رام رحیم کی مذہب فروشی اور بدمعاشی


آج ہم آپ کو کہانی سنائیں گے ایک مذہب فروش بدمعاش کی، جس نے گرمیت رام رحیم سنگھ کے نام سے شہرت پائی۔ رام رحیم کا ڈیرہ سچا سودا ہریانہ میں ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ ہماری بیشتر راؤ برادری بھی اس ہی مقدس خطے سے تعلق رکھتی ہے۔ آج کل ایک راؤ رحیم ایڈووکیٹ بھی اپنی مذہبی خدمات کی وجہ سے مشہور ہیں، گمان ہے کہ ان کا آبائی علاقہ بھی ہریانہ ہی ہو گا۔ خیر ہم راؤ رحیم ایڈووکیٹ سے اپنی عقیدت کو فی الحال بھول کر رام رحیم کی طرف واپس آتے ہیں۔

گرمیت سنگھ نامی یہ شخص راجھستان کی سورت گڑھ تحصیل میں سنہ 1967 میں پیدا ہوا، جو راجھستان، پنجاب، ہریانہ اور پاکستان کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔ اس نے ڈیرا سچا سودا نامی ایک تنظیم کی سربراہی کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو اپنا چیلا بنایا اور غیر معمولی اثر رسوخ حاصل کیا۔

ڈیرہ سچا سودا نامی تنظیم کا بانی قلات، بلوچستان سے ترک وطن کر کے ہریانہ کے سرسا نامی علاقے میں جا بسنے والے ایک شخص مستانہ بلوچستانی تھا۔ اسے اس کے چیلے ”شاہ مستانہ بلوچستانی جی“ کہہ کر پکارتے تھے۔ شاہ جی نے سنہ 1948 میں ڈیرہ سچا سودا نامی تنظیم اور آشرم قائم کیے۔ شاہ جی کا 1960 میں دیہانت ہوا۔ انہوں نے مبینہ طور پر بھوش وانی کی تھی کہ سات برس بعد وہ دوبارہ جنم لیں گے۔

شاہ مستانہ جی کے پرلوک سدھارنے کے سات برس بعد، سنہ 1967 میں پیدا ہونے والا رام رحیم سات برس کی عمر میں ڈیرہ سچا سودا میں شامل ہوا۔ اس کے ماتا پتا دونوں شاہ ستنام سنگھ جی کے چیلے تھے۔

شاہ مستانہ جی کے بعد ڈیرے کے سربراہ شاہ ستنام سنگھ جی بنے جن کے پاس یہ منصب 1960 سے 1990 تک رہا۔ گرمیت رام رحیم سنگھ 1990 میں سربراہ بنا۔ اس کے سربراہ بننے کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔

انڈیا ٹوڈے بتاتا ہے کہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ ”خالصتان کمانڈو فورس“ نامی طاقتور دہشت گرد تنظیم کا سربراہ گرجنت سنگھ عرف راجھستانی، رام رحیم کا پرانا دوست تھا۔ وہ سرسا میں اکثر اس سے ملنے جاتا۔ پولیس انٹیلی جنس کے اہلکاروں کے مطابق وہ سرسا کے ڈیرہ سچا سودا کے وسیع علاقے میں ہتھیار بھی چھپاتا۔ ستمبر 1990 میں جب رام رحیم کا سربراہی کے لیے تقرر کیا گیا، تو راجھستانی بھی اس موقعے پر موجود تھا۔ ایک روایت کے مطابق، جس کی بڑی شدت اور بسا اوقات تشدد سے نفی کی جاتی ہے، ”شاہ ستنام سنگھ جی کی کنپٹی پر رکھا ریوالور انہیں بلا جبر و اکراہ اس تقرری پر قائل کرنے کے لیے کافی ثابت ہوا“ ۔ شاہ ستنام سنگھ جی نے دسمبر 1991 میں مشکوک حالات میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔

راجھستانی اگست 1991 میں ایک پولیس مقابلے میں مارا گیا، لیکن اس وقت تک رام رحیم اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹا کر اپنی سرداری مضبوط کر چکا تھا۔

سربراہ بنتے ہی رام رحیم کے جوہر کھلے۔ وہ ایک کامیاب پاپ سٹار، فلم سٹار، کلاکار، کنگ میکر اور مذہبی شخصیت بنا۔ ڈیرہ سچا سودا کے اثاثوں اور مریدوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ چھوٹا سا آشرم اب بڑھ کر 700 ایکڑ پر پھیل گیا جس میں ہوٹل، سکول، تین بڑے ہسپتال، دو بہترین ہوٹل اور شاپنگ سینٹر بھی تھے۔ اس کی جائیدادیں اور مراکز ہریانہ، پنجاب، ہماچل پردیش، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اور گجرات کے علاوہ بیرون ملک آسٹریلیا، اٹلی اور برطانیہ میں بھی ہیں۔ ڈیرہ سچا سودا کے مطابق اس کے پیروکاروں کی تعداد پانچ سے سات کروڑ ہے جبکہ آزاد میڈیا کے مطابق یہ تعداد سوا کروڑ کے قریب ہے۔

گرو رام رحیم کے بے شمار چیلے سیاست میں بھی اسے کنگ میکر بنا گئے۔ وہ جس سیاسی جماعت کی طرف اشارہ کرتا، اس کا ووٹ بینک بڑھ جاتا۔ لیکن پھر اس کے نسبتاً برے دن شروع ہو گئے۔

سنہ 2002 میں کوروکشیتر کی ایک نوجوان لڑکی نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی، پنجاب اور ہریانہ کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزیر داخلہ، پنجاب اور ہریانہ کے ہائی کورٹ اور سی بی آئی کو ایک خط لکھا جس میں اس نے گرمیت رام رحیم سنگھ پر اپنے اور آشرم کی دوسری لڑکیوں کے ریپ کا الزام لگایا۔

خط میں اس نے لکھا کہ ایک رات اسے بابا کے کمرے میں جانے کا کہا گیا۔ بابا بیڈ پر بیٹھا تھا، ٹی وی پر ایک فحش فلم چل رہی تھی اور پاس ہی پستول پڑا تھا۔ بابا نے اس کا ریپ کیا اور یہ سلسلہ تین سال سے جاری ہے۔ اس کی باری ہر پچیس تیس دن بعد آتی ہے۔

خط کے مطابق، لڑکی نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی تو رام رحیم نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا: ”میں تمہیں اس ریوالور سے قتل کر کے یہیں دفن کر سکتا ہوں۔ تمہارے گھر والے میرے راسخ العقیدہ پیروکار ہیں اور مجھ پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ تمہارے گھر والے میرے خلاف نہیں جا سکتے۔ میرا حکومتوں میں بھی کافی اثر و رسوخ ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزراء میرے آگے ماتھا ٹیکنے آتے ہیں۔ سیاست دان ہم سے مدد لیتے ہیں۔ وہ میرے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ہم تمہارے گھر والوں کو سرکاری نوکریوں سے نکلوا دیں گے اور میں انہیں اپنے ’سیواداروں‘ سے مروادوں گا۔ ہم ان کے قتل کا کوئی ثبوت نہیں چھوڑیں گے۔ تم جانتی ہو کہ اس سے پہلے بھی ہم نے ’ڈیرے‘ کے مینیجر فقیر چند کو غنڈوں سے مروایا تھا۔ اس کے قتل کا آج تک سراغ نہیں مل سکا۔ ’ڈیرے‘ کی روزانہ آمدنی ایک کروڑ روپے ہے جس سے ہم لیڈروں، پولیس اور ججوں کو خرید سکتے ہیں۔“

لڑکی مزید لکھتی ہے :

”ڈیرے میں رہنے والی تقریباً 35 سے 40 خواتین کی عمریں 35 سے 40 سال سے زیادہ ہیں اور وہ شادی کی عمر پار کر چکی ہیں۔ انہوں نے ڈیرے میں اپنی زندگیوں سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لڑکیاں تعلیم یافتہ ہیں اور انہوں نے بی اے، ایم اے، اور بی ایڈ کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ لیکن وہ ڈیرے میں جہنم کی زندگی گزار رہی ہیں کیونکہ ان کے گھر والے کٹر پیروکار ہیں۔ مہاراج کے حکم کے مطابق، ہم سفید کپڑے پہنتی ہیں، سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہیں، ہمیں مردوں کو دیکھنے کی ممانعت ہے اور ہم مہاراج کے حکم کے مطابق مردوں سے 5 سے 10 فٹ کا فاصلہ رکھتی ہیں۔“

”ہم دیویوں (پاک دامن عورتوں ) کی طرح نظر آتی ہیں، لیکن ہماری حالت طوائفوں جیسی ہے۔ میں نے ایک بار اپنے گھر والوں کو بتانے کی کوشش کی کہ ڈیرے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن، وہ مجھ پر ناراض ہو گئے اور کہنے لگے کہ اگر بھگوان کی صحبت میں لطف نہیں تو پھر کہاں ہو گا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، ’لگتا ہے تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے، ست گرو (سچے گرو) کا نام جپو۔‘ “

gurmeet ram rahim singh

رام چندر چھترپتی نامی ایک صحافی نے یہ خط اپنے اخبار میں شائع کر دیا اور دھمکیوں کے باوجود ڈیرہ سچا سودا کے معاملات کو شائع کرتا رہا۔ اسے نومبر 2002 میں قتل کر دیا گیا۔

ہائی کورٹ نے انکوائری کا حکم دیا۔ سی بی آئی نے ان 18 سادھویوں سے تحقیقات کیں جو 2002 تک ڈیرہ چھوڑ چکی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق الزامات درست تھے۔ گرمیت رام رحیم نے سنہ 2014 میں دعویٰ کیا کہ وہ تو سنہ 1990 سے نامرد ہے لیکن سی بی آئی نے یہ دعویٰ ماننے سے انکار کر دیا۔ سنہ 2017 میں خصوصی عدالت نے گرمیت رام رحیم سنگھ کو ریپ کے دو مقدمات اور قتل کے ایک مقدمے میں سزا سنا دی۔ جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ”مجرم نے اپنی نیک شاگردوں کو بھی نہیں چھوڑا اور ایک وحشی حیوان کی طرح کا برتاؤ کیا، وہ کسی بھی رحم کا مستحق نہیں“ ۔

ڈیرہ سچا سودا کے دو لاکھ سے زیادہ چیلوں نے کئی صوبوں میں خوب ہنگامے کیے جن میں تیس لوگ ہلاک اور 80 زخمی ہوئے۔

گرمیت رام رحیم پر ایک اور مقدمہ بھی چلایا جا رہا ہے۔ وہ تھا سنہ 2014 میں اپنے چار سو سے زیادہ پیروکاروں کو زبردستی خصی کر کے نامرد بنانے کا۔ یہ تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب اس کے ایک پیروکار نے بتا کہ پرماتما کا قرب دلانے کا جھانسا دے کر اس کا ایک دردناک آپریشن کیا گیا۔ تفتیش کے دوران ڈیرہ سچا سودا نے وضاحت کی کہ یہ آپریشن تو اس لیے کیا گیا تھا کہ ادارے میں موجود سادھوی کنیاؤں کو جنسی تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی عصمت محفوظ رہے۔ جبکہ سی بی آئی کی تحقیقات میں یہ کہا گیا کہ ان پیروکاروں کے نام پر بینک اکاؤنٹ کھولے جاتے، جائیدادیں خریدی جاتیں، جو وہ ڈیرہ سچا سودا کو تحفے میں دے دیتے، اور انہیں علم بھی نہیں ہوتا کہ یہ سب کچھ ان کے نام پر ہو رہا ہے۔ یہ پیروکار گرمیت رام رحیم کے اس دعوے کو سچ سمجھتے تھے کہ وہ بھگوان ہے۔ انہیں جو کاغذ دیا جاتا، وہ اس پر آنکھیں بند کر کے دستخط کر دیتے۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ ان کا سب کچھ ڈیرہ سچا سودا ہی رہے، نہ خاندان ہو اور نہ ہی کہیں آنا جانا۔

گرمیت رام رحیم سنگھ کو ریپ کے دو اور قتل کے دو مقدمات میں بیس سال اور عمر قید کی سزا ہوئی۔ ریپ ہونے والی ایک لڑکی قانونی طور پر نابالغ تھی۔ لیکن وہ حیرت انگیز طور پر بار بار لمبی پیرول پر رہا ہو کر اپنے ڈیرے میں پہنچ جاتا ہے۔ بظاہر اس کا دعویٰ ٹھیک ہی ہے کہ حکومت میں اس کا بہت اثر ہے۔

ایسے لوگوں کے لیے مذہب کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنانا اور غنڈہ گردی کرنا بہت آسان ہے۔ خیر ہریانہ کے رام رحیم کا مسئلہ ادھر انڈیا والوں کو بھگتنے دیں۔ ہم اپنے یہاں کے مذہبی بدمعاش بھگتتے ہیں۔

اس کہانی سے یہ سبق ضرور ملتا ہے کہ کسی مذہب فروش غنڈے کا اندھا بھکت بن کر بندہ اپنی جان، مال، عزت، عصمت، اپنے تمام اثاثے، بشمول مردانہ اثاثے گنوا سکتا ہے۔ اس لیے وقتاً فوقتاً عقل کو ضرور ہاتھ ڈالتے رہنا چاہیے کہ کہیں آپ کو جذباتی کر کے استعمال تو نہیں کیا جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “رام رحیم کی مذہب فروشی اور بدمعاشی

  • 12/07/2025 at 1:23 شام
    Permalink

    واہ ۔ گاندھی جی کے جواب میں جناح نے صحیح کہا تھا۔
    "نام میں کیا رکھا ہے”۔
    سو ہریانہ کے رام رحیم ہوں یا ہمارے سندھ پنجاب کے شف شف، پھس پھس یا کوئی شکور کنیڈین
    وقت پڑے تو فیصلہ مشکل ہوجاتا ہے کہ کون زیادہ بڑا ڈرامے باز ہے اور ہاں اس میں مذہبی ہونا ضروری نہیں ۔۔۔ سیاسی پیر بھی کم نہیں جن کی اندھی عقیدت اور اسمبلی کے ایک ٹکٹ کے لئے سیاسی مریدنیاں یہی گاتی ہیں :
    دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجئے !
    اور جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ جان میں سب کچھ شامل ہے۔ ہمارے آج کے ایک بہت مشہور سیاسی حکم راں کے لئے مشہور ہے کہ انہیں اس سے فکر نہیں کہ بنت حوا کیسی ہے ۔ بس جسم میں جان ہو۔
    "آپ شاید اس سیاست داں کے بارے میں سمجھے جب کہ میرا اشارہ وہ نہیں اُن کی طرف ہے”۔

Comments are closed.