خواب، محبت اور زندگی 46


mahnaz rahman

شیما کرمانی کا فیصلہ کن ووٹ

بہر صورت یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب ہماری شادی کا خواب اس طرح سے پورا نہیں ہو گا جس طرح ہم نے سوچا تھا۔ ابی کو پہلے سے ہی اس علاقے کے بارے میں تحفظات تھے جہاں احفاظ کی رہائش تھی اور اب امی اور خالہ کے ان کے گھر جانے کے بعد اور احفاظ کے جذباتی ابال نے معاملہ اور بھی بگاڑ دیا تھا۔ لیکن میں ان سے شادی کے فیصلے پر قائم تھی اور ان سے دیوانہ وار محبت کرتی تھی۔ مجھے پورا یقین تھا کہ احفاظ سے شادی کے بعد ہم دونوں پاکستان میں انقلاب لانے کے لئے کام کریں گے۔ بہت سے جاننے والے دونوں خاندانوں کے درمیان طبقاتی اور طرز زندگی کے فرق کی وجہ سے اس شادی کے مخالف تھے  لیکن مجھے یہی لگتا تھا کہ انقلاب لانے کے لئے میرا احفاظ سے شادی کرنا ضروری ہے۔ اسے آپ نوجوانوں کی رجائیت پسندی بھی کہہ سکتے ہیں۔

میرے ارد گرد موجود سارے لوگ اس رشتے کے خلاف تھے۔ ان سب کی حوصلہ شکن باتیں سن سن کر ایک دن تو میرا یقین بھی متزلزل ہو گیا۔ مجھے اپنے جاننے والوں میں کسی ایسی ہستی کی ضرورت تھی جو میرا ساتھ دے سکے اور مجھے بتا سکے کہ میرا فیصلہ صحیح ہے۔ اور تب مجھے اپنی نئی دوست شیما کرمانی کا خیال آیا۔ جی ہاں وہی شیما جو آج پاکستان ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر جانی جاتی ہے (نئی نسل اسے پسوڑی گانے کے حوالے سے جانتی ہے لیکن وہ شروع سے بائیں بازو کی سیاست سے جڑی ہوئی ہے) ۔ اس نے رقص کو مزاحمت کا استعارہ بنایا ہے۔ ان دنوں وہ لندن سے نئی نئی آئی تھی اور ہم دونوں دیگر کامریڈوں کے ساتھ مل کر پاکستان میں انقلاب لانے کے راستے تلاش کر رہے تھے۔

میں نے احفاظ سے کہا کہ شیما سے ملنے چلتے ہیں، اگر اس نے بھی ہماری شادی کی مخالفت کی تو پھر ہم شادی نہیں کریں گے۔ احفاظ مان گئے اور اسی شام ہم شیما سے ملنے گئے۔ میرے لئے شیما کا ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتا تھا۔ میں نے شیما کو اپنا مسئلہ بتایا۔ شیما ٹھہریں کٹر فیمنسٹ۔ جواب دینے سے پہلے انہوں نے سگریٹ نکال کر ہونٹوں سے لگایا تو احفاظ نے فوراً اپنا لائٹر جلا کر ان کا سگریٹ سلگایا۔ (شاید وہ شیما کو متاثر کرنا چاہتے تھے ) سگریٹ کا کش لینے کے بعد شیما بولیں ”جو تمہارا دل چاہتا ہے وہی کرو۔ لوگوں کی پروا مت کرو“ ۔ میرے لئے ان کا یہ جملہ کافی تھا۔ کم از کم ایک شخص تو میرا طرف دار تھا۔

لیکن ایک مسئلہ ابھی حل طلب تھا، ماضی میں کسی سے کیا گیا وعدہ! جیسا کہ گزشتہ باب میں ذکر ہو چکا ہے کہ یونیورسٹی کے زمانے میں ایک کامریڈ سے میں نے شادی کا وعدہ یہ سوچ کر کیا تھا کہ ایک نہ ایک دن شادی تو کرنا ہی ہے تو ٹھیک ہے محبت نہ سہی دوستی تو ہے۔ اس وقت کسے علم تھا کہ اک روز احفاظ میری زندگی میں آئیں گے اور میں انہیں ٹوٹ کر چاہوں گی۔ احفاظ اور میری مختصر سی کورٹ شپ کے دوران وہ کامریڈ کچھ عرصہ تو سیاسی وجوہات کی بنا پر گرفتاری سے بچنے کے لئے روپوش رہا تھا۔ لیکن اب وہ سامنے آ چکا تھا اور میری اخلاقی ذمہ داری تھی کہ اسے اس صورت حال سے آگاہ کروں۔

میں اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے لئے یہ سننا کس قدر تکلیف دہ ہو گا۔ میں نے احفاظ کو بھی ساری بات بتا دی اور کہا کہ کہیں وہ کامریڈ اس تکلیف اور دکھ سے مر نہ جائے۔ میرا یہ جملہ سن کر احفاظ غصے میں آ گئے۔ ”اگر وہ مر سکتا ہے تو میں بھی مر سکتا ہوں“ انہوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ڈائجسٹوں کی کہانیوں کے ہیرو کی طرح کہیں سے ایک چھری بھی اٹھا لائے تا کہ مجھے یقین دلا سکیں کہ وہ سچ مچ اپنی جان لے سکتے ہیں۔ اب میرے پاس مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں تھی۔ مسئلہ اب بھی وہی تھا کہ اس کامریڈ کو کیسے بتایا جائے۔ اس موقع پر احفاظ کے جانثار دوست شمیم عالم کام آئے۔ انہوں نے جا کے اس کامریڈ سے ملاقات کی اور اسے ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ اسے دکھ تو ہوا لیکن اس نے کسی منفی رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ تو یوں یہ بوجھ ذہن سے اترا اور اب ایک ہی مسئلہ رہ گیا تھا اور وہ تھا اپنے والدین کو منانا۔

نکاح کے بعد گھر واپسی

شیما کی حمایت سے مجھے حوصلہ تو ملا تھا لیکن میرے والدین ٹس سے مس نہیں ہو رہے تھے۔ ذہنی دباؤ کی وجہ سے میں نے دفتر جانا چھوڑ دیا اور گھر بیٹھ گئی۔ تین چار دن گزرے تو میری پرانی دوست نسرین مجھ سے ملنے آئی۔ وہ احفاظ کا پیغام لے کر آئی تھی۔ احفاظ نے مجھے سلیم مبارک کے گھر بلایا تھا۔ جی ہاں، صدر کے اسی اسٹوڈیو اپارٹمنٹ میں جہاں کبھی منیر نیازی کے ساتھ ہماری نشستیں ہوا کرتی تھیں۔ جب میں وہاں پہنچی تو کچھ قریبی دوست وہاں پہلے سے موجود تھے۔ احفاظ نے بلا کسی تمہید کے کہا ”تمہارے والدین کبھی نہیں مانیں گے۔ اس لئے ہم یہاں آج اور ابھی شادی کر لیتے ہیں۔“ میں حیرت زدہ رہ گئی۔ اس لمحے تک مجھے یہ گمان بھی نہیں تھا کہ میری زندگی کا رخ بدلنے والا ہے۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ ہاں، میں احفاظ کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ مگر اپنے ماں باپ کی رسوائی بھی گوارا نہیں تھی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ انہیں میری وجہ سے دنیا کے طعنے سننا پڑیں۔ میں نے اپنے ذہن میں تیزی سے اس حوالے سے ایک حکمت عملی تیار کی اور احفاظ کے سامنے دو شرطیں رکھیں۔

اول تو یہ کہ میں نکاح کے بعد اپنے والدین کے گھر واپس جاؤں گی تا کہ وہ مجھے سماجی رسم و رواج کے مطابق رخصت کر سکیں۔ دوم، ہمارے خاندان میں اس زمانے میں ہونے والی شادیوں میں میری کزنز کا مہر پچاس ہزار روپے رکھا گیا تھا۔ 1974 میں یہ بہت بڑی رقم تھی۔ میرے والدین کو احفاظ کی محبت اور سنجیدگی کا یقین دلانے کے لئے میرا مہر بھی اتنا ہی لکھا جائے گا۔ اس پر سلیم مبارک نے کہا کہ میرے والدین کو متاثر کرنے کے لئے احفاظ کو ساٹھ ہزار مہر لکھنا چاہیے۔ احفاظ دونوں باتیں مان گئے۔

ایک نکاح خواں کو بلوایا گیا۔ سلیم مبارک نے فہمیدہ ریاض، پاکستان کی اس وقت کی سب سے بے باک شاعرہ، کو بھی مدعو کر لیا جو لندن سے واپس آنے کے بعد ہماری اچھی دوست بن چکی تھیں۔ وہ بہت خوش نظر آ رہی تھیں۔ ان کے لئے یہ رشتہ، جو والدین کی اجازت کے بغیر اور سماجی روایتوں کی نفی کرتے ہوئے قائم ہو رہا تھا، محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں تھا، یہ مزاحمت کا استعارہ تھا، بغاوت کا ایک خوبصورت اظہار۔ وہ تقریب کے دوران پورا وقت مسکراتی رہیں۔ (بعد میں جب امی کو معلوم ہوا تھا کہ فہمیدہ بھی اس کارروائی میں شامل تھیں تو وہ ان سے سخت ناراض ہو گئی تھیں مگر جب میں نے فہمیدہ کو اس بارے میں بتایا تھا تو وہ بے حد محظوظ ہوئی تھیں۔ اور دوسرے احباب سے بھی اس کا ذکر کرتی تھیں ) ۔

تو پھر اس دن میری زندگی مٹھی بھر احباب کی موجودگی میں ساحر کے مشہور شعر:

اگر تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دو
ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں، شادی کر لو
کی عملی تفسیر بن گئی۔

Facebook Comments HS