جو میں اگلے لیکچر میں پیش کروں گا۔

(نوٹ: اگلے کالم میں سگمنڈ فرائڈ کے تحلیل نفسی کے تیسرے لیکچر کا ترجمہ اور تلخیص پیش کیے جائیں گے )

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail