ماحولیاتی آفات: 2025 میں بھی 2022 والا خوف
جس سرزمین پر کبھی بارشوں کی رم جھم خوشحالی کی نوید ہوا کرتی تھی، آج وہی بارشیں ہماری بقا کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ موسم کی تبدیلی اب محض ایک موسمی رجحان نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی، معاشرتی اور زرعی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ پاکستان جس تیزی سے ماحولیاتی دباؤ کی لپیٹ میں آیا ہے، اس نے نہ صرف لوگوں کی زندگیاں متاثر کی ہیں بلکہ ان کے کھانے کے ذائقے، صحت کی بنیاد اور فصلوں کی سانسیں تک چھین لی ہیں۔
سال 2022 پاکستان کے لیے ایک ایسی ماحولیاتی آفت لے کر آیا جسے بھلانا آسان نہیں۔ جون سے اکتوبر تک ہونے والی غیرمعمولی بارشوں نے اوسط کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پانی برسایا، جس نے ملک کے تقریباً 33 فیصد حصے کو سیلابی پانی میں ڈبو دیا۔ اقوامِ متحدہ کے جائزے کے مطابق ان بارشوں نے 1,760 افراد کی جان لی، 3 کروڑ 30 لاکھ لوگوں کو بے گھر کیا، اور معیشت کو کم از کم 40 ارب امریکی ڈالر کا دھچکا دیا۔ سندھ اور بلوچستان میں معمول سے بالترتیب 784 فیصد اور 500 فیصد زائد بارشیں ریکارڈ ہوئیں، جبکہ شمال میں گلگت بلتستان کے گلیشیئرز کے پگھلاؤ نے تباہی میں اضافہ کیا۔
ذاتی سطح پر یہ صرف موسمی واقعہ نہیں بلکہ ایک کربناک تجربہ تھا۔ جب لاہور میں سڑکیں ندیوں میں بدل گئیں اور ایمبولینسیں کیچڑ میں پھنسی رہیں، تب ایک مریض کے لیے ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ وہ لمحے جب ایک ماں کو ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہو اور بارش آپ کے عزم اور سہولت دونوں کو روندتی چلی جائے، تب سمجھ آتا ہے کہ یہ صرف پانی نہیں، ایک امتحان ہے۔ صبر، حوصلے اور نظام کا۔
2025 کی ابتدائی بارشیں پھر وہی خوف دہرا رہی ہیں۔ مئی اور جون کے مہینے میں خیبرپختونخوا، کشمیر، اور گلگت بلتستان میں قبل از وقت بارشوں نے ندی نالوں کو طغیانی دی، پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کیا، اور انسانی جانوں کا زیاں کیا۔ صرف جون میں 46 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں معصوم بچے اور اسکول جاتے طلبا بھی شامل ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے نشیبی علاقے پھر خطرے کی زد میں ہیں، اور محکمہ موسمیات اس سال شدید بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی پیش گوئی کر چکا ہے۔
ماہرین موسمیاتی تبدیلی کے پیچھے عالمی حدت میں اضافے کو بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقے جہاں دنیا کے تیسرے بڑے برفانی ذخیرے موجود ہیں، اب تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 2010 کے بعد گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو فضا زیادہ نمی جذب کرتی ہے اور پھر یہی نمی موسلا دھار بارشوں کی صورت میں اترتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ صرف شہر زیر آب آتے ہیں بلکہ زرعی زمینیں بھی ناقابلِ استعمال ہو جاتی ہیں۔
یہ ماحولیاتی بحران خوراک کے بحران میں بھی ڈھل چکا ہے۔ کسانوں کے لیے اب موسم کی پیش گوئی بے معنی ہو چکی ہے، کیونکہ بارشیں یا تو وقت سے پہلے ہو رہی ہیں یا بالکل نہیں۔ گندم، مکئی، چاول، دالیں، کپاس، سبزیاں اور پھل سبھی متاثر ہو رہے ہیں۔ فصلیں یا تو وقت سے پہلے پک رہی ہیں یا ان کا معیار انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔
پہلے جو آم جون کے وسط میں اپنے ذائقے کے عروج پر ہوا کرتے تھے، اب مئی کے آخر میں ہی بازاروں کی زینت بننے لگے ہیں۔ مگر یا تو کچے ہوتے ہیں یا ذائقے سے عاری۔ تربوز قبل از وقت پھٹنے لگے ہیں، ٹماٹر میں کھٹاس کم اور پانی زیادہ ہے، پالک سے مٹی کی بو آنے لگی ہے، اور آلو میں نمی کا تناسب حد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ کسان، وقت کے خلاف دوڑ میں، اب کیمیکل انجیکشنز، اسپرے اور مصنوعی پکانے والے کیپسولز کا سہارا لے رہے ہیں۔
ایسا کھانا نہ صرف ذائقے سے محروم ہے بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی خطرناک بن چکا ہے۔ مصنوعی طریقے سے اگائے گئے پھل اور سبزیاں جگر، گردوں، دل، اور دماغ پر مہلک اثرات ڈال رہی ہیں۔ ان میں غذائیت کی کمی بچوں کی نشوونما کو متاثر کر رہی ہے، خواتین میں خون کی کمی بڑھ رہی ہے، اور جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔
چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ جب فصل برباد ہو، جب منڈی میں مناسب دام نہ ملے، جب ایندھن اور کھاد مہنگی ہو جائے، تو کسان زمین چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ شہروں میں بیٹھے صارفین سبزیاں خرید کر ان کی چمک پر خوش ہوتے ہیں، مگر وہ نہیں جانتے کہ اس چمک کے پیچھے ایک کسان کا ٹوٹا ہوا دل، جلتے ہوئے قدم، اور برباد ہوتی امید ہے۔
کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بلند سطح پر اگنے والی فصلیں غذائیت سے خالی ہو رہی ہیں۔ بین الاقوامی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسی فصلوں میں پروٹین، آئرن اور زنک کی مقدار 15 سے 25 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ یوں ایک قوم جو پہلے ہی غذائی قلت کا شکار ہو، مزید کمزور ہو رہی ہے۔
مسئلہ صرف کسان یا صارف کا نہیں، یہ ریاست کی پالیسی کا بھی امتحان ہے۔ جب تک قومی اور صوبائی سطح پر موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر فیصلے نہیں کیے جاتے، زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر کھڑا رہے گا۔ ہمیں زراعت کو جدید ٹیکنالوجی، قدرتی سائیکل، اور ماحولیاتی اصولوں کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔
اب وقت ہے کہ صرف موسمیاتی کانفرنسوں میں تقریریں نہ ہوں، بلکہ زمین پر عملی قدم اٹھائے جائیں۔ بارش کے ہر قطرے کو سنبھالنے، زمین کو بچانے، کسان کی ہمت کو بحال کرنے اور صارف کو صحت مند خوراک مہیا کرنے کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
کیونکہ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف الزام دیں گی۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا پاکستان دیکھیں جہاں بارش دہشت بن جائے، پھل محض نمائش بن جائیں، اور سبزیاں صحت کے بجائے بیماری کی علامت ہوں؟ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ مونسون صرف بادلوں کا کھیل نہیں، یہ ہمارے جینے کا طریقہ طے کر رہا ہے۔ ہمیں بدلنا ہو گا۔ ورنہ وقت ہمیں بدل دے گا، اور شاید بہت تلخ انداز میں۔


