وربل شاک تھراپی۔ ایک نئی نفسیاتی اصطلاح


انسانی ذہن اور نفسیات صدیوں سے تحقیق و تجزیے کا مرکز رہی ہے۔ وقت کے ساتھ نئی اصطلاحات اور طریقۂ علاج سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے انسانی رویوں، نفسیاتی الجھنوں اور شعوری و لاشعوری تضادات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور سلجھانے میں مدد دی۔ ان ہی کوششوں میں ایک نئی اصطلاح ”وربل شاک تھراپی“ (Verbal Shock Therapy) بھی شامل ہے، جو اس عاجز سعد مکی شاہ کی جانب سے وضع کی گئی ہے یہ اصطلاح ایسے حالات اور اسلوب کو بیان کرتی ہے جہاں الفاظ کا اچانک، بے ساختہ اور موثر استعمال انسانی شعور و ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور اس میں جذباتی یا شعوری بیداری پیدا کرتا ہے۔

وربل شاک تھراپی سے مراد ایسا گفتاری عمل یا جملہ ہے جو کسی فرد کو جذباتی، نفسیاتی یا شعوری طور پر اچانک جھٹکا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں فرد کے اندر کوئی تبدیلی یا شعور کی بیداری پیدا ہوتی ہے۔ یہ عمل نرمی سے نہیں بلکہ جھٹکے، حیرت، تلخی یا سخت سچائی کی شکل میں ہوتا ہے۔ وربل شاک تھراپی کا بنیادی تصور اس نظریے پر مبنی ہے کہ ”کبھی کبھار نرم الفاظ بے اثر ہو جاتے ہیں، جبکہ تلخ حقیقت یا بے لاگ جملہ فرد کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔“

یہ تھراپی ایک نفسیاتی جھٹکے کی مانند کام کرتی ہے، جیسے طبی شعبے میں کسی بے ہوش مریض کو کرنٹ دے کر ہوش میں لایا جاتا ہے، ویسے ہی یہ تھراپی الفاظ کی صورت میں ذہنی بیداری پیدا کرتی ہے

مثال 1 : ایک نشے کے عادی فرد کو بار بار سمجھانے پر کوئی اثر نہ ہو، لیکن اگر کوئی قریبی شخص اچانک یہ کہہ دے ”کیا تم اپنی ماں کی قبر پر شراب لے کر جاؤ گے؟“ تو یہ جملہ اُسے اندر سے ہلا کر رکھ سکتا ہے۔

مثال 2 : ایک خودکشی کی نیت رکھنے والے فرد سے کہا جائے کہ ”مرنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ تمہارے بعد تمہارے بچوں کا کیا بنے گا؟ یہ جملہ اس کے ارادے کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مثال 3 : کسی بے حس یا بے ضمیر فرد سے کہہ دینا ”تمھارا ضمیر شاید مر چکا ہے لیکن میں اسے دفنانے نہیں دوں گا۔“ یہ جملہ اس کی اندرونی خودی کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔

وربل شاک تھراپی کو مختلف انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے :

سائیکوتھراپی میں : ماہر نفسیات ایسے جملے استعمال کرتے ہیں جو مریض کے لاشعور میں دبے زخموں کو سطح پر لا کر علاج ممکن بناتے ہیں۔

موٹیویشنل اسپیکنگ میں : مقرر سخت اور جھنجھوڑ دینے والے الفاظ سے سامعین کو اندر سے جھٹکا دیتے ہیں۔

تربیت اور اصلاح میں : اساتذہ یا والدین ایسے جملے بولتے ہیں جو اولاد یا شاگرد کو اصلاح کی راہ پر لے آتے ہیں۔

فائدے

1۔ شعور کی بیداری
2۔ باطنی تبدیلی
3۔ اخلاقی یا جذباتی جھٹکا
4۔ سستی یا بے حسی کا خاتمہ
5۔ لاشعور کو متحرک کرنا

ہر فرد اس تھراپی کو برداشت نہیں کر سکتا، لہٰذا اس کا استعمال بہت سمجھداری سے کیا جانا چاہیے۔ یہ تھراپی بعض اوقات منفی ردِعمل بھی پیدا کر سکتی ہے اگر اسے سختی، طنز یا تحقیر کے انداز میں کہا جائے۔ یہ صرف ماہرین یا تربیت یافتہ افراد کے ذریعے ہی موثر انداز میں استعمال ہونی چاہیے۔

وربل شاک تھراپی ایک نئی جہت فراہم کرتی ہے، جس کے تحت نفسیاتی مریضوں، غیر ذمہ دار افراد، یا روایتی مشوروں سے متاثر نہ ہونے والے لوگوں کو ایک جھٹکے کے ذریعے راست اقدام پر مائل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھراپی کا اطلاق، خاص طور پر نئی نسل کی بے حسی، نشے، خودکشی کے رجحانات اور اخلاقی زوال جیسے مسائل کے حل میں مفید ہے۔

وربل شاک تھراپی ایک انوکھی علمی کاوش ہے جو جذباتی، ذہنی اور شعوری بیداری کے لیے ایک عملی اور فوری اثر رکھنے والا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا موزوں، تربیت یافتہ اور بامقصد استعمال انسانی نفسیات کی بحالی میں ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔

نوٹ : اس سلسلے میں مکمل اور مفصل ریسرچ بیسڈ مضمون زیر تحریر ہے۔ اس اصطلاح کو وضع کرنے، تجربات کرنے، مشاہدات کرنے اور نتائج اخذ کرنے کا سالوں سے ذمہ داری کے ساتھ سہرا ناچیز کے سر ہے۔ اس اصطلاح ”وربل شاک تھراپی“ کا وضع کنندہ اور ذمہ دار فدوی سعد مکی شاہ ہی ہے۔

واضح طور پر معترف ہوں کہ یہ مضمون چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے لکھا گیا ہے اور یقین مانیے کہ اس اصطلاح کی بابت چیٹ جی پی ٹی کو پرامپٹ، اور دیگر معلومات ناچیز نے ہی فراہم کی ہیں۔ وقت و موڈ کی قلت کی بدولت اصل مفصل مضمون چند دن میں لکھ دوں گا۔

علم نفسیات میں ”وربل شاک تھراپی“ کا موجد، دریافت کنندہ اور وضع کنندہ کے طور پر اپنا نام رجسٹر کرانے کے مقصود کے پیش نظر تحریر لکھ دی ہے، جس کی بابت مفصل مضمون جلد لکھنے کی کوشش کروں گا۔

علم نفسیات کی آئندہ کتابوں میں ادنیٰ درجے پر ہی سہی ”وربل شاک تھراپی“ verbal shock therapy
کے ذیل میں، کہیں نہ کہیں فدوی کا نام ضرور لکھا جائے گا۔

Facebook Comments HS