اداکارہ حمیرہ اصغر کی پراسرار موت


کراچی کے ڈیفنس کے علاقے میں ایک چھوٹے سے فلیٹ سے معروف ماڈل اور اداکارہ حمیرہ اصغر کی چھ ماہ پرانی لاش برآمد ہوئی ہے۔ حیران کن طور پر چھ مہینے تک نہ کسی دوست نے اسے تلاش کیا، نہ ہی خاندان کے کسی فرد نے اس کی خبر لی۔ نہ کوئی اسے یاد کرتا رہا، نہ کسی نے سوال کیا کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔

جب میڈیا پر حمیرہ اصغر کی لاش ملنے کی خبر سامنے آئی، تو اس کے والد اور بھائی نے لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ ابتدا میں یہ خیال کیا گیا کہ شاید حمیرہ نے اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شوبز میں قدم رکھا تھا اور اسی بنیاد پر خاندان اس سے ناراض تھا۔ مگر بعد میں حقائق کچھ اور نکلے اور اصل مسئلہ جائیداد کا تھا۔

حمیرہ کا تعلق ایک متوسط یا غریب خاندان سے نہیں تھا۔ ان کے خاندان کا لاہور میں بہترین کاروبار ہے، گھر، گاڑیاں اور تمام سہولیات موجود ہیں۔ لیکن خاندانی اختلافات کی وجہ سے مبینہ طور پر ساری جائیداد پر حمیرہ کے بھائی نوید اصغر نے قبضہ کر لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی فیملی کو بھی گھر سے نکال دیا ہے۔ ان ہی حالات کی وجہ سے حمیرہ کو گھر سے بے دخل کر دیا گیا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لاش کو قبول نہ کیا گیا۔

لاہور شوبز انڈسٹری کا مرکز ہے، اور وہاں سے اکثر لڑکیاں کراچی آ کر ٹی وی ڈراموں اور ماڈلنگ میں کام کرتی ہیں۔ وہ اکیلے رہتی ہیں اور ان کے اہل خانہ کو علم ہوتا ہے کہ شوبز کی ایک علیحدہ دنیا ہوتی ہے۔

حمیرہ کی بھابی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں انکشاف کیا کہ حمیرہ مالی طور پر شدید پریشان تھی، وہ اکثر خاندان کے افراد کو فون کر کے پیسوں اور گاڑی کا مطالبہ کرتی تھی، مگر کسی نے اس کی مدد نہ کی۔ پچھلے چھ ماہ سے اس کا کوئی رابطہ نہیں تھا، اور گھر والوں کو یقین ہو چکا تھا کہ وہ شاید زندہ نہیں۔ حمیرہ کی ماں ضرور پریشان رہا کرتی تھی، مگر گھر کے دباؤ کے باعث وہ کچھ نہ کر سکی۔

یہ واقعہ ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جہاں عورتوں پر ظلم اور نا انصافی روز کا معمول بن چکا ہے۔ کچھ دن قبل کراچی میں شادی کے پہلے دن ایک نوجوان اشوک نے اپنی نئی دلہن پر جنسی تشدد کیا جس سے وہ دم توڑ گئی، جبکہ اندرون سندھ کی ایک نوجوان لڑکی نے غربت سے تنگ آ کر اپنی تین سالہ بیٹی کے ساتھ دریا میں کود کر خودکشی کر لی۔

پاکستان میں غربت کی شدت کا زیادہ اثر بھی عورتوں پر ہوتا ہے، کیونکہ اکثر ان کے پاس تعلیم اور روزگار کے مواقع نہیں ہوتے۔ وہ مردوں پر انحصار کرتی ہیں، اور جہاں غربت نہ بھی ہو، وہاں بھی عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، جیسا کہ حمیرہ اصغر کے معاملے میں ہوا۔

حمیرہ کی موت پر سوشل میڈیا پر بہت سے افسوسناک اور گھٹیا تبصرے سامنے آئے۔ کئی صارفین نے لکھا:
”اچھا ہوا، جس نے ماں باپ کا کہا نہ مانا، اس کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔“
”ایسی لڑکیاں شوبز میں جا کر یہی کرتی ہیں، انجام یہی ہونا ہے۔“
”اپنے گھر والوں کو چھوڑا، اب بھگتو۔“

یہ کمنٹس اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ عورتوں کے لیے دوہرا معیار رکھتا ہے۔ اگر حمیرہ کی جگہ کوئی لڑکا مر جاتا تو کیا اس کا خاندان لاش وصول کرنے سے انکار کرتے؟ کیا تب بھی معاشرہ یہی طنزیہ تبصرے کرتا؟ ممکن نہیں۔

یہ طرزِ فکر پدرشاہی اور رجعت پسندانہ ہے، جس میں عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے کا اختیار نہیں۔ شوبز میں جانا، تعلیم لینا، نوکری کرنا، شادی کرنا سب گھر والوں کی مرضی سے ہونا چاہیے، اور مرد یہ سمجھتے ہیں کہ عورت ان کی ملکیت ہے۔

اس ملک میں خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے اوسطاً روزانہ 11 کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اصل تعداد کا صرف آدھا حصہ ہے۔ کئی خواتین بدنامی کے خوف سے مقدمہ درج ہی نہیں کراتیں۔

ریاستی سطح پر بھی عورتوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا جا رہا۔ حال ہی میں شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے کا قانون منظور ہوا مگر مذہبی پارٹیوں نے اس پر اعتراض کیا اس سے پہلے سندھ حکومت نے یہ قانون پاس کر کہ مولانا فضل الرحمٰن کے کہنے پر واپس لے لیا تھا۔ مذہبی شدت پسند قوتیں ہر قانون پر ”اسلامی ٹچ“ لگا کر عوام کو گمراہ کرتی ہیں، اور حکومت ان کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔

جب تک پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے مضبوط قانون سازی اور ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا، عورتیں مظلوم ہی رہیں گی چاہے وہ امیر گھرانے کی ہوں یا غریب کی۔ حمیرہ اصغر کی کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ہزاروں ایسی لڑکیوں کی نمائندہ ہے جنہیں سماج نے جینے کا حق نہیں دیا۔

Facebook Comments HS